×
×
بنیادی عنوان درج کریں
ابتدائی چیک لسٹ
خواب،نظریہ حقیقت پسند انہ اہداف
خواب
برائے مدرسہ
مدرسے کا خواب
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
خواب(انفرادی) کیا ہے
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے انفرادی خواب، مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
بیٹے / بیٹی کے متعلق والدہ محترمہ کا خواب
بیٹے /بیٹی کے متعلق والد محترم کا خواب
کیا بیٹے /بیٹی کے متعلق والدمحترم اور والدہ محترمہ کا خواب ہم آہنگ ہے
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح کروا چکے ہیں
کیا والدین کا اپنے بیٹے / بیٹی کے متعلق خواب مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتاہے ؟
نظریہ
برائے مدرسہ
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں مدرسہ کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائےاراکین شوری/مہتمم مدرسہ/منتظمین
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کے نظریات، مدرسہ کےنظریہ کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے اساتذہ
کیا مدرسہ اساتذہ کو اس درجہ کا اعتماد دیتا ہے کہ استاد محترم بند دروازے میں بلا تأ مل اپنے نظریات کا مہتمم / منتظمین اور شوریٰ سے نہ صرف اظہار کرسکیں بلکہ سیرحاصل مذاکرہ بھی ہوسکے
برائے طلباء
کیا مدرسہ طلباء کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کا طریقہ کار سیکھاتا ہے ۔
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کے طریقہ کار سے آگاہ رکھتا ہے تاکہ بچے کے لیے ماحول ساز گار رہے ۔
اہداف
برائے مدرسہ
مدرسہ کے اہداف
ایک سالہ ہدف، 5 سالہ ہدف، 10 سالہ ہدف، 25 سالہ ہدف، 50 سالہ ہدف، 100 سالہ ہدف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباء کےموجودہ سال کے اور پانچ سال کے ذاتی اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے ذاتی اہداف، مدرسے کے اگلے ایک /دو/تین/چار/ پانچ سالہ اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے طلباء
طالب علم کے تعلیمی سال کے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد کے اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا طالب علم کے ذاتی اہداف تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً تعلیمی اور تربیتی اہداف سے اس درجے میں آگاہی دیتا رہتا ہے کہ طالب علم سے متعلق والدین کےتفکرات، تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے رہیں تاکہ طالب علم کے لیے ماحول ساز گار رہے
نظم و نسق کے متعلق
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
مجلس شوریٰ
دو علماء ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
دینی علمی شعبہ کی تعیین کرنا
مقرر کردہ شعبہ کے لیے اساتذہ کی تقرری کے اصول و ضوابط طے کرنا
دینی تعلیم سے متعلق نظام کو طے کرنا
اختیارات
دینی تعلیمی شعبہ کی تعین ،اساتذہ کی تقرری اور تعلیمی نظام کے متعلق ان کی رائے کو ترجیح دی جائے گی
ایک ماہر عصری تعلیم ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک کاروباری شخص ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک قانونی ماہر ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک امیر صاحب ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 11 اراکین ہونے چاہیے؟
اجتماعی ذمہ داریاں
اجتماعی اختیارات
مہتمم صاحب
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
منتظمین
ناطم اعلیٰ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
منتظمین دینی علوم
ناظم شعبہ حفظ و ناظرہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم درسی نظامی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم شعبہ تخصصات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم عصری علوم
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مالیات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مطبخ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم دار الاقامہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم متفرق امور مدرسہ (صفائی ستھرائی ،بجلی ،پانی ،ترتیب وغیرہ کا نظام )
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم کتب خانہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے اساتذہ
حفظ و ناظرہ کے اساتذ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
درس نظامی کے اساتذہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
تخصصات کے اساتذہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے طلباء
امیر جماعت
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
رہائشی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
غیر رہائشی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے والدین
رہا ئشی طلباء کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
کتب کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
غیر رہائشی کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
کتب کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے دیگر معاونین
چوکیدار
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
باورچی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
صفائی کرنے والے
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مالی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ڈرائیور
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
الیکٹریشن
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
پلمپر
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے مدرسہ
زمین و عمارت کا انتظام
رقبہ و حد بندی
نقشہ
تعلیمی زون
رہائشی زون
مسجد
وضو ایریا
دفاتر
مہمان خانہ
مطبخ ومطعم کی عمارت
اسٹور روم
پارکنگ ایریا
کھیل کا میدان
باغات و شجرکاری
بنیادی سہولیات کا انتظام
بجلی کا نظام
وائرنگ نیٹ ورک
جنریٹر بیک اپ
سولر سسٹم
پانی کا نظام
فلٹریشن یونٹ
گیس سپلائی
سیوریج لائنز
صفائی کا نظام
رہائش و اقامت کا انتظام
استقبال نظام
طلبہ ہاسٹل
اساتذہ رہائش
مہمان رہائش
بستر
الماریاں
پنکھے / کولنگ
لائٹنگ
واش رومز
وضو خانہ
کپڑوں کی دھلائی
خشک کرنے کا نظام
خوراک و مطبخ کا انتظام
اشیائے خوردونوش
اسٹاک کنٹرول
خریداری نظام
سپلائی چین
کھانا پکانے کا نظام
کچن آلات
خوراک کی تقسیم
وقت بندی
صفائی معیار
پینے کا پانی
کولنگ سسٹم
سامان و اثاثہ جات کا انتظام
فرنیچر
بستر
الیکٹرانکس
کمپیوٹرز
ساؤنڈ سسٹم
لائبریری
کتب کا ریکارڈ
گاڑیاں
جنریٹرز
مرمت نظام
مینٹیننس شیڈول
خرابی رپورٹنگ
صحت کا نظام
فرسٹ ایڈ باکس
میڈیکل روم
.
حفاظت کا نظام
آگ بجھانے کے آلات
ایمرجنسی الرٹ
سیکیورٹی سسٹم
گیٹ کنٹرول
داخلی نگرانی
CCTV نگرانی
ہنگامی پروٹوکول
مالی وسائل کا انتظام
آمدنی کے ذرائع
چندہ
زکوٰۃ
عطیات
صدقات
وقف املاک
مالی منصوبہ بندی
بجٹ سازی
اخراجات
تنخواہیں (صرف اخراجاتی پہلو)
کھانے پینےکے اخراجات
یوٹیلٹی بلز
تعمیری اخراجات
مرمت اخراجات
سفر کے اخراجات
تقریبات کے اخراجات
دیگر اخراجات
آڈٹ سسٹم
ریکارڈ تصدیق
اندرونی جانچ
انتظامی ریکارڈ کا نظام
داخلہ ریکارڈ
طلبہ ڈیٹا
داخلہ فارم
رہائش ریکارڈ
ہاسٹل الاٹمنٹ
اثاثہ جات ریکارڈ
سامان کی فہرست
استعمال لاگ
مالی ریکارڈ
آمدنی و اخراجات
دستاویزات
قانونی کاغذات
معاہدات
مواصلات و ٹیکنالوجی
انٹرنیٹ سسٹم
نیٹ ورک انفراسٹرکچر
ڈیجیٹل سسٹم
ویب سائٹ
LMS / پورٹل
اعلاناتی نظام
لاؤڈ اسپیکر
ڈیجیٹل نوٹس
نوٹس بورڈ
ڈیٹا مینجمنٹ
بیک اپ سسٹم
کلاؤڈ اسٹوریج
ڈیٹا مینجمنٹ
ERP سسٹم
دیکھ بھال و ترقی
عمارتوں کی دیکھ بھال
مرمت
حفاظتی جانچ
خوبصورتی و اپ گریڈ
رنگ و روغن
تزئین و آرائش
توسیعی منصوبے
نئی عمارتیں
اضافی بلاکس
سہولیات کی اپ گریڈیشن
جدید آلات
نظام کی بہتری
ظاہری تربیت کے متعلق
ظاہری تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
طے شدہ مقصود کے تحت اپنی ،معاونین اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اپنی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کو کسی ماہر / بڑے سے سیکھنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور پر اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
برائے اساتذہ
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے اساتذہ اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ذات کی حد تک ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں مقصود کے تحت ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے طلباء
مقصود تک پہنچنے کے لیے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہوتاکہ وہ تربیت کے نظم کو بیکار روک ٹوک یا بوجھ نہ سمجھیں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کا تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے والدین
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
ظاہری تربیت کی اہمیت وفوائد بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
اس بات کوماہرین سے سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے کے قابل ہو
باطنی تربیت کے متعلق
باطنی تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
اپنی ،معاونین اور طلباء کی باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی ،اساتذہ ، دیگر عملہ اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور سے متعلق اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
برائے اساتذہ
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے طلباء
باطنی تربیت کے قائل ہوں
کے دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کا قائل ہوں
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کے تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے والدین
باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
والدین اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں باطنی تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے قابل ہوں
تعلیم کے متعلق
داخلہ و تعلیمی تشخیص
ابتدائی معلومات
سابقہ تعلیم
عمر
مطلوبہ درجہ
علمی جانچ
قرآن کریم
عربی
عمومی استعداد
تعلیمی درجہ بندی
ناظرہ
حفظ
درس نظامی
تخصصات
تعلیمی اہداف
انفرادی اہداف
کمزوریوں کی نشاندہی
تدریسی نظام
سبق سے پہلے
استاد
سبق کی تیاری
تدریسی مقاصد
تدریسی مواد
طالب علم
پیشگی مطالعہ
مشکل مقامات کی نشاندہی
سبق کے دوران
تعارف
عبارت
ترجمہ
تشریح
تطبیق
سوال و جواب
خلاصہ
سبق کے بعد
نوٹس
مشق
تکرار
عملی نگرانی
حفظ القرآن
روزانہ کا طریقہ کار
مطالعہ
حفظ
سماعت
سبقی
منزل
ہفتہ وار نظام
مجموعی سماعت
غلطیوں کا تجزیہ
ماہانہ نظام
حفظ امتحان
روانی امتحان
تکمیل حفظ
گردان
امتحانی نظام
روزانہ جائزہ
سبق سننا
ہفتہ وار امتحان
زبانی
تحریری
ماہانہ امتحان
زبانی
تحریری
سہ ماہی امتحان
زبانی
تحریری
سالانہ امتحان
تحریری امتحان
ترقی کا فیصلہ
کارکردگی نگرانی
طالب علم
حاضری
امتحان
مطالعہ
درجات
نصاب کی تکمیل
اوسط کارکردگی
شعبہ جات
حفظ
درس نظامی
تخصص
علمی مہارتوں کا نظام
زبان
اردو
عربی
تحریر
املاء
رموز واوقاف
درست جملہ سازی
پیراگراف نویسی
تقریر
خطاب
تدریس
تحقیق
حوالہ نویسی
مقالہ نویسی
افتاء و استنباط
فقہی تطبیقات
عملی مشق
تعلیمی معاونت
کتب
نصابی
حوالہ جاتی
لائبریری
اجراء
واپسی
ڈیجیٹل مواد
آڈیو
ویڈیو
LMS
ترقی و اصلاح نظام
کمزور طلبہ
اضافی وقت دینا
خصوصی نگرانی
نمایاں طلبہ
کمزور طلباء کی مدد میں لگانا
اضافی مطالعہ
تحقیق
نصاب بہتری
سالانہ جائزہ
اصلاحات
تعلیم کی بہتری کا معیار
روزانہ
سبق مکمل ہوا؟
ہفتہ وار
اہداف حاصل ہوئے؟
ماہانہ
نصاب رفتار درست ہے؟
سہ ماہی
نتائج کا تجزیہ
سالانہ
Academic Audit
تعلیمی منصوبہ بندی
تعلیمی کیلنڈر
تدریسی ایام
تعطیلات
امتحانات
دورات
تعلیمی شعبہ جات
ناظرہ
حفظ
درس نظامی
تخصصات
نصاب منصوبہ بندی
روزانہ نصاب
ہفتہ وار نصاب
ماہانہ نصاب
سہ ماہی نصاب
سالانہ نصاب
نام مع ولدیت
تحریری
تقریری
اصلاحی مجالس
ماہانہ جائزہ
امتحان
سہ ماہی نصاب کی مقدار
ششماہی
ششماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
استاد
طالب علم
ثانوی کوشش
خواب،نظریہ حقیقت پسند انہ اہداف
خواب
برائے مدرسہ
مدرسے کا خواب
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
خواب(انفرادی) کیا ہے
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے انفرادی خواب، مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
بیٹے / بیٹی کے متعلق والدہ محترمہ کا خواب
بیٹے /بیٹی کے متعلق والد محترم کا خواب
کیا بیٹے /بیٹی کے متعلق والدمحترم اور والدہ محترمہ کا خواب ہم آہنگ ہے
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح کروا چکے ہیں
کیا والدین کا اپنے بیٹے / بیٹی کے متعلق خواب مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتاہے ؟
نظریہ
برائے مدرسہ
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں مدرسہ کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائےاراکین شوری/مہتمم مدرسہ/منتظمین
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کے نظریات، مدرسہ کےنظریہ کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے اساتذہ
کیا مدرسہ اساتذہ کو اس درجہ کا اعتماد دیتا ہے کہ استاد محترم بند دروازے میں بلا تأ مل اپنے نظریات کا مہتمم / منتظمین اور شوریٰ سے نہ صرف اظہار کرسکیں بلکہ سیرحاصل مذاکرہ بھی ہوسکے
برائے طلباء
کیا مدرسہ طلباء کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کا طریقہ کار سیکھاتا ہے ۔
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کے طریقہ کار سے آگاہ رکھتا ہے تاکہ بچے کے لیے ماحول ساز گار رہے ۔
اہداف
برائے مدرسہ
مدرسہ کے اہداف
ایک سالہ ہدف، 5 سالہ ہدف، 10 سالہ ہدف، 25 سالہ ہدف، 50 سالہ ہدف، 100 سالہ ہدف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباء کےموجودہ سال کے اور پانچ سال کے ذاتی اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے ذاتی اہداف، مدرسے کے اگلے ایک /دو/تین/چار/ پانچ سالہ اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے طلباء
طالب علم کے تعلیمی سال کے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد کے اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا طالب علم کے ذاتی اہداف تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً تعلیمی اور تربیتی اہداف سے اس درجے میں آگاہی دیتا رہتا ہے کہ طالب علم سے متعلق والدین کےتفکرات، تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے رہیں تاکہ طالب علم کے لیے ماحول ساز گار رہے
نظم و نسق کے متعلق
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
مجلس شوری
دو علماء ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
دینی علمی شعبہ کی تعیین کرنا
مقرر کردہ شعبہ کے لیے اساتذہ کی تقرری کے اصول و ضوابط طے کرنا
دینی تعلیم سے متعلق نظام کو طے کرنا
اختیارات
دینی تعلیمی شعبہ کی تعین ،اساتذہ کی تقرری اور تعلیمی نظام کے متعلق ان کی رائے کو ترجیح دی جائے گی
ایک ماہر عصری تعلیم ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک کاروباری شخص ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک قانونی ماہر ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک امیر صاحب ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مجموعی طور پر مجلس شوریٰ کیسی ہونی چاہیے
اجتماعی ذمہ داریاں
نظریاتی و پالیسی امور
تعلیمی پالیسیوں کی منظوری
انتظامی پالیسیوں کی منظوری
اثاثہ جات
زمین اور عمارات کی نگرانی
وقف جائیدادوں کی نگرانی
احتساب
مہتمم کی تقرری
اجتماعی اختیارات
مہتمم کی تقرری یا معزولی
مہتمم صاحب
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
منتظمین
ناطم اعلیٰ
ذمہ داریاں
تعلیمی امور کی نگرانی
طلبہ کی دینی واخلاقی تربیت
اختیارات
مجلس تعلیمی کی سفارشات کو مجلس شویٰ میں پیش کرنا
شعبہ تعلیمات کی رپورٹ مجلس شوریٰ میں پیش کرنا
منتظمین دینی علوم
ناظم شعبہ حفظ و ناظرہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم درسی نظامی
اہلیت
ذمہ داریاں
داخلہ کے امتحانات کا انتظام
نصاب تعلیم میں تبدیلی و ترمیم کی ضرورت
اسباق کی تقسیم
طلباء کے مشاغل علمیہ وعملیہ کی نگرانی
سال میں سہ ماہی وششماہی اور سالانہ امتحان کا انعقاد کرنا
سالانہ امتحان کا رزلٹ پوری کلاس کا اوسطا معلوم کرنا
کلاس میں پڑھائی جانے والی ہر کتاب کا اوسط نتیجہ نکالنا
ہر استاد کی کل کتب کا اوسط رزلٹ معلوم کرنا
اختیارات
ناظم شعبہ تخصصات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم عصری علوم
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مالیات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مطبخ
اہلیت
ذمہ داریاں
ہر کلاس کی مطعم میں ایک ہفتہ کھانا کھلانے اور مطعم کی صفائی کا اہتمام
اختیارات
ناظم دار الاقامہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
دار الاقامہ کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر طالب علم کے اخراج اختیار ہے
ناظم متفرق امور مدرسہ (صفائی ستھرائی ،بجلی ،پانی ،ترتیب وغیرہ کا نظام )
اہلیت
ذمہ داریاں
ہر جمعرات کو پورے جامعہ کی اجتماعی صفائی کا نظم
ہر منزل میں رہنے والے طلباء کا بیت الخلاء اور وضو خانے کی صفائی کا اہتما م
روزانہ کمروں کی اور اور منزل کی صفائی اور جمعرات کو عمومی صفائی کا اہتمام
اختیارات
ناظم کتب خانہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے اساتذہ
حفظ و ناظرہ کے اساتذ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
درس نظامی کے اساتذہ
اہلیت
ذمہ داریاں
ہر استاذ صاٖحب کامدرسے میں داخل ہوتے ہی بائیو میٹرک کے ذریعے اپنی حاضری کا اندراج کرنا۔
ہر سبق سے قبل طلباء کی حاضری لی جاتی ہے۔
روزانہ طلباء سے سبق سننے کا اہتمام
طلباء سے عبارت سننے کی پابندی
مقدار خوندگی کو مناسب انداز میں چلانا
مقدار خوندگی کو مقررہ وقت پر مکمل کرنا
ہر ماہ کی مقدار خواندگی کو دفتر میں موجود رجسٹر پر درج کرنا
ہر تین ماہ کی مقدار خواندگی کو مقررہ وقت پر مکمل کروانا
طلباء کو تیاری کروانا
تمام اساتذہ کا جامعہ کےہدف پر توجہ دینا
اختیارات
کلاس میں موبائل استعمال پر پابندی۔
تخصصات کے اساتذہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے طلباء
امیر جماعت
اہلیت
ذمہ داریاں
تمام کلاسوں کی پورے ہفتے کی حاضری اور رخصت کی الگ الگ رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔
اختیارات
رہائشی
بنین
اہلیت
ذمہ داریاں
دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کے لئے باہر جانے لئے اجازت ضروری ہے
چھٹی کے علاوہ باقی تمام اوقات میں طلباء کا مدرسہ میں ہونا ضروری ہے
اپنے احباب اور ملنے والوں کو بتا دینا چاہئے کہ وہ صرف عصر ومغرب کے درمیان یا جمعہ کے دن ملاقات کے لئے آیا کریں۔
صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنا
کوڑا مقررہ جگہ پر رکھیں
درسگاہ کمرہ برآمدہ صاف رکھیں
برتن ،کپڑے دھونے کے بعد اس جگہ کو صاف کریں
تمام اشیاء کو سلیقہ اور ترتیب سے رکھیں
صفائی اور تہذیب اخلاق کا نمونہ بنیں
اختیارات
صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنا
دیواروں پر نہ لکھیں
پتھر ڈھیلے لے کر بیت الخلاء نہ جائیں
پتھر ڈھیلے کے بجائےپانی سے استنجاءکریں
بغیر اجازت دار الاقامہ میں کسی کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں ہے
مختلف مدارس میں عمومی نظام
بنات
اہلیت
ذمہ داریاں
دورانِ تعلیم طالبات کو مذکورہ امور کی پابندی کرنی ہوگی۔
اپنی وضع قرآن و سنت کے مطابق بنائیں گی۔
نماز بر وقت پابندی سے ادا کریں گی۔
شرعی پردہ کا اہتمام کریں گی۔
مدرسہ میں غیر حاضری کی صورت میں نگران معلمہ کو بروقت اطلاع دیں گی۔
دورانِ تعلیم ناظم صاحب کی اجازت کے بغیر عصری علوم یا پرائیویٹ امتحان میں شرکت نہیں کریں گی۔
معلمہ کو واجبات المدرسیۃ (ہوم ورک)پابندی سے چیک کروائیں گی اور روزانہ سبق یاد کریں گی۔
مدرسہ کے اوقات کے مطابق محرم رشتہ دار کے ساتھ آئیں گی، نا محرم رشتہ دار کے ساتھ آمد و رفت کی اجازت نہیں۔
طالبہ کی تعلیم و رخصت سے متعلق کسی قسم کا رابطہ یا معلومات صرف محرم رشتہ دار کرسکتے ہیں، دیگر سے معذرت کیجائے گی۔
طالبات سے کسی قسم کی فیس نہیں لی جاتی ہے۔
برقعہ پر کسی قسم کی کڑھائی یالیس نہ ہو۔
برقعہ ڈھیلا اور ٹخنوںتک ہو۔
طالبات دستانے اور موزے بھی استعمال کریں۔
پردے کیلئے طالبات حجاب استعمال کریں۔
اختیارات
غیر رہائشی
بنین
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مختلف مدارس میں عمومی نظام
بنات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مختلف مدارس میں عمومی نظام
برائے والدین
رہا ئشی طلباء کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
کتب کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
غیر رہائشی کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
کتب کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے دیگر معاونین
چوکیدار
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
باورچی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
صفائی کرنے والے
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مالی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ڈرائیور
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
الیکٹریشن
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
پلمپر
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے مدرسہ
زمین و عمارت کا انتظام
رقبہ و حد بندی
نقشہ
تعلیمی زون
طالبات کے لیے ایک مستقل الگ عمارت قائم ہے
رہائشی زون
مسجد
وضو ایریا
دفاتر
مہمان خانہ
مطبخ ومطعم کی عمارت
اسٹور روم
پارکنگ ایریا
کھیل کا میدان
باغات و شجرکاری
