×
×
بنیادی عنوان درج کریں
چیک لسٹ میں کئیے گئے اضافہ جات کی فہرست
نظم و نسق کے متعلق
برائے اساتذہ
اساتذہ سے میٹنگز کی پالیسی
ہر مہینے کے پہلے جمعہ دوپہر 2 بجے اساتذہ کی دعوت اور پرنسپل حلم سے مجلس ہوگی
مہینے کے آخری جمعہ اساتذہ کی اکیڈمک کونسل کے ساتھ میٹنگ ہوگی
مہینے کے دوسرے اور تیسرے جمعہ بھی وقتاً فوقتاً میٹنگ رکھی جائے گی، اساتذہ وقت فارغ رکھیں
میٹنگ میں کھانے کی پالیسی
میٹنگ میں کھانے کے اخراجات کی حد مقرر ہے، زائد خرچ صرف پرنسپل آفس کی منظوری سے ممکن ہوگا
برائے مدرسہ
تقرری معاہدہ
ماہانہ وظیفہ کی پالیسی
وظیفہ میں اضافہ میرٹ،خدمت کی کارکردگی پر ہوگا
آپ کا وظیفہ بینک اکاونٹ یا نقد اد کیا جائے گا
تنخواہ میں اضافہ کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا
تنخواہ میں اضافہ سال میں ایک مرتبہ ہوگا
سال کے داران تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوگا
ایمرجنسی ضرورت کی صورت میں طریقہ کار
سہولیات
میڈیکل سہولیات کی پالیسی
سائرہ میموریل ہسپتال سے میڈیکل سہلوت کی پالیسی
فراہم کردہ سہولیات کی تفصیل
صبح 9 سے دوپہر3 بجے تک OPD فری اور میڈیسن فری ہوگی
سپیشلسٹ ڈاکٹر کے چیک اپ کی صورت میں 50 پرسنٹ کا ڈسکاونٹ ہوگا
گائینی سے متعلقہ تمام اوپی ڈی چیک اپ فری ہے
تمام لیبارٹی ٹیسٹ پر25 پرسنٹ رعایت حاصل ہوگی
تمام ایکسرے ،یو ایس جی اور سی ٹی پر50 پرسنٹ ڈسکاونٹ ہوگا
بغیر آپریشن ڈیلیوری صرف 10,000 روپے (میڈیسنز کے بغیر)
آپریشن کے ساتھ ڈیلیوری صرف 20,000 روپے (میڈیسنز کے بغیر)
تمام میڈیکل سہولت میں 80 سے 90 فیصد رقم ادارے کی طرف سے سبسڈی ہوگی
طریقہ کار
ادارہ آفیشل لیٹر جاری کرے گا جسے دکھا کر باعزت طریقے سے سہولت حاصل کی جا سکے گی
حدود
کسی اور جگہ علاج کروانے کی صورت میں ادارہ سبسڈی دینے کا پابند نہیں ہوگا
ڈیلیوری کی سہولت کیلئے شروع سے آخر تک تمام چیک اپ سائرہ ہاسپٹل سے ہی کروانے ہوں گے
حجاز ہسپتال سے میڈیکل سہلوت کی پالیسی
طریقہ کار
ایچ آر آفس سے تصدیقی لیٹر لے کر ہسپتال کے اکاؤنٹس کاؤنٹر سے تصدیق کروانی ہوگی
فراہم کردہ سہولیات کی تفصیل
تمام او پی ڈی کے ٹیسٹ مفت
خصوصی صورتحال میں ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کر کے ادویات کی مفت فراہمی کی کوشش کی جائے گی
داخل مریضوں کی تمام ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ مکمل طور پر مفت ہوں گے
گائنی سے متعلقہ تمام علاج، ادویات اور اخراجات مکمل طور پر مفت ہوں گے
حدود
ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات اراکین کو خود خریدنی ہوں گی
حمل کے تیسرے مہینے سے ولادت تک تمام معائنے حجاز ہسپتال کی ماہر گائناکالوجسٹ سے کروانا ضروری ہے، ورنہ سہولت لاگو نہیں ہوگی
میڈیکل سہلوت سے متعلق تاثرات اور تجاویز ضرور بتائیں
لون کی پالیسی
اہلیت
ایک سال سے خدمت کرنے والے تمام کل وقتی افراد ادارے سے قرض کی درخواست کے اہل ہیں
طریقہ کار
قرض کا درخواست فارم پر کرنا ہو گا
حدود
قرض کی زیادہ سے زیادہ رقم ماہانہ تنخواہ سے دو گنا سے زیادہ نہیں ہو سکتی
پہلے قرض کی مکمل ادائیگی سے پہلے دوسرے قرض کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی
خدمت درمیان میں چھوڑنے پر ادارہ قرض کی رقم دیگر واجب الادا رقوم سے کاٹنے کا مجاز ہے
زیادہ سے زیادہ قابل اجازت ادائیگی کی مدت چھ ماہ ہے
پیٹرول پالیسی (6.3)
روزمرہ کے معمول کے علاوہ کہیں اور کلاس پڑھانے پر اساتذہ کو فیول الاؤنس دیا جائے گا
ادارے کے کسی خارجی کام کیلئے بائیک استعمال ہونے پر فیول الاؤنس دیا جائے گا
مرکز کے وزٹ کا فیول الاؤنس مہینے میں صرف 5 مرتبہ تک ملے گا، زائد وزٹس کا نہیں
فیول الاؤنس فی کلومیٹر 14 روپے ہوگا جس میں پیٹرول اور بائیک کی معمولی دیکھ بھال شامل ہے
رخصت/ چھٹی کی پالیسی
مدرسین
طریقہ کار
دس اضافی چھٹیاں لینے کے لیے درخواست فارم فل کرنا ہوگا
دس اضافی چھٹیوں سے زائد چھٹی لینے لیے درخوست لکھنی ہوگی
سالانہ چھٹی کے لیے ہدایات
ادارے کا ہر فرد سالانہ دس (10) اضافی چھٹیوں کا حقدار ہے
لیو انکیشمنٹ
چھٹیوں میں ناظم کی اجازت سے کام کرنے پر ڈبل لیو انکیشمنٹ ملے گا
سال میں 10 دن سے کم چھٹی لینے والوں کو سال کے اختتام پر بقیہ ایام کا بونس ملے گا
حدود
ادارے کا ہر فرد اکیڈمک کلینڈر کا پابند ہے
اضافی چھٹی کی درخواست کیمپس ناظم اور ایچ آر کوآرڈینیٹر کی اجازت سے مشروط ہوگی
چھٹی کی منظوری کے بعد ناظم کیمپس استاد کا متبادل طے کرنے کا ذمہ دار ہوگا
دس سے اضافی چھٹیوں کی تنخواہ سے کٹوتی کی جائے گی۔
شادی کی چھٹی کے لیے ہدایات
اہلیت
کم از کم ایک سال خدمت کرنے والے مدرسین شادی کی چھٹی کیلئے بامعاوضہ اہل ہیں
تمام مدرسین 5 دن کی بامعاوضہ چھٹیاں حاصل کرسکتے ہیں
عمرہ کی چھٹی کے لیے ہدایات
اہلیت
کم از کم ایک سال خدمت کرنے والے مدرسین عمرہ کی چھٹی کیلئے بامعاوضہ اہل ہیں
عمرہ چھٹی ناظم اور ایچ آر کی منظوری سے زیادہ سے زیادہ 15 دن کی ہوگی، 5 دن بامعاوضہ اور بقیہ بلا معاوضہ
حج کی چھٹی کے لیے ہدایات
اہلیت
کم از کم ایک سال خدمت کرنے والے مدرسین حج کی چھٹی کیلئے بامعاوضہ اہل ہیں
حج چھٹی ناظم اور ایچ آر کی منظوری سے زیادہ سے زیادہ 40 دن کی ہوگی، 10 دن بامعاوضہ اور بقیہ بلا معاوضہ
ولادت کی چھٹی کے لیے ہدایات
ولادت کی چھٹی دو دن کی بامعاوضہ ہوگی
چھٹی کی درخواست کی منظوری کیمپس ناظم اور ایچ آر کوآرڈینیٹر سے لینا ہوگی
سوگوا ر چھٹی کے لیے ہدایات
قریبی رشتہ دار کی وفات پر تین دن کی بامعاوضہ سوگوار چھٹی کی اجازت ہوگی
ضروری وضاحت (استحقاق و حصول چھٹی)
اعلان کردہ تعطیلات کا استحقاق صرف انہی افراد کو ہوگا جو ان ایام میں ڈیوٹی پر موجود ہوں
سالانہ کیلنڈر کی تعطیلات سے مستفید ہونے کیلئے کم از کم تین ماہ کی مسلسل سروس لازمی ہے
چھٹی کیلئے فارم پر کر کے ناظم اور پھر ایچ آر کوآرڈینیٹر سے منظوری لینا ہوگی
غیر منصوبہ بند/غیر شیڈول چھٹیوں کے لیے ہدایات
ناظم کو بروقت اطلاع دینا ضروری ہے
ناظم موجود نہ ہوتو پرنسپل کو اس کی اطلاع دیں
ناظم کو اطلاع دیے بغیر چھٹی کرنے کی صورت میں بغیر اطلاع کے چھٹی سمجھی جائے گی
ہنگامی چھٹی کی صورت میں اگلے دن چھٹی کا فارم پرنا کرنا ضروری ہے
طلباء
چھٹی کی درخواست کو پر کرنا ضروری ہے
ہنگامی چھٹی ہوجائے تو اگلے دل فارم پُر کرنا ضروری ہے
چھٹی کرنے والے اور تاخیر سے آنے والے طلباء کی رپورٹ تیار کی جاتی ہے
ہدایات برائے عملہ
وقت کی پابندی
وقت کی پابندی کا اہتمام (4.1)
خدمت کے دن اور اوقات کام کی نوعیت اور ادارے و طلبہ کی ضروریات پر منحصر ہوں گے
آپ کے متعلقہ منتظم آپ کو آپ کے کام کے شیڈول سے آگاہ کر دیں گے۔
جو کہ آپ کی خدمت کے دن درکار ہونے اور گھنٹے آپ کے کام کے دوران تبدیل ہو سکتے ہیں۔
باقاعدگی سے حاضری اور ہر کام وقت پر ہونا ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔
غیر حاضری یا دیر سے آمد دوسروں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔
ہم آپ کو خاص طور پر وقت کے پابند رہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
تمام اساتذہ بالخصوص مقامی، اسباق کے مقررہ وقت سے 15 منٹ پہلے پہنچنا لازم ہے
اگر آپ کوئی کام معینہ وقت پر نہ کر پائیں تو اپنے متوقع وقت سے پہلے اپنے منتظم سے رابطہ کریں۔
غیر رپورٹ شدہ غیر حاضری پر تادیبی کارروائی ہوسکتی ہے
انتہائی سستی اور غفلت کی صورت میں برطرفی کی سزا ہوسکتی ہے
دیر سے پہنچنا / جلد روانہ ہونے والوں کے لیے ہدایات
ادارے کے تمام افراد پر لازم ہے کہ وہ بروقت تشریف لائیں اور مقررہ وقت سے پہلے واپس نہ جائیں۔
ہر کیمپس منتظم روزانہ تاخیر سے آنے اور جلد جانے والوں کی رپورٹ مرتب کرے گا
مرتب کردہ حاضری رپورٹ کی پرنسپل آفس یا ایچ آر کو ترسیل ضروری ہے
منتظم کی طرف سے رپورٹ نہ بھیجنے پر اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی
تمام دیر سے آنے والوں کو یکجا کر کے رپورٹ کی سمری تیار کی جائے
رپورٹ مرتب کرنے کیلئے فارمیٹ نمبر چھبیس (26) ملاحظہ فرمائیں۔
چیک ان اور چیک آؤٹ پالیسی
ہر فرد کے لیے ٹائم اِن اور ٹائم آؤٹ ریکارڈ کرنا لازمی ہے
ٹائم ریکارڈ نہ کرنے کی صورت میں غیر حاضری تصور کی جائے گی
ایونٹ مینجمنٹ
مینجمنٹ ایونٹس (6.4)
پروگرام کی تشہیر
پروگرام سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے اس کی بھرپور تشہیر کی جائے
سٹینڈیزکی تیاری
ایک ہفتہ پہلے متعلقہ پروگرام کی سٹینڈیز تیار ہو جائیں۔
پروگرام سے تین دن پہلے اخراجات ایکسل شیٹ میں درج کر کے پرنسپل سے منظوری اور ایچ آر سے رقم وصول کر لی جائے
ایک دن پہلے پروگرام کا مکمل شیڈول آغاز سے لے کر آخر تک تیار ہو۔
پروگرام سے ایک دن پہلے پورے کیمپس کی بشمول واش رومز باریک بینی سے صفائی کی جائے
پارکنگ کے لیے جگہ کا تعین۔
پارکنگ کیلئے افراد مقرر کیے جائیں اور دروازے پر آغاز سے آخر تک مستقل پہرہ ہو
پروگرام کے دوران کسی بھی فرد کیلئے ادارے کی طرف سے ریفریشمنٹ کی اجازت نہیں، ہر کوئی اپنا خرچ خود برداشت کرے گا
ہوئے کام کریں گے عام معمول کی طرح اپنا کھانے وغیرہ کا خرچ ذاتی طور برداشت کریں گے۔
مہمانوں کیلئے تیار کردہ ریفریشمنٹ صرف مہمانوں کیلئے ہے، بچا کھانا فریز کر کے آئندہ مہمانوں کیلئے رکھا جائے، استعمال کی اجازت نہیں
خارجی دروازے پر انفارمیشن ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ نئے آنے والے آسانی سے معلومات حاصل کر سکیں
آنے والے حضرات آسانی سے معلومات حاصل کر سکیں۔
پروگرام میں کچھ افراد مقرر ہوں جو ہر آنے والے کا استقبال کر کے اسے مناسب جگہ بٹھائیں
مناسب جگہ پر بٹھا دیا جائے۔
خواص کے لیے کرسیوں اور جگہ کا تعین کیا جائے۔
دوران پروگرام پانی وغیرہ کے انتظام کے لیے خدام کا تعین۔
مہمانوں کو کھانا کھلانے کیلئے مضبوط جماعت قائم کی جائے، ہر دستر خوان پر کم از کم 12 افراد موجود ہوں
تمام آنے والے افراد کے رابطہ نمبر لینے کا انتظام کیا جائے۔
تمام اساتذہ اور خدام کا لباس صاف ستھرا اور مناسب ہو، ترجیحاً نیا یا دھلا ہوا لباس پہنیں
ہدایات برائے ایونٹ
ہدایات برائے ایونٹ
آئی ٹی مینجر (IT Manager) ہر (Event) میں حاضر ہو۔
ایونٹ کے دوران ہمسایوں کی شکایت پر فیکلٹی خوش اسلوبی سے حل کرے، ورنہ مولانا عتیق صاحب کو اطلاع دیں
(Deal) کریں گے۔
جسے جو ذمہ داری دی جائے وہ صرف اسی پر توجہ دے، دوسروں کے کاموں میں دخل نہ دے
خواص اور اخص الخواص کے کھانے کی الگ اور منظم ترتیب ہونی چاہیے
آئندہ آنے والے تمام مہمانوں کے لئے اگر کوئی مناسب صورت بن سکتی ہے تو کھانے کی ترتیب بنی چاہئے۔
گیٹ پر ہمہ وقت ایک فرد پہرہ دے، مین گیٹ کبھی خالی نہ چھوڑا جائے
استقبالیہ پر مہمانوں کے جوتوں کیلئے مناسب جگہ اور خواص کیلئے الگ جگہ مقرر کی جائے
سپیکر کے کھڑے ہونے کی جگہ پہلے سے تیار کی جائے تاکہ آ کر فوراً تقریر شروع کر سکے
حلم فیس پالیسی
فیس کی مجموعی پالیسی
ہر طالب علم سے 10 تاریخ تک فیس وصول کر کے فوری رسید پرنٹ یا واٹس ایپ کی جائے
مقررہ وقت تک فیس نہ دینے والے طالب علم کو مطلع کیا جائے، پھر ملاقات کر کے وجہ تحریری طور پر پیش کی جائے
مکمل فیس نہ دینے والے طالب علم کیلئے اسکالرشپ کے تحت قابلِ ادا رقم پرنسپل آفس سے منظور کروائی جائے
ہر ماہ 25 تاریخ تک فیس کی رپورٹ پرنسپل آفس میں جمع کروائی جائے
کورس کے لحاظ سے فیس کی تقسیم:
درس نظامی : 10,000 ماہانہ
چار سالہ کورس : 7,000 ماہانہ
اسلامک ایسنشل کورس 4,000 ماہانہ
صراط الجنہ (ایک دن کلاس ) : 3,000 ماہانہ
فیس کی وصولی کا طریقہ کار :
یکم تاریخ
اکاؤنٹ ایگزیکٹو ہر طالب علم کو فزیکل یا واٹس ایپ کے ذریعےفیس واوچر بھیجیں۔
تاریخ
پینڈنگ فیس کی فہرست تیار کریں اور برانچ ہیڈ کے حوالے کر دیں۔
طلبہ کو کال کر کے ان سے فیس کی ادائیگی کی درخواست کریں۔
نوٹ:
فیس وصول ہونے پر ہر طالبعلم کو وصولی کی رسید لازما جاری کریں۔
فیس پالیسی برائے ٹپ سوسائٹی
ادارے کے ماہانہ اخراجات فی طالب علم تقریبا 10,000 روپے ہیں۔
علم آپ سوسائٹی کیمپس کیلئے فی طالب علم ماہانہ 2000 روپے فیس مقرر ہے
اگر کوئی طالب علم اپنی خوشی سے اس سے زیادہ رقم اخراجات کی مد میں ادارے کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
ٹپ سوسائٹی کیلئے فیسوں کی وصولی کا طریقہ کار
یکم تاریخ کو تمام طلباء کو فیس واؤ پر جاری کیے جائیں گے۔
فیس جمع نہ کروانے والے طلبہ کو 10 تاریخ کو یاد دہانی کا پہلا پیغام بھیجا جائے گا۔
مقررہ تاریخ تک فیس وصول نہ ہونے پر اکاؤنٹ آفس دوسری بار یاد دہانی کروائے گا
ٹپ سوسائٹی فیس وصولی کا انچارج:
آپ سوسائٹی میں فیس وصولی کا مکمل انچارج فی الحال مولانا علیان معاویہ صاحب ہیں
فیس وصول نہ ہونے پر اکاؤنٹ آفس کو اطلاع دی جائے گی، جس پر وہ رسید بھیجے گا
بیت القرآن فیس پالیسی
بیت القرآن کم از کم فیس:
فیس میں اضافے کیلئے فیصل اظہر اور قاری محمود صاحب سے مشاورت کی جائے
ہر طالب علم کیلئے کم از کم فیس : 7,000
حفظ فیس : 4,000
2,000 اسکول
1,000 بجلی