بنیادی سہولیات کا انتظام
ٹرانسپورٹ
طالبات کی جامعہ آمدو رفت کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہلوت بھی موجود ہے
بجلی کا نظام
وائرنگ نیٹ ورک
جنریٹر بیک اپ
سولر سسٹم
پانی کا نظام
فلٹریشن یونٹ
گیس سپلائی
سیوریج لائنز
صفائی کا نظام
رہائش و اقامت کا انتظام
استقبال نظام
طلبہ ہاسٹل
اساتذہ رہائش
مہمان رہائش
بستر
الماریاں
پنکھے / کولنگ
لائٹنگ
واش رومز
وضو خانہ
کپڑوں کی دھلائی
خشک کرنے کا نظام
خوراک و مطبخ کا انتظام
اشیائے خوردونوش
اسٹاک کنٹرول
خریداری نظام
سپلائی چین
کھانا پکانے کا نظام
کچن آلات
خوراک کی تقسیم
وقت بندی
صفائی معیار
صفائی کا معیار
ہر کلاس کی مطعم میں ایک ہفتہ کھانا کھلانے اور مطعم کی صفائی کا اہتمام ہے
پینے کا پانی
کولنگ سسٹم
سامان و اثاثہ جات کا انتظام
فرنیچر
بستر
الیکٹرانکس
کمپیوٹرز
ساؤنڈ سسٹم
لائبریری
کتب کا ریکارڈ
گاڑیاں
جنریٹرز
مرمت نظام
مینٹیننس شیڈول
خرابی رپورٹنگ
صحت کا نظام
فرسٹ ایڈ باکس
میڈیکل روم
حفاظت کا نظام
آگ بجھانے کے آلات
ایمرجنسی الرٹ
شفاخانہ(ڈسپنسری)
سیکیورٹی سسٹم
گیٹ کنٹرول
داخلی نگرانی
CCTV نگرانی
ہنگامی پروٹوکول
مالی وسائل کا نظم
مالی منصوبہ بندی
بجٹ سازی
آمدنی کے ذرائع
چندہ
زکوٰۃ
عطیات
صدقات
وقف املاک
اخراجات
تنخواہیں (صرف اخراجاتی پہلو)
کھانے پینےکے اخراجات
یوٹیلٹی بلز
تعمیری اخراجات
مرمت اخراجات
سفر کے اخراجات
تقریبات کے اخراجات
دیگر اخراجات
اجتماعی قربانی کا نظم
جامعہ میں اجتماعی قربانی کا نظم کرنا
عید سے 15 دن قبل حکومت سے اجازت طلب کرنا۔
عید سے 2 دن قبل منڈی سے جانوروں کی خریداری کرنا
اجتماعی قربانی کے لیے اساتذہ وطلباء کو مقرر کرنا۔
عید والے دن 5 جگہ کھالیں جمع کرنے کے لیےکیمپ لگانا۔
قربانی والے دن خدمت پر مامور طلباء واساتذہ کو انعام کے طور پر نقدی دینا
آڈٹ سسٹم
ریکارڈ کی تصدیق
اندرونی جانچ
انتظامی ریکارڈ کا نظام
داخلہ ریکارڈ
طلبہ ڈیٹا
داخلہ فارم
رہائش ریکارڈ
ہاسٹل الاٹمنٹ
اثاثہ جات ریکارڈ
سامان کی فہرست
استعمال لاگ
مالی ریکارڈ
آمدنی و اخراجات
دستاویزات
قانونی کاغذات
معاہدات
مواصلات و ٹیکنالوجی
انٹرنیٹ سسٹم
نیٹ ورک انفراسٹرکچر
ڈیجیٹل سسٹم
ویب سائٹ
LMS / پورٹل
ERP سسٹم
اعلاناتی نظام
لاؤڈ اسپیکر
ڈیجیٹل نوٹس
نوٹس بورڈ
ڈیٹا مینجمنٹ
بیک اپ سسٹم
کلاؤڈ اسٹوریج
دیکھ بھال و ترقی
عمارتوں کی دیکھ بھال
مرمت
حفاظتی جانچ
خوبصورتی و اپ گریڈ
رنگ و روغن
تزئین و آرائش
توسیعی منصوبے
نئی عمارتیں
اضافی بلاکس
سہولیات کی اپ گریڈیشن
جدید آلات
نظام کی بہتری
دار التصنیف
جامعہ میں "دار التصنیف "کے نام سے ایک مستقل شعبہ قائم ہے
دار التصنیف " کی مطبوعات میں معارف السنن سر فہرست ہے
دار التصنیف " کی مطبوعات میں نثر الأزھار علی شرح معانی الاٰثار بھی سر فہرست ہے
مجلس دعوت و تحقیق اسلامی
جامعہ میں ایک ادارہ "مجلس دعوت وتحقیق اسلامی "کے نام سے قائم ہے
اس ادارہ سے "کشف النقاب عما یقولہ الترمذی وفی الباب "کے نام سے ایک منفرد اور عظیم کتاب کی پانچ جلدیں چھپ چکی ہیں
ماہنامہ بینات
بینات کے لیے لکھے گئے بعض اہم تحقیقی مضامین اور اداریے مستقل کتابی شکل میں بھی طبع ہوچکے ہیں
اہم فقہی مضامین"فتاوی بینات" کے نام سے ۴ جلدوں پر مشتمل کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں ۔
البیّنات "کے نام سے ایک سہ ماہی عربی مجلہ بھی شائع ہوتا ہے
"بینات "کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی ایک مختصر پرچہ ضمیمہ کے طور پرہرماہ شائع ہوتا ہے ۔
رفاہ عامہ
علامہ بنوری ٹرسٹ
علامہ بنوری ٹرسٹ
تعلیم کے متعلق
تعلیمی شعبہ جات
شعبہ ناظرہ و تجوید
شعبہ حفظ
روزانہ کا طریقہ کار
مطالعہ
حفظ
سماعت
سبقی
منزل
ہفتہ وار نظام
مجموعی سماعت
غلطیوں کا تجزیہ
ماہانہ نظام
حفظ امتحان
روانی امتحان
تکمیل حفظ
گردان
درس نظامی
بنین
متوسطہ
متوسطہ اول
متوسطہ دوم
متوسطہ سوم
متوسطہ سال اول تا سال پنجم
تمہیدی
درجہ اولیٰ
درجہ ثانیہ
درجہ ثالثہ
درجہ رابعہ
درجہ خامسہ
درجہ سادسہ
درجہ سابعہ
دورہ حدیث
بنات
درجہ ثانویہ خاصہ سال اول
درجہ ثانویہ خاصہ سال دوم
درجہ عالیہ سال اول
درجہ عالیہ سال دوم
درجہ عالمیہ سال اول
درجہ عالمیہ سال دوم
دراسات دینیہ
تخصصات
تخصص فی القراء ا ت
خصوصیات
بہترین کارکردگی دکھانے والے شریک کےلیے سال کے اختتام پر حسب معمول جامعۃ الرشید دینی خدمت کے مواقع فراہم کریگا
نصاب(جامعۃ الرشید )
نورانی قاعدہ
بچوں کی تعلیمی نفسیات
آداب تدریس : قاعده / ناظره / حفظ / گردان / تجوید وقراءات پڑھانے کی تربیت
آداب نظامت ،ادارہ تحفیظ کو قائم کرنے اور اسے چلانے کا انتظام و انصرام
اذان واقامت / امامت و خطابت تراویح اور مسجد سے منسلک دیگر ذمہ داریوں کی عملی تربیت
شعبہ حفظ میں عصریات کا امتزاج
تجوید
وقوف
قراءات عشرہ
فواصل
رسم
ضبط
حجة القراءات
معانى القراءات
قراءت عشرہ کے مروجہ نصاب کے ساتھ درج ذیل امور کا اہتمام کیا جاتا ہے
شاطبیہ /درہ اور المقدمة الجزریۃ کے اصولی 600 ابیات کا مکمل حفظ
بیس (20) روایات میں عمل قرآن کریم کا فردا اجراء
جمع الجمع میں منتخب حصے کا اجراء
قراءات سے متعلقہ علوم وفنون (وقف /ضبط /فواصل/ اور علم الرسم) کی تدریس
تجوید اور ادا پر خاص توجہ عملی مشق واجراء کے ساتھ
سہولیات وغیرہ
امتحان داخلہ میں منتخب ہونے والے طلباء کو قیام و طعام کی سہولت اور دو ہزار چار سو بیس روپے وظیفہ دیا جائے گا۔
نصاب (جامعہ دار العلوم کراچی)
سال اول
عشرہ کبری (طیبۃ النشر، اصول) کی تعلیم دی جاتی ہے۔
طبقات القراء کا مطالعہ کرایا جاتا ہے اور مختلف مضامین لکھوائے جاتے ہیں۔
علم الرسم اور علم الضبط کی تعلیم دی جاتی ہے اور اہم مباحث لکھوائے جاتے ہیں۔
علم التجوید اور علم الوقف میں گہرائی پیدا کرائی جاتی ہے۔
قراآت کا افراداً اجراء کرایا جاتا ہے، تاکہ مختلف قراآت میں بے تکلف تلاوت کرسکیں
بحث و تحقیق کا طریقہ کار سکھایا جاتا ہے۔
سال دوم
عشرہ کبریٰ (طیبۃ النشر، فرش) کی تعلیم دی جاتی ہے۔
قراآتِ مختلفہ کا افراداً مزید اجراء کرایا جاتا ہے۔
تفسیر ابی سعود کا ایک مخصوص حصہ باقاعدہ پڑھایا جاتا ہے۔
علم عدالآیات پر ایک تحقیقی مضمون لکھوایا جاتا ہے۔
علم توجیہ القراآت کا باقاعدہ درس ہوتا ہے۔
اصولِ حدیث اور اسماء الرجال کی روشنی میں دفاعِ قراآت کی تعلیم دی جاتی ہے۔
فنونِ قراآت سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ لکھوایا جاتا ہے۔
تجوید و قراآت کی تدریس کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔
تخصص فی الحدیث
ایک سالہ تخصص فی الحدیث
نمایاں خصوصیات
جدید منابع تحقیق (ریسرچ میتھاڈولوجی) کے مطابق مقالہ نویسی
نما یا ں خصو صیات
علل الحدیث پر خصوصی توجہ
فتاوی حدیثیہ پر خصوصی توجہ
دراستہ الاسانید کا جامع منہج
تخریج حدیث کی عملی مشق
تحقیقی مقالہ نویسی
ماہرین فن کے محاضرات
علم اسماء الرجال اور کتب رجال کا جامع تعارف
مطالعہ اور تحقیق کے لئے سازگارماحول
تخصص فی الفقہ وفقہ الحلال
نما یا ں خصو صیات
موٹیویشنل ورکشاپس:
فقہ الحلال کا جا مع نصاب
حلال معیا رات کی تدریس
اہم انڈ سٹریز کے ماہا نہ دورے
حلال تصدیق کے مکمل نظام سے آگا ہی
فقہ المعاملات
خصوصیات
علمی مباحثوں اور انعامی تقریری مقابلوں کی تربیت
انگریزی کا ایک سالہ معیاری ڈپلومہ پروگرام
معاملات سے تعلق ابواب کی اختصاصی تدریس و عملی مشق
فقہ الواقع اور فقہ الحکم کا امتزاج
کاروباری اور تجارتی اداروں کے تعلیمی دورے اور انٹر نشپ کے مواقع
ایم ایس سے پہلے فاؤنڈیشن کو رسز
الغزالی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس کا موقع
سہولت
میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر 75فیصد تک اسکالرشپ
طلباء کے لیے جامعۃ الرشید کراچی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہاسٹل کی سہولت مفت مہیا کی جاتی ہے۔ اس میں کھانا، پینے کے لیے صاف پانی، گرمیوں میں ٹھنڈا پانی، اسی طرح سردیوں میں گیزر وغیرہ کی سہولیات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جامعہ میں پڑھنے والے مستحق طلباء کے لیے کورسز کی فیس وغیرہ معافی کی سہولت دی جاتی ہے۔ اوراس کے ساتھ ہی جامعۃ الرشید کراچی میں پڑھنے والے مستحق طلباء جو ضرورت مند ہوں ۔اور جامعہ کے میرٹ پر پورا اتریں۔ ایسے طلباء کو ماہانہ 6500 روپے وظیفہ دیا جاتا ہے۔
تجوید للعلماء
ایک سالہ تجوید للعلماء کورس جوکہ وفاق المدارس العربیہ سے منظور شدہ ہے۔
امتحان داخلہ میں منتخب ہونے والے طلباء کو قیام و طعام کی سہولت اور دو ہزار چار سو بیس روپے وظیفہ دیا جائے گا۔
دوران سال 50 چھٹیوں پر مکمل وظیفہ سوخت ہو جائے گا۔
سوگھنٹے کی غیر حاضریوں سالانہ امتحان سے روکا جائے گا۔
کم از کم 3 اور زیادہ سے زیاد 20 طلباء کو داخلہ دیا جائے گا۔
شعبہ تجوید کا نظم
تخصص کلیۃ الدعوۃ
نصاب
تحفیظ ، تجوید، قراءات اور امامت و خطابت کے متعلق اہم شارٹ کورسز اور ورکشاپس
فقہ الدعوۃ
السیرۃ النبویہ
ماہانہ مقالہ
اسلوب الدعوہ
التاریخ الاسلامی
العربیۃ بین یدیک
الغزو الفکری
حاضر العالم الاسلامی
تقابل ادیان و فرق
تخصص فی الغۃ العربیۃ
نما یا ں خصو صیات
مصطلحات حدیث کی تدریس کا منفرد اسلوب
عربی زبان کی چاروں مہارتوں پر محنت
عرب ادیبوں سے لہجہ و تعبیر کا اخذ مواقع
صوتیات مرئیات کے ذریعے سیکھنے میں آسانی
تخصص کلیۃ الدعوہ
کلیۃ الفنون
خصوصیات
حفظ حدیث
نصاب
کالم نگاری کورس
متفرق اصناف صحافت
فن خطابت کورس
جغرافیہ کورس
فلکیات کورس
انگلش کورس
کمپیوٹر کورس
تخصص فی الافتاء
نمایاں خصوصیات
تدریس فقہ کافنی اسلوب و منہج
فقه القضاء اور فقہ الاقتصاد پر خصوصی توجہ
جدید فقہی مسائل سے آگاہی اور تمرین
سال اول
نصاب
اصول الافتاء، مقدمہ الدر المختار، السراجی فی المیراث، الدر المختار با عانت شامی یا طحطاوی،
اصول الکرخی، امداد الفتاویٰ(جلد اول تا پنجم)، آلات جدیدہ، رویت ہلال،
ضابط المفطرات، تاریخ التشریع الاسلامی، مقدمہ تدوین فقہ، تحریر کیسے سیکھیں،
حیلہ ناجزہ مسئلہ سود
پراویڈنٹ فنڈ اسلام کا نظام اراضی بیمہ زندگی مع جائزہ نظام تکافل
انسانی اعضاء کی پیوندکاری ایمان اور کفر قرآن کی روشنی میں
وحدت امت انگریزی ۸۰ فتاویٰ
سال دوم
نصاب
لاشباہ والنظائر الدر المختار باعانت شامی یا طحطاوی جواہر الفقہ
امداد الاحکام ملکیت زمین اور اس کی تحدید بحوث فی قضایا فقہیۃ
عدالتی فیصلے امداد المفتین فہم الفلکیات باعانت آسان فلکیات
انگریزی کمپیوٹر ۲۱۰ فتاویٰ
سال سوم
نصاب
المعاییر الشرعیہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا رائج الوقت آئین بمع جملہ ترامیم
اسلامی قوانین ۱۹۸۲ء ۲۲ نکات پر علماء کا متفقہ فیصلہ ۲۵۰فتاویٰ کی تخریج و تحقیق
انگریزی مقالہ نویسی یا تبویب فتاویٰ
تدوین فتاویٰ
جامعہ کے تمام فتاویٰ جات کو یکجا کرکے مجموعہ فتویٰ تیار کیا جارہاہے
دیگر تعلیمی شعبہ جات
معہد کا نظم
حفاظ عربک 4 سالہ کورس
تعلیم بالغان
قرآن مجید کو تجوید سے پڑھنے اور بنیادی دینی علوم کو سکھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے
ایام تعلیم: ہفتے میں پانچ دن (علاوہ جمعہ، اتوار)
مضامین: اسلامی عقائد، ترجمہ قرآن کریم، حدیث، فقہ، عربی زبان
مغرب کے بعد ان کی کلاسیں ہوتی ہیں
جامعہ کے خدام و معاونین کااس کورس میں شریک ہونا لازم ہے
پوسٹ گریجویشن کورس برائے یونیورسٹی گریجویٹس
تدریب المعلمین
مکاتب الرشید
جامعہ ام حبیبہ للبنات
البیرونی ماڈل سکنڈری سکول اور انٹرمیڈیٹ کالج
الصفہ
کراچی انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ اینڈ سائنسز
ماوی ہومز
صفہ اکیڈمی
البیرونی گرلز سیکنڈری سکول
دراسات دینیہ
دورۂ تدریبیہ
دورانیہ
ا دورانیہ تقریباً چالیس دن ہوتا ہے
مقصد
اہل سنت والجماعت کے مسلک کے بارے میں علی وجہ البصیرت مہارت و کمال پیدا کرنا
دینی تربیتی کورس
سکول و کالج کے طلباء کے لیے چالیس روزہ دینی تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے
دینی تربیتی کورس کا نصاب اساتذہ کی نگرانی میں تیار کیا جاتا ہے
جامعہ کے درجہ حفظ کے کامل الحفظ طلباء کے لیے دینی تربیتی کورس میں شرکت لازمی ہے
دینی تربیتی کورس کا اہتمام جامعہ کی طرف سے ملک اور بیرون ملک متعدد مقامات پر کیا جاتا ہے
عصری علوم کے شعبہ جات
اولی مع میٹرک برائے حفاظ
مدرسہ ابتدائیہ (پرائمری اسکول)
مدرسہ ثانویہ (سیکنڈری اسکول)
فوڈ سا ئینسز
تعلیمی منصوبہ بندی
ابتدائی مشاورت
8شوال کو اساتذہ کا مشورہ ہوتاہے
9شوال کو اسباق کی تقسیم ہوتی ہے اور داخلہ سے متعلق بات کی جاتی ہے
اسباق کی عارضی تقسیم ۔
آئندہ سال داخلوں کے طریقہ کار پر مشاورت۔
پورا سال اسباق کی تدریس کیسی رہی اس کا جائزہ۔
کوائف داخلہ اور شرائط داخلہ پر غور و فکر۔
تعلیمی کیلنڈر
تدریسی اوقات
صبح 7 بجےسے 12 بجے تک اسباق
ظہر تا عصر اسباق
صبح 7 بجےسے 12 بجے تک اسباق اور ظہرتا عصر
دورہ حدیث کے اسباق مغرب اور عشاء کے بعد بھی ہوتے ہیں
ظہر کے بعد کچھ کلاسوں کا تکراراور کچھ کتب کا سبق
اوقات تعلیم: صبح 7:00 بجے تا 9:30 بجے / شام مغرب تا 10:00 بجے
طالبات کے لیے بھی تعلیمی گھنٹے چھ ہیں
جامعہ میں درس کے لیے یومیہ چھے گھنٹے مقرر ہیں
عشاء کے بعد تکرار کی پابندی
درجہ ثانیہ و ثالثہ کا ظہر کے فورا بعد تکرار تا نماز عصر
مغرب کے بعد مطالعہ کا اہتمام
تدریسی ایام
16شوال سے پڑھائی کا آغاز کیا جاتاہے۔
جامعہ دارالعلوم کراچی میں تعلیمی دورانیہ ۱۶ شوال تا ۱۵ شعبان ہے
تعطیلات
ہفتہ وار تعطیل
ہفتہ شام سے اتور شام تک ایک دن کی چھٹی
سہ ماہی امتحان کی چھٹی کا نظم
ششماہی امتحان کی چھٹی کا نظم
سالانہ تعطیلات دوماہ ہوتی ہیں، عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی دس روز کی تعطیل ہوتی ہے جبکہ ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوتی ہے۔
جو استاذ صاحب 12 دن سے جتنے کم دن چھٹی کرے گا اتنے دنوں کا اضافی وظیفہ دیا جائے گا
جس استاد کی کتب کا مجموعی رزلٹ 70 فیصد سے کم ہو تو اس کو ایک تنبیہی لیٹر لکھا جاتا ہے
مربی استاد کو تین دن کی چھٹی دینے کی اجازت ہوتی ہے۔
تین دن سے زائد رخصت لینے کی صورت میں مربی اور نگران استاذ کے دستخط کے بعد ناظم تعلیمات چھٹی دیتا ہے۔
امتحانات
جامعہ کے تمام تعلیمی شعبوں میں سال میں تین امتحانات لئے جاتے ہیں
طلباء سے سال مین دو ٹیسٹ اور تین امتحان لیے جاتے ہیں
ایک ٹیسٹ بقرہ عید کی تعطیلات سے قبل اور ایک سالانہ امتحان سے قبل
دورات
دورۂ تدریبیہ
دورانیہ
ا دورانیہ تقریباً چالیس دن ہوتا ہے
دینی تربیتی کورس
سکول و کالج کے طلباء کے لیے چالیس روزہ دینی تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے
اصلاحی مجالس
نصاب کی منصوبہ بندی
روزانہ
ہفتہ وار نصاب
ماہانہ نصاب
سہ ماہی نصاب
ششماہی نصاب
سالانہ نصاب
داخلہ و تعلیمی تشخیص
ابتدائی معلومات
نام مع ولدیت
عمر
سابقہ تعلیم
مطلوبہ درجہ
تعلیمی درجہ بندی
ناظرہ
حفظ
درس نظامی
تخصصات
علمی جانچ
قرآن کریم
عربی
تقریری
تحریری
درجہ وار کتب برائے جائزہ
حفظ
تحریری امتحان
تقریری امتحان
درست ناظره قرآن مجید
ابتدائیہ
تحریری امتحان
تقریری امتحان
قاعده و ناظره
تمہیدی
تحریری امتحان
اردو و انگریزی ( حروف تیجی )، ریاضی (1 سے 100 تک گنتی)
تقریری امتحان
اولیٰ
تحریری امتحان
آٹھویں جماعت کی اردو، ریاضی اور انگریزی / یادداشت
تقریری امتحان
اولیٰ طالبات
تحریری امتحان
میٹرک کی انگلش ، ریاضی اور اردو
تقریری امتحان
اعدادیہ اول
تحریری امتحان
جماعت پنجم کی اردو، انگریزی، سائنس اور ریاضی
تقریری امتحان
اعدادیہ اول طالبات
تحریری امتحان
جماعت سوم کی اردو، انگلش ، ریاضی
تقریری امتحان
سابعہ
تحریری امتحان
جلالین، ہدایہ جلد ثانی
تقریری امتحان
شرح العقائد
دورہ حدیث
تحریری امتحان
مشکوٰۃ المصابیح، شرح نخبۃ الفکر
تقریری امتحان
ہدایہ جلد رابع ، مکمل پارہ عم حفظ
دراسات دینیہ
تحریری امتحان
ناظرہ قرآن مجید اور اردو نوشت وخواند
تقریری امتحان
تخصصات
تحریری امتحان
ترمذی، شرح نخبۃ الفکر، منتخب الحسامی، ہدایہ جلد رابع
تقریری امتحان
ہدایہ جلد ثالث
شرائط داخلہ
حفظ
قرآن مجید ( ناظرہ) صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھا ہو ۔
طلبہ اپنے یا والد کے شناختی کارڈ کی نقل ہمراہ لائیں۔
فارم ب یا پیدائشی سرٹیفکیٹ کی کاپی ۔
طلبہ تین عدد پاسپورٹ سائز تصاویر ضرور ہمراہ لائیں جو ناقابل واپسی ہوں گی
اصل اسناد ہمراہ لائیں
اسناد اور مارکس شیٹ کی تصدیق شدہ نقول قابل قبول ہوں گی۔
اپنے علاقے کے کسی با اثر عالم دین / ڈسٹرک خطیب / کونسلر یا کسی 17 گریڈ کے افسر کا ضمانت نامہ لائیں
درس نظامی
عمومی شرائط
کسی بھی درجہ میں داخلہ کے لیے سابقہ اسناد لانا ضروری ہے
سرپرست کے شناختی کارڈ کی کاپی
طالب علم کے شناختی کارڈ کی کاپی
تحری ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہے
انٹرویومیں کامیابی پر داخلہ ہوگا
طلباء کے لیے جامعہ کے قواعد وضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہے
طالب علم کے لیے صحیح العقیدہ مسلمان ہونا ضروری ہے
طالب علم میٹرک پاس ہو
حتمی داخلہ کا اعلان رمضان میں کردیا جاتا ہے
جدید طلبہ کے لیے قابل اعتماد ضمانت نامہ پر کرنا ضروری ہے
دار العلوم میں کرایہ کا مکان کا انتظام ادارہ کے ذمہ نہیں ہے
۶- کسی بھی درجہ میں داخلہ کے لئے اس سے پچھلے درجہ کی تمام ’’معیاری کتب‘‘ کا امتحان لیا جاتا ہے۔مثلاًدرجۂ ثانیہ میں داخلہ کے لئے درجۂ اُولیٰ کی معیاری کتب کا امتحان لیا جائے گا۔
ہر طالب علم کا پہلے تحریری پھر تقریری امتحان ہوگا
ہر درجہ کے لیے طلباء کی تعداد متعین ہے
رہائش کی گنجائش نہ ہوتو داخلہ بلا رہائش دیاجاسکے گا
رہائشی داخلہ کے لیے 14 کی عمر ہونا ضروری ہے
چودہ سال سے کم عمر والےکے لیے رہائشی داخلہ نہیں ہے
اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ اصلی شناختی کارڈ اور اس کی دو عدد فوٹو کاپی لائیں اور حالیہ بنی ہوئی دو تصویریں لائیں۔
اٹھارہ سال سے کم عمر کے طلبہ فارم ب اور حالیہ بنی ہوئی دو تصویریں لائیں۔
داخلے کے خواہش مند تمام طلبہ اپنے والد / رشتہ دار سرپرست کے شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپی اور فون نمبر لائیں۔
سابقہ وفاقی درجہ کی کشف الدرجات یا وفاق کا مصدقہ نتیجہ اور اس کی ایک فوٹو کاپی لائیں۔
درجہ اولیٰ کے علاوہ تمام درجات کے طلبہ وفاق المدارس کا رجسٹریشن کارڈ لازمی طور پر پیش کریں۔
درجہ اولیٰ کے لیے متوسطہ سوم کا کشف الدرجات یا مڈل کا مصدقہ سرٹیفکیٹ اور اس کی فوٹو کاپی لائیں۔
تمام درجات کے تحریری امتحان میں خوش نویسی اور عربی انشاء کے نمبرات بھی شامل ہوں گے۔
سرپرست رشتہ دار سے مراد طالب علم کا وہ قریبی عزیز ہوگا
اولیٰ میں داخلہ کے لیے متوسطہ پاس ہونا ضروری ہے
درجہ اولیٰ سے درجہ رابعہ تک کسی طالب علم کو عصری تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں ۔
درجہ خامسہ سے دورہ حدیث تک عصری تعلیم کی صرف انہیں طلباء کو اجازت دی جاتی ہے جو مدرسے کے امتحان میں 80 فیصد سے زائد نمبر لے سکتا ہو۔
فوقانی درجات میں عصری علوم کے صرف پرچہ دینے کی چھٹی طالب علم کو دی جاتی ہے ، امتحان کی تیاری کی الگ سے رخصت نہیں دی جاتی ۔
متوسطہ
پانچ سالہ متوسطہ میں داخلہ کی شرائط
متوسطہ کے سال اول میں 15 سال سے زائد عمر کا داخلہ نہیں مل سکتا
تمہیدی میں داخلہ کی شرائط
تحری ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہے
تمہیدی(عمر 10 سے 12 سال)
بیس (20) سال سے زائد عمر والا داخلہ کا اہل نہیں ہے
عمر 19 سال سے زائد نہ ہو
حافظ قرآن
میٹرک کی ہوئی ہو
درجہ اولیٰ
متوسطہ سوم میں جید یا مڈل پاس
درجہ ثانویہ عامہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
درجہ اولی کا تصدیق شدہ نتیجہ موجود ہو
درجہ اولی کا وفاق کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن کارڈ اور میٹرک کا رزلٹ کارڈ ہونا ضروری ہے
درجہ ثالثہ
درجہ ثالثہ تک کسی درجہ میں جدید داخلہ نہیں دیا جاتا سوائے اس طالب علم کے جو پہلے کسی ادرے میں عربی پڑھ کر آیا ہو
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
انٹر پاس کرنے کا رزلٹ کارڈ موجود ہونا لازمی ہے۔
درجہ رابعہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
ایسوسی ایٹ ڈگری یا انٹر یا میٹرک کم از کم بی گریڈ سے پاس ہو۔
درجہ خامسہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
ایسوسی ایٹ ڈگری یا انٹر پاس ہو۔
درجہ سادسہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
عصری تعلیم کم از کم گریجویشن ہونا لازمی ہے
درجہ سابعہ
سابعہ (سادسہ میں جید جدا (360 نمبر)
دورہ حدیث
دورہ حدیث( سابعہ میں جید جدا (360 نمبر)
درجہ عربی سال اول
درجہ عربی سال اول میں داخلہ کیلئے میٹرک یا اسکے مساوی استعداد کا حامل ہونا ضروری ہے۔
درس نظامی بنات(لڑکیوں کیلئے)
درسِ نظامی کیلئے میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔
اعدادیہ اول طالبات(جماعت سوم پاس، ناظرہ قرآن مجید)
قرآن کریم ناظرہ باتجوید مکمل پڑھا ہوا ہو۔
امتحان (ناظرہ: قرآن کریم، تحریری ٹیسٹ : اردو، ریاضی، انگریزی) میں کامیابی
کلمے، نماز، مسنون دعائیں حفظ یاد ہوں۔
اولیٰ طالبات (میٹرک پاس)
جامعہ دار العلوم کراچی کے قابل اعتماد کی ضمانت بھی ہو۔
تخصصات
سابعہ اور دورہ حدیث میں 70فیصد نمبر ہونا ضروری ہے
تخصص فی الافتاء
دورہ حدیث شریف کے سالانہ امتحان میں کم از کم 70 فیصد
تخصص فی الفقہ (فاضل جامعہ)دورہ حدیث کے تینوں امتحانات میں 70 فیصد (1540 نمبر)
تخصص فی الفقہ (دورہ حدیث میں ممتاز)
داخلہ امتحان (تحریری اورتقریری امتحان) میں نمایاں کامیابی
علاقہ کےمعروف اور معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ سا تھ لا ئیں
تخصص فی الحدیث
دورہ حدیث شریف کے سالانہ امتحان میں کم از کم ممتاز
داخلہ امتحان (تحریری اورتقریری امتحان) میں نمایاں کامیابی
تخصص فی الحدیث ( دورہ حدیث 70 فیصد (420 نمبر)
علاقہ کےمعروف اور معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ سا تھ لا ئیں
تخصص فی الغۃ العربیۃ
دورہ حدیث
علاقے کے معروف و معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ ساتھ لائیں
تخصص فی القراء ا ت
دورہ حدیث اور حفظ کی اسناد
شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی
دو عدد تصاویر اور ضمانت نامہ
کلیۃ الدعوۃ
دورہ حدیث
تخصص فی الدعوۃ والارشاددورہ (حدیث میں 70 فیصد (420 نمبر)
علاقے کے معروف و معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ ساتھ لائیں
کلیۃ الفنون
درس نظامی کے ساتھ کم ازکم انٹر تک تعلیم
عمر کی حد 26 سال
کمپیوٹر کی بنیادی معلومات
اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ ساتھ ہو
انگلش لینگویج کورس
دورہ حدیث شریف
عصری تعلیم کم از کم میٹرک
علاقہ کےمعروف اور معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ سا تھ لا ئیں
تجوید للعلماء
ناظرہ قرآن مجید صحیح تلفظ کے ساتھاور روانیکے ساتھ پڑھنا آتا ہو
حافظ قرآن ہونا قابل ترجیح
کسی مستند دینی مدرسے تکمیل کم از کم 50 فیصد اور درجہ جید میں کامیاب ہوا ہو
تجوید للعلماء (دورہ حدیث میں 50 فیصد (300 نمبر) (حافظ قرآن قابل ترجیح)
درجہ ممتاز میں کامیابی اور وفاق المدارس کی سند کا حامل ہونا قابل ترجیح ہوگا
حفاظ عربک کی داخلہ شرائط
حفاظ عربک 4 سالہ کورس کی داخلہ شرائط
حافظ قرآن
کم از کم 4 جماعت سکول پڑھا ہوا ہو
13 سال سے زائد عمر نہ ہو
دو عدد تازہ تصاویر
سرپرست کے شناختی کارڈ کی کاپی
طالب علم کےب فارم کی کاپی
تحری ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہے
انٹرویومیں کامیابی پر داخلہ ہوگا
بیرون کے طلبہ کے لیے
قرآن کریم "ناظرہ "پڑھ چکا ہو اور تھوڑی بہت عربی زبان جانتا ہو یا سمجھ سکتا ہو۔
اردو ،عربی سے کچھ نہ کچھ مناسبت ہونا ضروری ہے
سیاحت یا کسی اور قسم کے ویزے پر داخلہ نہیں دیاجاتا۔
مستحق طلبہ کو داخلہ کے بعد سے تعلیم، کتب، علاج، کھانے پینے اور جامعہ کے اندر رہائش کی سہولتیں مفت مہیا کی جاتی ہیں
داخلہ کا طریقہٴ کار
سابقہ درجہ کا امتحان دینا ضروری ہے
تعلیمی استعداد کے ساتھ ذہنی وفکری رجحان کی جانچ بھی ضروری ہوتی ہے
داخلہ کا امتحان اور جائزہ تین مراحل پر مشتمل ہوتاہے :
پہلا مرحلہ
طالب علم سے ناظرہ قرآن مجید ،نماز اور دعاؤں کا امتحان لیا جاتا ہے
دوسرا مرحلہ
پہلے مرحلہ میں کامیاب امیدواروں کا مطلوبہ درجہ کے لیے تحریری امتحان لیاجاتا ہے۔
تیسرا مرحلہ
تحریری امتحان میں کامیاب طلبہ کا سابقہ درجہ کی منتخب کتب کا تقریری امتحان لیا جاتا ہے
اس مرحلہ میں کامیاب طالب علم کو داخلہ فارم دیا جاتا ہے
14شوال کو جدید داخلوں کا تحریری و تقریری ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور انٹرویو کیا جاتاہے۔
3دن تک داخلہ فارم وصول کیے جاتے ہیں۔
15شوال کو ظہر کے بعد جدید داخلوں کا نتیجہ بتایا جاتا ہے
10شوال سے 15 شوال تک قدیم طلباء کا اندراج کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ اور اس کی تمام شاخوں میں داخلہ مرکز ہی سے ہوتا ہے ۔
ہدایات برائے تجدید داخلہ
جو طلبہ ایک شاخ سے دوسری شاخ یا مرکز میں منتقل ہوں گے ان کا تجدید داخلہ بھی ان کی متعلقہ شاخ میں ہوگا۔
تجدید داخلہ کے لیے درج ذیل کوائف ہمراہ لائیں
اپنا سابقہ کوائف فارم متعلقہ ناظم دفتر سے حاصل کرکے اس کے مندرجات کی تصحیح کریں۔
اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ اصلی شناختی کارڈ اور اس کی ایک عدد فوٹو کاپی لائیں۔
تمام قدیم طلبہ اپنے رشتہ دار سرپرست کے شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپی اور فون نمبر لائیں۔
جن طلبہ کے گزشتہ سال کے کوائف ناقص تھے وہ مطلوبہ کوائف اپنے ہمراہ ضرور لائیں۔
سابقہ دینی وعصری تعلیم کی تمام اسناد کی ایک ایک مصدقہ فوٹو کاپی اپنے ہمراہ لائیں۔
تعلیمی اہداف
انفرادی اہداف
کمزوریوں کی نشاندہی
تدریسی نظام
سبق سے پہلے
طالب علم
پیشگی مطالعہ
مغرب کے بعد مطالعہ کا اہتمام
مشکل مقامات کی نشاندہی
استاد
سبق کی تیاری
تدریسی مقاصد
تدریسی مواد
سبق کے دوران
استاد
تعارف
تشریح
تطبیق
خلاصہ
طالب علم
عبارت
ترجمہ
سوال و جواب
سبق کے بعد
نوٹس
مشق
تکرار
عشاء کے بعد تکرار کی پابندی
درجہ ثانیہ و ثالثہ کا ظہر کے فورا بعد تکرار تا نماز عصر
ظہر کے بعد کچھ کلاسوں کا تکراراور کچھ کتب کا سبق
درجہ رابعہ تا سادسہ ظہر کے دوسرے گھنٹے میں تکرار تا نماز عصر
عملی نگرانی
تعلیم کی بہتری کا معیار
روزانہ
سبق مکمل ہوا؟
ہفتہ وار
اہداف حاصل ہوئے؟
ماہانہ
نصاب رفتار درست ہے؟
ماہانہ جائزہ
سہ ماہی
سہ ماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
ششماہی
ششماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
سالانہ
تعلیمی نظم کا احتسابی جائزہ
امتحانی نظام
روزانہ جائزہ
سبق سننا
ہفتہ وار امتحان
زبانی
تحریری
ماہانہ امتحان
زبانی
تحریری
سہ ماہی امتحان
زبانی
تحریری امتحان سے ایک دن قبل 3 کتب کاتقریری امتحان لینا۔
سہ ماہی امتحان میں تین کتب کا تقریری امتحان لیا جاتا ہے۔
تحریری
6پیپر زپر مشتمل تحریری امتحان کا انعقاد۔
تما م کتب کا سہ ماہی تحریری امتحان ہوتا ہے۔
درجہ اولیٰ سے ثالثہ تک ہر سہ ماہی پر ایک کلاس کا عربی میں مقالہ لکھنا
مذکورہ کلاسیں ہر سہ ماہی پر ایک جداریہ تیار کریں گے
درجہ رابعہ سے دورہ حدیث تک ہر سہ ماہی پر مختلف موضوعات پر مقالہ لکھنے کا اہتمام کرنا
ششماہی امتحان
زبانی
ششماہی امتحان کے موقع پر تین کتب کاتقریری امتحان جامعہ کے اساتذہ کے علاوہ باہر کے علماء سے دلوایا جاتا ہے۔
تقریری امتحان کے لیے باہر سے اساتذہ کو مدعو کیا جاتا ہے۔
تحریری
امتحانات سے چندروز قبل طلبہ کے رول نمبرنوٹس بورڈ پر لگائے جاتے ہیں اور امتحان کے نظام الاوقات کا اعلان کردیا جاتا ہے،اسی طرح امتحان سے قبل طلباء کا اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جس میں امتحان کے قواعد وضوابط کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے ۔
ایک ماہ قبل امتحان کااعلان لگانا تاکہ طلباء تیاری شروع کردیں ۔
10رجب المرجب سے سالانہ امتحان کے لیےطلباء کا اجتماعی تکرار۔
ششماہی امتحان پر شروع سال سے امتحان تک پڑھے ہوئے مکمل نصاب کا امتحان لیا جاتا ہے
امتحان کی تیاری کانظم
ہر امتحان کے دو ہفتے بعد نتیجہ بتایا جاتا ہے
تحریری امتحانات کا دورانیہ سات د ن کا ہوتا ہے ،ابتدائی درجات کا تقریری امتحان بھی اسی ہفتے کے دوران ہوتا ہے ۔
تمام امتحانات تحریری ہوتے ہیں
اولیٰ اور متوسطہ کے بعض درجات کے امتحان تقریری ہوتے ہیں
تحریری امتحان میں ہر پرچہ کا وقت تین گھنٹے ہے
امتحان شروع ہونے کے ایک گھنٹہ بعد طلباء پرچہ جمع کرواسکتے ہیں
سہ ماہی اور ششماہی امتحان کے پرچے کتاب پڑھانے والے استاد خود بناتے ہیں
سوالیہ پرچوں کو حتمی شکل امتحانی کمیٹی کی نظر ثانی کے بعد دی جاتی ہے
ہر کتاب اور مضمون کے تین سوالات ہوتے ہیں اور تینوں لازمی ہوتے ہیں
صفوف عربیہ کے تمام پرچے عربی میں ہوتے ہیں
درجہ خامسہ سے تخصصات تک پرچہ عربی میں ہوتے ہیں
درجہ خامسہ سے پچھلے درجات کے پرچے اردو میں ہوتے ہیں
وفاق کے سالانہ امتحان کے سوالیہ پرچے "وفاق المدارس العربیہ" کی طرف سے آتے ہیں۔
امتحانات کے ایام میں اساتذہ بوقت فرصت پرچے چیک کرتے رہتے ہیں
امتحانات کے اختتام پر دو ایام کی چھٹی دی جاتی ہے تاکہ پرچے چیک کر کے رزلٹ تیار کیا جائے
نتائج مرتب ہونے کے بعد امتحانی کمیٹی بغور جائزہ لیتی ہے
امتیازی نمبروں اور فیل ہونے والے پرچہ جات کو امتحانی کمیٹی نظر ثانی سے بغور دیکھتی ہے
نتائج مرتب ہونے کے بعد اساتذہ کا اجلاس منعقد ہوتا ہے ہر کلاس کے نتائج پر تبصرہ ہوتا ہے
طلباء کے مجمع میں نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے اور پوزیشن لینے والے طلباء میں انعام تقسیم کیے جاتے ہیں
نوے فیصد سے زائد نمبر لینے والے طلباء کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
سالانہ امتحان
تحریری امتحان
سالانہ امتحان سے قبل ٹیسٹ صرف ششماہی کے بعد سے سالانہ تک پڑھے ہوئے کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔
سالانہ امتحان کے پرچہ دوسرے استاد بناتے ہیں
ترقی کا فیصلہ
کامیابی کے درجات
ممتازمرتفع ٪۹۰
ممتاز ٪۸۰
جیدجدا ٪۶۰
جید ٪۵۰
مقبول ٪۴۰
حوصلہ افزائی
پوزیشن لینے والے طلباء کو کتب کی شکل میں انعام دیا جاتا ہے ۔
90فیصد نمبر حاصل کرنے والے طالب کو ایک سہ ماہی سے دوسری سہ ماہی تک مختلف درجات کے اعتبار سے وظیفہ دیا جاتا ہے
ترقی و اصلاح نظام
کمزور طلبہ
اضافی وقت دینا
خصوصی نگرانی
نمایاں طلبہ
کمزور طلباء کی مدد میں لگانا
اضافی مطالعہ
تحقیق
نصاب بہتری
سالانہ جائزہ
اصلاحات
کارکردگی کی نگرانی
طالب علم
حاضری
امتحان
مطالعہ
درجات
نصاب کی تکمیل
اوسط کارکردگی
شعبہ جات
حفظ
درس نظامی
ہفتہ وار مدرسے کی رپورٹ
ناظم تعلیمات پورے ہفتے کی رپورٹ مہتمم صاحب کو پیش کرتےہے۔
تخصص
تعلیمی معاونت
کتب
نصابی
حوالہ جاتی
لائبریری
اجراء
واپسی
ڈیجیٹل مواد
آڈیو
ویڈیو
LMS
علمی مہارتوں کا نظام
تحریر
خوش خطی
املاء
رموز واوقاف
درست جملہ سازی
پیراگراف نویسی
تقریر
خطاب
ہفتہ وار اردو عربی بزم کا انعقاد
درجہ اولیٰ سے درجہ رابعہ تک بزم ادب کا اہتمام کیا جاتاہے
درجہ خامسہ اور سادسہ میں طلباء کو مباحثہ کی مشق کروائی جاتی ہے
ہر جمعرات کو فن خطابت کی مشق کا اہتمام ہوتا ہے
سال کے آخر میں اساتذۃ کی نگرانی میں تقریری مقابلہ ہوتا ہے
نمایاں پوزیشن والوں کو انعام تقسیم کیے جاتے ہیں
مقابلہ میں تمام شریک ہونے والےتمام طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے انعام دیا جاتا ہے
تدریس
درجہ سابعہ میں درس حدیث کی مشق کروائی جاتی ہے
دورہ حدیث کے طلباء کو درس قرآن کی مشق کروائی جاتی ہے۔
تحقیق
حوالہ نویسی
مقالہ نویسی
افتاء و استنباط
فقہی تطبیقات
عملی مشق
زبان
انگلش
انگلش لینگویج کورس
خصوصیات
ماہر تجربہ کار اساتذہ سے انگریزی سیکھنے کا نادر موقع
40 دن کے بعد انگریزی کے علاوہ دیگر زبانیں بولنے پر مکمل پابندی
انگریزی میں درس حدیث ، وعظ و بیان کی خصوصی تربیت
اردو
عربی
حفاظ عربک انگلش لینگویج کورس
معھدالرشید عربی
ظاہری تربیت کے متعلق
ظاہری تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
ذہن سازی کے متعلق
طے شدہ مقصود کے تحت اپنی ،معاونین اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اپنی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کو کسی ماہر / بڑے سے سیکھنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور پر اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
عمل کے متعلق
برائے اساتذہ
ذہن سازی کے متعلق
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے اساتذہ اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ذات کی حد تک ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں مقصود کے تحت ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
برائے طلباء
ذہن سازی کے متعلق
مقصود تک پہنچنے کے لیے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہوتاکہ وہ تربیت کے نظم کو بیکار روک ٹوک یا بوجھ نہ سمجھیں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کا تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
سالانہ امور
ہر کلاس کا مربی متعین ہوتاہے۔
تربیت کا نظم
ہرطالب علم کے لئے اخلاق واعمال، صورت وسیرت ،وضع قطع اور لباس میں صلحاء امت کی اتباع ضروری ہے،
روزانہ کا معمول
روزانہ عصر کی نماز سے پہلے طلباء کے لیے خصوصی تعلیم کا اہتمام
ہفتہ وار امور
ہر ہفتے کے دن طلباء کے بالوں اور ناخنوں کی چیکنگ
ظاہری وضع قطع
سگریٹ پینا، انگریزی بال رکھنا، داڑھی منڈانا یا خلاف شرع کٹانا قطعاًممنوع ہے
قیام گاہ کی صفائی کی تربیت
کوڑا مقررہ جگہ کے علاوہ اور کہیں نہ پھینکے، درسگاہ، کمرہ اور برآمدہ کو خراب اور گندہ نہ کرے، دیواروں پر نہ لکھے
پتھر اور ڈھیلے لے کر بیت الخلا میں نہ جائے، پانی سے استنجاء کرے، برتن یا کپڑے دھونے کے بعداس جگہ کو صاف کردے
اپنے کمرے کی تمام چیزوں کو سلیقہ اور قرینہ کے ساتھ رکھے، غرض صفائی، شائستگی، تہذیب واخلاق اور دینداری کا مثالی نمونہ پیش کرے۔
بد اخلاقی سے بچنا
اپنے ساتھیوں یا ملازمین جامعہ سے لڑنا جھگڑنا، بدکلامی یا بداخلاقی سے پیش آنا، ایک دوسرے کی چغلی، عیب جوئی، غیبت، مذاق اڑانا، بیہودہ مذاق کرنا بدترین عیوب ہیں، ان سے اجتناب کرنا ہرطالب علم کا فرض ہے۔
ظاہری صفائی کی چیکنگ
ہرطالب علم کو چاہیے کہ صفائی وستھرائی کا بھر پور اہتمام کرے، بالخصوص جمعہ کے دن غسل کرنے اور کپڑے بدلنے سے پہلے اپنے کمرے اور برآمدہ کو صاف کرے
برائے والدین
ذہن سازی کے متعلق
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
ظاہری تربیت کی اہمیت وفوائد بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
اس بات کوماہرین سے سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
باطنی تربیت کے متعلق
باطنی تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
ذہن سازی کے متعلق
اپنی ،معاونین اور طلباء کی باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی ،اساتذہ ، دیگر عملہ اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور سے متعلق اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
عمل کے متعلق
برائے اساتذہ
ذہن سازی کے متعلق
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
برائے طلباء
ذہن سازی کے متعلق
باطنی تربیت کے قائل ہوں
کے دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کا قائل ہوں
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کے تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
روزانہ کا معمول
روزانہ عصر کی نماز سے پہلے طلباء کے لیے خصوصی تعلیم کا اہتمام
روزانہ ایک پارہ قرآن پاک کی تلاوت کی پابندی
نماز مغرب کے بعد سورۃ الواقعہ اور درود تنجیناکااہتمام
درجہ کتب میں تلاوت کا وقت مقرر ہے
روزانہ نماز عشاء کے بعد ختم خواجگان کا اہتمام
ختم خواجگان کا نظم
تلاوت کی ترتیب
ہفتہ وار امور
ہر اتوار کو اصلاحی مجلس اور ذکر کی مجلس
ذکر کی مجلس
سالانہ امور
نماز تہجد
تربیت کا نظم
موسم سرما میں نماز تہجد کا اہتمام
ہر کلاس کا مربی متعین ہوتاہے۔
برائے والدین
ذہن سازی کے متعلق
باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
والدین اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں باطنی تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے قابل ہوں
عمل کے متعلق
عصر ایجوکیشنل ویلفئیر اینڈ ٹرسٹ
خواب،نظریہ حقیقت پسند انہ اہداف
خواب
برائے مدرسہ
مدرسے کا خواب
خواب کے متن کی وضاحت
بنیادی اجزا کی شرعی، فکری اور عملی بنیاد
دینی اور عصری علوم کا امتزاج
مسلمانوں کی متفقہ قیادت
عالمی سطح کا تعلیمی و تربیتی نظام
دنیا اور آخرت کی فلاح
اعلیٰ معیار
پائیداری اور تسلسل
تحقیق کی بنیاد
کمزور اداروں کو مضبوط بنانا
جامع تربیتی ڈھانچا
اہل رجالِ کار کی تیاری اور دستیابی
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
خواب(انفرادی) کیا ہے
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے انفرادی خواب، مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
بیٹے / بیٹی کے متعلق والدہ محترمہ کا خواب
بیٹے /بیٹی کے متعلق والد محترم کا خواب
کیا بیٹے /بیٹی کے متعلق والدمحترم اور والدہ محترمہ کا خواب ہم آہنگ ہے
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح کروا چکے ہیں
کیا والدین کا اپنے بیٹے / بیٹی کے متعلق خواب مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتاہے ؟
نظریہ
برائے مدرسہ
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں مدرسہ کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
انسانی، قیادی اور رضاکارانہ وسائل
باصلاحیت، دیانت دار، امانت دار اور صاحبِ کردار رجالِ کار کی تیاری۔
مختلف علمی، تعلیمی، انتظامی، قانونی، مالی، دعوتی اور تکنیکی شعبوں کے ماہرین کی شمولیت۔
اساتذہ، تربیت کاروں، منتظمین، کارکنان اور رضاکاروں کی ابتدائی اور مسلسل تربیت۔
افراد کی صلاحیت، مزاج اور تخصص کے مطابق ذمہ داریوں کی تقسیم۔
نئی قیادت کی تیاری اور جانشین سازی کا منظم نظام۔
داخلی اور بیرونی ماہرین پر مشتمل مشاورتی مجالس کی تشکیل۔
رضاکاروں، معاونین اور سابق طلبہ کا فعال نیٹ ورک قائم کرنا۔
2۔ علمی، فکری، تحقیقی اور نصابی وسائل
قرآن و سنت کی بنیاد پر معیاری اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب کی تیاری۔
نصاب، طریقۂ تدریس اور تربیتی مواد کا مسلسل جائزہ اور ارتقا۔
کتابوں، رسائل، تحقیقی مقالات، نصابی کتب اور تربیتی لٹریچر کی تصنیف و اشاعت۔
مفید علمی مواد کے ترجمے، تلخیص اور تدوین کا انتظام۔
تحقیق، تصنیف، ترجمہ، تجزیہ اور علمی مکالمے کی حوصلہ افزائی۔
علمی و تربیتی مسائل کے حل کے لیے تحقیقی مراکز اور ماہرین کی مجالس قائم کرنا۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لیے اسلامی رہنمائی پر مبنی علمی مواد تیار کرنا۔
ڈیجیٹل کتب خانوں، علمی ذخائر اور حوالہ جاتی مواد کی فراہمی۔
3۔ مالی، معاشی اور اوقافی وسائل
عطیات، صدقات، زکوٰۃ اور دیگر جائز رفاہی ذرائع کا منظم استعمال۔
زکوٰۃ اور غیر زکوٰۃ رقوم کے لیے الگ، واضح اور شرعی اصولوں کے مطابق نظام۔
مستقل اور پائیدار آمدنی کے منصوبوں کا قیام۔
اوقاف، تعلیمی فنڈز، وظائف اور رفاہی فنڈز کی تشکیل۔
اہلِ خیر، مخیر حضرات، تاجروں، صنعت کاروں اور کاروباری حلقوں سے منظم روابط۔
جائز تجارتی، خدماتی اور سرمایہ کاری منصوبوں کے ذریعے ادارہ جاتی خود کفالت۔
فنڈ ریزنگ کے لیے شفاف اور بااعتماد نظام۔
بجٹ سازی، مالی منصوبہ بندی اور وسائل کی ترجیحی تقسیم۔
مالی وسائل کا مؤثر، کفایت شعار اور نتیجہ خیز استعمال۔
داخلی و خارجی مالی آڈٹ اور مکمل حساب دہی۔
4۔ مادی اور بنیادی ڈھانچے کے وسائل
تعلیمی اداروں، تربیتی مراکز، دفاتر، کتب خانوں اور تحقیقی مراکز کا قیام۔
موجودہ اداروں، مساجد، مدارس، جامعات اور کمیونٹی مراکز کی سہولیات سے باہمی تعاون کے تحت استفادہ۔
تدریسی آلات، کتابوں، تجربہ گاہوں، سمعی و بصری وسائل اور ضروری سامان کی فراہمی۔
ضرورت کے مطابق زمین، عمارات، گاڑیوں اور دیگر مستقل اثاثوں کا حصول۔
ادارہ جاتی املاک کی حفاظت، دیکھ بھال اور بہتر استعمال کا نظام۔
شہری اور دیہی علاقوں کے لیے موزوں تعلیمی و تربیتی مراکز کا قیام۔
5۔ دعوتی، ابلاغی اور میڈیا وسائل
ویب سائٹ، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا منظم اور مؤثر استعمال۔
رسائل، جرائد، اخبارات، کتابچوں اور معلوماتی مواد کی اشاعت۔
ویڈیوز، دستاویزی پروگرام، پوڈکاسٹس، آن لائن دروس اور تربیتی کورسز کی تیاری۔
مختلف زبانوں میں دعوتی، تعلیمی اور اصلاحی مواد کی فراہمی۔
عوامی پروگرامز، کانفرنسز، سیمینارز، نمائشوں اور علمی اجتماعات کا انعقاد۔
ذرائع ابلاغ، صحافیوں، مصنفین اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے افراد سے مثبت روابط۔
غلط فہمیوں کے ازالے اور ادارے کے موقف کی درست ترجمانی کے لیے منظم ابلاغی حکمتِ عملی۔
ادارے کی شناخت، اعتماد اور حسنِ شہرت کو مضبوط بنانے کے لیے معیاری ابلاغ۔
6۔ عوامی، سماجی اور رفاہی رسائی
معاشرے کے مختلف طبقات تک منظم اور مسلسل رسائی۔
بچوں، نوجوانوں، خواتین، والدین، اساتذہ، علماء، تاجروں اور پیشہ ور افراد کے لیے الگ منصوبہ بندی۔
شہری، دیہی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی، تربیتی اور رفاہی سرگرمیوں کا فروغ۔
ضرورت مند طلبہ کے لیے وظائف، تعلیمی معاونت اور دیگر سہولیات۔
معاشرتی ضروریات اور مسائل کی باقاعدہ تشخیص۔
تعلیم، تربیت، خاندانی استحکام، اخلاقی اصلاح اور سماجی بہبود کے منصوبے۔
ہنگامی حالات اور قدرتی آفات میں منظم رفاہی خدمات۔
خدمتِ خلق، حسنِ اخلاق اور عملی کردار کے ذریعے معاشرتی اعتماد پیدا کرنا۔
مقامی سطح پر کمیونٹی کمیٹیوں اور رضاکارانہ نیٹ ورکس کی تشکیل۔
7۔ ادارہ جاتی، علمی اور پیشہ ورانہ روابط
مساجد، مدارس، اسکولوں، کالجوں، جامعات اور تحقیقی اداروں سے تعاون۔
ہم خیال تعلیمی، دعوتی، فکری اور رفاہی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے۔
اہلِ علم، مفتیانِ کرام، محققین، اساتذہ اور ماہرین سے مستقل مشاورت۔
طب، قانون، معیشت، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، تجارت اور دیگر شعبوں کے ماہرین سے روابط۔
تجارتی تنظیموں، صنعتوں اور پیشہ ورانہ انجمنوں کے ساتھ تعاون۔
قومی اور بین الاقوامی سطح پر علمی، تربیتی اور رفاہی شراکت داری۔
مشترکہ تحقیق، نصاب سازی، تربیت اور استعداد بڑھانے کے منصوبے۔
مفاہمتی یادداشتوں اور واضح باہمی معاہدات کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون۔
8۔ سیاسی، حکومتی اور پالیسی رسائی
منتخب عوامی نمائندوں، پالیسی سازوں اور متعلقہ حکومتی ذمہ داران سے مثبت روابط۔
مقامی حکومتوں، سرکاری محکموں اور تعلیمی و سماجی اداروں کے ساتھ تعاون۔
تعلیمی، تربیتی اور رفاہی پالیسیوں کی تشکیل میں علمی و عملی تجاویز پیش کرنا۔
پالیسی دستاویزات، تحقیقی سفارشات اور قابلِ عمل تجاویز تیار کرنا۔
متعلقہ پارلیمانی، حکومتی اور مشاورتی مجالس تک ادارے کا مؤقف پہنچانا۔
جائز عوامی مفادات کے لیے قانونی اور اخلاقی دائرے میں پالیسی مکالمہ اور وکالت کرنا۔
مختلف سیاسی حلقوں سے غیر جماعتی اور متوازن روابط رکھنا۔
کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کے زیرِ اثر آنے کے بجائے ادارے کی فکری اور انتظامی خود مختاری برقرار رکھنا۔
ایسے بااثر افراد سے روابط استوار کرنا جو ٹرسٹ کے جائز مقاصد کے حصول میں تعاون فراہم کر سکیں۔
9۔ قانونی اور ضابطہ جاتی وسائل
مستند قانونی ماہرین اور وکلاء پر مشتمل قانونی مشاورتی نظام قائم کرنا۔
ٹرسٹ کی رجسٹریشن، آئین، قواعد و ضوابط اور انتظامی دستاویزات کو ملکی قانون کے مطابق مرتب کرنا۔
ٹیکس، اوقاف، زکوٰۃ، عطیات، ملازمت اور رفاہی سرگرمیوں سے متعلق قانونی تقاضوں کی پابندی۔
معاہدات، مفاہمتی یادداشتوں، ملازمت کے معاہدوں اور شراکت داری کی قانونی جانچ۔
ٹرسٹ کی زمین، عمارات، علمی مواد، نام، لوگو اور دیگر اثاثوں کا قانونی تحفظ۔
تصنیفی حقوق، ڈیجیٹل مواد اور فکری ملکیت کی حفاظت۔
قانونی تنازعات، شکایات اور ادارہ جاتی مسائل کے حل کے لیے واضح طریقۂ کار۔