اس کا ایک نمونہ شیئر کریں۔
بيت القرآن فیس کی فالو آپ کا طریقہ کار:
یکم تاریخ
فیس کا واؤچر جاری کریں، اور والدین کو ہاتھ سے یا واٹس ایپ کے ذریعے دیں۔
تاریخ
ہر ماہ 10 تاریخ تک تمام فیسیں وصول ہوں، اکاؤنٹ ہیڈ پینڈنگ رپورٹ تیار کر کے برانچ ہیڈ سے شیئر کرے
اکاؤنٹ ایگزیکٹو ڈیفالٹر سے ملاقات کرے اور والدین کو فیس ڈیفالٹ لیٹر جاری کرے
ڈیفالٹر طلبہ کو فیس کلیئر ہونے تک کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ دی جائے، سزا کے طور پر گھر بھیجا جائے
ماہانہ کفالت سسٹم
کفیل والے طالب علم کا یونیک آئی ڈی زوہو کسٹمر ریکارڈ میں درج کیا جائے
کفیل کی ادائیگی کے عرصے کے مطابق زوہو میں Recurring Invoice بنائی جائے
اکاؤنٹ آفس ہر ماہ کفیل کو طالب علم کی تعلیمی رپورٹ بھیجے گا
حلم سکالر شپ پالیسی
مکمل فیس ادا نہ کر سکنے والے طلبہ کیلئے ادارہ اسکالرشپ پالیسی فراہم کرتا ہے، فارم پر کروانا ضروری ہے
ہدیہ پالیسی
استاد اور شاگرد کا تعلق خالصتاً اللہ کی رضا کیلئے قائم ہونا چاہیے
ذاتی مالی مفاد شامل ہونے سے استاد شاگرد کے تعلق کی برکت اور احترام کمزور پڑ جاتا ہے
یہ اصول حضرت ڈاکٹر صاحب کی حیات سے ورثے میں ملا ہے، انتظامیہ اسی کے مطابق معاملات اللہ کی رضا کیلئے رکھتی ہے
ہدیہ پالیسی اس مقصد کیلئے وضع کی جا رہی ہے تاکہ ادارے میں کسی کا ذاتی مالی تعلق قائم نہ ہو
ہدیہ (تحفہ) وصول کرنے کی قطعی ممانعت
کسی بھی استاد یا عملے کے فرد کو طالب علم یا والدین سے ہدیہ قبول کرنے کی قطعی اجازت نہیں
مجبوری کی صورت میں طریقہ کار
اگر کوئی شخص زبر دستی یا شدید اصرار کرکے کوئی تحفہ دے تو متعلقہ فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ:
اسے فوراً ادارے کی انتظامیہ (ایڈمن ڈیپارٹمنٹ) کے پاس جمع کروادے۔
یہ یقینی بنائے کہ تحفہ ذاتی استعمال میں لائے بغیر ادارے کی ملکیت بن جائے۔
مجھنے کو فوری طور پر جمع کروانے میں کسی قسم کی تاخیر یا غیر ضروری اعتراض کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انتظامیہ کا اختیار
انتظامیہ کے پاس جمع کرایا گیا ہدیہ ادارے کی ملکیت سمجھا جائے گا اور اپنی صوابدید پر استعمال ہوگا
خیرات یارفاہی کاموں میں دینا۔
کسی تعلیمی یا دفتری مقصد کے لیے استعمال کرنا۔
انتظامیہ چاہے تو تحفہ اصل فرد کو واپس بھی کر سکتی ہے، بشرطیکہ ادارے کے وقار کے خلاف نہ ہو
مالی تقاضا اور فرمائش کی ممانعت
طالب علم یا والدین سے مالی تقاضا یا فرمائش کرنا سنگین ضابطہ شکنی تصور ہوگا اور سخت کارروائی ہوگی
کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی ممانعت
عملے یا طلبہ کو تعلیمی حلقے میں ذاتی تجارت یا کاروبار فروغ دینے کی اجازت نہیں
طلبہ کو تعلیمی حلقے میں کوئی چیز بیچنا یا اپنی تجارت کیلئے استعمال کرنا سختی سے منع ہے
افراد اپنے کاروبار کا حلقہ تعلیمی حلقے سے بالکل الگ رکھیں گے
قرض یا مالی معاونت کا مطالبہ
کسی بھی فرد سے قرض یا کارِ خیر میں تعاون کا مطالبہ کرنے کی اجازت نہیں
قرض کا لین دین یا کسی بھی مالی معاونت کا مطالبہ اس ضابطہ اخلاق میں شامل ہے
بیرونی رفاہی سر گرمیوں کی ترغیب
کسی بھی عملے کے فرد کو مدرسے ، گاؤں یاد یہات کے اندر مسجد کی تعمیر یا کسی بھی کار خیر کی طرف:
مسجد کی تعمیر یا کارِ خیر کیلئے کسی کو محسوس یا غیر محسوس انداز میں ترغیب دلانا منع ہے
اس سلسلے میں مطالبہ کرنا یا مہم چلانا سختی سے منع ہے، ایسی سرگرمیوں سے احتراز کیا جائے
خلاف ورزی کے نتائج
پالیسی کی خلاف ورزی پر ادارے کے ضوابط کے مطابق تادیبی کارروائی کی جائے گی
کارروائی میں انتظامی فیصلے، تنبیہ یا دیگر مناسب قانونی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں
اے سی کے استعمال کی پالیسی
کلاسز کے اے سی صرف تعلیمی اوقات میں 26 ڈگری پر چلائے جائیں گے، ناظم خود چلانے اور بند کرنے کا ذمہ دار ہوگا
تعلیمی اوقات کے علاوہ ذاتی طور پر اے سی استعمال کی اجازت نہیں، البتہ مجالس یا عوامی پروگرام میں چلایا جا سکتا ہے
جن کیمپسز میں آفس ہے وہاں تعلیمی اوقات میں صرف دو گھنٹے 26 ڈگری پر اے سی چلانے کی اجازت ہوگی
آ فس AC پالیسی
تمام کیمپس آفسز میں اے سی 27 ڈگری پر زیادہ سے زیادہ 3 گھنٹے روزانہ استعمال ہوگا
کام کے اوقات سے زیادہ اے کی استعمال نہ کیا جائے۔
مقیمین اساتذہ AC پالیسی
عام حالات میں کیمپس میں رہائشی عملے کو AC استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
دن کے وقت AC استعمال نہ کریں۔
ضرورت پڑنے پر رہائشی عملہ صرف رات کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے AC استعمال کر سکتا ہے، کیمپس سربراہ کی منظوری ضروری ہے
یاد رہے کہ سردیوں میں اے سی ( بطور ہیٹر ) چلانے کی اجازت نہیں۔
اے سی استعمال کرنے والے افراد بجلی کے بل میں سے استعمال شدہ یونٹس کے حساب سے ادارے کو ادائیگی کریں گے
AC کے ماہانہ استعمال کی رپورٹ فارمیٹ نمبر چونتیس (34) پر درج کر کے جمع کروائیں۔
تعلیم کے متعلق
برائے اساتذہ
خواتین کی کلاسز شروع کرنے کی پالیسی
خواتین کی کلاس کے وقت کسی مرد استاد یا خادم کا وہاں موجود ہونا حرام ہے، بدنظمی پر ناظم کے خلاف سخت کارروائی ہوگی
خواتین کی تعلیم کے اصول و ضوابط پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا
خواتین کو پڑھانے والے مرد اساتذہ مکمل ضابطہ اخلاق، پردے کا خیال اور شائستہ گفتگو اپنائیں
طالبہ کا موبائل پر استاد سے ذاتی رابطہ ممنوع ہے
ہر خواتین کلاس میں ایک مراقبہ موجود ہوگی جو نظم و ضبط کی ذمہ دار ہوگی، اس کی حاضری استاد کی طرح لازم ہوگی
خواتین کی کلاسز کے انتظام سے متعلق پالیسی
خواتین کی کلاسز شروع ہونے سے قبل درج ذیل تمام امور مکمل کر لیے جائیں:
خواتین کے لئے چائے اور پانی کا نظم دیکھنا
خواتین کلاس شروع ہونے سے پہلے چائے پانی تیار رکھا جائے
کیمرے بند کرنا
پردہ کا انتظام کرنا
کلاسز شروع ہونے سے پہلے تمام پر دے لٹکا دیے جائیں۔
خواتین کے آنے جانے کے راستے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کر دیے جائیں
کلاسز شروع ہونے سے پہلے سکرین سیٹ کر کے اسکو فعال کرنا
خواتین کی کلاس کے وقت کسی مرد کے اندر موجود نہ ہونے کی یقین دہانی کی جائے
سپیکر وغیرہ چیک کرنا
کلاس شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے ناظم خود نگرانی میں تمام انتظامات مکمل کروائے، صرف خادم پر انحصار نہ کرے
انحصار نہ کرے بلکہ خود ان تمام امور پر عمل کی یقین دہانی کرے اور خادم یہ تمام کام کر کے کلاس سے آدھا گھنٹہ پہلے باہر آجائے۔
خواتین کو پڑھانے کی شرعی حدود
خواتین کی کلاسز شروع ہونے سے قبل درج ذیل تمام امور مکمل کر لیے جائیں:
مرد اساتذہ کیلئے خواتین کو پڑھانا نازک معاملہ ہے، شرعی حدود کی مکمل پابندی ضروری ہے
طالبات سے صرف بقدرِ ضرورت کلام کرنا جائز ہے، بلا ضرورت بات کرنا جائز نہیں
بات کرتے وقت آواز اور لہجے میں لچک پیدا کرنا جائز نہیں
طالبات سے مذاق یا لطیفے سنانا شرعاً جائز نہیں، یہ سخت گناہ ہے
اساتذہ طالبات کو نام کے بجائے بنتِ فلاں یا زوجہِ فلاں کہہ کر پکاریں
کسی خاص طالبہ کے ساتھ امتیازی سلوک یا اسے نشانہ بنا کر طنز و ڈانٹ نہ کی جائے
کسی طالبہ کی خاصیت کو ایسے انداز میں پیش کیا جائے کہ دوسروں کیلئے بھی تحریک بنے
اساتذہ غیر مہذب زبان استعمال نہ کریں۔
سبق کے علاوہ گپ شپ نہ کی جائے، اصلاحی گفتگو ضرورت پر سبق کے دوران ہی کر دی جائے
طالبہ کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوال نہ کیا جائے اور استاد بھی اپنی ذاتی زندگی کا ذکر نہ کرے
طالبہ سے ذاتی نمبر پر براہِ راست رابطہ سخت ممنوع ہے، رابطہ صرف گروپ میں کیا جائے
انفرادی پڑھانے کی پالیسی
انفرادی ذمہ داری نبھانے والے اساتذہ حاضری رپورٹ واٹس ایپ کے ذریعے ہیڈ آفس بھیجتے رہیں
مربی / نگران استاد کی پالیسی
ہر کلاس کیلئے نگران استاد مقرر ہوگا جو حاضری، غیر حاضر طلبہ سے رابطہ اور مسائل کا حل یقینی بنائے گا
نگران استاد وقتاً فوقتاً طلبہ کو نفلی روزوں کی ترغیب جیسی تربیتی سرگرمیاں بھی دے
تمام ناظمین اپنے کیمپس کی کلاسوں کے نگران اساتذہ کی فہرست بھجوائیں گے
مراقبہ کی پالیسی
خواتین کی کلاسز میں ادارے کی طرف سے مراقبہ موجود ہوگی جو نظم دیکھے گی اور استاد و طالبات کے درمیان واسطہ ہوگی
مراقبہ کی ذمہ داری کے حوالے سے اصول و ضوابط
مراقبہ کی ذمہ داری کے حوالہ سے کچھ اصول و ضوابط طے کیے گئے ہیں، جن کو ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے:
مراقبہ روزانہ تمام اسباق کا فیڈ بیک مقررہ فارمیٹ پر تحریری طور پر جمع کروائے
سبق میں طالبات کو پیش آنے والی مشکل اور اس کا حل فارمیٹ پر تحریر کیا جائے
مراقبہ کی ذمہ داری صرف نگرانی تک ہے، البتہ مجبوری میں سبق بھی پڑھا سکتی ہے
کلاس کی تمام طالبات کو رول نمبر جاری کرنا بھی مراقبہ کی ذمہ داری میں شامل ہو گا۔
روزانہ ہر سبق کی الگ حاضری لگانا مراقبہ کی ذمہ داری ہوگا
نئی آنے والی طالبات کا پہلے ہی دن داخلہ فارم مکمل کروا کر انتظامیہ کو مطلع کیا جائے
واٹس ایپ گروپ بنا کر تمام طالبات کو اس گروپ میں شامل کر نا مراقبہ کی ذمہ داری ہے۔
فاطمہ اکیڈمی کا آفیشل نمبر واٹس ایپ گروپ میں شامل کر کے مکمل رابطہ رکھا جائے
فاطمه اکیڈمی میں لگی ہوئی سکرین کا سیٹ اپ کرنا بھی مراقبہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
داخلہ و تعلیمی تشخیص
داخلہ منسوخ کرنے کے مراحل
درج ذیل صورتوں میں طالب علم / طالبہ کا اندراج (داخلہ) منسوخ کیا جائے گا:
اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کی مخالفت کرنا
ادارے کی پالیسی کی مخالفت اور منفی سرگرمیاں کرنا
بلا اجازت مسلسل تین دن غیر حاضر رہنا
ممانعت کے باوجود ادارے سے باہر جانا
40 سے زائد اسباق سے غیر حاضر رہنا
خود داخلہ منسوخی کی درخواست دینا اور منظوری ہوجانا
سال دوبارہ پڑھنے کی اجازت نہ ملنا
سال دوبارہ پڑھنے کے بعد بھی ناکام ہونا
بلا اجازت کسی اور ادارے میں تعلیم حاصل کرنا
طلبہ یا ملازمین کے ساتھ مالی لین دین کرنا
عبادات اور فرض نمازوں میں کوتاہی کرنا
بد اخلاقی اور بے ادبی کا مظاہرہ کرنا
گناہوں اور بے حیائی کا ارتکاب کرنا
منشیات کا استعمال کرنا۔
ہتھیار یا نقصان پہنچانے والے آلات رکھنا
فحش یا سیاسی مواد اپنے پاس رکھنا
اسمارٹ موبائل فون استعمال کرنا۔
جرمانے کے باوجود دوبارہ وہی کام کرنا
چوری، دھوکہ، جھوٹ یا دھمکی دینا
ادارے کی ساکھ متاثر کرنے والا عمل کرنا
ادارے سے غیر متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینا
تعلیم میں رکاوٹ بننے والا دائمی مرض لاحق ہونا
آخری تنبیہ کے بعد بھی دوبارہ خلاف ورزی کرنا
تنبیہ یا حکم کی تعمیل نہ کرنا
مجلس انتظامیہ کو پہلی مرتبہ ہی داخلہ منسوخ یا مہلت دینے کا اختیار ہوگا
داخلہ منسوخ کرنے کا طریقۂ کار
شعبے کا ذمہ دار کا تنبیہ کرے گا اور باز رہنے کی ہدایت کرے گا
دوبارہ خلاف ورزی پر معاملہ ذمہ دارِ عام کو سپرد کیا جائے گا
ذمہ دارِ عام کو اساتذہ سے مشورہ یا ولی کو طلب کرنے کا اختیار ہوگا
مسلسل خلاف ورزی پر معاملہ انتظامی مجلس کو بھیجا جائے گا
مرکز میں خلاف ورزی پر دو تنبیہ کے بعد معاملہ مجلس کے سپرد کردیا جائے گا
مجلس انتظامیہ کو فوری داخلہ منسوخی یا وارننگ جاری کرنے کا اختیار ہوگا
مجلس انتظامیہ اپنے فیصلہ سے ولی کو باقاعدہ آگاہ کرے گی
خلاف ورزی پر طالب علم کے نام فارم تیار کر کے کارروائی تحریری طور درج کی جائے گی
داخلہ منسوخی پر فوراً جامعہ چھوڑنا لازمی ہوگا
داخلہ منسوخی کی اطلاع شعبہ حاضری کو دینا ہوگی
داخلہ منسوخی کی اطلاع تمام انتظامی شعبوں کو دینا ہوگی
داخلہ منسوخی کا اعلان نوٹس بورڈ پر آویزاں کرنا ہوگا
مستقل داخلہ منسوخی کا اختیار نائبِ رئیس کے پاس ہوگا
سنگین خلاف ورزی براہِ راست مجلس انتظامیہ کے سامنے پیش کرنا ہوگا
امتحانی نظام
کامیابی اور ناکامی کے قواعد
تین یا زیادہ مضامین میں ناکامی پر راسب شمار کیا جائے گا
ایک یا زیادہ مضامین میں ناکامی پر ضمنی امتحان دینا یوگا
پہلے مرحلے میں ناکامی پر تعلیم جاری رہے گی ، سالانہ ناکامی پر ضمنی امتحان میں کامیابی لازمی ہوگی
ضمنی امتحان میں ناکامی پر دوسری مدت میں شرکت کی اجازت دی جاسکتی ہے
مسلسل ناکامی پر مجلس انتظامی داخلہ منسوخی یا اعادہ سال کا فیصلہ کرسکتی ہے
دو مضامین میں ناکامی پر ترقی صرف مجلس انتظامی کے فیصلے سے ہوگی
ضمنی امتحان صرف ناکام مدت کے مضامین میں لیا جائے گا
ضمنی امتحان ہر تعلیمی مدت کے اختتام پر منعقد ہوگا
ضمنی امتحان مقررہ وقت میں ہی لیا جائے گا
تقابلِ نتائج کے بعد مقررہ شرحِ کامیابی حاصل کرنا لازم ہوگا
دونوں تعلیمی مدتوں کے نتائج کا تقابل کیا جائے گا
ضمنی امتحانی فیس ادا کیے بغیر امتحان میں شرکت ممکن نہیں ہوگی
نتائج بہتر بنانے کے لیے فیس کے ساتھ ضمنی امتحان دیا جاسکتا ہے
تصحیحِ امتحانی پرچے، نمبرات کی تعیین اور امتحانی پرچوں کی جانچ کے قواعد
عمومی قواعد
نمبرات کی تعیین کی کمیٹی، مصححین ، مراجعین اور مدققین پر مشتمل ہوگی.