کارکنان، اساتذہ، طلبہ، مستفید افراد اور ادارے کے حقوق و ذمہ داریوں کی وضاحت۔
متعلقہ قوانین میں تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی اور بروقت ادارہ جاتی موافقت۔
تمام سرگرمیوں کو شرعی اصولوں اور ملکی قوانین کے دائرے میں رکھنے کا انتظام۔
10۔ ٹیکنالوجی، معلومات اور ڈیٹا کے وسائل
تعلیم، تربیت، دعوت، انتظام اور ابلاغ میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ۔
آن لائن تعلیم، لرننگ مینجمنٹ سسٹم اور ڈیجیٹل تربیتی پلیٹ فارمز کا قیام۔
طلبہ، اساتذہ، کارکنان، معاونین اور منصوبوں کے لیے محفوظ ڈیٹا بیس۔
مالیات، حاضری، کارکردگی، منصوبوں اور وسائل کے لیے ڈیجیٹل انتظامی نظام۔
ڈیٹا پر مبنی جائزہ، تجزیہ اور فیصلہ سازی۔
مصنوعی ذہانت سے تعلیمی، تحقیقی، ترجمہ، انتظامی اور ابلاغی امور میں مناسب استفادہ۔
معلومات اور ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کے لیے سائبر سکیورٹی اور رازداری کا نظام۔
ٹیکنالوجی کے استعمال میں شرعی، اخلاقی اور قانونی حدود کی پابندی۔
جدید ذرائع کے استعمال کے لیے کارکنان اور اساتذہ کی تربیت۔
11۔ تزویراتی منصوبہ بندی، نظم اور خطرات کا انتظام
قلیل، وسط اور طویل مدتی منصوبہ بندی۔
ہر شعبے کے لیے واضح مقاصد، ترجیحات اور قابلِ پیمائش اہداف۔
سالانہ منصوبوں، بجٹ اور ذمہ داریوں کی پیشگی تعیین۔
تحقیق، مشاورت اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سازی۔
اختیارات، ذمہ داریوں اور جواب دہی کی واضح تقسیم۔
مختلف شعبہ جات کے درمیان مؤثر ربط اور باہمی تعاون۔
ممکنہ مالی، قانونی، انتظامی، ابلاغی اور سیاسی خطرات کی نشاندہی۔
ہنگامی حالات کے لیے متبادل منصوبوں کی تیاری۔
قیادت اور اہم ذمہ داریوں کے تسلسل کے لیے جانشین سازی۔
منصوبوں کو ان کی افادیت، ضرورت اور دستیاب وسائل کے مطابق ترجیح دینا۔
12۔ معیار، نگرانی، احتساب اور مسلسل بہتری
تمام شعبوں، اداروں اور منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی۔
ہر پروگرام کے لیے کارکردگی کے واضح اشاریے مقرر کرنا۔
مالی، انتظامی، تعلیمی اور تربیتی کارکردگی کا مسلسل جائزہ۔
داخلی احتساب کے ساتھ ضرورت کے مطابق بیرونی ماہرین سے جائزہ کرانا۔
شکایات، تجاویز اور اصلاحی آراء کے لیے شفاف نظام۔
کمزوریوں اور ناکامیوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات کرنا۔
کامیاب تجربات کی دستاویز بندی اور دوسرے شعبوں تک منتقلی۔
نصاب، تربیت، انتظام اور خدمات میں مسلسل تجدید اور بہتری۔
ٹرسٹ کے وژن، اقدار اور مقاصد سے تمام سرگرمیوں کی مطابقت کا جائزہ۔
ٹرسٹیز، انتظامیہ، معاونین اور عوام کے سامنے مناسب سطح پر کارکردگی کی رپورٹ پیش کرنا۔
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائےاراکین شوری/مہتمم مدرسہ/منتظمین
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کے نظریات، مدرسہ کےنظریہ کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے اساتذہ
کیا مدرسہ اساتذہ کو اس درجہ کا اعتماد دیتا ہے کہ استاد محترم بند دروازے میں بلا تأ مل اپنے نظریات کا مہتمم / منتظمین اور شوریٰ سے نہ صرف اظہار کرسکیں بلکہ سیرحاصل مذاکرہ بھی ہوسکے
برائے طلباء
کیا مدرسہ طلباء کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کا طریقہ کار سیکھاتا ہے ۔
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کے طریقہ کار سے آگاہ رکھتا ہے تاکہ بچے کے لیے ماحول ساز گار رہے ۔
اہداف
برائے مدرسہ
مدرسہ کے اہداف
فکر و نظریہ
رجالِ کار (انسان سازی)
ادارہ سازی
معیار سازی و تحقیق
توسیع و اثر
وسائل و پائیداری
ایک سالہ ہدف، 5 سالہ ہدف، 10 سالہ ہدف، 25 سالہ ہدف، 50 سالہ ہدف، 100 سالہ ہدف
مرحلہ وار اہداف
100 سالہ اہداف
1. فکر و نظریہ
2. رجالِ کار
3. ادارہ سازی
4. معیار سازی و تحقیق
5. توسیع و اثر
6. وسائل و پائیداری
50 سالہ اہداف
اسلامی تعلیمی فلسفہ اور نصاب کی تکمیل۔
معلمین، محققین اور قائدین کی بڑی تعداد تیار کرنا۔
متعدد ممالک میں ماڈل ادارے قائم کرنا۔
تحقیق، معیار بندی اور تربیت کے مرکزی مراکز قائم کرنا۔
ادارہ جاتی خود کفالت کی مضبوط بنیاد قائم کرنا۔
قومی و بین الاقوامی سطح پر تعلیمی اثر و رسوخ پیدا کرنا۔
10 سالہ اہداف
مکمل نصاب، تدریسی منہج اور تربیتی نظام نافذ کرنا۔
ماڈل مدارس، اسکولوں اور تربیتی مراکز کا قیام۔
اساتذہ اور منتظمین کی مستقل تربیت کا نظام۔
تحقیق، اشاعت اور معیار بندی کے شعبے فعال کرنا۔
ڈیجیٹل تعلیمی نظام اور اشاعتی ادارے قائم کرنا۔
مالی اور انتظامی استحکام حاصل کرنا۔
5 سالہ اہداف
تعلیمی فلسفہ، نصاب اور پالیسی کی بنیادی دستاویزات مکمل کرنا۔
ماڈل اداروں میں نظام نافذ کرنا۔
اساتذہ، معلمات اور منتظمین کی بنیادی ٹیم تیار کرنا۔
امتحانات، نگرانی اور معیار بندی کا نظام نافذ کرنا۔
تحقیق، تربیت اور اشاعت کا آغاز کرنا۔
وسائل کی منظم فراہمی اور مالی نظم کو مستحکم کرنا۔
ایک سالہ اہداف
وژن، مشن، مقاصد اور تعلیمی پالیسی کو حتمی شکل دینا۔
نصاب، تدریسی منہج اور امتحانی نظام مرتب کرنا۔
اساتذہ، معلمات اور منتظمین کی ذمہ داریاں اور تربیتی نظام نافذ کرنا۔
تعلیمی نگرانی، ماہانہ جائزہ اور کارکردگی کے اشاریے (KPIs) مقرر کرنا۔
ابتدائی علمی و تحقیقی سرگرمیوں اور اشاعتی کام کا آغاز کرنا۔
وسائل، بجٹ، افرادی قوت اور آئندہ پانچ سالہ منصوبے کی تیاری مکمل کرنا۔
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباء کےموجودہ سال کے اور پانچ سال کے ذاتی اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے ذاتی اہداف، مدرسے کے اگلے ایک /دو/تین/چار/ پانچ سالہ اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے طلباء
طالب علم کے تعلیمی سال کے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد کے اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا طالب علم کے ذاتی اہداف تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً تعلیمی اور تربیتی اہداف سے اس درجے میں آگاہی دیتا رہتا ہے کہ طالب علم سے متعلق والدین کےتفکرات، تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے رہیں تاکہ طالب علم کے لیے ماحول ساز گار رہے
نظم و نسق کے متعلق
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
مجلس شوری
مجلس عاملہ
حیثیت
اراکین مجلس عاملہ
اراکین مجلس عاملہ
ذمہ داریاں
دائرہ اختیار
ہماری مجلس شوریٰ دو قسم کی ہے ایک تعلیمی اور ایک تنظیمی
تعلیمی شوری پانچ افراد پر مشتمل ہے ۔
انتظامی شوری مجلس شوری 15 افراد پر مشتمل ہے۔
مجلس عاملہ ہر شعبہ میں تین دن افراد پر ہے۔
کیا مجلس شوریٰ میں امیر مجلس شوریٰ ہے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مجلس شوریٰ میں کتنے علماء ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
دینی علمی شعبہ کی تعیین کرنا
مقرر کردہ شعبہ کے لیے اساتذہ کی تقرری کے اصول و ضوابط طے کرنا
دینی تعلیم سے متعلق نظام کو طے کرنا
اختیارات
دینی تعلیمی شعبہ کی تعین ،اساتذہ کی تقرری اور تعلیمی نظام کے متعلق ان کی رائے کو ترجیح دی جائے گی
کیا مجلس شوریٰ میں ماہر عصری تعلیم ہے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
کیا مجلس شوریٰ میں کاروباری شخص ہے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
کیا مجلس شوریٰ میں قانونی ماہر شخص ہے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مجموعی طور پر مجلس شوریٰ کیسی ہونی چاہیے
اہلیت
اجتماعی ذمہ داریاں
تعلیمی پالیسیوں کی منظوری
انتظامی پالیسیوں کی منظوری
زمین اور عمارات کی نگرانی
وقف جائیدادوں کی نگرانی
نظریاتی و پالیسی امور
تعلیمی پالیسیوں کی منظوری
انتظامی پالیسیوں کی منظوری
اثاثہ جات
زمین اور عمارات کی نگرانی
وقف جائیدادوں کی نگرانی
احتساب
مہتمم کی تقرری
اجتماعی اختیارات
تمام منصوبوں کے لیے ذمہ داران کا انتخاب کرنا
تمام جاری منصوبو ں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی
تمام منصوبوں کو محدود یا توسیع کا اختیار حاصل ہے
مالی منصوبہ بندی اور بجٹ کی منظوری
مہتمم کی تقرری ومعزولی
مہتمم صاحب
مہتمم صاحب کی اہلیت
مہتمم ایسا فرد ہو جو
علمِ دین میں مستند صلاحیت رکھتا ہو اور شریعتِ اسلامیہ کی صحیح سمجھ کا حامل ہو۔
دیانت، تقویٰ، امانت، حسنِ اخلاق اور اعلیٰ کردار کے لیے معروف ہو۔
ادارے کے وژن، مشن، مقاصد اور منہج سے مکمل ہم آہنگی رکھتا ہو۔
تعلیمی، تربیتی اور انتظامی امور چلانے کی صلاحیت اور تجربہ رکھتا ہو۔
قیادت، منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور ٹیم سازی کی اچھی صلاحیت رکھتا ہو۔
نظم و ضبط، شفافیت، جواب دہی اور مشاورت کے اصولوں کا پابند ہو۔
اساتذہ، طلبہ، عملہ، سرپرستوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر تعلقات قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ادارے کے مالی و انتظامی وسائل کو امانت داری، کفایت اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کا اہتمام کرے۔
ادارے کی دینی، تعلیمی، تربیتی اور فلاحی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔
اپنی عملی زندگی میں سنتِ نبوی ﷺ، اخلاص اور خدمتِ دین کے جذبے کا نمونہ ہو۔
مہتمم کی ذمہ داریاں
ادارے کے وژن، مشن اور مقاصد کے مطابق تمام شعبوں کی مجموعی قیادت اور نگرانی کرنا۔
شریعتِ اسلامیہ، ادارے کے آئین اور پالیسیوں کے مطابق ادارے کی رہنمائی کرنا۔
تعلیمی، تربیتی، دعوتی، فلاحی اور انتظامی شعبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی قائم رکھنا۔
شعبہ جات کے سربراہان کی تقرری، رہنمائی، نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ لینا۔
ادارے کے سالانہ اہداف، منصوبوں اور ترجیحات کی منظوری اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی کرنا۔
مالی نظم و نسق، بجٹ اور وسائل کے امانت دارانہ استعمال کی نگرانی کرنا۔
مجلسِ شوریٰ اور بورڈ آف ٹرسٹیز کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا۔
ادارے میں مشاورت، شفافیت، جواب دہی اور نظم و ضبط کو فروغ دینا۔
ادارے کی نمائندگی سرکاری، سماجی، تعلیمی اور دینی حلقوں میں کرنا۔
ادارے کی دینی شناخت، علمی معیار اور تربیتی ماحول کی حفاظت اور ترقی کے لیے مسلسل کوشش کرنا۔
ادارے کی پائیدار ترقی، افرادی قوت کی تربیت اور نئے منصوبوں کی منصوبہ بندی کرنا۔
ادارے کی کارکردگی سے متعلق وقتاً فوقتاً مجلسِ شوریٰ/بورڈ کو رپورٹ پیش کرنا۔
مہتمم کے اختیارات
شریعتِ اسلامیہ، ادارے کے آئین اور مجلسِ شوریٰ کے فیصلوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ادارے کے انتظامی امور چلانے کا اختیار ہوگا۔
مجلسِ شوریٰ کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کو ادارے کے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کا مجاز ہوگا۔
ادارے کے تمام شعبہ جات کی نگرانی، رہنمائی اور ان کے درمیان مؤثر ہم آہنگی قائم رکھنے کا اختیار ہوگا۔
روزمرہ انتظامی امور میں مناسب فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کرانے کا اختیار ہوگا۔
شعبہ جات کے ذمہ داران کو ہدایات جاری کرنے، ان سے کارکردگی کی رپورٹ طلب کرنے اور ان کی نگرانی کا اختیار ہوگا۔
منظور شدہ بجٹ اور مالی پالیسی کے مطابق مالی امور کی نگرانی اور اخراجات کی منظوری کا اختیار ہوگا۔
ادارے کی پالیسی کے مطابق تقرری، ذمہ داریوں کی تقسیم، تبادلوں اور نظم و ضبط سے متعلق انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار ہوگا۔
ہنگامی حالات میں ادارے کے مفاد میں فوری انتظامی اقدامات کرنے کا اختیار ہوگا، تاہم ایسے اقدامات سے مجلسِ شوریٰ کو بروقت آگاہ کرنا ضروری ہوگا۔
ادارے کی نمائندگی سرکاری، تعلیمی، سماجی اور فلاحی اداروں کے سامنے کرنے کا اختیار ہوگا۔
ایسے تمام اختیارات استعمال کرنے کا مجاز ہوگا جو شریعتِ اسلامیہ، ادارے کے آئین اور مجلسِ شوریٰ نے اس کے سپرد کیے ہوں۔
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
منتظمین
ناطم اعلیٰ
اہلیت
ذمہ داریاں
تعلیمی امور کی نگرانی
طلبہ کی دینی واخلاقی تربیت
اختیارات
مجلس تعلیمی کی سفارشات کو مجلس شویٰ میں پیش کرنا
شعبہ تعلیمات کی رپورٹ مجلس شوریٰ میں پیش کرنا
ناظمِ اعلیٰ کی اہلیت
ناظمِ اعلیٰ ایسا فرد ہو جو
علمِ دین میں مناسب مہارت اور دینی علوم کی اچھی سمجھ رکھتا ہو۔
دیانت، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور اعلیٰ کردار کے لیے معروف ہو۔
ادارے کے وژن، مشن، منہج اور تعلیمی پالیسیوں سے مکمل ہم آہنگی رکھتا ہو۔
تعلیمی، تربیتی اور انتظامی امور کا مناسب تجربہ اور صلاحیت رکھتا ہو۔
نصاب، تدریسی نظام، امتحانات اور تعلیمی منصوبہ بندی سے واقف ہو۔
اساتذہ کی رہنمائی، تربیت، نگرانی اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
قیادت، منصوبہ بندی، تنظیم، مشاورت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ابلاغ، روابط اور ٹیم ورک میں مہارت رکھتا ہو۔
ادارے کے آئین، پالیسیوں اور مجلسِ شوریٰ کے فیصلوں کی پابندی کا عملی مزاج رکھتا ہو۔
امانت، ذمہ داری اور خدمتِ دین کے جذبے کے ساتھ ادارے کے تعلیمی مقاصد کے حصول کی اہلیت رکھتا ہو۔
ناظمِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں
مہتمم کی نگرانی میں ادارے کے تمام تعلیمی شعبہ جات کی منصوبہ بندی، نگرانی اور ترقی کی ذمہ داری ادا کرنا۔
تمام تعلیمی شعبوں میں یکساں تعلیمی معیار، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی پالیسیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا۔
ہر شعبے کے ناظم/پرنسپل/صدر مدرس کی رہنمائی، نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ لینا۔
نصاب، تدریسی نظام، امتحانات، جائزہ اور تعلیمی معیار کی مسلسل بہتری کے لیے اقدامات کرنا۔
اساتذہ کی تقرری کے لیے سفارش، تربیت، رہنمائی اور پیشہ ورانہ ترقی کا انتظام کرنا۔
سالانہ تعلیمی منصوبہ، تعلیمی کیلنڈر اور اہداف تیار کرکے مہتمم کی منظوری سے نافذ کرنا۔
تمام تعلیمی شعبوں کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لے کر مہتمم کو رپورٹ پیش کرنا۔
طلبہ کی علمی، اخلاقی اور تربیتی ترقی کے لیے مربوط نظام قائم کرنا۔
تعلیمی شعبوں کے درمیان تعاون، ہم آہنگی اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دینا۔
مہتمم کی طرف سے تفویض کردہ دیگر تعلیمی ذمہ داریاں انجام دینا۔
ناظمِ اعلیٰ کے اختیارات
مہتمم کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات اور ادارے کی پالیسی کے مطابق تمام تعلیمی شعبوں کی نگرانی کرنا۔
تمام تعلیمی شعبوں سے رپورٹس طلب کرنا اور ان کا جائزہ لینا۔
تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے ہدایات جاری کرنا اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی کرنا۔
اساتذہ، نصاب، امتحانات اور تدریسی امور سے متعلق اصلاحی تجاویز دینا اور منظور شدہ پالیسی کے مطابق ان پر عمل درآمد کرانا۔
تعلیمی کمیٹیاں تشکیل دینا اور ان کے کام کی نگرانی کرنا، حسبِ منظوری۔
تعلیمی امور سے متعلق اجلاس طلب کرنا اور ان کی صدارت کرنا۔
تعلیمی مسائل کے حل کے لیے ضروری انتظامی فیصلے کرنا، بشرطیکہ وہ ادارے کے آئین، شریعتِ اسلامیہ، مہتمم کی ہدایات اور مجلسِ شوریٰ کی پالیسیوں کے مطابق ہوں۔
مہتمم کی منظوری سے نئے تعلیمی منصوبے، پروگرام اور اصلاحات تجویز کرنا۔
ناظم شعبہ حفظ
ناظم شعبۂ تحفیظ کی اہلیت
قرآنِ کریم کی صحیح تلاوت، تجوید اور حفظ کے نظام پر مکمل عبور اور عملی تجربہ رکھتا ہو۔
حفظِ قرآن کے مراحل، تدریسی اصولوں اور طلبہ کی استعداد کے مطابق منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتا ہو۔
دیانت، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور اعلیٰ کردار کا حامل ہو۔
بچوں کی نفسیات، عمر کے تقاضوں اور مثبت تربیتی اسالیب سے واقف ہو، اور اساتذہ کی اس حوالے سے رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
قاری حضرات اور اساتذہ کی تربیت، رہنمائی اور ان کے پیش آنے والے تعلیمی و تربیتی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتا ہو۔
عصری تعلیم کی اہمیت کو سمجھتا ہو، سکولنگ کے نظام سے واقف ہو اور دینی و عصری تعلیم میں توازن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
مناسب عصری تعلیم یافتہ ہو تاکہ سکولنگ کے نظام کو بہتر انداز میں سمجھ اور منظم کر سکے۔
عربی زبان، قرآن فہمی اور بنیادی اسلامی علوم کی اہمیت سے واقف ہو اور انہیں نظامِ تعلیم کا حصہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
طلبہ کی علمی، اخلاقی، جسمانی اور شخصی تربیت کے اصولوں سے واقف ہو اور ایک متوازن اسلامی شخصیت کی تشکیل کا وژن رکھتا ہو۔
ادارے کے وژن، منہج، آئین اور پالیسیوں سے مکمل ہم آہنگی رکھتا ہو اور انتظامی و قائدانہ صلاحیت کا حامل ہو۔
ناظم شعبۂ تحفیظ کی ذمہ داریاں
شعبہ تحفیظ کے تمام تعلیمی، تربیتی اور انتظامی امور کی نگرانی کرنا۔
حفظ، قاعدہ، ناظرہ اور تجوید کے نظام کو مؤثر اور معیاری بنانا۔
سکولنگ، حفظ اور عربی زبان و قرآن فہمی کے درمیان متوازن نظام کو یقینی بنانا۔
اساتذہ و قراء کی رہنمائی، تربیت، نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ لینا۔
طلبہ کی تعلیمی، اخلاقی، روحانی اور شخصی تربیت کے لیے مؤثر نظام قائم کرنا۔
بچوں کی نفسیات کے مطابق تعلیمی و تربیتی ماحول پیدا کرنا اور اساتذہ کی اس سلسلے میں رہنمائی کرنا۔
والدین کے ساتھ مؤثر رابطہ رکھنا اور طلبہ کی پیش رفت سے انہیں آگاہ کرنا۔
امتحانات، جائزہ، حفظ کی رفتار اور تعلیمی معیار کی نگرانی کرنا۔
سالانہ تعلیمی منصوبہ، اہداف اور ترقیاتی منصوبے تیار کرکے ناظمِ اعلیٰ کو پیش کرنا۔
شعبے کی کارکردگی سے متعلق باقاعدہ رپورٹ ناظمِ اعلیٰ کو پیش کرنا۔
ادارے کے نظم، آئین اور پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا۔
ناظم شعبہ تحفیظ کے اختیارات
ادارے کی پالیسی کے مطابق شعبۂ تحفیظ کے روزمرہ تعلیمی و انتظامی امور چلانے کا اختیار ہوگا۔
شعبے کے اساتذہ و عملے کو تعلیمی ہدایات جاری کرنے اور ان کی نگرانی کا اختیار ہوگا۔
طلبہ کی تعلیمی، تربیتی اور نظم و ضبط سے متعلق مناسب فیصلے کرنے کا اختیار ہوگا۔
شعبے کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحی اقدامات تجویز کرنے اور منظور شدہ پالیسی کے مطابق نافذ کرنے کا اختیار ہوگا۔
امتحانات، جائزہ، کلاسوں اور تدریسی نظام کی نگرانی اور بہتری کے لیے ضروری انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار ہوگا۔
والدین کے ساتھ تعلیمی و تربیتی معاملات میں رابطہ رکھنے اور ضروری رہنمائی فراہم کرنے کا اختیار ہوگا۔
شعبے کی ضروریات، اساتذہ کی تقرری، تربیت اور دیگر انتظامی معاملات کے بارے میں ناظمِ اعلیٰ کو سفارشات پیش کرنے کا اختیار ہوگا۔
ہنگامی تعلیمی یا تربیتی معاملات میں فوری انتظامی اقدامات کرنے کا اختیار ہوگا، بشرطیکہ وہ ادارے کی پالیسی، شریعتِ اسلامیہ اور اعلیٰ انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق ہوں۔
ناظم تعلیم
اہلیت (Qualifications & Competencies)
ناظم تعلیم کے لیے درج ذیل علمی، انتظامی اور تربیتی صلاحیتیں ضروری ہوں گی
درس نظامی کی تکمیل اور دینی علوم میں مضبوط علمی استعداد۔
تدریس اور تعلیمی نظم و نسق کا مناسب تجربہ۔
نصاب، تدریسی منہج اور تعلیمی منصوبہ بندی کی صلاحیت۔
اساتذہ و معلمات کی علمی و تدریسی صلاحیتوں کو جانچنے اور بہتر بنانے کی قابلیت۔
طلبہ و طالبات کی نفسیات اور تعلیمی ضروریات سے واقفیت۔
تعلیمی جائزہ، رپورٹ سازی اور امتحانی نظام چلانے کی صلاحیت۔
قیادت، فیصلہ سازی، ٹیم مینجمنٹ اور ادارہ جاتی نظم کی صلاحیت۔
تحریری و تقریری صلاحیت، بالخصوص عربی اور دینی علوم کی تدریس کے تقاضوں سے واقفیت۔
تربیتِ معلمین اور ورکشاپس منعقد کرنے کا تجربہ۔
ادارے کے تعلیمی وژن اور مقاصد سے ہم آہنگ سوچ۔
ذمہ داریاں (Responsibilities)
(الف) نصاب اور تدریسی نظام کی نگرانی
وفاق المدارس کے نصاب کو ادارے کے تعلیمی معیار کے مطابق نافذ کرنا۔
ہر جماعت کے لیے سالانہ، ششماہی اور سہ ماہی تدریسی منصوبہ تیار کرنا۔
ہر مضمون کے لیے مناسب تدریسی منہج، مقدارِ سبق اور مطلوبہ نتائج طے کرنا۔
سینیئر اساتذہ کی مشاورت سے تدریسی معیار کو برقرار رکھنا۔
(ب) اساتذہ و معلمات کی نگرانی اور تربیت
اساتذہ و معلمات کی علمی صلاحیت، تجربے اور تدریسی استعداد کے مطابق ذمہ داریاں تقسیم کرنا۔
معلمات کو اس انداز سے تیار کرنا کہ وہ مستقبل میں مستقل طور پر کتاب پڑھانے کے قابل ہو سکیں۔
کلاس روم تدریس کی نگرانی کے لیے نگران معلمات کا نظام قائم کرنا۔
تدریسی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی رہنمائی فراہم کرنا۔
(ج) تعلیمی جائزہ کا نظام
اساتذہ کے لیے ماہانہ تحریری جائزے کا انتظام کرنا۔
معلمات کے لیے تحریری اور تقریری جائزے کا نظام قائم کرنا۔
فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر مضامین کے لیے نگران مقرر کرنا۔
نگرانوں کی رپورٹس کی بنیاد پر معلمات کے ساتھ مذاکرہ کرکے بہتری کے اقدامات کرنا۔
(د) امتحانات کا نظم
سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات کی منصوبہ بندی کرنا۔
سوالات کی تیاری، معیار اور نصاب سے مطابقت کا جائزہ لینا۔
امتحانات کے بعد نتائج کا تجزیہ کرنا۔
کمزوری کی صورت میں
طالبات کی کمی کی اصلاح کے لیے تعلیمی رہنمائی کرنا۔
تدریسی کمی کی صورت میں معلمہ کی تربیت، مذاکرہ یا تدریسی تقسیم میں تبدیلی کرنا۔
(ہ) اضافی تعلیمی و تربیتی پروگرامز
نصاب کے علاوہ ضروری موضوعات پر ورکشاپس کا انعقاد کرنا۔
طالبات کی علمی وسعت کے لیے خارجی مطالعہ کا انتظام کرنا۔
عربی تکلم اور انشاء کی ترقی کے لیے ہفتہ وار پروگرام منعقد کرنا۔
درس قرآن، تقریری تربیت اور دعوتی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے مشقیں کروانا۔
(و) غیر نصابی سرگرمیاں
طالبات کو عملی زندگی کے مفید ہنر سکھانے کے لیے پروگرام ترتیب دینا، مثلاً
سلائی کڑھائی
پینٹنگ
دیگر تربیتی سرگرمیاں