تمام ارکان مقررہ وقت پر اپنی ڈیوٹی کے لیے حاضر ہوں گے۔
ناظم تعلیم کا کمیٹی اراکین کی فہرست تیار کرنا
کمیٹی اراکین کا مقررہ اوقات میں پوری ذمہ داری سے کام کریں گے
بلا اجازت تصحیح ہال سے باہر نہیں جانا ہے
رخصت کے لیے ناظم تعلیم سے اجازت لینا ہوگی
تصحیح ہال میں غیر متعلقہ شخص کا داخلہ ممنوع ہوگا
بلا رول نمبر پرچوں کو الگ لفافے میں رکھنا ہوگا
تکمیل تک کمیٹیوں نے منتشر نہیں ہونا ہے
تصحیح میں جلد بازی سے گریز کریں ایک دفعہ کے بعد دوبارہ جانچ کریں
نمبرات کی معلومات کسی کو بتانا جائز نہیں ہے یہ امانت ہے
مکمل مدت تعیناتی پر مالی اعزازیہ دیا جائے گا
مصححین (پرچے چیک کرنے والوں) سے متعلق قواعد
تمام پرچے وصول ہونے تک آنسر کیز نہیں کھولی جائیں گی
تصحیح و جانچ کمیٹی کی اجتماعی نگرانی میں کی جائے گی
پرچوں کی تصحیح مقررہ مقام پر بروقت اور باریک بینی سے کی جائے
مصحح کا اپنا نام اور نمبرات ہر پرچے پر درج ہونگے
متعدد جوابات کی جانچ کر کے بہترین نمبر دیے جائیں گے
نمبرات کی تقسیم آنسر کی اور مقررہ وزن کے مطابق کی جائے گی
غیر حل شدہ سوال پر صفر یا متروک درج کیا جائے گا
تمام پرچوں کی تصحیح سرخ رنگ سے کرنا
حاصل شدہ نمبر جواب کے بائیں جانب درج کیے جائیں گے
ہر سوال کے نمبر پہلے صفحے پر درج کر کے مصحح دستخط کرے گا
کٹے ہوئے جواب کو نظر انداز ہی کیا جائے گا لیکن اگر طالب علم کی کامیابی اس پر موقوف ہو تو اس کو دیکھا جائے گا
شناخت ظاہر کرنے والے پرچے رازداری سے مدققین کے حوالے کریں
جوابی پرچے مقررہ مقام کے علاوہ منتقل کرنا ممنوع ہے
جوابی پرچوں کی تصویر یا نقل بنانا سختی سے ممنوع ہے
مراجعین (دوبارہ جانچ کرنے والوں) سے متعلق قواعد
مراجعین کا سبز رنگ سے ابتدائی جانچ کر کے نام درج کریں گے
رول نمبر کے مطابق نمبرات فہرست میں درج کر کے مدققین کے حوالے کریں گے
مکمل جوابی پرچے ترتیب سے شعبۂ تعلیم کے حوالے کریں گے
نمایاں اور ناکام طلبہ کے پرچوں کی دوبارہ خصوصی جانچ کی جائے گی
عصر ایجوکیشنل ویلفئیر اینڈ ٹرسٹ
جو نظام اس وقت ادارے میں موجود ہے
باطنی تربیت کے متعلق
برائے والدین
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے قابل ہوں
جو نظام موجود نہیں یا ابھی تحریری شکل میں موجود نہیں ہے
خواب،نظریہ حقیقت پسند انہ اہداف
خواب
برائے مدرسہ
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
خواب(انفرادی) کیا ہے
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے انفرادی خواب، مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
بیٹے / بیٹی کے متعلق والدہ محترمہ کا خواب
بیٹے /بیٹی کے متعلق والد محترم کا خواب
کیا بیٹے /بیٹی کے متعلق والدمحترم اور والدہ محترمہ کا خواب ہم آہنگ ہے
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح کروا چکے ہیں
کیا والدین کا اپنے بیٹے / بیٹی کے متعلق خواب مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتاہے ؟
نظریہ
برائے مدرسہ
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں مدرسہ کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائےاراکین شوری/مہتمم مدرسہ/منتظمین
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کے نظریات، مدرسہ کےنظریہ کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے اساتذہ
کیا مدرسہ اساتذہ کو اس درجہ کا اعتماد دیتا ہے کہ استاد محترم بند دروازے میں بلا تأ مل اپنے نظریات کا مہتمم / منتظمین اور شوریٰ سے نہ صرف اظہار کرسکیں بلکہ سیرحاصل مذاکرہ بھی ہوسکے
برائے طلباء
کیا مدرسہ طلباء کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کا طریقہ کار سیکھاتا ہے ۔
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کے طریقہ کار سے آگاہ رکھتا ہے تاکہ بچے کے لیے ماحول ساز گار رہے ۔
اہداف
برائے مدرسہ
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباء کےموجودہ سال کے اور پانچ سال کے ذاتی اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے ذاتی اہداف، مدرسے کے اگلے ایک /دو/تین/چار/ پانچ سالہ اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے طلباء
طالب علم کے تعلیمی سال کے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد کے اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا طالب علم کے ذاتی اہداف تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً تعلیمی اور تربیتی اہداف سے اس درجے میں آگاہی دیتا رہتا ہے کہ طالب علم سے متعلق والدین کےتفکرات، تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے رہیں تاکہ طالب علم کے لیے ماحول ساز گار رہے
نظم و نسق کے متعلق
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
مجلس شوریٰ
دو علماء ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
دینی علمی شعبہ کی تعیین کرنا
مقرر کردہ شعبہ کے لیے اساتذہ کی تقرری کے اصول و ضوابط طے کرنا
دینی تعلیم سے متعلق نظام کو طے کرنا
اختیارات
دینی تعلیمی شعبہ کی تعین ،اساتذہ کی تقرری اور تعلیمی نظام کے متعلق ان کی رائے کو ترجیح دی جائے گی
ایک ماہر عصری تعلیم ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک کاروباری شخص ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک قانونی ماہر ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک امیر صاحب ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 11 اراکین ہونے چاہیے؟
اجتماعی ذمہ داریاں
اجتماعی اختیارات
مہتمم صاحب
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
منتظمین
ناطم اعلیٰ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم عصری علوم
اختیارات
ناظم مالیات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مطبخ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم دار الاقامہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم متفرق امور مدرسہ (صفائی ستھرائی ،بجلی ،پانی ،ترتیب وغیرہ کا نظام )
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم کتب خانہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے طلباء
امیر جماعت
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے دیگر معاونین
باورچی
اختیارات
مالی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ڈرائیور
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
الیکٹریشن
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
پلمپر
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے مدرسہ
زمین و عمارت کا انتظام
مطبخ ومطعم کی عمارت
اسٹور روم
کھیل کا میدان
باغات و شجرکاری
بنیادی سہولیات کا انتظام
وائرنگ نیٹ ورک
رہائش و اقامت کا انتظام
استقبال نظام
مہمان رہائش
بستر
خوراک و مطبخ کا انتظام
اشیائے خوردونوش
اسٹاک کنٹرول
خریداری نظام
سپلائی چین
کھانا پکانے کا نظام
کچن آلات
خوراک کی تقسیم
وقت بندی
صفائی معیار
سامان و اثاثہ جات کا انتظام
بستر
کتب کا ریکارڈ
مرمت نظام
مینٹیننس شیڈول
خرابی رپورٹنگ
صحت کا نظام
فرسٹ ایڈ باکس
میڈیکل روم
حفاظت کا نظام
آگ بجھانے کے آلات
ایمرجنسی الرٹ
سیکیورٹی سسٹم
گیٹ کنٹرول
داخلی نگرانی
ہنگامی پروٹوکول
مالی وسائل کا انتظام
آمدنی کے ذرائع
وقف املاک
مالی منصوبہ بندی
بجٹ سازی
اخراجات
تعمیری اخراجات
مرمت اخراجات
سفر کے اخراجات
تقریبات کے اخراجات
دیگر اخراجات
آڈٹ سسٹم
ریکارڈ تصدیق
اندرونی جانچ
انتظامی ریکارڈ کا نظام
داخلہ ریکارڈ
طلبہ ڈیٹا
داخلہ فارم
رہائش ریکارڈ
ہاسٹل الاٹمنٹ
اثاثہ جات ریکارڈ
سامان کی فہرست
استعمال لاگ
مالی ریکارڈ
آمدنی و اخراجات
دستاویزات
قانونی کاغذات
مواصلات و ٹیکنالوجی
انٹرنیٹ سسٹم
نیٹ ورک انفراسٹرکچر
ڈیجیٹل سسٹم
LMS / پورٹل
اعلاناتی نظام
ڈیجیٹل نوٹس
ڈیٹا مینجمنٹ
بیک اپ سسٹم
کلاؤڈ اسٹوریج
ERP سسٹم
دیکھ بھال و ترقی
عمارتوں کی دیکھ بھال
مرمت
حفاظتی جانچ
خوبصورتی و اپ گریڈ
رنگ و روغن
تزئین و آرائش
توسیعی منصوبے
نئی عمارتیں
اضافی بلاکس
سہولیات کی اپ گریڈیشن
جدید آلات
نظام کی بہتری
تعلیم کے متعلق
تعلیمی شعبہ جات
درس نظامی
بنین
دراسات دینیہ
تخصصات
تعلیمی منصوبہ بندی
تعلیمی کیلنڈر
تدریسی اوقات
تدریسی ایام
تعطیلات
نصاب کی منصوبہ بندی
روزانہ
ہفتہ وار نصاب
ماہانہ نصاب
کارکردگی کی نگرانی
درجات
نصاب کی تکمیل
اوسط کارکردگی
شعبہ جات
حفظ
درس نظامی
تخصص
علمی مہارتوں کا نظام
زبان
انگلش
اردو
خواب،نظریہ حقیقت پسند انہ اہداف
خواب
برائے مدرسہ
مدرسے کا خواب
نظریہ
اہداف
برائے مدرسہ
مدرسہ کے اہداف
ایک سالہ ہدف، 5 سالہ ہدف، 10 سالہ ہدف، 25 سالہ ہدف، 50 سالہ ہدف، 100 سالہ ہدف
نظم و نسق کے متعلق
برائے طلباء
رہائشی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
غیر رہائشی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے والدین
رہا ئشی طلباء کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
کتب کے طلباء کے والدین
غیر رہائشی کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
کتب کے طلباء کے والدین
برائے دیگر معاونین
چوکیدار
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
صفائی کرنے والے
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے مدرسہ
زمین و عمارت کا انتظام
تعلیمی زون
رہائشی زون
مسجد
وضو ایریا
دفاتر
مہمان خانہ
پارکنگ ایریا
بنیادی سہولیات کا انتظام
ٹرانسپورٹ
بجلی کا نظام
جنریٹر بیک اپ
سولر سسٹم
پانی کا نظام
فلٹریشن یونٹ
گیس سپلائی
سیوریج لائنز
صفائی کا نظام
رہائش و اقامت کا انتظام
طلبہ ہاسٹل
اساتذہ رہائش
الماریاں
پنکھے / کولنگ
لائٹنگ
واش رومز
وضو خانہ
کپڑوں کی دھلائی
خشک کرنے کا نظام
خوراک و مطبخ کا انتظام
پینے کا پانی
کولنگ سسٹم
سامان و اثاثہ جات کا انتظام
فرنیچر
الیکٹرانکس
کمپیوٹرز
ساؤنڈ سسٹم
لائبریری
گاڑیاں
جنریٹرز
حفاظت کا نظام
CCTV نگرانی
مالی وسائل کا انتظام
آمدنی کے ذرائع
چندہ
زکوٰۃ
عطیات
صدقات
اخراجات
تنخواہیں (صرف اخراجاتی پہلو)
کھانے پینےکے اخراجات
یوٹیلٹی بلز
انتظامی ریکارڈ کا نظام
دستاویزات
معاہدات
مواصلات و ٹیکنالوجی
ڈیجیٹل سسٹم
ویب سائٹ
اعلاناتی نظام
لاؤڈ اسپیکر
نوٹس بورڈ
دار التصنیف
ماہنامہ بینات
رفاہ عامہ
تعلیم کے متعلق
تعلیمی شعبہ جات
شعبہ ناظرہ و تجوید
شعبہ حفظ
روزانہ کا طریقہ کار
مطالعہ
حفظ
سماعت
سبقی
منزل
ہفتہ وار نظام
مجموعی سماعت
غلطیوں کا تجزیہ
ماہانہ نظام
حفظ امتحان
روانی امتحان
تکمیل حفظ
گردان
درس نظامی
بنات
تخصصات
تخصص فی الحدیث
فقہ المعاملات
تجوید للمعلمات
دیگر تعلیمی شعبہ جات
النور کورس
فقہ المسلمہ
آن لائن تفسیر کورس
آن لائن عربی کورس
ویک اینڈ پروگرام
عصری علوم کے شعبہ جات
تعلیمی منصوبہ بندی
ابتدائی مشاورت
تعلیمی کیلنڈر
امتحانات
دورات
عربی تکلم
رد فرقہ باطلہ
اخلاقی تربیت و اہم عنوانات
اصلاحی مجالس
نصاب کی منصوبہ بندی
سہ ماہی نصاب
ششماہی نصاب
سالانہ نصاب
داخلہ و تعلیمی تشخیص
ابتدائی معلومات
نام مع ولدیت
عمر
سابقہ تعلیم
مطلوبہ درجہ
تعلیمی درجہ بندی
ناظرہ
حفظ
درس نظامی
تخصصات
علمی جانچ
قرآن کریم
عربی
تحریری
درجہ وار کتب برائے جائزہ
شرائط داخلہ
حفظ
بیرون کے طلبہ کے لیے
تدریسی نظام
سبق سے پہلے
طالب علم
پیشگی مطالعہ
استاد
سبق کی تیاری
تدریسی مقاصد
تدریسی مواد
سبق کے دوران
استاد
پچھلا سبق سنا جا تا ہے
تعارف
تشریح
تطبیق
خلاصہ
طالب علم
عبارت
ترجمہ
سوال و جواب
سبق کے بعد
تکرار
تعلیم کی بہتری کا معیار
روزانہ
سبق مکمل ہوا؟
ہفتہ وار
اہداف حاصل ہوئے؟
ماہانہ
نصاب رفتار درست ہے؟
ماہانہ جائزہ
سہ ماہی
سہ ماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
ششماہی
ششماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
سالانہ
تعلیمی نظم کا احتسابی جائزہ
امتحانی نظام
ہفتہ وار امتحان
زبانی
تحریری
ماہانہ امتحان
زبانی
تحریری
سہ ماہی امتحان
زبانی
تحریری
ششماہی امتحان
زبانی
تحریری
سالانہ امتحان
تحریری امتحان
ترقی کا فیصلہ
کامیابی کے درجات
ممتاز ٪۸۰
مقبول ٪۴۰
حوصلہ افزائی
ترقی و اصلاح نظام
کمزور طلبہ