طالبات میں قائدانہ صلاحیت، تخلیقی صلاحیت اور معاشرتی شعور پیدا کرنے کے اقدامات کرنا۔
(ز) طالبات کی حوصلہ افزائی
علمی، تحریری اور تعلیمی میدان میں نمایاں طالبات کی حوصلہ افزائی کرنا۔
امتحانات میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی طالبات کے لیے انعامات کا انتظام کرنا۔
طالبات کے علمی مضامین اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مجلہ یا دیگر ذرائع کا انتظام کرنا۔
اختیارات (Authorities)
نصاب کی تدریسی تقسیم اور سالانہ تعلیمی منصوبہ بندی کرنا۔
ہر مضمون اور ہر جماعت کے لیے تدریسی مقدار اور طریقۂ تدریس متعین کرنا۔
اساتذہ و معلمات کی اہلیت، تجربے اور صلاحیت کے مطابق اسباق تقسیم کرنا۔
تدریسی نگرانی کے لیے سینیئر اساتذہ اور مضمون وار نگران مقرر کرنا۔
اساتذہ و معلمات کی تدریسی کارکردگی کا جائزہ لینا اور بہتری کے لیے اقدامات کرنا۔
ماہانہ جائزوں، تربیتی نشستوں اور تدریسی مذاکروں کا اہتمام کرنا۔
امتحانات کے نظام، سوالات کے معیار، پیپرز کی جانچ اور نتائج کے تجزیے کی نگرانی کرنا۔
کمزور تدریسی نتائج کی اصلاح کے لیے مناسب تجاویز اور اقدامات کرنا۔
نصاب کے علاوہ ضروری تعلیمی، تربیتی اور غیر نصابی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنا۔
ورکشاپس، مطالعاتی پروگرامز، عربی تکلم و انشاء کی سرگرمیوں اور دیگر تربیتی پروگرامز کا انعقاد کرنا۔
تمام تعلیمی معاملات میں مہتمم صاحب کو سفارشات پیش کرنا۔
ناظم دارالافتاء والارشاد
تعارف و مقصد
اول اہلیت
علمی اہلیت
درسِ نظامی کی تکمیل اور تخصص فی الفقہ والافتاء۔
قرآن، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، قواعدِ فقہیہ، مقاصدِ شریعت اور فقہی تطبیقات پر مضبوط دسترس۔
عربی زبان اور مصادرِ شریعت سے براہِ راست استفادہ کی صلاحیت۔
فتویٰ نویسی، فقہی تحقیق اور معاصر مسائل کے حل کا عملی تجربہ۔
جدید مالی، معاشی، معاشرتی، قانونی، طبی اور ٹیکنالوجی سے متعلق پیش آمدہ مسائل کا بنیادی فہم۔
انتظامی اہلیت
علمی و تحقیقی ادارے کی منصوبہ بندی اور انتظام چلانے کی صلاحیت۔
مفتیان، محققین اور معاون عملے کی نگرانی اور رہنمائی کا تجربہ۔
تحقیق، ریکارڈ سازی، معیار بندی اور منصوبہ بندی کی صلاحیت۔
اخلاقی و تربیتی اہلیت
تقویٰ، دیانت، امانت اور اعلیٰ اخلاق۔
تحمل، اعتدال، وسعتِ نظر اور اختلافِ رائے کے آداب کا لحاظ۔
رازداری، غیر جانب داری اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت۔
اخلاص اور خدمتِ دین کا جذبہ۔
دوم اختیارات
اخلاقی و تربیتی اہلیت
استفتاءات کی وصولی، اندراج، درجہ بندی اور تقسیم کا نظام مرتب کرنا۔
مختلف موضوعات کے مطابق استفتاءات متعلقہ مفتیان یا محققین کو تفویض کرنا۔
اہم، پیچیدہ یا اجتماعی نوعیت کے مسائل کو مجلسِ افتاء میں پیش کرنا۔
جاری ہونے والے فتاویٰ کی علمی جانچ، نظرثانی اور منظوری دینا۔
مزید تحقیق، دلائل یا ماہرین سے مشاورت کا مطالبہ کرنا۔
دارالافتاء کے تحقیقی، تربیتی اور اشاعتی منصوبوں کی منظوری اور نگرانی کرنا۔
معاون مفتیان، محققین اور انتظامی عملے کی ذمہ داریاں تقسیم کرنا۔
دارالافتاء کے معیار، طریقۂ کار اور عملی ضوابط (SOPs) مرتب کرنا۔
مہتمم یا مرکزی انتظامیہ کو علمی و انتظامی تجاویز پیش کرنا۔
سوم ذمہ داریاں
1۔ نظامِ افتاء
استفتاءات کی بروقت وصولی، اندراج، تقسیم اور تکمیل کو یقینی بنانا۔
ہر استفتاء پر مقررہ مدت کے اندر تحقیق اور جواب کی تکمیل کی نگرانی کرنا۔
پیچیدہ اور نئے پیش آمدہ مسائل میں اجتماعی تحقیق اور مشاورت کا اہتمام کرنا۔
2۔ علمی تحقیق
قرآن کریم، سنت نبوی ﷺ، اجماع، قیاس، اصولِ فقہ اور معتبر فقہی مصادر کی روشنی میں تحقیق کو یقینی بنانا۔
ہر فتویٰ کو علمی دلائل، حوالہ جات اور فقہی اصولوں کے مطابق مرتب کروانا۔
معاصر فقہی مسائل پر تحقیقی منصوبوں کی نگرانی کرنا۔
فقہی ذخیرے کی ترتیب، درجہ بندی اور ڈیجیٹل آرکائیو کی تشکیل کرنا۔
3۔ معیار بندی
فتویٰ نویسی کے معیارات اور اسلوب کو یکساں رکھنا۔
جاری شدہ فتاویٰ کا وقتاً فوقتاً علمی جائزہ (Academic Review) لینا۔
تحقیق، حوالہ جات اور استدلال کے معیار کو مسلسل بہتر بنانا۔
4۔ تربیتِ مفتیان
نئے مفتیان اور معاونین کی عملی تربیت کا نظام قائم کرنا۔
فقہی مذاکرے، مطالعہ، علمی نشستیں اور تربیتی ورکشاپس منعقد کرنا۔
معاصر مسائل پر مسلسل علمی رہنمائی فراہم کرنا۔
5۔ ارشاد و رہنمائی
عوام کو پیش آنے والے شرعی مسائل میں صحیح، آسان اور مدلل رہنمائی فراہم کرنا۔
اہم فقہی موضوعات پر دروس، سوال و جواب کی نشستیں اور تربیتی پروگرام منعقد کرنا۔
عوامی ضرورت کے مطابق رہنمائی پر مشتمل کتابچے، مضامین اور دیگر علمی مواد کی تیاری کی نگرانی کرنا۔
6۔ انتظامی امور
دارالافتاء کے روزمرہ انتظامی امور، عملے، اوقاتِ کار اور ریکارڈ کی نگرانی کرنا۔
استفتاءات، فتاویٰ اور تحقیقی مواد کا منظم ریکارڈ محفوظ رکھنا۔
سالانہ کارکردگی رپورٹ اور آئندہ کی منصوبہ بندی تیار کرنا۔
7۔ رابطہ و تعاون
دیگر دارالافتاؤں، علمی اداروں اور ماہرین کے ساتھ علمی تعاون کو فروغ دینا۔
ضرورت کے مطابق معاشیات، طب، قانون، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں کے ماہرین سے شرعی تحقیق میں استفادہ کرنا۔
چہارم کارکردگی کے اشاریے (KPIs)
بروقت اور معیاری فتاویٰ کی تیاری۔
فتاویٰ کی علمی صحت اور حوالہ جات کا معیار۔
پیچیدہ مسائل پر تحقیقی کام کی مقدار اور معیار۔
نئے مفتیان کی تربیت اور علمی ترقی۔
عوامی رہنمائی اور ارشادی سرگرمیوں کی مؤثر انجام دہی۔
ریکارڈ، اشاعت اور ڈیجیٹل آرکائیونگ کی تکمیل۔
دارالافتاء کے علمی معیار میں مسلسل بہتری۔
پنجم رپورٹنگ اور جواب دہی
ناظم دارالافتاء والارشاد اپنی تمام علمی، تحقیقی، انتظامی اور تربیتی سرگرمیوں کے حوالے سے مہتمم ادارہ کو جواب دہ ہوگا۔
ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرے گا۔
ادارے کی پالیسیوں، شورائی فیصلوں اور شرعی اصولوں کی پابندی کا ذمہ دار ہوگا۔
بنیادی مقصد
ناظم شعبہ علوم الحدیث
تعارف و مقصد
اول اہلیت
علمی اہلیت
درسِ نظامی کی تکمیل۔
تخصص فی الحدیث یا علوم الحدیث میں اعلیٰ تخصص۔
علوم الحدیث، اصولِ حدیث، اسماء الرجال، جرح و تعدیل، عللِ حدیث، تخریج اور شروحِ حدیث پر مضبوط دسترس۔
عربی زبان، خصوصاً مصادرِ حدیث سے براہِ راست استفادہ کی صلاحیت۔
تحقیقی، تصنیفی اور تدریسی تجربہ۔
معاصر حدیثی تحقیقات اور جدید علمی وسائل سے واقفیت۔
انتظامی اہلیت
علمی و تحقیقی شعبہ چلانے کا تجربہ۔
منصوبہ بندی، نگرانی، تحقیقاتی منصوبوں کی تکمیل اور ٹیم مینجمنٹ کی صلاحیت۔
علمی اداروں کے ساتھ تعاون اور روابط استوار کرنے کی صلاحیت۔
اخلاقی و تربیتی اہلیت
تقویٰ، دیانت اور علمی امانت۔
اختلافی مسائل میں اعتدال، وسعتِ نظر اور حسنِ اخلاق۔
تربیت، رہنمائی اور علمی ماحول پیدا کرنے کی صلاحیت۔
مسلسل مطالعہ اور تحقیق کا ذوق۔
دوم اختیارات
شعبے کی سالانہ، ششماہی اور ماہانہ منصوبہ بندی مرتب کرنا۔
علمی، تحقیقی اور تدریسی ذمہ داریوں کی تقسیم کرنا۔
تحقیقی منصوبوں، تصنیفی کاموں اور اشاعتی پروگراموں کی منظوری اور نگرانی کرنا۔
حدیثی سوالات متعلقہ محققین یا ماہرین کو تفویض کرنا۔
تحقیقی مضامین، کتابوں اور فتاویٰ نما حدیثی جوابات کے علمی معیار کی جانچ اور نظرثانی کرنا۔
تربیتی کورسز، علمی نشستوں اور ورکشاپس کا انعقاد کرنا۔
دیگر اداروں کے ساتھ علمی تعاون اور مشاورت کا نظام قائم کرنا۔
مہتمم ادارہ کو شعبے کی ترقی کے لیے تجاویز پیش کرنا۔
سوم ذمہ داریاں
1۔ تحقیقِ حدیث
احادیث کی تخریج، تحقیق اور درجہ بندی کا منظم نظام قائم کرنا۔
عوام اور اداروں کی طرف سے موصول ہونے والے حدیث سے متعلق سوالات کا مدلل اور مستند جواب فراہم کرنا۔
صحیح، حسن، ضعیف، موضوع اور دیگر حدیثی احکام کی تحقیق معتبر اصولوں کے مطابق کرنا۔
غلط یا غیر مستند احادیث کی نشاندہی اور علمی وضاحت کرنا۔
2۔ تدریس و تربیت
علوم الحدیث کے ماہرین تیار کرنے کے لیے منظم تربیتی پروگرام ترتیب دینا۔
طلبہ اور محققین کے لیے تخریج، تحقیق، جرح و تعدیل، عللِ حدیث اور اصولِ حدیث کی عملی تربیت کا اہتمام کرنا۔
علمی مذاکرے، دروس اور تخصصی نشستوں کا انعقاد کرنا۔
3۔ تحقیق و تصنیف
علوم الحدیث سے متعلق تحقیقی مقالات، کتابیں، شروح، تراجم اور رہنما مواد تیار کرنا۔
معاصر حدیثی مسائل پر تحقیقی منصوبوں کی نگرانی کرنا۔
تحقیقی ذخیرے اور ڈیجیٹل لائبریری کی تشکیل و نگہداشت کرنا۔
4۔ اشاعت
حدیثی کتابوں، تحقیقی مقالات، رسائل اور دیگر علمی مواد کی اشاعت کا اہتمام کرنا۔
عوام اور اہلِ علم کے لیے مستند اور آسان فہم علمی مواد تیار کرنا۔
جدید ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے علومِ حدیث کی ترویج کرنا۔
5۔ علمی رہنمائی
مدارس، جامعات، مساجد اور دیگر علمی اداروں کو علومِ حدیث کے حوالے سے مشاورت فراہم کرنا۔
حدیثی نصاب، تحقیق اور تدریس کے حوالے سے علمی تعاون کرنا۔
ضرورت کے مطابق علمی کانفرنسوں، سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کرنا۔
6۔ معیار بندی
تحقیق، تدریس، تصنیف اور اشاعت کے معیارات مرتب کرنا۔
شعبے کے تمام علمی کاموں کا باقاعدہ جائزہ لینا۔
علمی امانت، حوالہ جات اور تحقیقی اصولوں کی پابندی کو یقینی بنانا۔
7۔ انتظامی امور
شعبے کے عملے، محققین اور اساتذہ کی نگرانی کرنا۔
سالانہ اہداف، کارکردگی رپورٹس اور آئندہ منصوبہ بندی مرتب کرنا۔
شعبے کے ریکارڈ، مخطوطات، تحقیقی مواد اور اشاعتی منصوبوں کو منظم رکھنا۔
چہارم کارکردگی کے اشاریے (KPIs)
موصول ہونے والے حدیثی سوالات کے بروقت، مستند اور مدلل جوابات کی تعداد اور معیار۔
تیار ہونے والے علوم الحدیث کے ماہرین کی تعداد اور علمی معیار۔
مکمل ہونے والے تحقیقی منصوبوں، مقالات اور کتابوں کی تعداد اور معیار۔
شائع ہونے والی علمی کتب، رسائل اور تحقیقی مواد کی مقدار اور اثر۔
علمی نشستوں، تربیتی پروگراموں اور ورکشاپس کی تعداد اور نتائج۔
مدارس، جامعات اور دیگر اداروں کو فراہم کی جانے والی علمی خدمات کا معیار۔
تحقیقی ذخیرے اور ڈیجیٹل علمی مواد کی ترقی۔
پنجم رپورٹنگ اور جواب دہی
7۔ انتظامی امور
ناظم شعبۂ علوم الحدیث اپنی تمام علمی، تحقیقی، تربیتی، اشاعتی اور انتظامی سرگرمیوں کے حوالے سے مہتمم ادارہ کو جواب دہ ہوگا۔
ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرے گا۔
ادارے کی پالیسیوں، شورائی فیصلوں اور اہلِ سنت والجماعت کے مسلک کے مطابق علمی امانت اور تحقیقی دیانت کی پابندی کا ذمہ دار ہوگا۔
بنیادی مقصد
نگران شعبۂ رفاہِ عامہ
تعارف و مقصد
اول اہلیت
علمی و شرعی اہلیت
دینی تعلیم اور رفاہی خدمات کے اسلامی اصولوں سے مناسب واقفیت۔
زکوٰۃ، صدقات، عطیات، اوقاف اور دیگر رفاہی امور سے متعلق بنیادی شرعی احکام کا علم۔
خدمتِ خلق کو عبادت اور امانت سمجھنے کا عملی جذبہ۔
انتظامی اہلیت
رفاہی منصوبوں کی منصوبہ بندی، نفاذ اور نگرانی کا تجربہ۔
ٹیم مینجمنٹ، وسائل کی تقسیم اور ریکارڈ سازی کی صلاحیت۔
مالی نظم، رپورٹ نویسی اور ڈیٹا مینجمنٹ کا بنیادی فہم۔
مختلف اداروں، مخیر حضرات اور رضاکاروں کے ساتھ روابط قائم کرنے کی صلاحیت۔
اخلاقی و شخصی اہلیت
تقویٰ، دیانت، امانت اور اعلیٰ اخلاق۔
مستحقین کے ساتھ حسنِ سلوک، ہمدردی اور رازداری کا اہتمام۔
عدل، غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت۔
مشکل حالات میں تحمل، حکمت اور حسنِ انتظام۔
دوم اختیارات
رفاہی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور ان کے نفاذ کی نگرانی کرنا۔
مستحقین کی جانچ پڑتال (Survey) اور ترجیحی فہرست کی منظوری دینا۔
رفاہی ٹیم، رضاکاروں اور فیلڈ ورکرز کی ذمہ داریاں تقسیم کرنا۔
رفاہی سامان اور امدادی وسائل کی تقسیم کے طریقۂ کار کا تعین کرنا۔
مخیر حضرات اور معاون اداروں سے رابطہ اور تعاون کرنا۔
رفاہی سرگرمیوں کی بہتری کے لیے تجاویز پیش کرنا۔
مالی اور انتظامی معاملات میں ادارے کی پالیسی کے مطابق فیصلے کرنا۔
ہنگامی حالات میں فوری امدادی کارروائی کی سفارش کرنا۔
سوم ذمہ داریاں
1۔ مستحقین کی نشاندہی
مستحق افراد اور خاندانوں کی منظم جانچ پڑتال (Survey) کا نظام قائم کرنا۔
مستحقین کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنا اور وقتاً فوقتاً اس کی تجدید کرنا۔
امداد صرف حقیقی ضرورت مند افراد تک پہنچانے کو یقینی بنانا۔
2۔ رفاہی منصوبہ بندی
سالانہ، ششماہی اور ماہانہ رفاہی منصوبے تیار کرنا۔
راشن پروگرام، رمضان پیکیج، قربانی، سردیوں کی امداد، تعلیمی معاونت، طبی امداد اور دیگر رفاہی منصوبوں کی منصوبہ بندی کرنا۔
ہنگامی حالات میں امدادی سرگرمیوں کا مؤثر انتظام کرنا۔
3۔ وسائل کا انتظام
عطیات، زکوٰۃ، صدقات اور دیگر رفاہی وسائل کے مؤثر استعمال کی نگرانی کرنا۔
وسائل کی منصفانہ، شفاف اور باقاعدہ تقسیم کو یقینی بنانا۔
ضیاع، بدعنوانی اور غیر ضروری اخراجات کی روک تھام کرنا۔
4۔ نگرانی و جائزہ
تقسیمِ امداد کے تمام مراحل کی نگرانی کرنا۔
رفاہی منصوبوں کے نتائج اور اثرات کا جائزہ لینا۔
خامیوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات تجویز کرنا
5۔ رابطہ و تعاون
مخیر حضرات، فلاحی اداروں، مساجد، مقامی ذمہ داران اور رضاکاروں کے ساتھ مؤثر روابط قائم کرنا۔
ضرورت کے مطابق دیگر اداروں کے ساتھ مشترکہ رفاہی منصوبے ترتیب دینا۔
6۔ شفافیت و احتساب
تمام رفاہی سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھنا۔
آمدن، اخراجات اور تقسیم کی تفصیلی رپورٹس تیار کرنا۔
عطیات اور امانتوں کے استعمال میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا۔
7۔ سماجی بحالی
صرف امداد فراہم کرنے پر اکتفا نہ کرنا بلکہ مستحق خاندانوں کو خود کفالت کی طرف لانے کی منصوبہ بندی کرنا۔
تعلیم، ہنر، روزگار اور معاشرتی بحالی کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرنا۔
ضرورت مند خاندانوں کو ادارے کے دیگر تعلیمی، تربیتی اور دعوتی شعبوں سے بھی جوڑنے کی کوشش کرنا۔
چہارم کارکردگی کے اشاریے (KPIs)
7۔ سماجی بحالی
مستحقین کی درست اور شفاف جانچ پڑتال کا معیار۔
امدادی منصوبوں کی بروقت اور مؤثر تکمیل۔
وسائل کی شفاف اور منصفانہ تقسیم۔
مستحق خاندانوں کی تعداد اور ان پر رفاہی منصوبوں کے مثبت اثرات۔
مالی ریکارڈ اور رپورٹنگ کی درستگی۔
مخیر حضرات اور معاونین کا اعتماد اور اطمینان۔
خود کفالت کی طرف آنے والے خاندانوں کی تعداد۔
رفاہی منصوبوں کی بہتری اور توسیع کی شرح۔
پنجم رپورٹنگ اور جواب دہی
نگران شعبۂ رفاہِ عامہ اپنی تمام رفاہی، مالی اور انتظامی سرگرمیوں کے حوالے سے مہتمم ادارہ کو جواب دہ ہوگا۔
ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ کارکردگی رپورٹس پیش کرے گا۔
تمام رفاہی وسائل، زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کو شرعی اصولوں، ادارے کی پالیسی اور مقررہ ضوابط کے مطابق استعمال کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
بنیادی مقصد
روضہ انوار الصحابیات ناظمہ / نگرانِ ادارہ
تعارف و مقصد
اول اہلیت
علمی و تعلیمی اہلیت
کم از کم گریجویشن یا متعلقہ تعلیمی قابلیت۔
دینی علوم، عربی زبان، قرآن، حدیث، سیرت اور اسلامی تربیت سے واقفیت۔
تدریس یا تعلیمی انتظام کا مناسب تجربہ۔
بچیوں کی تعلیم و تربیت کے تقاضوں اور نفسیات سے واقفیت۔
انتظامی اہلیت
تعلیمی ادارہ چلانے، منصوبہ بندی اور نگرانی کی صلاحیت۔
اساتذہ کی رہنمائی، تربیت اور کارکردگی جانچنے کی صلاحیت۔
نصاب، امتحانات، حاضری اور تعلیمی ریکارڈ کے نظم کا تجربہ۔
ٹیم مینجمنٹ، رپورٹ سازی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت۔
اخلاقی و تربیتی اہلیت
اعلیٰ اخلاق، دیانت، حیا اور ذمہ داری کا احساس۔
طالبات کے ساتھ شفقت اور تربیتی مزاج۔
والدین اور اساتذہ کے ساتھ حکمت و حسنِ معاملہ۔
ادارے کے دینی و تربیتی وژن سے مکمل ہم آہنگی۔
دوم اختیارات
ادارے کے تعلیمی اور تربیتی نظام کی نگرانی کرنا۔
اساتذہ کی ذمہ داریاں ان کی صلاحیت اور تجربے کے مطابق تقسیم کرنا۔
تدریسی معیار بہتر بنانے کے لیے ہدایات اور تجاویز دینا۔
اساتذہ کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور تربیتی اقدامات تجویز کرنا۔
تعلیمی سرگرمیوں، تربیتی پروگراموں اور غیر نصابی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنا۔
امتحانات، نتائج اور طالبات کی تعلیمی کارکردگی کے جائزے کی نگرانی کرنا۔
والدین کے ساتھ رابطہ اور تربیتی نشستوں کا انتظام کرنا۔
ادارے کے نظم و ضبط کے لیے ضروری اقدامات کرنا۔
ادارے کی بہتری کے لیے انتظامیہ کو سفارشات پیش کرنا۔
سوم ذمہ داریاں
1۔ تعلیمی نظام کی نگرانی
اسکول کے نصاب کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا۔
پانچویں جماعت سے میٹرک تک تعلیمی مراحل کی نگرانی کرنا۔
عصری مضامین کے ساتھ عربی زبان، قرآن، حدیث، سیرت اور اخلاقیات کی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنا۔
سالانہ، ششماہی اور ماہانہ تعلیمی منصوبہ بندی کرنا۔
طالبات کی علمی ترقی کے لیے مناسب تدابیر اختیار کرنا۔
2۔ اساتذہ کی نگرانی و تربیت
خواتین اساتذہ کی تقرری، ذمہ داریوں کی تقسیم اور نگرانی میں کردار ادا کرنا۔
ہر استادہ کو اس کی قابلیت اور تجربے کے مطابق مضامین دینا۔
تدریس کے معیار، سبق کی تیاری اور کلاس روم مینجمنٹ کا جائزہ لینا۔
اساتذہ کے لیے تربیتی نشستوں اور علمی پروگراموں کا اہتمام کرنا۔
3۔ طالبات کی تربیت
طالبات میں دینی شعور، اخلاق، حیا، ذمہ داری اور قیادت کی صلاحیت پیدا کرنا۔
سیرتِ نبوی ﷺ، اخلاقیات اور اسلامی آداب کو عملی تربیت کا حصہ بنانا۔
طالبات کی شخصیت سازی، گفتگو، تحریر اور اظہارِ خیال کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا۔
مثبت سرگرمیوں کے ذریعے اعتماد اور صلاحیت پیدا کرنا۔
4۔ امتحانات اور جائزہ
امتحانات کا نظام مرتب کرنا۔
پرچوں کے معیار، تیاری اور جانچ کے نظام کی نگرانی کرنا۔
نتائج کا تجزیہ کرکے کمزوریوں کی اصلاح کرنا۔
نمایاں طالبات کی حوصلہ افزائی اور کمزور طالبات کے لیے اصلاحی منصوبہ بنانا۔
5۔ والدین سے رابط
والدین اور ادارے کے درمیان مضبوط رابطہ قائم رکھنا۔
والدین کی تربیتی نشستوں کا انعقاد کرنا۔
طالبات کی تعلیمی و اخلاقی ترقی کے لیے والدین کو رہنمائی فراہم کرنا۔
6۔ تربیتی و غیر نصابی سرگرمیاں
تقریری، تحریری اور تخلیقی سرگرمیوں کا انعقاد کرنا۔
عربی زبان کی عملی مشق، مکالمہ اور تحریری صلاحیتوں کو فروغ دینا۔
سیرت، حدیث، اسلامی تاریخ اور اخلاقی تربیت سے متعلق پروگرام ترتیب دینا۔
طالبات کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مقابلہ جات اور سرگرمیاں منعقد کرنا۔
7۔ انتظامی امور
حاضری، نظم و ضبط اور ادارے کے روزمرہ امور کی نگرانی کرنا۔
ادارے کے ریکارڈ، رپورٹس اور تعلیمی دستاویزات کو منظم رکھنا۔
ادارے کی ضروریات اور مسائل سے اعلیٰ انتظامیہ کو آگاہ کرنا۔
چہارم کارکردگی کے اشاریے (KPIs)
طالبات کے تعلیمی نتائج اور معیار میں بہتری۔
دینی و عصری تعلیم کے متوازن نظام کا مؤثر نفاذ۔
اساتذہ کی تدریسی کارکردگی اور تربیتی ترقی۔
طالبات کے اخلاق، نظم و ضبط اور شخصیت سازی میں بہتری۔
والدین کے اعتماد اور اطمینان میں اضافہ۔
تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا معیار اور تسلسل۔
ادارے کے نظم، ریکارڈ اور انتظامی معیار میں بہتری۔
پنجم رپورٹنگ اور جواب دہی
ناظمہ / نگرانِ روضہ انوار الصحابیات عصر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کی مرکزی انتظامیہ کو جواب دہ ہوگی۔
ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرے گی۔
ادارے کی تعلیمی پالیسی، تربیتی اصولوں اور انتظامی ہدایات کی پابندی کی ذمہ دار ہوگی۔
بنیادی مقصد
درسِ نظامی کی تکمیل اور تخصص فی الفقہ والافتاء۔
قرآن، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، قواعدِ فقہیہ، مقاصدِ شریعت اور فقہی تطبیقات پر مضبوط دسترس۔
عربی زبان اور مصادرِ شریعت سے براہِ راست استفادہ کی صلاحیت۔
فتویٰ نویسی، فقہی تحقیق اور معاصر مسائل کے حل کا عملی تجربہ۔
جدید مالی، معاشی، معاشرتی، قانونی، طبی اور ٹیکنالوجی سے متعلق پیش آمدہ مسائل کا بنیادی فہم۔
علمی و تحقیقی ادارے کی منصوبہ بندی اور انتظام چلانے کی صلاحیت۔
مفتیان، محققین اور معاون عملے کی نگرانی اور رہنمائی کا تجربہ۔
تحقیق، ریکارڈ سازی، معیار بندی اور منصوبہ بندی کی صلاحیت۔
تقویٰ، دیانت، امانت اور اعلیٰ اخلاق۔
تحمل، اعتدال، وسعتِ نظر اور اختلافِ رائے کے آداب کا لحاظ۔
رازداری، غیر جانب داری اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت۔
اخلاص اور خدمتِ دین کا جذبہ۔
چہارم کارکردگی کے اشاریے (KPIs)
بروقت اور معیاری فتاویٰ کی تیاری۔
فتاویٰ کی علمی صحت اور حوالہ جات کا معیار۔
پیچیدہ مسائل پر تحقیقی کام کی مقدار اور معیار۔
نئے مفتیان کی تربیت اور علمی ترقی۔
عوامی رہنمائی اور ارشادی سرگرمیوں کی مؤثر انجام دہی۔
ریکارڈ، اشاعت اور ڈیجیٹل آرکائیونگ کی تکمیل۔
دارالافتاء کے علمی معیار میں مسلسل بہتری۔
پنجم رپورٹنگ اور جواب دہی
ناظم دارالافتاء والارشاد اپنی تمام علمی، تحقیقی، انتظامی اور تربیتی سرگرمیوں کے حوالے سے مہتمم ادارہ کو جواب دہ ہوگا۔
ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرے گا۔
ادارے کی پالیسیوں، شورائی فیصلوں اور شرعی اصولوں کی پابندی کا ذمہ دار ہوگا۔
بنیادی مقصد
انتظامی اہلیت
علمی و تحقیقی شعبہ چلانے کا تجربہ۔
منصوبہ بندی، نگرانی، تحقیقاتی منصوبوں کی تکمیل اور ٹیم مینجمنٹ کی صلاحیت۔
علمی اداروں کے ساتھ تعاون اور روابط استوار کرنے کی صلاحیت۔
دوم اختیارات
شعبے کی سالانہ، ششماہی اور ماہانہ منصوبہ بندی مرتب کرنا۔
علمی، تحقیقی اور تدریسی ذمہ داریوں کی تقسیم کرنا۔
تحقیقی منصوبوں، تصنیفی کاموں اور اشاعتی پروگراموں کی منظوری اور نگرانی کرنا۔
حدیثی سوالات متعلقہ محققین یا ماہرین کو تفویض کرنا۔
تحقیقی مضامین، کتابوں اور فتاویٰ نما حدیثی جوابات کے علمی معیار کی جانچ اور نظرثانی کرنا۔
تربیتی کورسز، علمی نشستوں اور ورکشاپس کا انعقاد کرنا۔
دیگر اداروں کے ساتھ علمی تعاون اور مشاورت کا نظام قائم کرنا۔