اضافی وقت دینا
خصوصی نگرانی
کارکردگی کی نگرانی
طالب علم
حاضری
امتحان
مطالعہ
تعلیمی معاونت
لائبریری
اجراء
واپسی
ڈیجیٹل مواد
آڈیو
ویڈیو
علمی مہارتوں کا نظام
تحریر
خوش خطی
املاء
رموز واوقاف
درست جملہ سازی
پیراگراف نویسی
تقریر
تدریس
زبان
عربی
ظاہری تربیت کے متعلق
ظاہری تربیت کی تعریف
باطنی تربیت کی تعریف
باطنی تربیت کی بھی کوئی باقاعدہ تحریری تعریف یا دستاویز موجود نہیں، تاہم اس کا تصور واضح ہے اور اس پر باقاعدہ محنت کی جاتی ہے۔
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
برائے والدین
برائے مدرسہ
برائے اساتذہ
برائے طلباء
برائے والدین
برائے طلباء
برائے والدین
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
منتظمین
منتظمین دینی علوم
ناظم شعبہ حفظ و ناظرہ
اہلیت
مضبوط حافظِ قرآن ہو۔
تجوید پڑھا ہوا ہو۔
حفظ پڑھانے کا معتد بہ وقت کا تجربہ ہو۔
انتظامی امور سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
والدین کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کر سکتا ہو۔
والدین کو طلبہ کی رپورٹ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
عالمِ دین ہونا شرط نہیں، البتہ ترجیح دی جاتی ہے۔
ذمہ داریاں
شعبۂ حفظ کی نگرانی کرنا۔
شعبہ کے معیار کا جائزہ لینا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
امتحانات لینا۔
طلبہ کی کارکردگی کی رپورٹ مہتمم صاحب کو پیش کرنا۔
بچوں کی اخلاقی تربیت کی فکر رکھنا۔
والدین سے رابطہ رکھنا۔
والدین کو ان کے بچوں کی کارکردگی سے مسلسل مطلع کرتے رہنا۔
اساتذہ کو مارپیٹ کے نظام سے محفوظ رکھنے کے لیے اساتذہ کی نگرانی کرنا۔
اختیارات
کسی بھی وقت طالب علم کو بلا کر امتحان یا جائزہ لے سکتے ہیں۔
بچوں کی مارپیٹ کا اختیار حاصل نہیں۔
طلبہ کی کمزوری کی صورت میں والدین کو مطلع کرنا۔
والدین کو اعتماد میں لے کر بچے کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
دو ہزار کے اندر اندر معمولی نوعیت کی خریداری خود کر سکتے ہیں یا اس کی سفارش پیش کر سکتے ہیں۔
بڑی خریداری کے لیے ناظمِ مالیات سے تحریری اجازت لینا ضروری ہے۔
اساتذہ کو چند گھنٹوں کی جز وقتی رخصت دے سکتے ہیں۔
ایک دن کی مکمل رخصت دینے کے لیے مہتمم صاحب سے رابطہ اور اجازت ضروری ہے۔
مہتمم صاحب کی اجازت کے بغیر ناظمِ حفظ ایک دن کی چھٹی نہیں دے سکتا۔
ناظم درسی نظامی
اہلیت
درسِ نظامی پڑھے ہوئے ہوں۔
درسی کتابوں کو سمجھنے کی اچھی استعداد رکھتے ہوں۔
کم از کم پانچ سال درسِ نظامی کے اسباق پڑھا چکے ہوں۔
انتظامی امور سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہوں۔
ذمہ داریاں
سالانہ جدول بنانا۔
مشورے سے اسباق کی تقسیم کرنا۔
تعلیمی نظام کا جائزہ لینا۔
طالبات کی تعلیمی استعداد پر نظر رکھنا۔
ششماہی اور سالانہ امتحانات کا انعقاد کرنا۔
طالبات اور معلمات کے دروس کی کارگزاری کا جائزہ لینا۔
طالبات اور معلمات کی طرف سے آنے والی سفارشات کو مشورے میں رکھنا۔
طالبات کے مسائل کو مشورے میں رکھ کر ان کا حل پیش کرنا۔
دیگر متعلقہ امور کی نگرانی کرنا۔
اختیارات
طالبات کی ایک یا دو دن کی چھٹی منظور کر سکتے ہیں۔
دو دن سے زیادہ کی چھٹی منظور کرنے کا اختیار نہیں۔
معلمات کی کارگزاری کے لیے ان کے گھر والوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
ناظم شعبہ تخصصات
تخصص فی الفقہ
اہلیت
درس نظامی ، تخصص فی الافتاء اور تحقیق و افتاء کا معتدبہ تجربہ
ذمہ داریاں
1۔نصاب سازی کےلیے تجاویز،
2۔طے شدہ نصاب کی تنفیذ ، 3۔کمی بیشی کی اطلاع دینا
4۔انتظامی ذمہ داریوں کی تقسیم اور فالواپ
5۔اسباق اور امتحانات کے لیے جدول سازی ،
6۔ طلبہ اور شعبہ کی ضروریات سے آگاہی
7۔ضرویات فنڈ منظوری کروانا
8۔ فتاوی کی تصحیح
اختیارات
1۔طلبہ کو مختصر چھٹی دینا
2۔ مختصر اخراجات کی منظوری
3۔ وظائف کی مقدار کی حسب ضابطہ منظوری
تخصص فی الحدیث
اہلیت
متعلقہ فن میں متخصص ہو۔
متعلقہ فن میں عملی تجربہ رکھتا ہو۔
اس فن کے ماہرین کے نزدیک معتمد ہو۔
ذمہ داریاں
شعبۂ تخصص سے متعلق تمام امور کی نگرانی کرنا۔
ضرورت کے مطابق تدریس کرنا۔
تدریسی نظام کی نگرانی کرنا۔
اساتذہ کی تدریسی ذمہ داریوں کی تقسیم کرنا۔
اسباق اور تدریسی امور کی نگرانی کرنا۔
شعبے سے متعلق دیگر انتظامی امور کی نگرانی کرنا۔
مالیاتی امور کی نگرانی کرنا۔
شعبے سے متعلق پیش آنے والے دیگر امور کو دیکھنا۔
اختیارات
شعبے سے متعلق انتظامی امور میں اختیار حاصل ہے۔
اساتذہ کی تدریسی ذمہ داریوں کی تقسیم کر سکتے ہیں۔
اسباق اور تدریسی امور کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
شعبے کے کاموں کی تقسیم کر سکتے ہیں۔
شعبے سے متعلق مالیاتی امور کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
ناظم عصری علوم
اہلیت
گریجویشن (بی ایس سی) تک تعلیم حاصل کی ہو۔
ریاضی (Math) میں تخصصی تعلیم کے ساتھ دیگر مضامین، خصوصاً انگریزی، کا مناسب علم رکھتا ہو۔
عصری علوم کی تدریس اور انتظام کا تجربہ رکھتا ہو۔
ذمہ داریاں
فاؤنڈیشن کلاس سے کلاس ہفتم تک انگریزی اور ریاضی کی تدریس کے نظام کی نگرانی کرنا۔
متعلقہ اساتذہ کی تدریس کا جائزہ لینا۔
تدریسی کارکردگی، نتائج اور رپورٹ تیار کرنا۔
فاؤنڈیشن کلاس سے متعلقہ طلبہ کو ریاضی پڑھانا۔
روزہ کی طالبات کو جماعت نہم اور دہم کی ریاضی پڑھانا۔
نئے داخلوں کے وقت طلبہ کے فارم اور دیگر معلومات جمع کرنا۔
داخلہ فارموں پر استادِ جی سے دستخط کروا کر داخلہ کی تکمیل کروانا۔
روزانہ تمام کلاسوں کی حاضری کا جائزہ لینا۔
غیر حاضر طلبہ کے والدین سے رابطہ کر کے وجہ معلوم کرنا۔
مدرسے کے اصول کے مطابق والدین کو تنبیہ کرنا۔
رخصت پر موجود طلبہ کی رخصت درج کرنا۔
روزہ کی طالبات کی آن لائن (Zoom) کلاسز کا انتظام و تدریس کرنا۔
ضرورت کے مطابق والدین سے انتظامی امور کے سلسلے میں رابطہ کرنا۔
برائے اساتذہ
حفظ و ناظرہ کے اساتذ
اہلیت
اچھا حافظِ قرآن ہو۔
قرآنِ کریم کو صحیح قراءت اور صحیح لہجے کے ساتھ پڑھ سکتا ہو۔
ترجیحی بنیاد پر عالمِ دین ہو۔
کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق رکھتا ہو یا تبلیغی جماعت میں وقت لگایا ہو۔
تدریس کا کچھ تجربہ رکھتا ہو۔
شادی شدہ امیدوار کو ترجیح دی جاتی ہے، تاہم غیر شادی شدہ اساتذہ بھی رکھے جاتے ہیں۔
ذمہ داریاں
اپنی کلاس کا نظم و نسق سنبھالنا۔
طلبہ کو سبق یاد کروانا۔
طلبہ کی منزل سننا۔
سپرد کیے گئے تربیتی امور انجام دینا۔
پابندی کے ساتھ اپنی حاضری کا اہتمام کرنا۔
کسی بھی صورت میں مارپیٹ سے اجتناب کرنا۔
طلبہ کی کارکردگی سے ناظم صاحب کو آگاہ کرنا۔
طلبہ کے بہتر نتائج کی فکر کرنا۔
روزانہ، ماہانہ اور ہفتہ وار رپورٹ تیار کرنا۔
امتحانات کی تیاری کروانا۔
طلبہ کے تربیتی امور کی نگرانی کرنا۔
اختیارات
طلبہ کو مناسب حد تک کھڑا کرنے کی سزا دے سکتے ہیں۔
کسی بھی درجے میں مارپیٹ کی اجازت نہیں۔
طلبہ سے کسی قسم کی جسمانی خدمت لینے کی اجازت نہیں۔
درس نظامی کے اساتذہ
اہلیت
کسی مستند ادارے سے درسِ نظامی کیا ہوا ہو۔
علمی استعداد اچھی ہو۔
عبارت پڑھ کر اس کی حل اور تفہیم کا ملکہ رکھتا ہو۔
کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق رکھتا ہو یا تبلیغی جماعت میں وقت لگایا ہو۔
مزاج میں اعتدال ہو۔
بالخصوص بنات کو پڑھانے کی نزاکتوں کو سمجھتا ہو۔
ترجیحاً شادی شدہ ہو۔
ذمہ داریاں
اپنی حاضری کا پابندی سے اہتمام کرنا۔
وقت پر اسباق پڑھانے کا نظم قائم رکھنا۔
سبق پہلے سے تیار کرنا۔
سال کے آغاز ہی میں تدریسی منصوبہ بندی مکمل کرنا۔
سال کے آغاز میں فراہم کیے گئے منہج اور ترتیب کے مطابق تدریس کرنا۔
امتحانات کے پرچے تیار کرنا۔
امتحانات کے پرچے چیک کرنا۔
طالبات میں علمی استعداد پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کرنا۔
مدرسے کے تعلیمی اور تربیتی نظم کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا۔
سپرد کی گئی انتظامی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دینا۔
روزانہ ہونے والے اساتذہ کے مشورے میں شرکت کرنا۔
تعلیمی نظم کو بہتر بنانے کے لیے اپنی سفارشات پیش کرنا۔
اختیارات
کلاس کی ٹائمنگ میں رد و بدل کے لیے سفارشات پیش کر سکتے ہیں۔
خارجی کتب کے مطالعہ کے لیے طالبات کو مناسب کتابوں کی تعیین کی سفارش کر سکتے ہیں۔
اگر کسی طالبہ کی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں کوئی اشکال ہو تو مشورے سے اس کے والد سے رابطہ کر کے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
پابندیاں
کسی طالبہ سے براہِ راست ذاتی رابطہ نہیں کر سکتے۔
کسی طالبہ کو بھی استاد سے براہِ راست ذاتی رابطے کی اجازت نہیں۔
والدین سے براہِ راست رابطہ معمول کے طور پر نہیں کیا جا سکتا۔
طالبات سے متعلق معاملات معلمات کے ذریعے پہنچائے جائیں گے، پھر معلمات متعلقہ طالبہ سے مذاکرہ کریں گی۔
جن اساتذہ کے گھر والے ادارے میں موجود ہوں، وہ ان کے ذریعے پیغام یا رابطہ کر سکتے ہیں۔
اساتذہ اور معلمات کے مشترکہ گروپ کے ذریعے تحریری پیغامات اور جوابات کا تبادلہ کیا جائے گا۔
تخصصات کے اساتذہ
تخصص فی الحدیث
اہلیت
متعلقہ فن میں متخصص ہو۔
متعلقہ فن میں تدریس اور عملی تجربہ رکھتا ہو۔
متعلقہ فن میں خدمات انجام دی ہوں۔
اہلِ فن کے نزدیک معتمد اور معتبر ہو۔
ذمہ داریاں
متعلقہ فن کی تدریس کرنا۔
فتاویٰ حدیثیہ چیک کرنا۔
تدریبات اور تمرینات کا جائزہ لینا اور چیک کرنا۔
طلبہ کی نگرانی کرنا۔
ادارے کی طرف سے سپرد کی گئی دیگر ذمہ داریاں ادا کرنا۔
اختیارات
طلبہ کو مدرسہ سے خارج کرنے کا اختیار نہیں۔
اسباق کی تقسیم یا تبدیلی کا اختیار نہیں۔
اسباق کی تقسیم کے بارے میں مشورہ دے سکتے ہیں، لیکن اپنی مرضی سے اسباق تبدیل نہیں کر سکتے۔
تین دن سے کم رخصت کی منظوری متعلقہ ناظم (مولانا ابوہریرہ صاحب) مشورے سے دے سکتے ہیں۔
تین دن یا اس سے زیادہ رخصت کی منظوری کا فیصلہ اعلیٰ انتظامیہ کرتی ہے یا اس کے لیے مولانا ہشام صاحب کو درخواست پیش کی جاتی ہے۔
تخصص فی الفقہ (المعاملات)
اہلیت
درسِ نظامی مکمل کیا ہو۔
کسی مستند ادارے سے تخصص فی الفقہ کیا ہو۔
تدریس کا تجربہ ہو تو بہتر ہے۔
ذمہ داریاں
تخصص کے نصاب کی تدریس کرنا۔
فتاویٰ کی تصحیح کرنا۔
طلبہ کے پروجیکٹس کی نگرانی کرنا۔
سپرد کی گئی انتظامی ذمہ داریوں کے نظم کی نگرانی کرنا۔
فتاویٰ کی تمرین و تصحیح کا نظم مشاورت سے ترتیب دینا اور اس کی تنفیذ کرنا۔
اساتذہ کو تفویض کردہ امور کی نگرانی کرنا۔
طلبہ کے مسائل کو مشاورت سے حل کرنا۔
اختیارات
فتاویٰ کی تمرین و تصحیح کے نظم کو مشاورت سے ترتیب دینا اور اس کی تنفیذ کرنا۔
اساتذہ کو تفویض کردہ امور کی نگرانی کرنا۔
طلبہ کے مسائل کو مشاورت سے حل کرنا۔
باورچی
اہلیت
کھانا پکانا آتا ہو
دین دار ہو
ذمہ داریاں
ہفتہ وار شیڈول کے مطابق کھانا تیار کرنا
مالی
ڈرائیور
الیکٹریشن
پلمپر
رقبہ و حد بندی
14 مرلہ ہے جو کہ تین فلور پر مشتمل ہے
نقشہ
صحت کا نظام
مالی منصوبہ بندی
آڈٹ سسٹم
داخلہ ریکارڈ
رہائش ریکارڈ
اثاثہ جات ریکارڈ
مالی ریکارڈ
انٹرنیٹ سسٹم
ڈیٹا مینجمنٹ
ڈیٹا مینجمنٹ
دیکھ بھال و ترقی
خوبصورتی و اپ گریڈ
توسیعی منصوبے
سہولیات کی اپ گریڈیشن
شعبۂ رفاہِ عامہ کے تحت مختلف نوعیت کی فلاحی خدمات انجام دی جاتی ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
ماہانہ بنیاد پر تقریباً 400 مستحق گھرانوں کو زکوٰۃ کی مد سے راشن فراہم کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ بعض ایسی مستحق فیملیز، جن کے حالات سے ذاتی تعلق اور واقفیت کی بنیاد پر آگاہی ہوتی ہے، انہیں ماہانہ بنیاد پر زکوٰۃ کی مد سے وظائف بھی دیے جاتے ہیں۔ ان میں خصوصاً بیوہ خواتین اور دیگر مستحق افراد شامل ہوتے ہیں۔
اسی طرح میڈیکل کی مد میں بھی ضرورت مند افراد کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے فی الحال کوئی مستقل اور علیحدہ نظم قائم نہیں ہے۔
رفاہِ عامہ کے تحت بعض ہنگامی یا حادثاتی حالات میں بھی متاثرہ افراد کی مدد کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ سیلاب کے دوران سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر کے سلسلے میں تعاون کیا گیا۔