مہتمم ادارہ کو شعبے کی ترقی کے لیے تجاویز پیش کرنا۔
ناظم برائے عصری علوم
تعریف
1۔ اہلیت
الف تعلیمی اہلیت
ب دینی اہلیت
ج انتظامی اہلیت
د اخلاقی و تربیتی اہلیت
2۔ ذمہ داریاں
الف عصری علوم کے نظام کی ترتیب
ب تدریسی نگرانی
ج طلبہ کا تعلیمی ریکارڈ
د امتحانات اور جائزہ
ہ رپورٹنگ
و حفظ کے نظام سے رابطہ
ز والدین سے رابطہ
ح تربیتی ذمہ داری
3۔ اختیارات
الف تعلیمی ترتیب کے اختیارات
ب طلبہ کی درجہ بندی
ج امتحانی نظام کا اختیار
د اساتذہ کی نگرانی
ہ والدین سے تعلیمی رابطہ
و اصلاحی اقدامات
حتمی مختصر عبارت
ناظمِ مالیات
تعریف
1۔ اہلیت
الف دینی و اخلاقی اہلیت
ب علمی و فنی اہلیت
ج انتظامی اہلیت
د شخصی اوصاف
2۔ ذمہ داریاں
الف مالی ریکارڈ کی ترتیب
ب آمدن کا ریکارڈ
ج اخراجات کا ریکارڈ
د تنخواہوں اور مشاہروں کا ریکارڈ
ہ فیس اور طلبہ کے مالی ریکارڈ
و ماہانہ مالی رپورٹ
ز بینک اور کیش کا نظام
ح آڈٹ اور احتساب
ط بجٹ سے متعلق معاونت
ی مالی شفافیت اور رازداری
3۔ اختیارات
الف مالی ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار
ب روزمرہ منظور شدہ اخراجات کا اختیار
ج غیر واضح ادائیگی روکنے کا اختیار
د مالی ضابطوں پر عمل کروانے کا اختیار
ہ فیس اور بقایا جات کی اطلاع کا اختیار
و رپورٹنگ کا اختیار
حتمی مختصر عبارت
طباخ / باورچی
تعریف
1۔ اہلیت
الف دینی و اخلاقی اہلیت
ب فنی اہلیت
ج صحت و صفائی کی اہلیت
د انتظامی اہلیت
2۔ ذمہ داریاں
الف رہائشی طلبہ کے لیے کھانے کی تیاری
صبح کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا، اور رات کا کھانا۔
ب اساتذہ اور معاون عملے کے لیے کھانا
دوپہر کا کھانا، اور رات کا کھانا۔
ج کھانے کے اوقات کی پابندی
د معیار اور مقدار کا خیال
ہ اشیائے خوردونوش کا درست استعمال
و ضرورت کی اشیاء کی اطلاع اور حسبِ ضرورت خریداری
ز کچن کی صفائی
ح برتنوں اور کچن سامان کی حفاظت
ط گیس، آگ اور حفاظتی امور
ی کھانے کی تقسیم اور حسبِ ضرورت پہنچانا
ک رہائش اور ذاتی نظم
ل رپورٹنگ
3۔ اختیارات
الف کچن کے نظم کا اختیار
ب اشیاء کی کمی کی اطلاع دینے کا اختیار
ج حسبِ ضرورت محدود خریداری کا اختیار
د خراب یا مشتبہ اشیاء کی نشاندہی
ہ کھانے کی مقدار میں عملی اندازہ
و سامان کی حفاظت کے لیے پابندی لگانا
ز مرمت یا تبدیلی کی اطلاع
طباخ کے دائرۂ کار سے خارج امور
1. فیس، مالیات یا طلبہ کے انتظامی معاملات میں مداخلت
2. مینو میں اپنی طرف سے بڑی تبدیلی کرنا
3. غیر مجاز افراد کو کھانا دینا
4. ادارے کے سامان کو ذاتی استعمال میں لانا
حتمی مختصر عبارت
ناظمِ دارالاقامہ / ناظمِ ہاسٹل
تعریف
1۔ اہلیت
الف دینی و اخلاقی اہلیت
ب علمی و تعلیمی اہلیت
ج انتظامی اہلیت
د شخصی اوصاف
2۔ ذمہ داریاں
الف رہائشی طلبہ کے نظم کی نگرانی
ب طلبہ کی رہائش کا ریکارڈ
ج رات کی موجودگی اور حاضری
د اوقات کی پابندی
ہ صفائی اور رہائشی ماحول
و کھانے کے نظم سے رابطہ
ز اخلاقی و تربیتی نگرانی
ح موبائل، انٹرنیٹ اور غیر ضروری مشاغل کی نگرانی
ط مہمانوں اور ملاقاتوں کا نظم
ی چھٹی اور باہر جانے کا نظام
ک مرمت اور سہولیات کی اطلاع
ل شکایات اور تنازعات کا حل
م حفاظتی امور
ن بیماری اور ایمرجنسی
س رپورٹنگ
ع تدریسی ذمہ داری کے ساتھ توازن
3۔ اختیارات
الف ہاسٹل کے نظم کو نافذ کرنے کا اختیار
ب معمولی اصلاحی تنبیہ کا اختیار
ج حاضری اور چھٹی کے ریکارڈ کا اختیار
د طلبہ کی کمرہ ترتیب کا اختیار
ہ غیر متعلقہ افراد کو روکنے کا اختیار
و ممنوعہ یا خطرناک چیزوں کی اطلاع کا اختیار
ز مرمت اور سہولیات کی پیروی کا اختیار
ح شکایت وصول کرنے اور رپورٹ کرنے کا اختیار
ناظمِ دارالاقامہ کے دائرۂ کار سے خارج امور
2. کسی طالب علم کو ہاسٹل سے مستقل نکالنا
3. فیس، تنخواہ یا مالی رعایت کے فیصلے کرنا
4. بڑی خریداری یا مالی اخراجات کرنا
5. سخت تادیبی کارروائی یا جسمانی سزا دینا
6. ذاتی تلاشی یا کمرے کی تلاشی بغیر ضابطے کے لینا
7. کسی مہمان کو مستقل قیام کی اجازت دینا
8. تعلیمی شعبے کے فیصلوں میں بلااجازت مداخلت کرنا
9. اساتذہ کے ذاتی، تدریسی یا رہائشی معاملات میں مداخلت کرنا
حتمی مختصر عبارت
ناظم متفرق امور (خدمات و انتظامات)
تعارف و مقصد
اول اہلیت
انتظامی اہلیت
- منصوبہ بندی، نگرانی اور مسائل کے بروقت حل کی صلاحیت۔
- ریکارڈ سازی، خریداری اور وسائل کے مؤثر استعمال کا تجربہ۔
فنی اہلیت
- حفاظتی اصولوں اور سرکاری ضوابط سے واقفیت۔
اخلاقی و شخصی اہلیت
- دیانت، امانت، ذمہ داری اور وقت کی پابندی۔
- حسنِ اخلاق، نظم و ضبط اور خدمت کا جذبہ۔
- مالی معاملات میں شفافیت اور امانت داری۔
دوم اختیارات
- ہنگامی خرابی کی صورت میں فوری اصلاحی اقدامات کرنا۔
سوم ذمہ داریاں
1۔ صفائی و ستھرائی
- صفائی کے معیار کی مسلسل نگرانی کرنا۔
- صفائی کے سامان کی دستیابی کو یقینی بنانا۔
2۔ بجلی و پانی
3۔ عمارت و اثاثہ جات
- ادارے کے تمام اثاثوں کا باقاعدہ ریکارڈ محفوظ رکھنا۔
4۔ خریداری و اسٹور
- ضروری سامان کی بروقت خریداری کا انتظام کرنا۔
- اسٹور کا منظم نظام قائم کرنا۔
- سامان کے اجراء اور استعمال کا ریکارڈ مرتب کرنا۔
5۔ خدماتی عملہ
- ان کی حاضری، کارکردگی اور ذمہ داریوں کا جائزہ لینا۔
- ان کی تربیت اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا۔
6۔ سیکیورٹی و حفاظت
7۔ عمومی انتظامات
- مہمانوں کے استقبال اور ضروری انتظامات کی نگرانی کرنا۔
8۔ نگرانی و جائزہ
- روزانہ ادارے کا معائنہ کرنا۔
- ماہانہ جائزہ رپورٹ تیار کرکے انتظامیہ کو پیش کرنا۔
چہارم کارکردگی کے اشاریے (KPIs)
- ادارے کی صفائی اور نظم کا معیار۔
- بجلی، پانی اور دیگر سہولیات کی بلا تعطل فراہمی۔
- مرمت اور خرابیوں کے بروقت حل کی شرح۔
- اثاثوں کی حفاظت اور ان کے مؤثر استعمال کا معیار۔
- خدماتی عملے کی کارکردگی اور نظم و ضبط۔
- خریداری اور وسائل کے استعمال میں شفافیت۔
- ہنگامی حالات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت۔
پنجم رپورٹنگ اور جواب دہی
- ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرے گا۔
بنیادی مقصد
ناظم کتب خانہ (لائبریری)
تعارف و مقصد
اول اہلیت
علمی اہلیت
- مطالعہ، تحقیق اور علمی رہنمائی کا ذوق۔
انتظامی اہلیت
- امانت، ترتیب اور منصوبہ بندی کی صلاحیت۔
اخلاقی و شخصی اہلیت
- دیانت، امانت داری اور ذمہ داری کا احساس۔
- خاموش، منظم اور علمی ماحول برقرار رکھنے کی صلاحیت۔
- خوش اخلاقی اور تعاون کا جذبہ۔
دوم اختیارات
- کتب خانے کے روزمرہ انتظامی امور کی نگرانی کرنا۔
- کتابوں کے اجراء، واپسی اور استعمال کے ضوابط نافذ کرنا۔
سوم ذمہ داریاں
1۔ کتب خانے کا انتظام
- کتب خانے کو منظم، صاف اور تحقیقی ماحول کے مطابق رکھنا۔
2۔ کتابوں کا اجراء و واپسی
- مقررہ مدت کے اندر کتابوں کی واپسی کو یقینی بنانا۔
3۔ علمی معاونت
- تحقیقی موضوعات کے مطابق مناسب کتابوں کی نشاندہی کرنا۔
- حوالہ جاتی اور نادر کتب کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا۔
4۔ کتب کی حفاظت
- کتابوں، مخطوطات، رسائل اور دیگر علمی مواد کی حفاظت کرنا۔
- پرانی اور نادر کتابوں کی مرمت اور حفاظت کا انتظام کرنا۔
5۔ لائبریری کی ترقی
6۔ ریکارڈ اور رپورٹنگ
- سالانہ خریداری، استعمال اور ضروریات کی رپورٹ تیار کرنا۔
- ضائع یا خراب ہونے والی کتابوں کی تفصیلات محفوظ رکھنا۔
چہارم کارکردگی کے اشاریے (KPIs)
- کتابوں کی درست درجہ بندی اور ریکارڈ کا معیار۔
- طلبہ اور اساتذہ کی لائبریری سے استفادہ کی شرح۔
- نئی علمی کتب اور مراجع کے اضافے کی رفتار۔
- کتابوں کے ضیاع اور نقصان میں کمی۔
- لائبریری کے نظم، صفائی اور علمی ماحول کا معیار۔
پنجم رپورٹنگ اور جواب دہی
- ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرے گا۔
بنیادی مقصد
منتظمین دینی علوم
ناظم شعبہ حفظ و ناظرہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم درس نظامی
اہلیت
ذمہ داریاں
داخلہ کے امتحانات کا انتظام
نصاب تعلیم میں تبدیلی و ترمیم کی ضرورت
اسباق کی تقسیم
طلباء کے مشاغل علمیہ وعملیہ کی نگرانی
سال میں سہ ماہی وششماہی اور سالانہ امتحان کا انعقاد کرنا
سالانہ امتحان کا رزلٹ پوری کلاس کا اوسطا معلوم کرنا
کلاس میں پڑھائی جانے والی ہر کتاب کا اوسط نتیجہ نکالنا
ہر استاد کی کل کتب کا اوسط رزلٹ معلوم کرنا
اختیارات
ناظم شعبہ تخصصات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم عصری علوم
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مطبخ
اہلیت
ذمہ داریاں
ہر کلاس کی مطعم میں ایک ہفتہ کھانا کھلانے اور مطعم کی صفائی کا اہتمام
اختیارات
ناظم دار الاقامہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
دار الاقامہ کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر طالب علم کے اخراج اختیار ہے
ناظم متفرق امور مدرسہ (صفائی ستھرائی ،بجلی ،پانی ،ترتیب وغیرہ کا نظام )
اہلیت
ذمہ داریاں
ہر جمعرات کو پورے جامعہ کی اجتماعی صفائی کا نظم
ہر منزل میں رہنے والے طلباء کا بیت الخلاء اور وضو خانے کی صفائی کا اہتما م
روزانہ کمروں کی اور اور منزل کی صفائی اور جمعرات کو عمومی صفائی کا اہتمام
اختیارات
ناظم کتب خانہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے اساتذہ
حفظ و ناظرہ کے اساتذ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
درس نظامی کے اساتذہ
اہلیت
ذمہ داریاں
ہر استاذ صاٖحب کامدرسے میں داخل ہوتے ہی بائیو میٹرک کے ذریعے اپنی حاضری کا اندراج کرنا۔
ہر سبق سے قبل طلباء کی حاضری لی جاتی ہے۔
روزانہ طلباء سے سبق سننے کا اہتمام
طلباء سے عبارت سننے کی پابندی
مقدار خوندگی کو مناسب انداز میں چلانا
مقدار خوندگی کو مقررہ وقت پر مکمل کرنا
ہر ماہ کی مقدار خواندگی کو دفتر میں موجود رجسٹر پر درج کرنا
ہر تین ماہ کی مقدار خواندگی کو مقررہ وقت پر مکمل کروانا
طلباء کو تیاری کروانا
تمام اساتذہ کا جامعہ کےہدف پر توجہ دینا
اختیارات
کلاس میں موبائل استعمال پر پابندی۔
تخصصات کے اساتذہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے طلباء
امیر جماعت
اہلیت
ذمہ داریاں
تمام کلاسوں کی پورے ہفتے کی حاضری اور رخصت کی الگ الگ رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔
اختیارات
رہائشی
بنین
اہلیت
ذمہ داریاں
دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کے لئے باہر جانے لئے اجازت ضروری ہے
چھٹی کے علاوہ باقی تمام اوقات میں طلباء کا مدرسہ میں ہونا ضروری ہے
اپنے احباب اور ملنے والوں کو بتا دینا چاہئے کہ وہ صرف عصر ومغرب کے درمیان یا جمعہ کے دن ملاقات کے لئے آیا کریں۔
صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنا
کوڑا مقررہ جگہ پر رکھیں
درسگاہ کمرہ برآمدہ صاف رکھیں
برتن ،کپڑے دھونے کے بعد اس جگہ کو صاف کریں
تمام اشیاء کو سلیقہ اور ترتیب سے رکھیں
صفائی اور تہذیب اخلاق کا نمونہ بنیں
اختیارات
صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنا
دیواروں پر نہ لکھیں
پتھر ڈھیلے لے کر بیت الخلاء نہ جائیں
پتھر ڈھیلے کے بجائےپانی سے استنجاءکریں
بغیر اجازت دار الاقامہ میں کسی کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں ہے
مختلف مدارس میں عمومی نظام
بنات
اہلیت
ذمہ داریاں
دورانِ تعلیم طالبات کو مذکورہ امور کی پابندی کرنی ہوگی۔
اپنی وضع قرآن و سنت کے مطابق بنائیں گی۔
نماز بر وقت پابندی سے ادا کریں گی۔
شرعی پردہ کا اہتمام کریں گی۔
مدرسہ میں غیر حاضری کی صورت میں نگران معلمہ کو بروقت اطلاع دیں گی۔
دورانِ تعلیم ناظم صاحب کی اجازت کے بغیر عصری علوم یا پرائیویٹ امتحان میں شرکت نہیں کریں گی۔
معلمہ کو واجبات المدرسیۃ (ہوم ورک)پابندی سے چیک کروائیں گی اور روزانہ سبق یاد کریں گی۔
مدرسہ کے اوقات کے مطابق محرم رشتہ دار کے ساتھ آئیں گی، نا محرم رشتہ دار کے ساتھ آمد و رفت کی اجازت نہیں۔
طالبہ کی تعلیم و رخصت سے متعلق کسی قسم کا رابطہ یا معلومات صرف محرم رشتہ دار کرسکتے ہیں، دیگر سے معذرت کیجائے گی۔
طالبات سے کسی قسم کی فیس نہیں لی جاتی ہے۔
برقعہ پر کسی قسم کی کڑھائی یالیس نہ ہو۔
برقعہ ڈھیلا اور ٹخنوںتک ہو۔
طالبات دستانے اور موزے بھی استعمال کریں۔
پردے کیلئے طالبات حجاب استعمال کریں۔
اختیارات
غیر رہائشی
بنین
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مختلف مدارس میں عمومی نظام
بنات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مختلف مدارس میں عمومی نظام
برائے والدین
رہا ئشی طلباء کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
کتب کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
غیر رہائشی کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
کتب کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے دیگر معاونین
چوکیدار
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
باورچی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
صفائی کرنے والے
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مالی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ڈرائیور
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
الیکٹریشن
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
پلمپر
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے مدرسہ
قواعد وضوابط
اول انتظامی ضوابط
1. مدرسہ کی مقررہ یونیفارم کی پابندی ہر طالبہ پر لازم ہوگی۔
2. مدرسہ آتے اور جاتے وقت برقع پہننا لازمی ہوگا۔
3. مدرسہ میں زیب و زینت، میک اپ، زیورات اور غیر ضروری آرائش سے مکمل اجتناب کیا جائے گا۔
4. مدرسہ میں موبائل فون، غیر ضروری الیکٹرانک آلات یا دیگر ممنوعہ اشیاء لانا منع ہوگا، الا یہ کہ انتظامیہ سے پیشگی تحریری اجازت حاصل کی گئی ہو۔
5. اساتذہ، معلمات، ملازمین، طالبات، مہمانوں اور مدرسہ کی املاک کا ادب و احترام لازم ہوگا۔
6. دورانِ سال مدرسہ کی طرف سے جاری ہونے والے تمام قواعد، اعلانات اور انتظامی ہدایات کی پابندی ہر طالبہ پر لازم ہوگی۔
7. طالبات کو مدرسہ کے مرد اساتذہ سے براہِ راست یا ذاتی رابطے کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے انتظامیہ کی اجازت یا شرعی و تعلیمی ضرورت کے۔
8. مدرسہ کی گاڑی طالبہ کو اس کے گھر سے لے گی اور گھر ہی واپس چھوڑے گی، راستے میں کسی دوسری جگہ اترنے یا سوار ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، الا یہ کہ انتظامیہ پیشگی اجازت دے۔
9. ٹرانسپورٹ فیس ہر ماہ مقررہ تاریخ پر ادا کرنا ضروری ہوگی، جبکہ رعایت یا کمی کے لیے تحریری درخواست دینا لازم ہوگا۔
10. بغیر اجازت مسلسل یا بار بار غیر حاضری، ضوابط کی خلاف ورزی یا مسلسل تاخیر کی صورت میں انتظامیہ مناسب تادیبی کارروائی یا اخراج کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
11. ہر طالبہ مدرسہ کی صفائی، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
12. مدرسہ کی املاک کو نقصان پہنچانے کی صورت میں متعلقہ طالبہ یا اس کے سرپرست ذمہ دار ہوں گے۔
دوم تعلیمی ضوابط
1. داخلہ صرف ایسی طالبہ کو دیا جائے گا جو کم از کم میٹرک پاس ہو۔
2. طالبہ اپنی باقاعدہ اسکول یا کالج کی تعلیم جاری نہ رکھتی ہو۔
3. داخلہ سرپرست کی رضامندی سے ہوگا۔
4. ترجیح ایسے خاندانوں کو دی جائے گی جن کا دینی ماحول سے تعلق ہو اور جو طالبہ کی دینی تعلیم و تربیت میں تعاون کرنے کے خواہاں ہوں۔
5. ہر طالبہ کے لیے روزانہ سبق کی تیاری، مذاکرہ، دہرائی اور تمام تعلیمی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت ضروری ہوگی۔
6. ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات میں شرکت لازم ہوگی۔
7. تعلیمی معیار برقرار رکھنے کے لیے ہر طالبہ اپنی علمی استعداد بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔
8. پوزیشن صرف ان طالبات کو دی جائے گی جو کم از کم 80 فیصد نمبر حاصل کریں۔ اگر کسی جماعت میں کوئی طالبہ اس معیار تک نہ پہنچے تو اس جماعت میں پوزیشن جاری نہیں کی جائے گی۔
9. اگر کوئی طالبہ داخلی امتحانات میں مطلوبہ معیار حاصل نہ کرے تو اساتذہ کی مشاورت سے اسے وفاق المدارس العربیہ کے امتحان کے لیے نامزد نہ کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، البتہ وہ مدرسہ کے اندر اپنی تعلیم جاری رکھ سکے گی۔
10. مسلسل تعلیمی کمزوری کی صورت میں طالبہ کے لیے خصوصی اصلاحی منصوبہ مرتب کیا جائے گا، جس میں سرپرست کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
سوم تربیتی و اخلاقی ضوابط
1. ہر طالبہ اپنے اخلاق، کردار، عبادات اور اسلامی آداب کی پابندی کی کوشش کرے گی۔
2. نماز ، تلاوتِ قرآن، اذکار اور مسنون دعاؤں کا اہتمام کرے گی۔
3. اساتذہ، معلمات اور بڑی طالبات کے ساتھ حسنِ اخلاق، احترام اور تعاون کا رویہ اختیار کرے گی۔
4. جھوٹ، غیبت، چغلی، لڑائی جھگڑا، بدزبانی، مذاق میں دل آزاری اور ہر ایسے عمل سے اجتناب کرے گی جو اسلامی اخلاق کے خلاف ہو۔
5. تعطیلات کے دوران حتی الامکان اپنے محرم کے ساتھ دعوتی یا اصلاحی جماعت میں وقت گزارنے کی کوشش کرے گی۔
6. والدین یا سرپرست کی تربیتی نشستوں میں شرکت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ گھر اور مدرسہ کی تربیت میں ہم آہنگی پیدا ہو۔
7. مدرسہ کی دعوتی، اصلاحی، سماجی اور رفاہی سرگرمیوں میں حسبِ ہدایت حصہ لے گی۔
8. مطالعہ، تحریر، تقریر، عربی تکلم اور دیگر مثبت صلاحیتوں کی ترقی کے لیے فراہم کردہ مواقع سے بھرپور استفادہ کرے گی۔
9. ہر طالبہ اپنے لباس، گفتگو، نشست و برخاست اور عمومی طرزِ عمل میں اسلامی حیاء اور وقار کو ملحوظ رکھے گی۔
10. ہر طالبہ اپنے آپ کو مستقبل کی داعیہ، معلمہ اور صالحہ خاتون سمجھتے ہوئے اپنی شخصیت کی تعمیر اور امت کی خدمت کے جذبے کو پروان چڑھانے کی کوشش کرے گی۔
والدین و سرپرستان کے لیے اصول و ضوابط
طالبات کی دینی، علمی، اخلاقی اور تربیتی ترقی، تعلیمی یکسوئی اور ادارے کے نظم کو برقرار رکھنے کے لیے والدین و سرپرستان درج ذیل اصول و ضوابط کی پابندی کریں گے
1۔ داخلے سے متعلق ضوابط
1. طالبہ کے داخلے کے وقت والد اور والدہ دونوں کی حاضری ضروری ہوگی۔
2. والدین کو داخلے کے وقت ادارے کے تعلیمی، تربیتی اور انتظامی نظام سے آگاہ کیا جائے گا۔
3. والدین اپنے درست اور فعال رابطہ نمبرز ادارے کو فراہم کریں گے، جن میں درج ذیل معلومات شامل ہوں گی
والد کا رابطہ نمبر
والدہ کا رابطہ نمبر
متبادل یا ہنگامی رابطہ نمبر
مکمل رہائشی پتا
ٹرانسپورٹ سے متعلق ضروری معلومات
4. رابطہ نمبر، رہائش یا دیگر اہم معلومات میں تبدیلی کی صورت میں ادارے کو فوری طور پر مطلع کرنا ضروری ہوگا۔
5. داخلے کے وقت والدین ان اصول و ضوابط کو پڑھ کر ان کی پابندی کا تحریری اقرار کریں گے۔
2۔ حاضری اور رخصت کا طریقۂ کار
1. طالبہ کی باقاعدہ حاضری یقینی بنانا والدین کی ذمہ داری ہوگی۔
2. ہنگامی صورتِ حال میں ایک دن کی رخصت درکار ہو تو والدہ نگران معلمہ سے براہِ راست رابطہ کرکے پیشگی اطلاع دیں گی۔
3. ایک دن سے زیادہ رخصت کے لیے والدین باقاعدہ تحریری درخواست جمع کرائیں گے
4. درخواست میں رخصت کی وجہ، آغاز اور اختتام کی تاریخ واضح طور پر درج کرنا ضروری ہوگا۔
5. طالبہ صرف درخواست کی باقاعدہ منظوری کے بعد رخصت کرسکے گ۔
6. منظوری کے بغیر مسلسل یا غیر ضروری غیر حاضری کو ادارے کے نظم کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
7. بیماری یا کسی طویل مجبوری کی صورت میں ادارے کو بروقت مکمل صورتِ حال سے آگاہ کیا جائے گا۔
3۔ تعلیمی اور اخلاقی مسائل
1. طالبہ کے تعلیمی، اخلاقی یا تربیتی مسئلے کی صورت میں والدین نگران معلمہ یا متعلقہ معلمہ سے خود رابطہ کریں گے۔
2. کسی مسئلے کو غیر متعلقہ افراد، دوسری طالبات یا دیگر والدین کے ذریعے حل کرنے کے بجائے براہِ راست ادارے کے ذمہ داران کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
3. ضرورت کے مطابق والد اور والدہ دونوں کو ادارے میں طلب کیا جاسکتا ہے۔
4. والدین ادارے کی طرف سے دی جانے والی تعلیمی اور تربیتی ہدایات پر گھر میں بھی عمل کروانے کا اہتمام کریں گے۔
5. طالبہ کی کمزوری، شکایت یا کسی نامناسب طرزِ عمل کے متعلق ادارے اور والدین باہمی مشاورت کے ذریعے اصلاحی طریقۂ کار اختیار کریں گے۔
4۔ ٹرانسپورٹ سے متعلق ضوابط
1. جس دن طالبہ نے مدرسے سے رخصت کرنی ہو، والدین متعلقہ رکشہ ڈرائیور یا وین ڈرائیور کو پیشگی اطلاع دیں گے، تاکہ وہ اپنے روٹ اور وقت کا مناسب نظم بنا سکے۔
2. ٹرانسپورٹ کی سہولت حاصل کرنے، تبدیل کرنے یا ختم کرنے کے لیے نگران معلمہ یا متعلقہ انتظامی ذمہ دار سے رابطہ کیا جائے گا۔
3. طالبہ کے پک اینڈ ڈراپ کے مقام یا وقت میں تبدیلی کی صورت میں مدرسے اور ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والے کو بروقت مطلع کرنا ضروری ہوگا۔
4. ٹرانسپورٹ سے متعلق کسی شکایت یا مسئلے کی صورت میں براہِ راست متعلقہ ذمہ دار سے رابطہ کیا جائے گا۔
5۔ والدات کی تربیتی نشستیں
1. طالبات کی متوازن تربیت کے لیے مدرسے کی جانب سے ہر دو یا تین ماہ بعد والدات کے لیے تربیتی نشستیں منعقد کی جائیں گی۔
2. ان تربیتی نشستوں میں طالبات کی ماؤں کی شرکت ضروری ہوگی۔
3. کسی حقیقی مجبوری کے باعث شرکت ممکن نہ ہو تو نگران معلمہ کو پیشگی اطلاع دینا ہوگی۔
4. والدات ان نشستوں میں دی جانے والی تربیتی ہدایات کو گھر کے ماحول میں نافذ کرنے کا اہتمام کریں گی۔
6۔ مستورات کی تربیتی جماعتیں
1. مدرسے کی جانب سے سال میں دو مرتبہ منعقد ہونے والی دو روزہ مستورات کی تربیتی جماعتوں میں والدات کی شرکت ضروری ہوگی۔
2. ان جماعتوں کا مقصد والدات کی دینی، اخلاقی اور تربیتی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور گھر و مدرسے کے تربیتی ماحول میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگا۔
3. جماعت کی تاریخوں اور انتظامی تفصیلات سے والدات کو پیشگی آگاہ کیا جائے گا۔
7۔ ویک اینڈ تربیتی پروگرام
1. والدین، خاندان کے بالغ افراد اور معاشرے کے دیگر طبقات کی دینی و فکری تربیت کے لیے مدرسے کی طرف سے ویک اینڈ پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