بعض اوقات ایسے علاقوں سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے جہاں پانی کے کنویں یا پانی کا مناسب نظام موجود نہیں ہوتا۔ ایسے مواقع پر ضرورت کے مطابق پمپ کی کھدائی کے اخراجات میں بھی تعاون کیا جاتا ہے، تاہم اس کے لیے بھی کوئی مستقل اور علیحدہ نظام موجود نہیں ہے۔
اس کے علاوہ فلسطین میں بھی ماہانہ بنیاد پر تقریباً سات لاکھ روپے ارسال کیے جاتے ہیں۔ یہ رقم صرف کھانے کی ضروریات کے لیے نہیں بلکہ وہاں قائم 10 مکاتب کے لیے بھی خرچ کی جاتی ہے، جہاں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اس رقم سے اساتذہ کے وظائف اور طلبہ کے لیے روزانہ کی ضروریات کا سامان فراہم کیا جاتا ہے۔
تعلیم بالغان
نصاب
تفسیر قرآن اور حدیث شریف کا کورس ہوتا ہے
دوارانیہ
ہفتہ میں تین دن
روزانہ کی بنیاد پر ہمارے یہاں اصلاحی مجلس منعقد کی جاتی ہے
تقریری
درس نظامی
عمومی شرائط
تخصصات
تخصص فی الافتاء
تخصص فی الحدیث
تخصص فی الغۃ العربیۃ
تخصص فی القراء ا ت
کلیۃ الدعوۃ
انگلش لینگویج کورس
تجوید للعلماء
حفاظ عربک کی داخلہ شرائط
داخلہ کا طریقہٴ کار
تعلیمی اہداف
انفرادی اہداف
کمزوریوں کی نشاندہی
مشکل مقامات کی نشاندہی
جی ہمارے اساتذہ اس کا اہتمام کرتے ہیں
نوٹس
مشق
عملی نگرانی
روزانہ جائزہ
سبق سننا
جی روزانہ سبق سنا جاتا ہے
ممتازمرتفع ٪۹۰
جیدجدا ٪۶۰
جید ٪۵۰
نمایاں طلبہ
کمزور طلباء کی مدد میں لگانا
اضافی مطالعہ
تحقیق
نصاب بہتری
سالانہ جائزہ
اصلاحات
درجات
شعبہ جات
کتب
نصابی
حوالہ جاتی
تعلیمی معاونت
ڈیجیٹل مواد
LMS
خطاب
تحقیق
حوالہ نویسی
مقالہ نویسی
جی مقالہ لکھوایا جاتا ہے
افتاء و استنباط
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
طے شدہ مقصود کے تحت اپنی ،معاونین اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اپنی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کو کسی ماہر / بڑے سے سیکھنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور پر اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
اللہ کے فضل سے مجلسِ شوریٰ کے اراکین اور ادارے کا دیگر عملہ بھی اہلِ علم سے استفادہ کرنے کا اہتمام کرتا ہے، اور اس پر عملی طور پر بھی کاربند ہے۔
برائے اساتذہ
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے اساتذہ اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ذات کی حد تک ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں مقصود کے تحت ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے طلباء
مقصود تک پہنچنے کے لیے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہوتاکہ وہ تربیت کے نظم کو بیکار روک ٹوک یا بوجھ نہ سمجھیں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کا تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے والدین
اللہ کے فضل سے والدین کی ظاہری اور باطنی تربیت کے لیے بھی باقاعدہ نظم موجود ہے۔
سال میں ایک مرتبہ خصوصی تربیتی نشست منعقد کی جاتی ہے۔
دو مرتبہ سہ ماہی امتحانات اور سالانہ امتحان کے نتائج کے موقع پر والدین سے تربیتی گفتگو کی جاتی ہے۔
والدین کے مطالعہ کے لیے ایک تربیتی نصاب بھی متعین ہے، اگرچہ فی الحال وہ مطلوبہ حد تک فعال نہیں۔
والدات کے لیے ہفتہ وار کورس جاری ہے۔
والد حضرات کے لیے بھی ایک مستقل کورس موجود ہے۔
جو بچوں کے بہن بھائی اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں، ان کے لیے بھی ہفتہ وار ویک اینڈ کورس کا انتظام کیا گیا ہے۔
اس تمام نظام کا مقصد یہ ہے کہ اگر خاندان کا ایک بچہ مدرسہ سے وابستہ ہو تو اس کا پورا خاندان بھی اس تربیتی ماحول سے جڑے اور اس تربیت سے استفادہ کرے۔
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
ظاہری تربیت کی اہمیت وفوائد بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
اس بات کوماہرین سے سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے کے قابل ہو
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
اپنی ،معاونین اور طلباء کی باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی ،اساتذہ ، دیگر عملہ اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور سے متعلق اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
برائے اساتذہ
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے طلباء
باطنی تربیت کے قائل ہوں
کے دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کا قائل ہوں
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کے تعاون کرنے کے قابل ہو
باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
والدین اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں باطنی تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مکتب چیک لسٹ
خواب،نظریات،اہداف
خواب
مکتب کے قیام کا مقصد
نظریہ
نظریہ کس کو کہتے ہیں
مکتب کا نظریہ
نظریے کی مزید وضاحت
خلیفہ سے مراد
جو اللہ تعالیٰ کے نظام کو اپنی زندگی اور پوری دنیا میں نافذ کرنے کے لیے کوشاں ہو۔
علوم و صفات سے مراد
علوم سے مراد
خلیفہ کو علم ہدایت اور علم الاشیاء دونوں کی ضرورت ہے
علم ہدایت وحی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے
علم الاشیاء مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوتا ہے
علم ہدایت ہی علم یقینی اور حقیقی علم ہے
علم الاشیاء ثانوی حیثیت رکھتا ہے
علم الاشیاء اگر علم ہدایت کے تابع او ر معاون ہو تو اس کا حصول فرض کفایہ ہے وگرنہ حرام ہے
صفات سے مراد
وہ صفات ہیں جو اللہ تعالیٰ کو انسان کے اندر مطلوب ہیں
صفات کا تعلق انسان کے باطن کے ساتھ ہے
باطنی صفات کے حصول کے لیے علیحدہ تربیت درکار ہے
خلیفہ کو تعلیم اور تربیت دونوں کی ضرورت ہے
اسلامی اسلوب سے مراد
ایسا تعلیمی نظام جو کلیتاً کفار کے تاثر سے پاک ہو
قرآن وحدیث کی روشنی میں وضع کیا گیا ہو
اللہ تعالیٰ کی رضا سے مراد
تعلیم و تعلم محض اللہ ہی کو راضی کرنے کے لیے ہو
منتقل کرنے سے مراد
اس تعلیم سے عمل وجود میں آئے، فقط علم میں اضافہ مقصود نہ ہو۔
خلاصہ کلام
مکتب میں تعلیم و تربیت دونوں قرآن و حدیث سے ماخوذ طریقے پر ہو
مسلمان بچے کی تعلیم مکتب، تعلیم، تربیت اور تفکر پر مشتمل ہونی چاہیے
مکتب کے لوگو کی وضاحت
مکتب کے لوگو کے نقاط انسان کو خلافت کی صفات سے متصف کرنے کے لیے ہیں
مکتب کی روح
روحِ مکتب سے مراد وہ اعمال ہیں جو نظام کو درست چلانے کے لیے لازمی ہیں
روح مکتب میں پہلی چیزاخلاص ضروری ہے
ملاوٹ والا عمل توجہ سے محروم رہ کر آخرت میں بیکار ہو جاتا ہے
بے اخلاص عمل سے دوسروں کو بھی حقیقی فائدہ نہیں پہنچتا
اخلاص پیدا کرنے کے لیے تین چیزیں ( مضبوط نظریہ، مضبوط مشورہ اور مضبوط دعا) بنیادی ہیں
مضبوط نظریہ دین کے تقاضوں پر مبنی، اتفاقِ رائے سے طے اور قابلِ عمل ہو
مضبوط مشورہ اللہ کا حکم سمجھ کر، امانت سے اور اطاعت کی نیت سے ہو
مضبوط دعا ہر کام سے پہلے، قبولیت کے یقین اور رضائے الٰہی کی نیت سے ہو
نظریہ، مشورہ اور دعا تینوں اخلاص کے حصول میں معاون ہیں
مشورے کی اطاعت اور مسلسل دعا سے اخلاص پر استقامت رہتی ہے
کسی کا اخلاص متزلزل ہو تو یاد دہانی، دعا اور حسنِ ظن سے کام لیا جائے
مضبوط نظریہ، مشورہ اور دعا دیگر صفات کے حصول کا بھی ذریعہ ہیں
روحِ مکتب میں دوسری چیز عمل ضروری ہے
عمل کی درستی کے لیے تین چیزیں( یقین، علم اور ماحول) ضروری ہیں
یقین سے مراد توحید، رسالت اور آخرت کا یقین ہے
علم سے مرادعلم شریعت اور علم طریقت دو نوں ہیں
علم شریعت کے لیے روزانہ مطالعہ اور کتب کا انتخاب پوچھ کر کیا جائے
علم طریقت کسی اہل اللہ سے اصلاحی تعلق اور ذکر اللہ کے اہتمام سے حاصل ہو
ماحول سے مراد ایسے ماحول کا اہتمام ہے کہ انسان میں اللہ تعالیٰ کے تعلق اور دین میں کامیابی کا یقین ترقی کرے
اچھا ماحول یقین و عمل کی بہتری اور برا ماحول خرابی کا ذریعہ بنتا ہے
روح مکتب میں تیسری چیز حفاظت ِعمل و اخلاص ہے
عمل کی حفاظت کے لیے تین چیزیں (حرام، بدخلقی اور دنیا کی محبت )سے پرہیز ضروری ہے
حرام کمائی سے دل مردہ اور عقل ماؤف ہو جاتی ہے، اس سے بچنا ضروری ہے
بدخلقی اعمال کو ضائع کرتی ہے، اساتذہ خوش خلقی کی مشق کریں
دنیا کی محبت حبِ مال اور حبِ جاہ دو صورتوں میں ہر خطا کی جڑ ہے
دنیا کی محبت اخلاص، علم، اخلاق اور عمل سب کو بگاڑ دیتی ہے
مکتب کے اہداف
ایسی نسل کی تیاری ہے جس کو بچپن سے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی ڈھالنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
ایسی نسل جو باطل کے نظریات سے متاثر نہ ہو اور ان کے خلاف شریعت کا اثر غالب ہو۔
ایسی نسل کی تیاری جو آخرت کو ترجیح دے اور دین کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہو۔
ایسا تعلیمی نظام جو قرآن و سنت سے لیا گیا ہو۔
عصری علوم کو دین کا خادم اور ثانوی درجے پر رکھتے ہوئے دینی علوم کو اصل درجے پر رکھنا۔
نظم ونسق سے متعلق
مجلس شوریٰ کے متعلق
شوریٰ کی اہلیت
اساس مکتب
مکتب کا مقصد
شوریٰ کی ذمہ داریاں
اراکین شوریٰ آئین مکتب کو پڑھ کر اس کی پابندی کریں گے
اراکین شوریٰ بلامعاوضہ مکتب کی خدمات سرانجام دینگے
اراکین شوریٰ کےذریعہ معاش کا حلال ہونا ضروری ہے
اراکین شوریٰ کی وضع قطع سنت کے مطابق ہو
مجلس شوریٰ کا بنیادی اصول
شوریٰ کا امیر مشورے سے منتخب کیا جائے گا۔
شوریٰ کی اکثریت معقول شرعی عذ ر کی وجہ سے امیر تبدیل کرسکتی ہے
امیر تبدیل کرنے کی چند وجوہات
امیر کی وجہ سے مکتب کے نظریے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو جائے۔
امیر اپنے آپ کو مشورے سے آزاد سمجھ لے۔
امیر مکتب میں شرعی تقاضوں کو پورا نہ کر سکے۔
شکایات کی صورت میں شوریٰ امیر کو آگاہ کر کے کم از کم تین بار اصلاح کا موقع دے چکی ہو۔
امیر کسی بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے امارت کی ذمہ داری اٹھانے کا اہل نہ رہا ہو۔
امیر کی تبدیلی اور نئے امیر کی تقرری کے لیے شوریٰ کے تمام ارکان کا متفق ہونا ضروری ہے۔
ہر امیر جو بھی امور طے کرے گا، ان کا اسلامی اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہوگا۔
شریعت سے متعلق تنازعے کی صورت میں دارالعلوم کراچی سے تحریری فتویٰ لیا جائے۔
شوریٰ ٹیم ہر تین ماہ میں ایک دفعہ اکٹھے ہو کر مشورہ کرنے کا اہتمام کرے۔
آئینِ مکتب کے اصولوں میں تبدیلی تمام ارکان کے اتفاق سے ہوگی۔
کسی فوری ضروری مسئلے پر امیر کم از کم دو ارکان سے فون پر مشورہ لے۔
شوریٰ ٹیم کے ارکان دعاؤں کا اہتمام کریں اور اللہ تعالیٰ ہی سے مکتب کے درست سمت میں چلنے کا فیصلہ کروائیں۔
کسی بیرونی یا اندرونی دباؤ سے متاثر ہو کر مکتب کی اساس کمزور کرنے والی پالیسی اختیار نہیں کی جائے گی۔
اساتذہ کو بھی دینی تربیت اور یاد دہانی کے لیے کبھی کبھی مشورے میں شریک کیا جائے۔
امیر کے ذمے انتظامی امور سنبھالنا نہیں، اس کے لیے علیحدہ فرد مقرر کیا جائے۔
شوریٰ کے ارکان مشوروں میں شرکت کے اخراجات خود برداشت کریں گے، مکتب کوئی ادائیگی نہیں کرے گا۔
شوریٰ میں رکن کو شامل یا خارج کرنے کے لیے تمام مستقل ارکان کا موجود ہونا ضروری ہے۔
سمجھ دار معاون افراد کو شوریٰ کا رکن بنے بغیر بھی مشورے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
شوریٰ کے ارکان امیر کی اطاعت کے شرعی تقاضوں کو پہچانیں اور جائز امور میں اطاعت کو ضروری جانیں۔
شوریٰ بچوں کے والدین کے ساتھ بھی دینی نسبت سے تعلق قائم کرے تاکہ انہیں مکتب کی محنت میں شریک کیا جا سکے۔
شوریٰ کے ارکان مکتب کے لیے عطیہ قبول کرنے میں طے شدہ قواعد و ضوابط کا اہتمام کریں۔
اساتذہ کی دینی تربیت کے لیے ہفتہ وار بیان کے علاوہ وقتاً فوقتاً ندا کا بھی انتظام کیا جائے۔
شوریٰ کے ارکان مکتب سے تعلیمی اور تربیتی نظام کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں۔
مکتب کے مستقل ارکان
مطہر شفیق پساری
وسیم یاسین شیخ
اعجاز عثمان
قیس تنویر
مشرف مامون
منتظمین کے متعلق
ناظم حفظ کی ذمہ داریاں
روزانہ چیک کرنے والے کام
صبح بچے وقت پر ائے ہیں لیٹ انے والے بچوں سے مذاکرہ اور مناسب تنبیہ کی جائے ۔
مقررہ وقت میں تاخیر سے سبق سنانے والے بچوں کو معلم صاحب نگران کے پاس بھیجیں۔
مقررہ مقدار سے کم منزل سنانے والے بچوں کو معلم صاحب نگران کے پاس بھیجیں۔
بچے مقررہ وقت میں منزل سنائیں۔
مطالعہ کے وقت میں بچے توجہ سے سبق یاد کریں اور باتوں میں وقت ضائع نہ کریں۔
وقفہ کے دوران معلم صاحب نگرانی صحیح طریقے سے کریں۔
وقفہ کے دوران عملی مشق کا اہتمام کیا جائے۔
جو طالب علم آپس میں منزل سنا چکے ہوں ان کو بلا کر جائزہ لیں کہ آیا انہوں نے درست سنی سنائی۔
سب بچوں کی ڈائری اہتمام سے لکھی جا رہی ہو۔
خاص بچوں کی روزانہ کی کارگزاری لے کر کمی پر تنبیہ کی جائے،ترغیب دی جائے، اور وقت پڑنے پر والد صاحب کو کال کی جائے۔
وقتا فوقتا باہر چکر لگا کر دیکھا جائے کہ بچے باہر وقت ضائع نہ کر رہے ہوں۔
نظر رکھی جائے کہ بچے آپس میں مناسب فاصلہ سے بیٹھے مل جل کر نہ بیٹھیں۔
ہفتہ وار ذمہ داریاں
15 روزہ رپورٹ لکھوانا اور چیک کرنا۔
ماہانہ ذمہ داریاں
ماہانہ رپورٹ لکھوانا
سہ ہی امتحان کا انتظام کرنا
اساتذہ سے متعلق دائرہ اختیار
جب کوئی استاذ صاحب مقررہ اصولوں کے خلاف کوئی کام کریں مثلا حد سے زیادہ سزا دے دیں تو استاذ صاحب کو متنبہ کرنا۔
اگر کسی استاذ صاحب کو کچھ وقت کیلئے ایمرجنسی کہیں جانا ہو تو ان کو اجازت دینا۔
اگر کسی معلم صاحب کے کسی خاص عمل سے متعلق یہ احساس ہو کہ اس کا بچوں پر اچھا اثر نہیں ہوگا تو اس سے متعلق مذاکرہ کرنا۔
طلباء سے متعلق دائرہ اختیار
بچوں کی جماعت تبدیل کرنا۔کسی خاص وجہ سے
بچوں کی منزل کمزور ہو تو سبق بند کرنا۔کچھ دن کیلئے
کسی بچہ کی شکایت کیلئے اس کے والد صاحب سے رابطہ کرنا اور ان کو ملاقات کیلئے بلانا
وقتی ضرورت کی وجہ سےکسی بچہ کی منزل سبق وغیرہ کا نظم تبدیل کرنا۔
کسی بچہ کو طبیعت کی خرابی کی وجہ سے چھٹی دینا۔اس کے گھر اطلاع کرنا وغیرہ
انتظامی امور مکتب کی طرف سے ہی متعین ہوتے ہیں۔
ناظم مالیات
مکتب کے مالی معاملات کے لیے ہدایات
ناظم مالیات
مکتب کی بنیاد ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر ہوگی۔
مکتب کا مقصد دین کی حفاظت اور اشاعت سنت کے مطابق کرنا ہے، اپنا شوق پورا کرنا نہیں۔
پیسے مہیا نہ ہو سکیں تو مکتب بند کر دیا جائے، لیکن غلط مال کا استعمال نہ کیا جائے۔
صحیح یقین اور صحیح نیت کے ساتھ محنت کی جائے تو ہر مشکل میں راستہ نکل آئے گا۔
شرط یہ ہے کہ اصولوں پر سمجھوتہ نہ ہو اور ہر پریشانی کا حل اللہ تعالیٰ سے طلب کیا جائے۔
مکتب شروع کرنے سے پہلے سال بھر کے خرچ کا حساب لگا لیا جائے۔
صحابہ کے عمل کی طرح ایک سال کے اخراجات کے لیے مال رکھنے کے بارے میں سوچ لیا جائے۔
ابتدا میں یہ خیال نہ کریں کہ زیادہ بچے آئیں گے اور ان سے خرچ کی صورت ہو جائے گی۔
اس ایک سال کے خرچ کا انتظام مکتب کی شوریٰ کے ساتھیوں میں سے ہی ہونا چاہیے۔
مکتب کی عمارت اور انتظام سادہ رکھیں اور نئی تعمیر کے بجائے کرائے کی جگہ پر مکتب چلائیں۔
نئی تعمیر کرنی پڑے تو حتی الامکان سادہ تعمیر کی جائے، بے ضرورت خرچ ناپسندیدہ ہے۔
فیس نہ دے سکنے والے بچے کو داخل کر لیا جائے، والدین کو دعا کی ترغیب دی جائے، فیس معاف نہ کی جائے۔
معتبر اور حلال کمائی والا شخص عطیہ دینا چاہے تو مشورے سے قبول کیا جائے۔
عطیہ دینے والے کو بتا دیا جائے کہ مکتب صرف ہدیہ لیتا ہے، دخل اندازی کی اجازت نہ ہوگی۔
شوریٰ اور دیگر افراد کے خرچ کردہ اموال امیر مکتب کے لیے ہدیہ ہوں گے، کسی کا مکتب پر دعویٰ نہ ہوگا۔
مجبوری میں قرض لینا پڑے تو تحریری معاہدہ کر کے لیا جائے۔
مکتب میں نفع ہو تو یہ بھی مکتب کے نام پر ہوگا، شوریٰ کا کوئی رکن اس میں حصہ دار نہ ہوگا۔
شوریٰ کے ارکان شوریٰ کے کاموں پر معاوضہ نہیں لیں گے، البتہ مستقل ذمہ داری پر وظیفہ مقرر ہو سکتا ہے۔
نگران معلم / معلمات
نگران معلم / معلمات کی ذمہ داریاں
نگران کا کام امیر کی نیابت ہے، لہٰذا اس کی نظر تمام معاملات پر ہونی چاہیے۔
تمام مسئولین کے کاموں کی نگرانی کہ ہدایات کے مطابق ہوں اور ماہانہ رپورٹ جمع کروائیں۔
مسئولین کو ان کے کام کی رکاوٹ میں معاونت کرنا۔
نئے آنے والے اساتذہ کو مکتب کے ماحول میں جذب کرنا۔
اساتذہ کا وقت پر اسباق لینا اور ہدایات کے مطابق کام کرنا یقینی بنانا۔
جہاں اساتذہ یا مسئولین میں کمی پائیں وہاں یاد دہانی کروانا۔
ایسے امور جو قابو سے باہر ہو رہے ہوں ان کی شکایات امیر کو پہنچانا۔
نگران جماعت
جماعت نگران کی ذمہ داریاں
روزانہ کی بنیاد پر مندرجہ ذیل چیک کریں:
جماعت نگران کی ذمہ داریاں
حاضری رجسٹر
جماعت نگران کی ذمہ داریاں
بچوں کی صحت
غیر حاضری کی وجہ
کلاس ڈسپلن
تمام کتب کے ہوم ورک کا زبانی پوچھنا
بچوں کو سٹیشنری دینا اور اس کا حساب رکھنا
مشکل بچوں کے بارے میں اساتذہ کی رہنمائی کرنا
بچوں کے والدین سے ملاقات کرنا
نماز حاضری کے بارے میں فکر مند کرنا
ہفتہ وار تربیتی موضوع کے متعلق اساتذہ کو یاد دہانی کروانا
گم شدہ اشیا بچوں تک پہنچانا
ہفتہ وار چیک کریں:
بچوں کی تمام کتب کی عمومی حالت
بال اور ناخن
دانتوں کی صفائی
لکھائی
کسی بھی دو بچوں سے حال احوال لینا
کلاس روم کا کارپٹ
بچوں کی ڈائریاں
کھانے اور کھیل کے دوران نگران مقرر کرنا
بچوں کی تربیت سے متعلق اساتذہ کو فکر مند کرنا اور مشورہ کرنا
خاص بچوں کے متعلق امیر مکتب کو اطلاع کرنا اور مشورہ کرنا
بچوں کی ماہانہ رپورٹ بنانا
کاپیاں ری چیکنگ کے لیے بھیجنا
کمرہ جماعت کی گھڑی کا وقت درست رکھنا
نگران مضمون
نگران مضمون کی ذمہ داریاں
اپنے مضمون سے متعلق تمام نصابی کتابوں کا مطالعہ اور مواد کا تجزیہ کرنا۔
کتابوں کے غیر مناسب مواد کی نشاندہی اور درستی کے متعلق مشورہ کرنا۔
مضمون پڑھانے والے اساتذہ سے مشورہ کر کے طریقہ تعلیم یکساں بنانا۔
نئے آنے والے اساتذہ کے ساتھ مذاکرہ اور تعاون کرنا۔
کبھی کبھی بچوں کی کاپیاں چیک کرنا اور غلطیوں کی طرف اساتذہ کو متوجہ کرنا۔
بچوں کی مجموعی کارکردگی کے متعلق ماہانہ رپورٹ منتظم کو جمع کروانا۔
دوسرے اساتذہ کو پیش آنے والی مشکلات میں ان کے ساتھ تعاون کرنا۔
سالانہ اسباق کی تقسیم کے مطابق تمام جماعتوں میں نصاب کی تکمیل کی ترتیب بنانا۔
نگران بریک
نگران بریک / وقفہ کی ذمہ داریاں
بچوں کو کھانا کھانے کا سنت طریقہ بتلانا۔
بچوں کے ہاتھ دھلوانے کی نگرانی کرنا۔
بچوں کے لنچ باکس کی صفائی وغیرہ چیک کرنا۔
غیر معیاری چیزیں کھانے سے منع کرنا۔
دستر خوان بچھانے اور اکٹھا کرنے کا طریقہ سکھانا۔
کھانا اطمینان سے کھانے کی ترغیب دینا۔
برتن کو اچھی طرح صاف کرنے کی ترغیب دینا۔
بچے ایک دوسرے کا کھانا دیکھ کر لالچی نہ ہوں اور نہ آپس میں تقسیم کریں۔
کھانے کے پیریڈ کو تربیت کا حصہ سمجھنا۔
کھانا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اس کا بچوں کے ساتھ مذاکرہ کرنا۔
دعاؤں کا اہتمام کرنا۔
دسترخوان کی صفائی روزانہ باری باری بچوں سے کروانا۔
نگران کھیل
نگران کھیل کی ذمہ داریاں
ڈیوٹی والے اساتذہ کو بچوں کی نگرانی اور ساتھ کھیلنے کی ترغیب دینا۔
بچوں کے کھیل کے نئے طریقے سوچنا اور اساتذہ سے مذاکرہ کرنا۔
ہفتے میں دو دن پی ٹی کا انتظام کرنا۔
کھیل کے لیے اگر کچھ چیزیں مثلاً بال، بلا وغیرہ درکار ہوں تو ان کا انتظام کرنا۔
بچوں کو کھیلنا سکھانے کے طریقوں میں اساتذہ کی معاونت کرنا۔
نگران نماز
نگران نماز کی ذمہ داریاں
روزانہ جماعتوں میں نماز چارٹ چیک کر کے تمام بچوں کی حاضری یقینی بنانا۔
ماہانہ بچوں کی نماز کی کیفیت کی رپورٹ امیر مکتب کو جمع کروانا۔
بچوں کی نماز کی کیفیت کی نگرانی کرنا۔
جن بچوں کی نماز میں کمی نظر آئے ان کو صحیح نماز کی ترغیب دینا۔
بچوں کی نماز کے بارے میں والدین کو فکر مند کرنا۔
نگران تربیت
نگران تربیت کی ذمہ داریاں
ہر جماعت کی مجموعی تربیت پر نظر رکھ کر مسئول جماعت کو فکر مند کرنا۔
ہفتہ وار تربیتی موضوعات کی افادیت چیک کرنا۔
تربیت کو بہتر بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرنا۔
جمعرات کے مذاکروں کو اجمالی طور پر دیکھ کر رائے دینا۔
کسی خاص موضوع کی ضرورت پر مذاکرہ کرنے والے اساتذہ کو رائے دینا۔
جمعرات کے مذاکروں کی پیشگی فہرست بنا کر دینا۔
نئے آنے والے اساتذہ کو مکتب کے اصول و ضوابط سے آگاہ کرنا۔
والدین سے ملاقات کر کے تربیت کے متعلق رائے دینا۔
مشکل بچوں سے علیحدگی میں مذاکرہ کر کے ہفتہ وار رپورٹ امیر کو دینا۔
مشکل بچوں کی خود نظر رکھنا اور اساتذہ سے ان کی کارگزاری لینا۔
نگران امتحانات
نگران امتحانات کی ذمہ داریاں
امتحانات کا نظام الاوقات بنانا اور تاریخ طے کر کے اساتذہ کو اطلاع کرنا۔
ڈیٹ شیٹ اساتذہ اور بچوں میں تقسیم کرنا۔
پرچے تیار کروانے کے لیے اساتذہ کی ذمہ داریاں لگانا۔
پیپر پیٹرن کو امیر مکتب سے چیک کروانا اور اساتذہ کو بتانا۔
پرچے بننے پر انہیں چیک کرنا۔
پرچے لینے کے لیے اساتذہ کی ذمہ داریاں لگانا۔
پرچے فوٹو اسٹیٹ کروانا۔
پرچوں کی جانچ کرنے کے لیے اساتذہ کی ذمہ داریاں لگانا۔
پرچوں کی پڑتال کروانے کے لیے اساتذہ کی ذمہ داریاں لگانا۔
اساتذہ کو متوازن پرچے بنانے کی ترغیب دینا۔
نتائج کو جمع کرنا۔
نتیجہ کی تیاری میں اساتذہ کی ذمہ داری لگانا۔
تمام پیپرز کو ترتیب سے ریکارڈ میں رکھنا۔
سابقہ رزلٹ کارڈ کی فائل کو سنبھال کر رکھنا۔
اساتذہ سے تجاویز برائے امتحانات اور پیپرز لینا۔
نگران طبی امداد
نگران طبی امدادی ذمہ داریاں
طبی امداد کے بکس کو ہر ہفتے چیک کرنا۔
تمام ضروری سامان کو ہر وقت پورا رکھنا۔
ہر ماہ تمام ادویات کی ایکسپائری ڈیٹ چیک کرنا۔
بچے کو وقت پر طبی امداد دینا۔
اگر مسئلہ زیادہ ہو تو فوراً بچے کو نزدیکی ڈاکٹر یا ہسپتال بھجوانا۔
ریسکیو 1122 کی مدد لینا۔
نزدیکی ڈاکٹر اور ہسپتال کا ٹیلی فون نمبر موجود ہونا۔
طبی امداد کے جدید طریقوں کو سیکھنا۔
اگر چوٹ یا بیماری سمجھ میں نہ آئے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا۔
بچے کو حوصلہ دینا۔
والدین کو اطلاع کرنا اگر چوٹ شدید ہو۔
ضرورت کے مطابق بچے کو وقفے سے چیک کرنا۔
دورانِ طبی امداد بچے سے بات چیت کر کے اس کی توجہ زخم سے ہٹانا اور حوصلہ بڑھانا۔
مندرجہ ذیل ادویات اور اشیاء طبی بکس میں ہونی چاہئیں۔
طبی بکس میں سٹکنگ پلاسٹر دو درجن ہونی چاہیے۔
طبی بکس میں روئی کا ایک پیکٹ ہونا چاہیے۔
طبی بکس میں درمیانہ سائز کی زخم پٹی کے 10 پیکٹ ہونے چاہئیں۔
طبی بکس میں سمال سائز کی زخم پٹی کے 06 پیکٹ ہونے چاہئیں۔
گرم پٹی — 1 عدد
طبی بکس میں پایوڈین کی ایک بوتل (60 ایم ایل) ہونی چاہیے۔
پولی فیکس — ایک ٹیوب
طبی بکس میں جلنے کی کریم کی ایک ٹیوب ہونی چاہیے۔
طبی بکس میں ایک سمال قینچی ہونی چاہیے۔
تھرمامیٹر — ایک عدد
طبی بکس میں دو سفید شلواریں ہونی چاہئیں۔
معاون معلمات
معاون معلمات کی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
معاون معلمات کی ذمہ داریاں
پڑھانے کا طریقہ سیکھنا۔
تربیت کا طریقہ سیکھنا۔
جماعت کے نظم و ضبط کا خیال رکھنا۔
بچوں کو بورڈ کی طرف متوجہ کرنا۔
بچوں کا سبق سننے میں معاونت کرنا۔
بچوں کو کام لکھوانے میں معاونت کرنا۔
کتابیں اور کاپیاں چیک کرنے میں معاونت کرنا۔
کاپیاں تیار کرنے میں معاونت کرنا۔
ڈائریاں لکھنے میں معاونت کرنا۔
نگران کتب خانہ
نگرانِ کتب خانہ کی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
نگران کتب خانہ
کتب کا ماہانہ اسٹاک چیک کرنا۔
کتب خانہ رجسٹر چیک کرنا۔
کوئی نئی کتاب تجویز کرنا۔
تجویز شدہ کتب خریدنا۔
کتب خانہ کی ترتیب دیکھنا۔
واپسی والی کتب کا ریکارڈ چیک کرنا۔
پرانی کتب کو مرمت کروانا۔
کتب کو نمی اور دیمک سے بچانے کا انتظام کرنا۔
کتب کو عنوان کے حساب سے الگ الگ رکھنا۔
اپنی چھٹی کے دوران کسی دوسرے استاد کو ذمہ داری لگانا۔
دوسرے اساتذہ کو کتب پڑھنے کی ترغیب دینا۔
ہر تین ماہ بعد امیر مکتب کو کتب خانے کی رپورٹ پیش کرنا۔
نگران صفائی ستھرائی
نگرانِ صفائی ستھرائی کی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
نگران صفائی ستھرائی کی ذمہ داریاں
مرد حضرات کے لیے روزانہ کی چیک لسٹ یہ ہے۔