2. والدین کو ان پروگراموں میں شرکت کی خصوصی ترغیب دی جائے گی۔
3. والدین اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر حتی الامکان ان پروگراموں سے استفادہ کریں گے۔
4. والدین کی شرکت سے گھر اور مدرسے کے درمیان فکری و تربیتی ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
8۔ والدین کا ذاتی مطالعہ
1. والدین کی علمی، فکری اور تربیتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے مدرسے کی جانب سے مناسب کتب تجویز کی جائیں گی۔
2. والدین تجویز کردہ کتب کے مطالعے کا باقاعدہ اہتمام کریں گے۔
3. ضرورت کے مطابق مطالعاتی نشستیں، کتاب کا خلاصہ یا باہمی مذاکرہ بھی منعقد کیا جاسکتا ہے۔
4. اس مطالعے کا مقصد والدین کو طالبات کی دینی و اخلاقی تربیت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہوگا۔
9۔ طالبہ کی تعلیمی یکسوئی
1. درسِ نظامی ایک مکمل اور بھرپور تعلیمی و تربیتی پروگرام ہے، اس لیے طالبہ کی مکمل توجہ مدرسے کی تعلیم پر مرکوز رکھنا ضروری ہوگا۔
2. درسِ نظامی کی تعلیم کے دوران طالبہ کو مدرسے کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی دوسری باقاعدہ تعلیم، ڈگری، کورس یا مستقل تعلیمی پروگرام میں داخل نہیں کروایا جائے گا۔
3. اضافی تعلیم یا بیک وقت متعدد تعلیمی سرگرمیاں طالبہ کی یکسوئی، حاضری، مطالعے اور تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہیں۔
4. کسی غیر معمولی ضرورت کی صورت میں والدین انتظامیہ کے سامنے تحریری درخواست پیش کریں گے، جس پر ادارہ طالبہ کی صلاحیت، تعلیمی کارکردگی اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔
10۔ والدین کی عمومی ذمہ داریاں
1. مدرسے اور گھر کے درمیان مستقل رابطہ قائم رکھنا۔
2. ادارے کی طرف سے بھیجے جانے والے اعلانات، پیغامات اور ہدایات کا بروقت مطالعہ کرنا۔
3. طالبہ کے مطالعے، سبق کی تیاری، ہوم ورک، حاضری اور وقت کی پابندی کی نگرانی کرنا۔
4. گھر میں دینی، اخلاقی اور تعلیمی ماحول قائم کرنا۔
5. طالبہ کو مدرسے، اساتذہ اور ساتھی طالبات کے احترام کا پابند بنانا۔
6. ادارے کے نظم، لباس، حاضری، امتحانات اور تربیتی سرگرمیوں سے متعلق قواعد کی پابندی کروانا۔
7. مدرسے کے ساتھ تعاون، اعتماد اور باہمی احترام کا تعلق قائم رکھنا۔
اقرار نامہ
طالبہ کا نام _______________________________
درجہ ______________________________________
والد کا نام _________________________________
والد کا رابطہ نمبر ___________________________
والدہ کا نام _________________________________
والدہ کا رابطہ نمبر __________________________
والد کے دستخط _______________________________
والدہ کے دستخط ______________________________
تاریخ ____________________________________
زمین و عمارت کا انتظام
رقبہ و حد بندی
نقشہ
تعلیمی زون
طالبات کے لیے ایک مستقل الگ عمارت قائم ہے
رہائشی زون
مسجد
جامع مسجد الودود امام مسجد
تعارف و مقصد
اول اہلیت
علمی اہلیت
درسِ نظامی کی تکمیل یا اس کے مساوی دینی تعلیم۔
قرآن کریم کی صحیح تلاوت، تجوید اور نماز کے مسائل پر مکمل دسترس۔
عقائد، فقہ، سیرت، حدیث اور دعوتی اصولوں سے واقفیت۔
خطابت، تدریس اور عوامی رہنمائی کی صلاحیت۔
اخلاقی و شخصی اہلیت
تقویٰ، حسنِ اخلاق، وقار اور خوش اخلاقی۔
اعتدال، حکمت اور لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت۔
جماعتی نظم اور ادارے کی پالیسیوں کی پابندی۔
دوم اختیارات
نمازوں کی امامت اور دینی پروگراموں کی نگرانی۔
مسجد کے دینی و تربیتی پروگرام تجویز کرنا۔
مسجد کی دینی ضروریات کے بارے میں انتظامیہ کو سفارشات دینا۔
نمازیوں کی دینی رہنمائی اور اصلاح کرنا۔
سوم ذمہ داریاں
پانچوں نمازوں، جمعہ، عیدین اور دیگر نمازوں کی امامت۔
جمعہ اور دیگر مواقع پر علمی و اصلاحی خطابات۔
قرآن، حدیث اور بنیادی دینی تعلیم کے حلقے قائم کرنا۔
نکاح، جنازہ اور دیگر شرعی خدمات انجام دینا۔
مسجد میں اعتدال، اتحاد اور حسنِ اخلاق کے ماحول کو فروغ دینا۔
نوجوانوں اور بچوں کو مسجد سے جوڑنے کی کوشش کرنا۔
مسجد کے تقدس اور نظم کا خیال رکھنا۔
چہارم کارکردگی کے اشاریے (KPIs)
نمازوں کی پابندی اور بروقت امامت۔
دروس و بیانات کا معیار اور تسلسل۔
نمازیوں کی تعداد اور مسجد سے وابستگی میں اضافہ۔
دینی و تربیتی سرگرمیوں کا انعقاد۔
مسجد کے ماحول اور نظم میں بہتری۔
پنجم رپورٹنگ اور جواب دہی
امام مسجد، نگران مساجد یا ادارے کی انتظامیہ کو جواب دہ ہوگا۔
ماہانہ کارکردگی رپورٹ اور پروگرام کی تفصیل پیش کرے گا۔
جامع مسجد الودود مؤذن
جامع مسجد الودود مؤذن
تعارف و مقصد
اول اہلیت
قرآن کریم کی درست تلاوت اور اذان صحیح انداز میں دینے کی صلاحیت۔
نمازوں کے اوقات سے مکمل واقفیت۔
حسنِ اخلاق، پابندیٔ وقت اور ذمہ داری کا احساس۔
مسجد کے آداب اور بنیادی دینی مسائل کا علم۔
دوم اختیارات
مسجد کے روزانہ اوقاتِ عبادت کے انتظام میں کردار ادا کرنا۔
مسجد کی ضروریات کے متعلق امام یا انتظامیہ کو آگاہ کرنا۔
سوم ذمہ داریاں
تمام نمازوں کی اذان اور اقامت بروقت کہنا۔
نماز سے قبل مسجد کو تیار رکھنا۔
وضوخانہ، جائے نماز اور لاؤڈ اسپیکر وغیرہ کی ابتدائی نگرانی۔
امام کی معاونت اور مسجد کے نظم میں تعاون۔
مسجد کے اوقات کی پابندی۔
چہارم کارکردگی کے اشاریے (KPIs)
اذان اور اقامت کی بروقت ادائیگی۔
نماز کے انتظام میں تعاون۔
مسجد کے نظم و ضبط میں ذمہ دارانہ کردار۔
پابندیٔ وقت اور حسنِ اخلاق۔
پنجم رپورٹنگ اور جواب دہی
امام مسجد اور نگران مساجد کو جواب دہ ہوگا۔
اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ادارے کی ہدایات کا پابند ہوگا۔
جامع مسجد الودود خادم مسجد
تعارف و مقصد
اول اہلیت
دیانت، صفائی پسند اور ذمہ دار شخصیت۔
جسمانی طور پر خدمات انجام دینے کی صلاحیت۔
مسجد کے آداب اور احترام کا شعور۔
وقت کی پابندی اور امانت داری۔
دوم اختیارات
مسجد کی صفائی اور انتظام سے متعلق ضروری اقدامات کرنا۔
ضروری سامان کی کمی یا خرابی کی اطلاع انتظامیہ کو دینا۔
مسجد کی حفاظت کے لیے ابتدائی اقدامات کرنا۔
سوم ذمہ داریاں
مسجد، وضوخانہ، بیت الخلاء اور صحن کی صفائی۔
جائے نماز، پنکھوں، روشنی، پانی اور دیگر سہولیات کا خیال رکھنا۔
مسجد کو نمازوں سے پہلے اور بعد میں منظم رکھنا۔
مسجد کی املاک کی حفاظت کرنا۔
صفائی کا سامان اور دیگر ضروری اشیاء کو محفوظ رکھنا۔
امام اور مؤذن کے ساتھ انتظامی تعاون کرنا۔
مسجد کے دروازے بروقت کھولنا اور بند کرنا۔
چہارم کارکردگی کے اشاریے (KPIs)
مسجد کی صفائی کا معیار۔
سہولیات کی دستیابی۔
مسجد کی حفاظت اور املاک کی نگہداشت۔
پابندیٔ وقت اور ذمہ داری۔
پنجم رپورٹنگ اور جواب دہی
خادم مسجد، امام مسجد اور نگران مساجد کو جواب دہ ہوگا۔
مسجد کی صفائی، سہولیات اور انتظامی امور سے متعلق باقاعدہ رپورٹ پیش کرے گا۔
وضو ایریا
دفاتر
مہمان خانہ
مطبخ ومطعم کی عمارت
اسٹور روم
پارکنگ ایریا
کھیل کا میدان
باغات و شجرکاری
بنیادی سہولیات کا انتظام
ٹرانسپورٹ
طالبات کی جامعہ آمدو رفت کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہلوت بھی موجود ہے
بجلی کا نظام
وائرنگ نیٹ ورک
جنریٹر بیک اپ
سولر سسٹم
پانی کا نظام
فلٹریشن یونٹ
گیس سپلائی
سیوریج لائنز
صفائی کا نظام
رہائش و اقامت کا انتظام
استقبال نظام
طلبہ ہاسٹل
اساتذہ رہائش
مہمان رہائش
بستر
الماریاں
پنکھے / کولنگ
لائٹنگ
واش رومز
وضو خانہ
کپڑوں کی دھلائی
خشک کرنے کا نظام
خوراک و مطبخ کا انتظام
اشیائے خوردونوش
اسٹاک کنٹرول
ہے
خریداری نظام
ہے
سپلائی چین
کھانا پکانے کا نظام
کچن آلات
خوراک کی تقسیم
وقت بندی
صفائی معیار
صفائی کا معیار
ہر کلاس کی مطعم میں ایک ہفتہ کھانا کھلانے اور مطعم کی صفائی کا اہتمام ہے
پینے کا پانی
کولنگ سسٹم
ہے
سامان و اثاثہ جات کا انتظام
فرنیچر
بستر
الیکٹرانکس
کمپیوٹرز
ساؤنڈ سسٹم
لائبریری
کتب کا ریکارڈ
گاڑیاں
ہے
جنریٹرز
مرمت نظام
مینٹیننس شیڈول
نہیں ہے
خرابی رپورٹنگ
ہے
صحت کا نظام
فرسٹ ایڈ باکس
کم ہیں
میڈیکل روم
نہیں ہے
حفاظت کا نظام
آگ بجھانے کے آلات
کم ہیں
ایمرجنسی الرٹ
نہیں ہے
شفاخانہ(ڈسپنسری)
نہیں ہے
سیکیورٹی سسٹم
کیمرے لگے ہیں
گیٹ کنٹرول
نہیں ہے
داخلی نگرانی
CCTV نگرانی
ہے
ہنگامی پروٹوکول
نہیں ہے
مالی وسائل کا نظم
مالی منصوبہ بندی
بجٹ سازی
جی ہے
آمدنی کے ذرائع
چندہ
زکوٰۃ
عطیات
صدقات
وقف املاک
نہیں ہے
اخراجات
تنخواہیں (صرف اخراجاتی پہلو)
کھانے پینےکے اخراجات
یوٹیلٹی بلز
تعمیری اخراجات
مرمت اخراجات
سفر کے اخراجات
تقریبات کے اخراجات
دیگر اخراجات
اجتماعی قربانی کا نظم
نہیں ہے
جامعہ میں اجتماعی قربانی کا نظم کرنا
عید سے 15 دن قبل حکومت سے اجازت طلب کرنا۔
عید سے 2 دن قبل منڈی سے جانوروں کی خریداری کرنا
اجتماعی قربانی کے لیے اساتذہ وطلباء کو مقرر کرنا۔
عید والے دن 5 جگہ کھالیں جمع کرنے کے لیےکیمپ لگانا۔
قربانی والے دن خدمت پر مامور طلباء واساتذہ کو انعام کے طور پر نقدی دینا
آڈٹ سسٹم
ہوتا ہے
ریکارڈ کی تصدیق
ہوتا ہے
اندرونی جانچ
نہیں ہوتی
انتظامی ریکارڈ کا نظام
داخلہ ریکارڈ
طلبہ ڈیٹا
ہوتا ہے
داخلہ فارم
ہوتا ہے
رہائش ریکارڈ
ہاسٹل الاٹمنٹ
نہیں ہے
اثاثہ جات ریکارڈ
سامان کی فہرست
استعمال لاگ
زبانی ہے تحریری نہی ہے
مالی ریکارڈ
آمدنی و اخراجات
دستاویزات
قانونی کاغذات
معاہدات
مواصلات و ٹیکنالوجی
انٹرنیٹ سسٹم
نیٹ ورک انفراسٹرکچر
ڈیجیٹل سسٹم
ویب سائٹ
جی ہے
LMS / پورٹل
ایک کلاس کے لیے ہے
ERP سسٹم
کام شروع ہے
اعلاناتی نظام
لاؤڈ اسپیکر
ڈیجیٹل نوٹس
نوٹس بورڈ
ڈیٹا مینجمنٹ
بیک اپ سسٹم
کلاؤڈ اسٹوریج
دیکھ بھال و ترقی
عمارتوں کی دیکھ بھال
مرمت
حفاظتی جانچ
خوبصورتی و اپ گریڈ
رنگ و روغن
تزئین و آرائش
توسیعی منصوبے
نئی عمارتیں
اضافی بلاکس
سہولیات کی اپ گریڈیشن
جدید آلات
نظام کی بہتری
دار التصنیف
جی ہے
جامعہ میں "دار التصنیف "کے نام سے ایک مستقل شعبہ قائم ہے
دار التصنیف " کی مطبوعات میں معارف السنن سر فہرست ہے
دار التصنیف " کی مطبوعات میں نثر الأزھار علی شرح معانی الاٰثار بھی سر فہرست ہے
مجلس دعوت و تحقیق اسلامی
جامعہ میں ایک ادارہ "مجلس دعوت وتحقیق اسلامی "کے نام سے قائم ہے
اس ادارہ سے "کشف النقاب عما یقولہ الترمذی وفی الباب "کے نام سے ایک منفرد اور عظیم کتاب کی پانچ جلدیں چھپ چکی ہیں
ماہنامہ بینات
نہی ہے
بینات کے لیے لکھے گئے بعض اہم تحقیقی مضامین اور اداریے مستقل کتابی شکل میں بھی طبع ہوچکے ہیں
اہم فقہی مضامین"فتاوی بینات" کے نام سے ۴ جلدوں پر مشتمل کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں ۔
البیّنات "کے نام سے ایک سہ ماہی عربی مجلہ بھی شائع ہوتا ہے
"بینات "کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی ایک مختصر پرچہ ضمیمہ کے طور پرہرماہ شائع ہوتا ہے ۔
رفاہ عامہ
علامہ بنوری ٹرسٹ
علامہ بنوری ٹرسٹ
تعلیم کے متعلق
تعلیمی شعبہ جات
شعبہ ناظرہ و تجوید
شعبہ حفظ
روزانہ کا طریقہ کار
مطالعہ
حفظ
سماعت
سبقی
منزل
ہفتہ وار نظام
مجموعی سماعت
غلطیوں کا تجزیہ
ماہانہ نظام
حفظ امتحان
روانی امتحان
تکمیل حفظ
گردان
درس نظامی
بنین
متوسطہ
متوسطہ اول
متوسطہ دوم
متوسطہ سوم
متوسطہ سال اول تا سال پنجم
تمہیدی
درجہ اولیٰ
درجہ ثانیہ
درجہ ثالثہ
درجہ رابعہ
درجہ خامسہ
درجہ سادسہ
درجہ سابعہ
دورہ حدیث
بنات
درجہ ثانویہ خاصہ سال اول
درجہ ثانویہ خاصہ سال دوم
درجہ عالیہ سال اول
درجہ عالیہ سال دوم
درجہ عالمیہ سال اول
درجہ عالمیہ سال دوم
دراسات دینیہ
تخصصات
تخصص فی القراء ا ت
خصوصیات
بہترین کارکردگی پر دینی خدمت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے
نصاب(جامعۃ الرشید )
نورانی قاعدہ
بچوں کی تعلیمی نفسیات
آداب تدریس قاعده / ناظره / حفظ / گردان / تجوید وقراءات پڑھانے کی تربیت
آداب نظامت ،ادارہ تحفیظ کو قائم کرنے اور اسے چلانے کا انتظام و انصرام
اذان واقامت / امامت و خطابت تراویح اور مسجد سے منسلک دیگر ذمہ داریوں کی عملی تربیت
شعبہ حفظ میں عصریات کا امتزاج
تجوید
وقوف
قراءات عشرہ
فواصل
رسم
ضبط
حجة القراءات
معانى القراءات
قراءت عشرہ کے مروجہ نصاب کے ساتھ درج ذیل امور کا اہتمام کیا جاتا ہے
شاطبیہ /درہ اور المقدمة الجزریۃ کے اصولی 600 ابیات کا مکمل حفظ
بیس (20) روایات میں عمل قرآن کریم کا فردا اجراء
جمع الجمع میں منتخب حصے کا اجراء
قراءات سے متعلقہ علوم وفنون (وقف /ضبط /فواصل/ اور علم الرسم) کی تدریس
تجوید اور ادا پر خاص توجہ عملی مشق واجراء کے ساتھ
سہولیات وغیرہ
منتخب ہونے والے طلباء کے لیے قیام، طعام اور وظیفہ کا اہتمام
نصاب (جامعہ دار العلوم کراچی)
سال اول
عشرہ کبری (طیبۃ النشر، اصول) کی تعلیم دی جاتی ہے۔
طبقات القراء کا مطالعہ کرایا جاتا ہے اور مختلف مضامین لکھوائے جاتے ہیں۔
علم الرسم اور علم الضبط کی تعلیم دی جاتی ہے اور اہم مباحث لکھوائے جاتے ہیں۔
علم التجوید اور علم الوقف میں گہرائی پیدا کرائی جاتی ہے۔
قراآت کا افراداً اجراء کرایا جاتا ہے، تاکہ مختلف قراآت میں بے تکلف تلاوت کرسکیں
بحث و تحقیق کا طریقہ کار سکھایا جاتا ہے۔
سال دوم
عشرہ کبریٰ (طیبۃ النشر، فرش) کی تعلیم دی جاتی ہے۔
قراآتِ مختلفہ کا افراداً مزید اجراء کرایا جاتا ہے۔
تفسیر ابی سعود کا ایک مخصوص حصہ باقاعدہ پڑھایا جاتا ہے۔
علم عدالآیات پر ایک تحقیقی مضمون لکھوایا جاتا ہے۔
علم توجیہ القراآت کا باقاعدہ درس ہوتا ہے۔
اصولِ حدیث اور اسماء الرجال کی روشنی میں دفاعِ قراآت کی تعلیم دی جاتی ہے۔
فنونِ قراآت سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ لکھوایا جاتا ہے۔
تجوید و قراآت کی تدریس کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔
تخصص فی الحدیث
ایک سالہ تخصص فی الحدیث
نمایاں خصوصیات
جدید منابع تحقیق (ریسرچ میتھاڈولوجی) کے مطابق مقالہ نویسی
نما یا ں خصو صیات
علل الحدیث پر خصوصی توجہ
فتاوی حدیثیہ پر خصوصی توجہ
دراستہ الاسانید کا جامع منہج
تخریج حدیث کی عملی مشق
تحقیقی مقالہ نویسی
ماہرین فن کے محاضرات
علم اسماء الرجال اور کتب رجال کا جامع تعارف
مطالعہ اور تحقیق کے لئے سازگارماحول
تخصص فی الفقہ وفقہ الحلال
نما یا ں خصو صیات
موٹیویشنل ورکشاپس
فقہ الحلال کا جا مع نصاب
حلال معیا رات کی تدریس
اہم انڈ سٹریز کے ماہا نہ دورے
حلال تصدیق کے مکمل نظام سے آگا ہی
فقہ المعاملات
خصوصیات
علمی مباحثوں اور انعامی تقریری مقابلوں کی تربیت
انگریزی کا ایک سالہ معیاری ڈپلومہ پروگرام
معاملات سے تعلق ابواب کی اختصاصی تدریس و عملی مشق
فقہ الواقع اور فقہ الحکم کا امتزاج
کاروباری اور تجارتی اداروں کے تعلیمی دورے اور انٹر نشپ کے مواقع
ایم ایس سے پہلے فاؤنڈیشن کو رسز
الغزالی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس کا موقع
سہولت
میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر 75فیصد تک اسکالرشپ
طلباء کے لیے جامعہ میں ہاسٹل کی سہلوت موجود ہے
مستحق طلباء کےلیے فیس معافی کی سہلوت موجود ہے
مستحق طلباء کو جامعہ کے معیار پر مکمل اتریں ان کے لیے ماہانہ وظیفہ کی سہلوت ہے
تجوید للعلماء
ایک سالہ تجوید للعلماء کورس جوکہ وفاق المدارس العربیہ سے منظور شدہ ہے۔
منتخب ہونے والے طلباء کے لیے قیام، طعام اور وظیفہ کا اہتمام
دوران سال 50 چھٹیوں پر مکمل وظیفہ سوخت ہو جائے گا۔
سوگھنٹے کی غیر حاضریوں پرسالانہ امتحان سے روکا جائے گا۔
کم از کم 3 اور زیادہ سے زیاد 20 طلباء کو داخلہ دیا جائے گا۔
شعبہ تجوید کا نظم
تخصص کلیۃ الدعوۃ
نصاب
تحفیظ ، تجوید، قراءات اور امامت و خطابت کے متعلق اہم شارٹ کورسز اور ورکشاپس
فقہ الدعوۃ
السیرۃ النبویہ
ماہانہ مقالہ
اسلوب الدعوہ
التاریخ الاسلامی
العربیۃ بین یدیک
الغزو الفکری
حاضر العالم الاسلامی
تقابل ادیان و فرق
تخصص فی الغۃ العربیۃ
نما یا ں خصو صیات
مصطلحات حدیث کی تدریس کا منفرد اسلوب
عربی زبان کی چاروں مہارتوں پر محنت
عرب ادیبوں سے لہجہ و تعبیر کا اخذ مواقع
صوتیات مرئیات کے ذریعے سیکھنے میں آسانی
تخصص کلیۃ الدعوہ
کلیۃ الفنون
خصوصیات
حفظ حدیث
نصاب
کالم نگاری کورس
متفرق اصناف صحافت
فن خطابت کورس
جغرافیہ کورس
فلکیات کورس
انگلش کورس
کمپیوٹر کورس
تخصص فی الافتاء
نمایاں خصوصیات
تدریس فقہ کافنی اسلوب و منہج
فقه القضاء اور فقہ الاقتصاد پر خصوصی توجہ
جدید فقہی مسائل سے آگاہی اور تمرین
سال اول
نصاب
اصول الافتاء، مقدمہ الدر المختار، السراجی فی المیراث، الدر المختار با عانت شامی یا طحطاوی،
اصول الکرخی، امداد الفتاویٰ(جلد اول تا پنجم)، آلات جدیدہ، رویت ہلال،
ضابط المفطرات، تاریخ التشریع الاسلامی، مقدمہ تدوین فقہ، تحریر کیسے سیکھیں،
حیلہ ناجزہ مسئلہ سود
پراویڈنٹ فنڈ اسلام کا نظام اراضی بیمہ زندگی مع جائزہ نظام تکافل
انسانی اعضاء کی پیوندکاری ایمان اور کفر قرآن کی روشنی میں
وحدت امت انگریزی ۸۰ فتاویٰ
سال دوم
نصاب
لاشباہ والنظائر الدر المختار باعانت شامی یا طحطاوی جواہر الفقہ
امداد الاحکام ملکیت زمین اور اس کی تحدید بحوث فی قضایا فقہیۃ
عدالتی فیصلے امداد المفتین فہم الفلکیات باعانت آسان فلکیات
انگریزی کمپیوٹر ۲۱۰ فتاویٰ
سال سوم
نصاب
المعاییر الشرعیہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا رائج الوقت آئین بمع جملہ ترامیم
اسلامی قوانین ۱۹۸۲ء ۲۲ نکات پر علماء کا متفقہ فیصلہ ۲۵۰فتاویٰ کی تخریج و تحقیق
انگریزی مقالہ نویسی یا تبویب فتاویٰ
تدوین فتاویٰ
جامعہ کے تمام فتاویٰ جات کو یکجا کرکے مجموعہ فتویٰ تیار کیا جارہاہے
دیگر تعلیمی شعبہ جات
معہد کا نظم
حفاظ عربک 4 سالہ کورس
تعلیم بالغان
قرآن مجید کو تجوید سے پڑھنے اور بنیادی دینی علوم کو سکھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے
ایام تعلیم ہفتے میں پانچ دن (علاوہ جمعہ، اتوار)
مضامین اسلامی عقائد، ترجمہ قرآن کریم، حدیث، فقہ، عربی زبان
مغرب کے بعد ان کی کلاسیں ہوتی ہیں
جامعہ کے خدام و معاونین کااس کورس میں شریک ہونا لازم ہے
پوسٹ گریجویشن کورس برائے یونیورسٹی گریجویٹس
تدریب المعلمین
مکاتب الرشید
جامعہ ام حبیبہ للبنات
البیرونی ماڈل سکنڈری سکول اور انٹرمیڈیٹ کالج
الصفہ
کراچی انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ اینڈ سائنسز
ماوی ہومز
صفہ اکیڈمی
البیرونی گرلز سیکنڈری سکول
دراسات دینیہ
دورۂ تدریبیہ
دورانیہ
ا دورانیہ تقریباً چالیس دن ہوتا ہے
مقصد
اہل سنت والجماعت کے مسلک کے بارے میں علی وجہ البصیرت مہارت و کمال پیدا کرنا
دینی تربیتی کورس
سکول و کالج کے طلباء کے لیے چالیس روزہ دینی تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے
دینی تربیتی کورس کا نصاب اساتذہ کی نگرانی میں تیار کیا جاتا ہے
جامعہ کے درجہ حفظ کے کامل الحفظ طلباء کے لیے دینی تربیتی کورس میں شرکت لازمی ہے
دینی تربیتی کورس کا اہتمام جامعہ کی طرف سے ملک اور بیرون ملک متعدد مقامات پر کیا جاتا ہے
عصری علوم کے شعبہ جات
اولی مع میٹرک برائے حفاظ
مدرسہ ابتدائیہ (پرائمری اسکول)
مدرسہ ثانویہ (سیکنڈری اسکول)
فوڈ سا ئینسز
تعلیمی منصوبہ بندی
ابتدائی مشاورت
8شوال کو اساتذہ کا مشورہ ہوتاہے
9شوال کو اسباق کی تقسیم ہوتی ہے اور داخلہ سے متعلق بات کی جاتی ہے
اسباق کی عارضی تقسیم ۔
آئندہ سال داخلوں کے طریقہ کار پر مشاورت۔
پورا سال اسباق کی تدریس کیسی رہی اس کا جائزہ۔
کوائف داخلہ اور شرائط داخلہ پر غور و فکر۔
تعلیمی کیلنڈر
تدریسی اوقات
صبح 7 بجےسے 12 بجے تک اسباق
ظہر تا عصر اسباق
صبح 7 بجےسے 12 بجے تک اسباق اور ظہرتا عصر
دورہ حدیث کے اسباق مغرب اور عشاء کے بعد بھی ہوتے ہیں
ظہر کے بعد کچھ کلاسوں کا تکراراور کچھ کتب کا سبق
اوقات تعلیم صبح 700 بجے تا 930 بجے / شام مغرب تا 1000 بجے
طالبات کے لیے بھی تعلیمی گھنٹے چھ ہیں
جامعہ میں درس کے لیے یومیہ چھے گھنٹے مقرر ہیں
عشاء کے بعد تکرار کی پابندی
درجہ ثانیہ و ثالثہ کا ظہر کے فورا بعد تکرار تا نماز عصر
مغرب کے بعد مطالعہ کا اہتمام
تدریسی ایام
16شوال سے پڑھائی کا آغاز کیا جاتاہے۔
جامعہ دارالعلوم کراچی میں تعلیمی دورانیہ ۱۶ شوال تا ۱۵ شعبان ہے
تعطیلات
ہفتہ وار تعطیل
ہفتہ شام سے اتور شام تک ایک دن کی چھٹی
سہ ماہی امتحان کی چھٹی کا نظم
ششماہی امتحان کی چھٹی کا نظم
سالانہ تعطیلات دوماہ ہوتی ہیں، عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی دس روز کی تعطیل ہوتی ہے جبکہ ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوتی ہے۔
جو استاذ صاحب 12 دن سے جتنے کم دن چھٹی کرے گا اتنے دنوں کا اضافی وظیفہ دیا جائے گا
جس استاد کی کتب کا مجموعی رزلٹ 70 فیصد سے کم ہو تو اس کو ایک تنبیہی لیٹر لکھا جاتا ہے
مربی استاد کو تین دن کی چھٹی دینے کی اجازت ہوتی ہے۔
تین دن سے زائد رخصت لینے کی صورت میں مربی اور نگران استاذ کے دستخط کے بعد ناظم تعلیمات چھٹی دیتا ہے۔
امتحانات
جامعہ کے تمام تعلیمی شعبوں میں سال میں تین امتحانات لئے جاتے ہیں
طلباء سے سال مین دو ٹیسٹ اور تین امتحان لیے جاتے ہیں
ایک ٹیسٹ بقرہ عید کی تعطیلات سے قبل اور ایک سالانہ امتحان سے قبل
دورات
دورۂ تدریبیہ
دورانیہ
ا دورانیہ تقریباً چالیس دن ہوتا ہے
دینی تربیتی کورس
سکول و کالج کے طلباء کے لیے چالیس روزہ دینی تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے
اصلاحی مجالس
نصاب کی منصوبہ بندی
روزانہ
ہفتہ وار نصاب
ماہانہ نصاب
سہ ماہی نصاب
ششماہی نصاب
سالانہ نصاب
داخلہ و تعلیمی تشخیص
ابتدائی معلومات
نام مع ولدیت
عمر
سابقہ تعلیم
مطلوبہ درجہ
تعلیمی درجہ بندی
ناظرہ
حفظ
درس نظامی
تخصصات
علمی جانچ
قرآن کریم
عربی
تقریری
تحریری
درجہ وار کتب برائے جائزہ
حفظ
تحریری امتحان
تقریری امتحان
درست ناظره قرآن مجید
ابتدائیہ
تحریری امتحان
تقریری امتحان
قاعده و ناظره
تمہیدی
تحریری امتحان
اردو و انگریزی ( حروف تیجی )، ریاضی (1 سے 100 تک گنتی)
تقریری امتحان
اولیٰ
تحریری امتحان
آٹھویں جماعت کی اردو، ریاضی اور انگریزی / یادداشت
تقریری امتحان
اولیٰ طالبات
تحریری امتحان
میٹرک کی انگلش ، ریاضی اور اردو
تقریری امتحان
اعدادیہ اول
تحریری امتحان