برائے مرد حضرات (روزانہ)
نگران صفائی ستھرائی
ذیل اشیاء روزانہ چیک کی جائیں گی۔
مکتب کے باہر پارکنگ ایریا روزانہ چیک کیا جائے گا۔
پارکنگ ایریا میں پانی کا چھڑکاؤ روزانہ چیک کیا جائے گا۔
چمن / گراؤنڈ
بچوں کا وضو خانہ
وضو خانے والے پانی کے ڈرم کی اندر سے صفائی چیک کی جائے گی۔
جھولے
باتھ رومز کی صفائی اور جوتے، صابن، تولیہ وغیرہ کا انتظام چیک کیا جائے گا۔
دفتر اور دفتر کے فرنیچر کی صفائی چیک کی جائے گی۔
کلاس روم تمام
جنیٹر اور مکتب کے کچرے کی صفائی چیک کی جائے گی۔
موٹر سائیکل پارکنگ ایریا روزانہ چیک کیا جائے گا۔
سٹاف روم
راستے کا تمام ایریا
مرد حضرات کے لیے ہفتہ وار چیک لسٹ یہ ہے۔
برائے مرد حضرات (ہفتہ وار)
سٹور اور ملحقہ کمرے
چھت کے پنکھے اور جالے ہفتہ وار چیک کیے جائیں گے۔
گیراج
دیواروں کو جھاڑنا
ویکیوم کلینر سے تمام قالینوں کی صفائی ہفتہ وار کی جائے گی۔
صفائی کے لیے جھاڑو، سرف، فنائل وغیرہ کا سامان مہیا رکھا جائے۔
خواتین والے سیکشن کی روزانہ چیک لسٹ یہ ہے۔
خواتین والا سیکشن (روزانہ)
کلاس روم (تمام)
باتھ رومز کی صفائی اور جوتے، صابن، تولیہ وغیرہ کا انتظام چیک کیا جائے گا۔
سٹاف روم
لان اور جھولے
بچوں کا وضو خانہ
سٹاف روم اور کھانے کا کمرہ روزانہ چیک کیا جائے گا۔
خواتین والے سیکشن کی ہفتہ وار چیک لسٹ یہ ہے۔
خواتین والا سیکشن (ہفتہ وار)
چھت کے پنکھے اور جالے ہفتہ وار چیک کیے جائیں گے۔
دیواروں کو جھاڑنا
ویکیوم کلینر سے تمام قالینوں کی صفائی ہفتہ وار کی جائے گی۔
صفائی کے لیے جھاڑو، سرف، فنائل وغیرہ کا سامان مہیا رکھا جائے۔
نگران تعمیر و مرمت
نگرانِ تعمیر و مرمت کی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
نگران تعمیر و مرمت کی ذمہ داریاں
مکتب کی اشیا کا بغور جائزہ لے کر خرابی کا فوری مداوا کرنا۔
ہفتے میں ایک بار پورے مکتب کا جائزہ لے کر خراب اشیا کی فہرست امیر کو جمع کروانا۔
قابلِ مرمت اشیا کو امیر مکتب کے مشورے سے مرمت کروانا۔
کسی نئی چیز کی ضرورت پر امیر مکتب کو لکھ کر اطلاع کرنا۔
نگران حاضری رجسٹر
نگرانِ حاضری رجسٹر کی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
نگران حاضری رجسٹر کی ذمہ داریاں
روزانہ حاضری رجسٹر چیک کر کے تمام اساتذہ کی حاضری یقینی بنانا۔
غیر حاضر اساتذہ کی درخواست کا ریکارڈ رکھنا اور متبادل اساتذہ کی ترتیب بتانا۔
دیر سے آنے والے اساتذہ کا ریکارڈ رکھنا۔
جلد جانے یا آدھی چھٹی لینے والے اساتذہ کا وقت نوٹ کرنا۔
ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ماہانہ حاضری رپورٹ بنا کر امیر کو جمع کروانا۔
ہر ماہ حاضری رجسٹر پر امیر مکتب کے دستخط کروانا۔
نگران تزئین و آرائش
نگرانِ تزئین و آرائش کی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
نگران تزئین و آرائش کی ذمہ داریاں
آرائش کے لیے لگائے گئے چارٹس کی دیکھ بھال اور خرابی سے حفاظت کرنا۔
کمروں کی آرائش کے لیے ضرورت پر امیر مکتب کے مشورے سے انتظام کرنا۔
نگران گم شدہ اشیا
نگرانِ گم شدہ اشیا کی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
نگران گم شدہ اشیا کی ذمہ داریاں
دھیان رکھنا کہ کوئی چیز غلط جگہ پر نہ پڑی ہو۔
لاوارث چیز ملے تو فوراً اپنے قبضے میں لے لینا۔
صفائی والوں کو فکر مند کرنا کہ ملنے والی چیز کے لیے مخصوص جگہ رکھی جائے۔
بچوں کو اپنی چیزوں پر نشانیاں لگانے اور حفاظت کے متعلق فکر مند کرنا۔
کمروں میں ملنے والی چیزیں مسئول جماعت کے ذریعے اور باہر سے ملنے والی خود بچوں تک پہنچانا۔
نگرانِ باہر کے عملے کی دیکھ بھال یہ ہے۔
نگران باہر کے عملے کی دیکھ بھال
نگرانِ باہر کے عملے کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
نگران باہر کے عملے کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں
باہر کے عملے کی دیکھ بھال کے نگران مندرجہ ذیل چیزیں چیک کریں۔
حاضری رجسٹر
عملے کی صحت
عملے کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروانا۔
عملے کی ذاتی صفائی ستھرائی چیک کرنا۔
عملے کا بچوں کے ساتھ رویہ چیک کرنا۔
عملے کا بچوں کے والدین کے ساتھ رویہ چیک کرنا۔
وقت کے حساب سے کام کا مکمل ہونا چیک کرنا۔
عملے کی تربیت کا انتظام کرنا۔
باہر کے عملے کی امیر مکتب کو ماہانہ رپورٹ پیش کرنا۔
عملے کو مہینے میں ایک دفعہ ذمہ داریاں یاد کروانا۔
عملے کی چھٹی کی صورت میں دوسرے آدمی کی ڈیوٹی لگانا۔
عملے کی ضرورت کی اشیاء کی خرید و فروخت دیکھنا۔
ہفتے میں ایک دن چھٹی کے وقت گیٹ پر عملے کی نگرانی کرنا۔
گیٹ پر ڈیوٹی والا آدمی بچوں کو لینے آنے والوں کو پہچانتا ہے یا نہیں چیک کرنا۔
نگران استقبال و رخصت
نگرانِ استقبال و رخصت کی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
نگران استقبال و رخصت کی ذمہ داریاں
جن اساتذہ کا پہلا پیریڈ خالی ہو ان میں سے کسی ایک کو استقبال پر مقرر کرنا۔
چھٹی کے بعد ڈیوٹی والے اساتذہ کا کمرے میں پندرہ منٹ موجود رہنا یقینی بنانا۔
دیر سے جانے والے بچوں کی ترتیب بنانا۔
چھٹی کے علاوہ باہر کا دروازہ بند رہے اور بچہ بغیر بلائے نہ نکلے، اس کا خیال رکھنا۔
اساتذہ نگرانی رپورٹ
بچے استاد کی طرف متوجہ ہیں۔
جماعت میں خاموشی ہے
کوئی بچہ سبق پڑھ رہا ہے تو دوسرے سن رہے ہیں۔
بچے آپس میں باتیں نہیں کر رہے۔
بچے اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔
بچے کسی چیز سے کھیل نہیں رہے۔
تمام بچوں نے یونیفارم پہن رکھا ہے۔
کمرہ جماعت میں کچرا نہیں پھیلا ہوا۔
جو بچے کام کر چکے ہیں وہ کسی اور کو تنگ نہیں کر رہے۔
بچے اجازت لے کر بات کر رہے ہیں۔
بورڈ پر تاریخ لکھی گئی ہے۔
بچے کاپی پر مارجن لائن لگا کر لکھ رہے ہیں۔
بچے بار بار پانی یا بیت الخلا کی اجازت نہیں لے رہے۔
استاد کا لباس صاف ستھرا اور مناسب ہے۔
معلمہ نے سکارف اوڑھا ہوا ہے۔
لباس فیشن کے مطابق نہیں ہے۔
معلمہ نے برقعہ نہیں پہنا ہوا۔
استاد موبائل کی طرف متوجہ نہیں ہیں۔
استاد پورے وقت پر جماعت میں آ گئے۔
بورڈ پر مسنون دعا لکھی ہوئی ہے۔
بچے ٹیک لگا کر نہیں بیٹھے ہوئے۔
استاد نے جماعت میں داخل ہو کر سلام کیا۔
بچوں نے ادب سے جواب دیا۔
بچوں کے سامنے صرف اسی مضمون کی کتاب اور کاپی ہے۔
بورڈ پر عنوان لکھا گیا ہے۔
استاد بچوں کو متوجہ کر کے پڑھا رہے ہیں۔
استاد تمام بچوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
استاد چلتے پھرتے پڑھا رہے ہیں۔
استاد اتنی آواز سے پڑھا رہے ہیں کہ تمام بچوں تک آواز پہنچ جائے۔
استاد سبق کو دلچسپ انداز میں پڑھا رہے ہیں۔
استاد پڑھاتے ہوئے جائزہ لے رہے ہیں کہ بچوں کو بات سمجھ آ رہی ہے۔
پڑھائی کے دوران بچوں کا لب و لہجہ درست کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جس زبان میں مضمون ہے اسی زبان کا زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
بچوں کی لکھائی درست کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بچوں کا کام اکثر ان کی جگہ پر جا کر دیکھا جا رہا ہے۔
بچوں کو بات بات پر ڈانٹا نہیں جا رہا۔
جو بات بچوں کی سمجھ میں نہ آئے اسے اچھے طریقے سے دوبارہ سمجھایا جا رہا ہے۔
بچوں کو پیار سے سمجھایا جا رہا ہے اور مارا نہیں جا رہا۔
چیخ کر پڑھانے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔
بچوں سے غیر نصابی بات کی جا رہی ہے۔
جتنا سبق پڑھا گیا اس کے آگے تاریخ لگا دی گئی ہے۔
ہوم ورک چھوٹے بورڈ پر لکھا گیا ہے۔
جو بچے ڈائری خود لکھتے ہیں ان کی ڈائری چیک کر کے سائن کر دی گئی ہے۔
تربیتی موضوع کے متعلق بات کی گئی ہے۔
اساتذہ کے متعلق
درجہ حفظ کے استاد
استاذ صاحب کی اہلیت
حافظ قرآن ہوں اور منزل یاد ہو۔
تجوید درست ہو اور تجوید کے بنیادی قواعد سے واقفیت ہو۔
تلفظ کی غلطی پکڑ سکیں۔
عالم ہوں یا کم از کم بنیادی اور ضروری دینی علم رکھتے ہوں۔
مکتب کے اصول و قواعد سے متفق ہوں۔
قرآن پاک کی تدریس کو دینی خدمت سمجھتے ہوں، صرف ذریعہ معاش نہ سمجھیں۔
تربیت کی ضرورت، اہمیت اور طریقہ کار سے کچھ نہ کچھ واقفیت ہو۔
استاذ صاحب کی تقرری کا طریقہ کار یہ ہے۔
استاذ صاحب کی تقرری کا طریقہ کار
تلاوت سنی جاتی ہے۔
انٹرویو وسیم بھائی لیتے ہیں۔
مشورہ کیا جاتا ہے۔
آزمائشی طور پر کچھ عرصہ موقع دیا جاتا ہے۔
استاذ صاحب کی تربیتی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
استاذ صاحب کی تربیتی ذمہ داریاں
بچوں کو حفظ قرآن کا شوق دلاتے رہنا۔
نماز کی نگرانی رکھنا اور نماز کی حاضری کا اہتمام کروانا۔
صفائی کا خیال رکھنا
بچوں کو آلاتِ علم اور استاذ صاحب کا ادب سکھانا۔
بچوں کو سچ بولنے کی ترغیب دینا۔
بچوں کو گفتگو کے آداب سکھانا، جیسے سچ بولنا اور گالم گلوچ سے اجتناب۔
ساتھیوں سمیت کسی مسلمان کو تکلیف پہنچانے سے روکنا۔
استاذ صاحب کی تعلیمی ذمہ داریاں یہ ہیں۔
استاذ صاحب کی تعلیمی ذمہ داریاں
سبق، سبقی اور منزل مقررہ وقت پر سننے کی کوشش کرنا۔
حفظ کے متعینہ نصاب کے مطابق حفظ کی رفتار رکھنا۔
طالب علم کی تجوید کو درست کروانا۔
طالب علم کی کسی خاص یا مستقل شکایت پر نگران کو مطلع کرنا۔
کلاس مینجمنٹ کرتے ہوئے بچوں کو پڑھائی کے دوران باتوں اور کھیلنے سے روکنا۔
پندرہ روزہ رپورٹ بنانا۔
روزانہ ڈائیری لکھنا
ماہانہ رپورٹ لکھنا
روزانہ حاضری لگانا۔
غیر حاضر بچے کی نگران کو اطلاع دینا۔
درجہ کتب کے استاد
اساتذہ کی تقرری کی شرائط یہ ہیں۔
اساتذہ کی تقرری کی شرائط
اہلیت
دیندار اور متبعِ سنت ہونا۔
کوئی خاص تعلیمی معیار مقرر نہیں، البتہ کم از کم ایف اے سے کم نہ ہو۔
اعلیٰ تعلیمی ڈگری ہونا شرط نہیں۔
کوئی خاص تعلیمی معیار مقرر نہیں، مان کر چلنے والے فرد کو ترجیح دی جاتی ہے۔
مستقل نشت کا اہتمام
نئے اساتذہ کے ساتھ مستقل نشست ہوتی رہتی ہے۔
ٹیچر ٹریننگ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ٹیچر ٹریننگ کا اہتمام
نئے استاد کو مکتب کا اپنا طرز اور انداز اختیار کرنا سکھایا جاتا ہے۔
اساتذہ کی نیت ذریعہ معاش نہ ہو بلکہ دینی خدمت ہو۔
وقت کی پابندی کرنی ہوگی، وقت میں کمی کی صورت میں کٹوتی ہوگی۔
ابتدائی دورانیہ تین مہینے کا آزمائشی ہوگا۔
آزمائشی دورانیے میں استحقاقی چھٹی نہیں ہوگی۔
تین مہینے بعد تقرری برقرار رہی تو استحقاقی چھٹی جیسی سہولیات بحال ہوں گی۔
آزمائشی مدت میں تسلی نہ ہو تو اسے مزید تین مہینے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
آزمائشی دورانیے میں اساتذہ چاہیں تو چھوڑ سکتے ہیں۔
تقرری کے بعد چھوڑنا چاہیں تو ایک مہینہ پہلے اطلاع کرنا ضروری ہے۔
مکتب کے اساتذہ کو مکتب کے طلباء کو ٹیوشن پڑھانے کی اجازت نہیں۔
اساتذہ مکتب کے اوقات میں مکتب کی ذمہ داریوں کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کریں گے۔
اساتذہ کی رخصت (چھٹی) کا طریقہ کار یہ ہے
اساتذہ کی رخصت (چھٹی) کا طریقہ کار
ایک مہینے میں پیشگی درخواست پر دو اضافی چھٹیوں کی اجازت ہے۔
یہ دو چھٹیاں کل وقتی بھی ہو سکتی ہیں اور جز وقتی بھی۔
اجازت کے بغیر چھٹی کی جائے تو وہ دو چھٹیوں میں سے کٹوتی ہوگی۔
چھٹی سے قبل اساتذہ واٹس ایپ پر اجازت لیں گے۔
بیماری کی چھٹی کی اطلاع مکتب کا وقت شروع ہونے سے پہلے دینا ہوگی۔
مکتب کی طرف سے مہینے میں پہلے ہی تین چھٹیاں آ گئیں تو مزید اضافی چھٹی نہیں ہوگی۔
چھٹی لیتے وقت متبادل استاد کی ترتیب اور اطلاع دینا ضروری ہے۔
دو چھٹیوں کے علاوہ تین چھٹیاں کر لیں تو ان دو چھٹیوں کی بھی کٹوتی ہوگی۔
مزید استحقاق محترم وسیم صاحب کی رائے پر موقوف ہوتا ہے۔
اساتذہ کے اوقات کی پابندی ضروری ہے۔
اساتذہ کی ذمہ داریاں
مکتب کے اوقات میں ذاتی کام اور موبائل کا استعمال نہ کریں۔
مکتب کے اوقات میں کوئی ذاتی کام نہ کریں۔
موبائل استعمال نہ کریں اور موبائل پر لمبی بات ہرگز نہ کریں۔
معلمات بھی کلاس میں موبائل استعمال نہ کریں۔
سمارٹ فون ساتھ نہ لائیں، اگر لے آئیں تو کلاس میں ساتھ نہ لے جائیں۔
طلباء کی بہتری کے لیے اساتذہ باہمی مذاکرہ کریں۔
اساتذہ اپنے طلباء کی بہتری کے لیے آپس میں مذاکرہ کرتے رہیں۔
طالب علم کی کمزوری کو آپس کے مذاکرے کے ذریعے بہتر کرنے کی کوشش کی جائے۔