جماعت پنجم کی اردو، انگریزی، سائنس اور ریاضی
تقریری امتحان
اعدادیہ اول طالبات
تحریری امتحان
جماعت سوم کی اردو، انگلش ، ریاضی
تقریری امتحان
سابعہ
تحریری امتحان
جلالین، ہدایہ جلد ثانی
تقریری امتحان
شرح العقائد
دورہ حدیث
تحریری امتحان
مشکوٰۃ المصابیح، شرح نخبۃ الفکر
تقریری امتحان
ہدایہ جلد رابع ، مکمل پارہ عم حفظ
دراسات دینیہ
تحریری امتحان
ناظرہ قرآن مجید اور اردو نوشت وخواند
تقریری امتحان
تخصصات
تحریری امتحان
ترمذی، شرح نخبۃ الفکر، منتخب الحسامی، ہدایہ جلد رابع
تقریری امتحان
ہدایہ جلد ثالث
شرائط داخلہ
حفظ
قرآن مجید ( ناظرہ) صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھا ہو ۔
طلبہ اپنے یا والد کے شناختی کارڈ کی نقل ہمراہ لائیں۔
فارم ب یا پیدائشی سرٹیفکیٹ کی کاپی ۔
طلبہ تین عدد پاسپورٹ سائز تصاویر ضرور ہمراہ لائیں جو ناقابل واپسی ہوں گی
اصل اسناد ہمراہ لائیں
اسناد اور مارکس شیٹ کی تصدیق شدہ نقول قابل قبول ہوں گی۔
اپنے علاقے کے کسی با اثر عالم دین / ڈسٹرک خطیب / کونسلر یا کسی 17 گریڈ کے افسر کا ضمانت نامہ لائیں
درس نظامی
عمومی شرائط
کسی بھی درجہ میں داخلہ کے لیے سابقہ اسناد لانا ضروری ہے
سرپرست کے شناختی کارڈ کی کاپی
طالب علم کے شناختی کارڈ کی کاپی
تحری ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہے
انٹرویومیں کامیابی پر داخلہ ہوگا
طلباء کے لیے جامعہ کے قواعد وضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہے
طالب علم کے لیے صحیح العقیدہ مسلمان ہونا ضروری ہے
طالب علم میٹرک پاس ہو
حتمی داخلہ کا اعلان رمضان میں کردیا جاتا ہے
جدید طلبہ کے لیے قابل اعتماد ضمانت نامہ پر کرنا ضروری ہے
دار العلوم میں کرایہ کا مکان کا انتظام ادارہ کے ذمہ نہیں ہے
۶- کسی بھی درجہ میں داخلہ کے لئے اس سے پچھلے درجہ کی تمام ’’معیاری کتب‘‘ کا امتحان لیا جاتا ہے۔مثلاًدرجۂ ثانیہ میں داخلہ کے لئے درجۂ اُولیٰ کی معیاری کتب کا امتحان لیا جائے گا۔
ہر طالب علم کا پہلے تحریری پھر تقریری امتحان ہوگا
ہر درجہ کے لیے طلباء کی تعداد متعین ہے
رہائش کی گنجائش نہ ہوتو داخلہ بلا رہائش دیاجاسکے گا
رہائشی داخلہ کے لیے 14 کی عمر ہونا ضروری ہے
چودہ سال سے کم عمر والےکے لیے رہائشی داخلہ نہیں ہے
اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ اصلی شناختی کارڈ اور اس کی دو عدد فوٹو کاپی لائیں اور حالیہ بنی ہوئی دو تصویریں لائیں۔
اٹھارہ سال سے کم عمر کے طلبہ فارم ب اور حالیہ بنی ہوئی دو تصویریں لائیں۔
داخلے کے خواہش مند تمام طلبہ اپنے والد / رشتہ دار سرپرست کے شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپی اور فون نمبر لائیں۔
سابقہ وفاقی درجہ کی کشف الدرجات یا وفاق کا مصدقہ نتیجہ اور اس کی ایک فوٹو کاپی لائیں۔
درجہ اولیٰ کے علاوہ تمام درجات کے طلبہ وفاق المدارس کا رجسٹریشن کارڈ لازمی طور پر پیش کریں۔
درجہ اولیٰ کے لیے متوسطہ سوم کا کشف الدرجات یا مڈل کا مصدقہ سرٹیفکیٹ اور اس کی فوٹو کاپی لائیں۔
تمام درجات کے تحریری امتحان میں خوش نویسی اور عربی انشاء کے نمبرات بھی شامل ہوں گے۔
سرپرست رشتہ دار سے مراد طالب علم کا وہ قریبی عزیز ہوگا
اولیٰ میں داخلہ کے لیے متوسطہ پاس ہونا ضروری ہے
درجہ اولیٰ سے درجہ رابعہ تک کسی طالب علم کو عصری تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں ۔
درجہ خامسہ سے دورہ حدیث تک عصری تعلیم کی صرف انہیں طلباء کو اجازت دی جاتی ہے جو مدرسے کے امتحان میں 80 فیصد سے زائد نمبر لے سکتا ہو۔
فوقانی درجات میں عصری علوم کے صرف پرچہ دینے کی چھٹی طالب علم کو دی جاتی ہے ، امتحان کی تیاری کی الگ سے رخصت نہیں دی جاتی ۔
متوسطہ
پانچ سالہ متوسطہ میں داخلہ کی شرائط
متوسطہ کے سال اول میں 15 سال سے زائد عمر کا داخلہ نہیں مل سکتا
تمہیدی میں داخلہ کی شرائط
تحری ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہے
تمہیدی(عمر 10 سے 12 سال)
بیس (20) سال سے زائد عمر والا داخلہ کا اہل نہیں ہے
عمر 19 سال سے زائد نہ ہو
حافظ قرآن
میٹرک کی ہوئی ہو
درجہ اولیٰ
متوسطہ سوم میں جید یا مڈل پاس
درجہ ثانویہ عامہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
درجہ اولی کا تصدیق شدہ نتیجہ موجود ہو
درجہ اولی کا وفاق کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن کارڈ اور میٹرک کا رزلٹ کارڈ ہونا ضروری ہے
درجہ ثالثہ
درجہ ثالثہ تک کسی درجہ میں جدید داخلہ نہیں دیا جاتا سوائے اس طالب علم کے جو پہلے کسی ادرے میں عربی پڑھ کر آیا ہو
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
انٹر پاس کرنے کا رزلٹ کارڈ موجود ہونا لازمی ہے۔
درجہ رابعہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
ایسوسی ایٹ ڈگری یا انٹر یا میٹرک کم از کم بی گریڈ سے پاس ہو۔
درجہ خامسہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
ایسوسی ایٹ ڈگری یا انٹر پاس ہو۔
درجہ سادسہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
عصری تعلیم کم از کم گریجویشن ہونا لازمی ہے
درجہ سابعہ
سابعہ (سادسہ میں جید جدا (360 نمبر)
دورہ حدیث
دورہ حدیث( سابعہ میں جید جدا (360 نمبر)
درجہ عربی سال اول
درجہ عربی سال اول میں داخلہ کیلئے میٹرک یا اسکے مساوی استعداد کا حامل ہونا ضروری ہے۔
درس نظامی بنات(لڑکیوں کیلئے)
درسِ نظامی کیلئے میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔
اعدادیہ اول طالبات(جماعت سوم پاس، ناظرہ قرآن مجید)
قرآن کریم ناظرہ باتجوید مکمل پڑھا ہوا ہو۔
امتحان (ناظرہ قرآن کریم، تحریری ٹیسٹ اردو، ریاضی، انگریزی) میں کامیابی
کلمے، نماز، مسنون دعائیں حفظ یاد ہوں۔
اولیٰ طالبات (میٹرک پاس)
جامعہ دار العلوم کراچی کے قابل اعتماد کی ضمانت بھی ہو۔
تخصصات
سابعہ اور دورہ حدیث میں 70فیصد نمبر ہونا ضروری ہے
تخصص فی الافتاء
دورہ حدیث شریف کے سالانہ امتحان میں کم از کم 70 فیصد
تخصص فی الفقہ (فاضل جامعہ)دورہ حدیث کے تینوں امتحانات میں 70 فیصد (1540 نمبر)
تخصص فی الفقہ (دورہ حدیث میں ممتاز)
داخلہ امتحان (تحریری اورتقریری امتحان) میں نمایاں کامیابی
علاقہ کےمعروف اور معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ سا تھ لا ئیں
تخصص فی الحدیث
دورہ حدیث شریف کے سالانہ امتحان میں کم از کم ممتاز
داخلہ امتحان (تحریری اورتقریری امتحان) میں نمایاں کامیابی
تخصص فی الحدیث ( دورہ حدیث 70 فیصد (420 نمبر)
علاقہ کےمعروف اور معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ سا تھ لا ئیں
تخصص فی الغۃ العربیۃ
دورہ حدیث
علاقے کے معروف و معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ ساتھ لائیں
تخصص فی القراء ا ت
دورہ حدیث اور حفظ کی اسناد
شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی
دو عدد تصاویر اور ضمانت نامہ
کلیۃ الدعوۃ
دورہ حدیث
تخصص فی الدعوۃ والارشاددورہ (حدیث میں 70 فیصد (420 نمبر)
علاقے کے معروف و معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ ساتھ لائیں
کلیۃ الفنون
درس نظامی کے ساتھ کم ازکم انٹر تک تعلیم
عمر کی حد 26 سال
کمپیوٹر کی بنیادی معلومات
اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ ساتھ ہو
انگلش لینگویج کورس
دورہ حدیث شریف
عصری تعلیم کم از کم میٹرک
علاقہ کےمعروف اور معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ سا تھ لا ئیں
تجوید للعلماء
ناظرہ قرآن مجید صحیح تلفظ کے ساتھاور روانیکے ساتھ پڑھنا آتا ہو
حافظ قرآن ہونا قابل ترجیح
کسی مستند دینی مدرسے تکمیل کم از کم 50 فیصد اور درجہ جید میں کامیاب ہوا ہو
تجوید للعلماء (دورہ حدیث میں 50 فیصد (300 نمبر) (حافظ قرآن قابل ترجیح)
درجہ ممتاز میں کامیابی اور وفاق المدارس کی سند کا حامل ہونا قابل ترجیح ہوگا
حفاظ عربک کی داخلہ شرائط
حفاظ عربک 4 سالہ کورس کی داخلہ شرائط
حافظ قرآن
کم از کم 4 جماعت سکول پڑھا ہوا ہو
13 سال سے زائد عمر نہ ہو
دو عدد تازہ تصاویر
سرپرست کے شناختی کارڈ کی کاپی
طالب علم کےب فارم کی کاپی
تحری ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہے
انٹرویومیں کامیابی پر داخلہ ہوگا
بیرون کے طلبہ کے لیے
قرآن کریم "ناظرہ "پڑھ چکا ہو اور تھوڑی بہت عربی زبان جانتا ہو یا سمجھ سکتا ہو۔
اردو ،عربی سے کچھ نہ کچھ مناسبت ہونا ضروری ہے
سیاحت یا کسی اور قسم کے ویزے پر داخلہ نہیں دیاجاتا۔
مستحق طلبہ کو داخلہ کے بعد سے تعلیم، کتب، علاج، کھانے پینے اور جامعہ کے اندر رہائش کی سہولتیں مفت مہیا کی جاتی ہیں
داخلہ کا طریقہٴ کار
سابقہ درجہ کا امتحان دینا ضروری ہے
تعلیمی استعداد کے ساتھ ذہنی وفکری رجحان کی جانچ بھی ضروری ہوتی ہے
داخلہ کا امتحان اور جائزہ تین مراحل پر مشتمل ہوتاہے
پہلا مرحلہ
طالب علم سے ناظرہ قرآن مجید ،نماز اور دعاؤں کا امتحان لیا جاتا ہے
دوسرا مرحلہ
پہلے مرحلہ میں کامیاب امیدواروں کا مطلوبہ درجہ کے لیے تحریری امتحان لیاجاتا ہے۔
تیسرا مرحلہ
تحریری امتحان میں کامیاب طلبہ کا سابقہ درجہ کی منتخب کتب کا تقریری امتحان لیا جاتا ہے
اس مرحلہ میں کامیاب طالب علم کو داخلہ فارم دیا جاتا ہے
14شوال کو جدید داخلوں کا تحریری و تقریری ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور انٹرویو کیا جاتاہے۔
3دن تک داخلہ فارم وصول کیے جاتے ہیں۔
15شوال کو ظہر کے بعد جدید داخلوں کا نتیجہ بتایا جاتا ہے
10شوال سے 15 شوال تک قدیم طلباء کا اندراج کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ اور اس کی تمام شاخوں میں داخلہ مرکز ہی سے ہوتا ہے ۔
ہدایات برائے تجدید داخلہ
جو طلبہ ایک شاخ سے دوسری شاخ یا مرکز میں منتقل ہوں گے ان کا تجدید داخلہ بھی ان کی متعلقہ شاخ میں ہوگا۔
تجدید داخلہ کے لیے درج ذیل کوائف ہمراہ لائیں
اپنا سابقہ کوائف فارم متعلقہ ناظم دفتر سے حاصل کرکے اس کے مندرجات کی تصحیح کریں۔
اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ اصلی شناختی کارڈ اور اس کی ایک عدد فوٹو کاپی لائیں۔
تمام قدیم طلبہ اپنے رشتہ دار سرپرست کے شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپی اور فون نمبر لائیں۔
جن طلبہ کے گزشتہ سال کے کوائف ناقص تھے وہ مطلوبہ کوائف اپنے ہمراہ ضرور لائیں۔
سابقہ دینی وعصری تعلیم کی تمام اسناد کی ایک ایک مصدقہ فوٹو کاپی اپنے ہمراہ لائیں۔
تعلیمی اہداف
انفرادی اہداف
کمزوریوں کی نشاندہی
تدریسی نظام
سبق سے پہلے
طالب علم
پیشگی مطالعہ
مغرب کے بعد مطالعہ کا اہتمام
مشکل مقامات کی نشاندہی
استاد
سبق کی تیاری
تدریسی مقاصد
تدریسی مواد
سبق کے دوران
استاد
تعارف
تشریح
تطبیق
خلاصہ
طالب علم
عبارت
ترجمہ
سوال و جواب
سبق کے بعد
نوٹس
مشق
تکرار
عشاء کے بعد تکرار کی پابندی
درجہ ثانیہ و ثالثہ کا ظہر کے فورا بعد تکرار تا نماز عصر
ظہر کے بعد کچھ کلاسوں کا تکراراور کچھ کتب کا سبق
درجہ رابعہ تا سادسہ ظہر کے دوسرے گھنٹے میں تکرار تا نماز عصر
عملی نگرانی
تعلیم کی بہتری کا معیار
روزانہ
سبق مکمل ہوا؟
ہفتہ وار
اہداف حاصل ہوئے؟
ماہانہ
نصاب رفتار درست ہے؟
ماہانہ جائزہ
سہ ماہی
سہ ماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
ششماہی
ششماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
سالانہ
تعلیمی نظم کا احتسابی جائزہ
امتحانی نظام
روزانہ جائزہ
سبق سننا
ہفتہ وار امتحان
زبانی
تحریری
ماہانہ امتحان
زبانی
تحریری
سہ ماہی امتحان
زبانی
تحریری امتحان سے ایک دن قبل 3 کتب کاتقریری امتحان لینا۔
سہ ماہی امتحان میں تین کتب کا تقریری امتحان لیا جاتا ہے۔
تحریری
6پیپر زپر مشتمل تحریری امتحان کا انعقاد۔
تما م کتب کا سہ ماہی تحریری امتحان ہوتا ہے۔
درجہ اولیٰ سے ثالثہ تک ہر سہ ماہی پر ایک کلاس کا عربی میں مقالہ لکھنا
مذکورہ کلاسیں ہر سہ ماہی پر ایک جداریہ تیار کریں گے
درجہ رابعہ سے دورہ حدیث تک ہر سہ ماہی پر مختلف موضوعات پر مقالہ لکھنے کا اہتمام کرنا
ششماہی امتحان
زبانی
ششماہی امتحان کے موقع پر تین کتب کاتقریری امتحان جامعہ کے اساتذہ کے علاوہ باہر کے علماء سے دلوایا جاتا ہے۔
تقریری امتحان کے لیے باہر سے اساتذہ کو مدعو کیا جاتا ہے۔
تحریری
امتحانات سے چندروز قبل طلبہ کے رول نمبرنوٹس بورڈ پر لگائے جاتے ہیں اور امتحان کے نظام الاوقات کا اعلان کردیا جاتا ہے،اسی طرح امتحان سے قبل طلباء کا اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جس میں امتحان کے قواعد وضوابط کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے ۔
ایک ماہ قبل امتحان کااعلان لگانا تاکہ طلباء تیاری شروع کردیں ۔
10رجب المرجب سے سالانہ امتحان کے لیےطلباء کا اجتماعی تکرار۔
ششماہی امتحان پر شروع سال سے امتحان تک پڑھے ہوئے مکمل نصاب کا امتحان لیا جاتا ہے
امتحان کی تیاری کانظم
ہر امتحان کے دو ہفتے بعد نتیجہ بتایا جاتا ہے
تحریری امتحانات کا دورانیہ سات د ن کا ہوتا ہے ،ابتدائی درجات کا تقریری امتحان بھی اسی ہفتے کے دوران ہوتا ہے ۔
تمام امتحانات تحریری ہوتے ہیں
اولیٰ اور متوسطہ کے بعض درجات کے امتحان تقریری ہوتے ہیں
تحریری امتحان میں ہر پرچہ کا وقت تین گھنٹے ہے
امتحان شروع ہونے کے ایک گھنٹہ بعد طلباء پرچہ جمع کرواسکتے ہیں
سہ ماہی اور ششماہی امتحان کے پرچے کتاب پڑھانے والے استاد خود بناتے ہیں
سوالیہ پرچوں کو حتمی شکل امتحانی کمیٹی کی نظر ثانی کے بعد دی جاتی ہے
ہر کتاب اور مضمون کے تین سوالات ہوتے ہیں اور تینوں لازمی ہوتے ہیں
صفوف عربیہ کے تمام پرچے عربی میں ہوتے ہیں
درجہ خامسہ سے تخصصات تک پرچہ عربی میں ہوتے ہیں
درجہ خامسہ سے پچھلے درجات کے پرچے اردو میں ہوتے ہیں
وفاق کے سالانہ امتحان کے سوالیہ پرچے "وفاق المدارس العربیہ" کی طرف سے آتے ہیں۔
امتحانات کے ایام میں اساتذہ بوقت فرصت پرچے چیک کرتے رہتے ہیں
امتحانات کے اختتام پر دو ایام کی چھٹی دی جاتی ہے تاکہ پرچے چیک کر کے رزلٹ تیار کیا جائے
نتائج مرتب ہونے کے بعد امتحانی کمیٹی بغور جائزہ لیتی ہے
امتیازی نمبروں اور فیل ہونے والے پرچہ جات کو امتحانی کمیٹی نظر ثانی سے بغور دیکھتی ہے
نتائج مرتب ہونے کے بعد اساتذہ کا اجلاس منعقد ہوتا ہے ہر کلاس کے نتائج پر تبصرہ ہوتا ہے
طلباء کے مجمع میں نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے اور پوزیشن لینے والے طلباء میں انعام تقسیم کیے جاتے ہیں
نوے فیصد سے زائد نمبر لینے والے طلباء کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
سالانہ امتحان
تحریری امتحان
سالانہ امتحان سے قبل ٹیسٹ صرف ششماہی کے بعد سے سالانہ تک پڑھے ہوئے کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔
سالانہ امتحان کے پرچہ دوسرے استاد بناتے ہیں
ترقی کا فیصلہ
کامیابی کے درجات
ممتازمرتفع ٪۹۰
ممتاز ٪۸۰
جیدجدا ٪۶۰
جید ٪۵۰
مقبول ٪۴۰
حوصلہ افزائی
پوزیشن لینے والے طلباء کو کتب کی شکل میں انعام دیا جاتا ہے ۔
90فیصد نمبر حاصل کرنے والے طالب کو ایک سہ ماہی سے دوسری سہ ماہی تک مختلف درجات کے اعتبار سے وظیفہ دیا جاتا ہے
ترقی و اصلاح نظام
کمزور طلبہ
اضافی وقت دینا
خصوصی نگرانی
نمایاں طلبہ
کمزور طلباء کی مدد میں لگانا
اضافی مطالعہ
تحقیق
نصاب بہتری
سالانہ جائزہ
اصلاحات
کارکردگی کی نگرانی
طالب علم
حاضری
امتحان
مطالعہ
درجات
نصاب کی تکمیل
اوسط کارکردگی
شعبہ جات
حفظ
درس نظامی
ہفتہ وار مدرسے کی رپورٹ
ناظم تعلیمات پورے ہفتے کی رپورٹ مہتمم صاحب کو پیش کرتےہے۔
تخصص
تعلیمی معاونت
کتب
نصابی
حوالہ جاتی
لائبریری
اجراء
واپسی
ڈیجیٹل مواد
آڈیو
ویڈیو
LMS
علمی مہارتوں کا نظام
تحریر
خوش خطی
املاء
رموز واوقاف
درست جملہ سازی
پیراگراف نویسی
تقریر
خطاب
ہفتہ وار اردو عربی بزم کا انعقاد
درجہ اولیٰ سے درجہ رابعہ تک بزم ادب کا اہتمام کیا جاتاہے
درجہ خامسہ اور سادسہ میں طلباء کو مباحثہ کی مشق کروائی جاتی ہے
ہر جمعرات کو فن خطابت کی مشق کا اہتمام ہوتا ہے
سال کے آخر میں اساتذۃ کی نگرانی میں تقریری مقابلہ ہوتا ہے
نمایاں پوزیشن والوں کو انعام تقسیم کیے جاتے ہیں
مقابلہ میں تمام شریک ہونے والےتمام طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے انعام دیا جاتا ہے
تدریس
درجہ سابعہ میں درس حدیث کی مشق کروائی جاتی ہے
دورہ حدیث کے طلباء کو درس قرآن کی مشق کروائی جاتی ہے۔
تحقیق
حوالہ نویسی
مقالہ نویسی
افتاء و استنباط
فقہی تطبیقات
عملی مشق
زبان
انگلش
انگلش لینگویج کورس
خصوصیات
ماہر تجربہ کار اساتذہ سے انگریزی سیکھنے کا نادر موقع
40 دن کے بعد انگریزی کے علاوہ دیگر زبانیں بولنے پر مکمل پابندی
انگریزی میں درس حدیث ، وعظ و بیان کی خصوصی تربیت
اردو
عربی
حفاظ عربک انگلش لینگویج کورس
معھدالرشید عربی
ظاہری تربیت کے متعلق
ظاہری تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
ذہن سازی کے متعلق
طے شدہ مقصود کے تحت اپنی ،معاونین اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اپنی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کو کسی ماہر / بڑے سے سیکھنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور پر اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
عمل کے متعلق
برائے اساتذہ
ذہن سازی کے متعلق
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے اساتذہ اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ذات کی حد تک ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں مقصود کے تحت ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
برائے طلباء
ذہن سازی کے متعلق
مقصود تک پہنچنے کے لیے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہوتاکہ وہ تربیت کے نظم کو بیکار روک ٹوک یا بوجھ نہ سمجھیں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کا تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
سالانہ امور
ہر کلاس کا مربی متعین ہوتاہے۔
تربیت کا نظم
ہرطالب علم کے لئے اخلاق واعمال، صورت وسیرت ،وضع قطع اور لباس میں صلحاء امت کی اتباع ضروری ہے،
روزانہ کا معمول
روزانہ عصر کی نماز سے پہلے طلباء کے لیے خصوصی تعلیم کا اہتمام
ہفتہ وار امور
ہر ہفتے کے دن طلباء کے بالوں اور ناخنوں کی چیکنگ
ظاہری وضع قطع
سگریٹ پینا، انگریزی بال رکھنا، داڑھی منڈانا یا خلاف شرع کٹانا قطعاًممنوع ہے
قیام گاہ کی صفائی کی تربیت
کوڑا مقررہ جگہ کے علاوہ اور کہیں نہ پھینکے، درسگاہ، کمرہ اور برآمدہ کو خراب اور گندہ نہ کرے، دیواروں پر نہ لکھے
پتھر اور ڈھیلے لے کر بیت الخلا میں نہ جائے، پانی سے استنجاء کرے، برتن یا کپڑے دھونے کے بعداس جگہ کو صاف کردے
اپنے کمرے کی تمام چیزوں کو سلیقہ اور قرینہ کے ساتھ رکھے، غرض صفائی، شائستگی، تہذیب واخلاق اور دینداری کا مثالی نمونہ پیش کرے۔
بد اخلاقی سے بچنا
اپنے ساتھیوں یا ملازمین جامعہ سے لڑنا جھگڑنا، بدکلامی یا بداخلاقی سے پیش آنا، ایک دوسرے کی چغلی، عیب جوئی، غیبت، مذاق اڑانا، بیہودہ مذاق کرنا بدترین عیوب ہیں، ان سے اجتناب کرنا ہرطالب علم کا فرض ہے۔
ظاہری صفائی کی چیکنگ
ہرطالب علم کو چاہیے کہ صفائی وستھرائی کا بھر پور اہتمام کرے، بالخصوص جمعہ کے دن غسل کرنے اور کپڑے بدلنے سے پہلے اپنے کمرے اور برآمدہ کو صاف کرے
برائے والدین
ذہن سازی کے متعلق
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
ظاہری تربیت کی اہمیت وفوائد بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
اس بات کوماہرین سے سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
باطنی تربیت کے متعلق
باطنی تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
ذہن سازی کے متعلق
اپنی ،معاونین اور طلباء کی باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی ،اساتذہ ، دیگر عملہ اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور سے متعلق اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
عمل کے متعلق
برائے اساتذہ
ذہن سازی کے متعلق
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
برائے طلباء
ذہن سازی کے متعلق
باطنی تربیت کے قائل ہوں
کے دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کا قائل ہوں
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کے تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
روزانہ کا معمول
روزانہ عصر کی نماز سے پہلے طلباء کے لیے خصوصی تعلیم کا اہتمام
روزانہ ایک پارہ قرآن پاک کی تلاوت کی پابندی
نماز مغرب کے بعد سورۃ الواقعہ اور درود تنجیناکااہتمام
درجہ کتب میں تلاوت کا وقت مقرر ہے
روزانہ نماز عشاء کے بعد ختم خواجگان کا اہتمام
ختم خواجگان کا نظم
تلاوت کی ترتیب
ہفتہ وار امور
ہر اتوار کو اصلاحی مجلس اور ذکر کی مجلس
ذکر کی مجلس
سالانہ امور
نماز تہجد
تربیت کا نظم
موسم سرما میں نماز تہجد کا اہتمام
ہر کلاس کا مربی متعین ہوتاہے۔
برائے والدین
ذہن سازی کے متعلق
باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
والدین اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں باطنی تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے قابل ہوں
عمل کے متعلق
قاعدہ درج کریں
کلی
جزوی
اکثری
استثنائی
×
×
تعلیم درج کریں
علمی
عملی
عملی درج کریں
مشقی
غیر مشقی
حکم درج کریں
فرض
فرض عین
فرض کفایہ
واجب
سنت
سنت مؤکدہ
سنت غیر مؤکدہ
نفل
مستحب
افضل
جائز
مباح
حرام
مکروہ تحریمی
مکروہ تنزیہی
ناجائز
بنیادی
دفعِ مضرت
ابہام
یاد دہانی درج کریں
عملی تکرار
علمی تکرار
ایک بار
مخاطب درج کریں
خواص
مقتداء
جنس درج کریں
مرد
عورت
دہرائی درج کریں
ضروری
غیر ضروری
حیثیت درج کریں
انفرادی
اجتماعی
زمانہ درج کریں
قبل آدمؑ
حضرت آدمؑ سے حضرت نوحؑ تک
حضرت نوحؑ سے حضرت ابراہیمؑ تک
حضرت ابراہیمؑ سے حضرت موسیٰؑ تک
حضرت موسیٰؑ سے حضرت عیسیٰئ تک
حضرت عیسیٰؑ سے آپ ﷺ تک
آپ ﷺ کے زمانے سے قیامت تک
قیامت کے بعد تک
تعلق درج کریں
ظاہری
باطنی
اندراج کریں
بند کریں
مکطس کے نصاب کے ساتھ مکتب تربیت المسلمین کے نصاب کا موازنہ
پہلی جماعت
دوسری جماعت
تیسری جماعت
چوتھی جماعت
پانچویں جماعت
چھٹی جماعت
ساتویں جماعت
آٹھویں جماعت
نویں جماعت
دسویں جماعت
گیارہویں جماعت
بارہویں جماعت