کمی دور کرنے کے لیے مذاکرے کے ساتھ ساتھ طالب علم کے لیے دعا کا بھی اہتمام کریں۔
تعلیمی سرگرمیوں میں کوئی نیا طریقہ اختیار کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔
منتظم کی اجازت کے بغیر کوئی نیا تعلیمی یا تربیتی طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔
ماہانہ رپورٹ
معلمات کا نگران اپنی طلباء کی تعلیمی و تربیتی رپورٹ ماہانہ منتظم کو جمع کرواتا رہے۔
ہر استاد اپنی ذمہ داری کی رپورٹ تحریری طور پر ماہانہ منتظم کو جمع کروائے۔
اسراف سے اجتناب
اساتذہ خود اسراف سے بچیں اور بچوں کو بھی اشیا ضائع نہ کرنے کی تربیت دیں۔
زائد سے زیادہ چلنے والے پنکھے بند کریں۔
جماعت اور مکتب کی چیزیں، پودے اور جھولے وغیرہ خراب نہ کریں۔
کتابیں گھر بھیجنے کے مقررہ نظم کا اہتمام کرنا۔
طلباء کو صرف اتنی ہی کتابیں گھر بھیجی جائیں جتنے کا کام ہو۔
والدین کسی اور کتاب کے لینے پر اصرار کریں تو منتظم سے اجازت لے کر دی جائے۔
چھٹی کے بعد پندرہ منٹ کی ذمہ داری یہ ہے۔
چھٹی میں اساتذہ پندرہ منٹ کمرے ہی میں رہیں گے۔
جن طالب علموں کو لینے کوئی نہ آیا ہو انہیں کہانی سنا کر مصروف رکھا جائے۔
پندرہ منٹ بعد بھی کوئی نہ آئے تو طالب علم کو کھیلنے والے صحن میں بھیج دیا جائے گا۔
صبح آمد پر نگرانی کرنا۔
صبح طلباء کی آمد پر ایک نگران استاد وہاں موجود ہوں گے۔
نگران استاد آنے والے طلباء کا یونیفارم اور صفائی چیک کریں گے۔
بچوں کو جوتا اتارنے اور صحیح جگہ رکھنے کا طریقہ بتائیں گے۔
ساتھی استاد میں کمی نظر آنے پر رہنمائی کرنے کا طریقہ کار یہ ہے۔
کسی استاد میں کمی نظر آئے تو علیحدگی میں بات کریں یا منتظم کو بتائیں۔
خامخواہ بدگمانی نہ کریں۔
اساتذہ کا باہمی تعلق حدود سے تجاوز نہ کرے۔
اساتذہ کا تعلق دوستانہ ضرور ہو لیکن ایک خاص حد تک۔
دوستانہ تعلق اتنا نہ بڑھے کہ سبق کی پرواہ نہ رہے یا بچوں کا حرج ہو۔
اساتذہ دعا کا اہتمام کرتے رہا کریں۔
اساتذہ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں۔
متبادل استاد کی ذمہ داری یہ ہے۔
متبادل ذمہ داری ادا کرنے والا استاد اسے بھی منظم اور اچھے طریقے سے ادا کرے۔
مکتب کے تعلیمی اور تربیتی نظام کا معیار برقرار رکھنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کریں۔
ادارے اور مہتمم کی ہدایات کا اہتمام یقینی بنائیں۔
مکتب کے تمام امور شوریٰ کے مشورے سے طے ہوتے ہیں، اس کے اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔
معلمین و معلمات کا نگران منتظم کی ہدایات پہنچاتا ہے، اس کی بات ماننا ضروری ہے۔
ہر استاد اپنے آپ کو مکتب کا حصہ سمجھے۔
مکتب کے نظام کو نقصان پہنچانے والی بات کو اپنا نقصان سمجھے۔
کسی چیز کے خراب ہونے کی فوری اطلاع متعلقہ ناظم کو دیں۔
تعلیمی و تربیتی بہتری کی تجویز تحریری صورت میں منتظم کو دیں۔
انتظامی امور میں بھی رائے دی جا سکتی ہے، مگر اسے تحریری شکل میں منتظم کو دیا جائے۔
والدین کی طرف سے کوئی شکایت پہنچے تو اسے بھی منتظم کو بتائیں۔
معلمات کے لیے خاص ہدایات یہ ہیں۔
معلمات کے لیے بھی وہی ہدایات ہیں جو معلمین کے لیے ہیں۔
مکتب کا نظام بناتے ہوئے دینی احکامات پر عمل کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔
شریعت نے عورتوں کو دیے گئے دینی احکامات میں پردے کا حکم خاص ہے۔
معاشرے میں پردے سے متعلق لاپرواہی کے سبب مکتب میں پردے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔
معلمات اور معلمین دونوں کے لیے پردے کی ہدایت دی جاتی ہے کیونکہ یہ فطری اور شرعی تقاضا ہے۔
معلمات اور بڑی بچیوں کے لیے خاص پردے کی ہدایات میں کمی برداشت نہیں کی جاتی۔
سزا و تادیب کا طریقہ کار یہ ہے۔
طلباء کے تاخیر سے آنے پر تادیب کا طریقہ کار یہ ہے۔
طالب علم پندرہ منٹ لیٹ آئے تو اسے تنبیہ کی جاتی ہے۔
پندرہ منٹ سے زیادہ لیٹ آئے تو اسے کلاس روم کے دروازے پر کھڑا کیا جاتا ہے۔
تعلیمی و تربیتی کوتاہی پر سزا کا طریقہ کار یہ ہے۔
سزا کا مقصد غصہ نکالنا نہیں بلکہ بچے کو فکر مند اور متوجہ کرنا ہے۔
ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جس میں بچے کو اذیت ہو یا جو تحمل کی حد سے زیادہ ہو۔
نابالغ بچے کو اذیت پہنچانے والی سزا پر استاد کو والدین سے معافی مانگنی ہوگی۔
دس سال سے بڑی عمر کے بچوں کو ہلکے ہاتھ سے مارا جا سکتا ہے، چھڑی سے نہیں۔
مکتب میں کسی استاد کو مارنے کی اجازت نہیں ہے۔
کسی استاد کے متعلق شکایت موصول ہو تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
حتی الوسع بچوں کو پیار اور نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
نرمی میں بھی میانہ روی اختیار کی جائے۔
طالب علم کو سزا دینے کی ضرورت پیش آئے تو ترتیب یہ ہے۔
پہلے نرمی سے سمجھایا جائے۔
نرمی سے سمجھ میں نہ آئے تو اسے کھڑا کر دیا جائے۔
کھڑا کرنے سے بھی باز نہ آئے تو ہوائی کرسی بنا کر سزا دی جا سکتی ہے۔
اس کے بعد بھی باز نہ آئے تو اس کے متعلقہ نگران سے بات کی جائے۔
نگران استاد بچے کی تذلیل نہ کرے اور اسے بہت زیادہ غصے سے نہ ڈانٹے۔
غلطی مان لینے والے بچے کو سزا نہ دے کر سچ بولنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
گرمیوں کی چھٹیوں کے وظیفے کی پالیسی یہ ہے۔
گرمیوں کی چھٹیوں کے وظیفے میں کمی کے اسباب یہ ہیں۔
گرمیوں کی چھٹیوں کے وظیفے میں چند وجوہات کی بنا پر کمی ہو سکتی ہے۔
مکتب کی ہدایات پر عمل نہ کیا جانا وظیفے میں کمی کا سبب بنتا ہے۔
اپنے ساتھیوں کے ساتھ رویہ ٹھیک نہ رکھنا وظیفے میں کمی کا سبب بنتا ہے۔
مسلمان استاد کو کن صفات کا حامل ہونا ضروری ہے، یہ بیان کیا گیا ہے۔
استاد کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔
استاد معاشرے کی اقدار کے امین اور انہیں آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
استاد اپنے فرائض میں ذرہ بھی چوک جائے تو پورے معاشرے کا نقصان ہوتا ہے۔
استاد نئی نسل کی تربیت کرتا ہے جس کے لیے اس کا خود تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔
مسلمان استاد پر زائد ذمہ داری ہے، وہ مربی، رہنما اور معمار بھی ہے۔
مسلمانوں کی ذمہ داری لے کر خیر خواہی نہ کرنے والے کے لیے جہنم کی وعید ہے۔
مسلمان استاد اپنے فرائض میں کوتاہی برتے تو روزِ حشر اللہ کے سامنے جواب دہ ہوگا۔
مسلمان استاد کی صفات
استاد روحانی رشتے کی رو سے بچے کے ماں باپ ہی تصور کیا جاتا ہے۔
استاد بچے کے ساتھ ماں باپ کی طرح شفیق و رحیم ہو۔
استاد بچے کو اپنے گھر کا بچہ سمجھے اور نسل کو بگاڑ سے بچانے کی فکر رکھے۔
استاد اپنے علم کو امانت سمجھ کر بچوں تک پہنچائے۔
استاد بچے کو معصوم سمجھ کر اس کی غلطیاں برداشت کرے اور خوبیاں اجاگر کرے۔
استاد بحیثیت نمونہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور بچے کو طعن و تشنیع نہ کرے۔
استاد جھوٹ سے بچے کیونکہ اس سے بات کا اثر ختم اور امت کا اجتماعی نقصان ہوتا ہے۔
استاد اتنا راست گو ہو کہ بچوں کو یقین ہو کہ وہ سچ بتا رہا ہے۔
استاد بغیر تصدیق شدہ بات بچوں کو نہ بتائے، یہ بچے کی شخصیت بگاڑ سکتی ہے۔
استاد بچے کی نفسیات سمجھ کر اس کے اخلاق و عمل کو سنوارے۔
استاد متعلمین کی حوصلہ افزائی کرے اور کوشش کے بعد نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرے۔
استاد کو مضمون خوبصورت اور دلنشین انداز میں بیان کرنے کا طریقہ آنا چاہیے۔
استاد بچے کے فہم اور استعداد سے اوپر تقریر شروع نہ کر دے۔
استاد بچے کی خراب کارکردگی پر مایوس نہ ہو بلکہ دعا گو رہے۔
استاد اپنے لیے سیرتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ بنائے۔
استاد باعمل ہو اور مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنے والا ہو۔
استاد ہر روز اپنا محاسبہ کرے اور اپنی غلطی ماننے والا ہو۔
استاد احکامِ شرعیہ کا پابند ہو اور کسی حکم کے ٹوٹنے پر دل بے چین رکھے۔
استاد اپنے متعلم کے لیے دعا کرے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط رکھے۔
استاد خوش طبع ہو لیکن حق بات کہنے والا ہو۔
استاد بچے کو اپنے لیے صدقہ جاریہ سمجھے۔
استاد اپنے فرائض سے بخوبی واقف ہو اور کوتاہی پر اللہ کی ناراضگی کا احساس رکھے۔
استاد آخرت کو سامنے رکھنے والا اور اللہ سے ڈرنے والا ہو۔
استاد جو پڑھا رہا ہو اس پر مکمل عبور حاصل ہو، بغیر تیاری سبق نہ پڑھائے۔
سوال کا جواب نہ آتا ہو تو بچے کو جھڑکنے کے بجائے معذرت کر کے بعد میں جواب دے۔
استاد کا کسی اللہ والے سے اصلاحی تعلق ہو تاکہ رکاوٹوں کا شرعی حل پوچھ سکے۔
استاد اخلاص سے بھرپور اور تقویٰ والا ہو۔
سوالنامہ برائے اساتذہ یہ ہے۔
کیا آپ کا تعلق کسی دینی محنت سے ہے؟
آپ بچے کے لیے کون سی تعلیم زیادہ ضروری سمجھتے ہیں؟
گھر پر تصاویر رکھنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں شرکت کو آپ شرعاً کیسا سمجھتے ہیں؟
کیا آپ پنج گانہ نماز باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں؟
کیا زندگی کے ہر شعبے میں علما سے پوچھ کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں؟
آپ کے نزدیک عورت کے لیے پردہ کتنا ضروری ہے؟
آپ کن کن نامحرموں سے پردہ نہیں کرتیں؟
آپ کی نظر میں بچی کو کس عمر سے پردہ کرنا چاہیے؟
آپ کی نظر میں شرعی برقعہ کیسا ہونا چاہیے؟
بچے اور بچیوں کی تعلیم ایک جیسی ہو یا اس میں فرق ہونا چاہیے؟
فارغ اوقات میں آپ کی کیا مصروفیت ہے؟
کیا آپ نے روزانہ کے کچھ دینی معمولات مقرر کر رکھے ہیں؟
آپ کے نزدیک معاشرے کے رجحان اور فیشن کو اختیار کرنا کتنا ضروری ہے؟
معاشرے کے ساتھ چلنے کے لیے دین کی قربانی کرنی پڑے تو آپ کیا کریں گی؟
استاد اور بچے کا رشتہ کیسا ہونا چاہیے؟
ذہین بچوں کے ساتھ استاد کا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟
کمزور اور شرارتی بچوں کو کیسے سنبھالا جائے؟
دس صفات لکھیں جو مسلمان استاد میں ہونی ضروری ہیں۔
آپ تعلیم کے شعبے سے کیوں وابستہ ہیں؟
بچوں کو مارنے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
نظم و ضبط کسے کہتے ہیں؟
بچوں میں نظم و ضبط کیسے پیدا کریں؟
بچے کے دل میں والدین اور اساتذہ کا ادب کیسے پیدا کیا جائے؟
آپ نے جو تعلیم حاصل کی اس کا کیا مقصد تھا؟
بچے آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوں تو استاد کو کیا کرنا چاہیے؟
ایک بچہ دوسرے کی شکایت لگائے تو استاد کو کیا کرنا چاہیے؟
نظریۂ مکتب کو اپنے الفاظ میں بیان کریں۔
خواتین کے کردار پر مختصر نوٹ لکھیں۔
تجوید کے نمبر
ہفتہ وار مشورہ
یہ مشورہ ہر جمعرات کو ہوتا ہے۔
جمعرات کے دن بچوں کا تعلیمی وقت کم اور اساتذہ کا مشوراتی وقت مکمل ہوتا ہے۔
تعلیمی اوقات کے بعد بچنے والے وقت میں اساتذہ مشورہ کرتے ہیں۔
مشورے میں پچھلے ہفتے کی کارگزاری اور مسائل کا ذکر کر کے حل تلاش کیا جاتا ہے۔
مشورے کا ایک نگران بھی ہوتا ہے۔
مشورے کو سنت سمجھ کر اس کے آداب کی رعایت رکھتے ہوئے عمل کیا جاتا ہے۔
مشورے کے آداب
مشورے میں اسی کام سے متعلق گفتگو کی جائے جس کے لیے مشورہ رکھا گیا ہو۔
اپنی بات پر اصرار نہ کریں۔
دوسرے کی بات مکمل ہونے دیں، درمیان میں نہ ٹوکیں۔
اپنی رائے کو حتمی نہ سمجھیں، ہر ایک کی رائے کو اہمیت دیں۔
مشورے میں تمام اساتذہ اپنی سمجھ کے مطابق رائے کا اظہار کریں۔
ہر استاد مختصراً اپنی بات کرے تاکہ سب کو رائے پیش کرنے کا موقع ملے۔
مشورے کے آغاز میں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بہتر طریقہ سلجھا دے۔
دعا کرتے رہیں کہ مشورے سے کوئی ایسا کام نہ ہو جس سے انتشار پھیلے۔
دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ حق کی طرف رہنمائی فرمائے۔
ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں۔
غلطی کی نشاندہی ہو تو اسے کھلے دل سے تسلیم کر کے اصلاح کی کوشش کریں۔
مختلف امور کو بہتر کرنے کے طریقے سوچے جائیں۔
اساتذہ کو پیش آنے والی مشکلات کا حل تلاش کیا جائے۔
کمزور یا تنگ کرنے والے بچوں کے لیے بہتر طریقہ سوچا جائے۔
طلباء کے متعلق
بچوں کا یونیفارم
روضہ الف سے جماعت دوم تک کا یونیفارم یہ ہے۔
روضہ الف سے جماعت دوم تک کے بچوں کا یونیفارم آسمانی شلوار قمیض اور بلیو بین و کف ہے۔
لڑکیوں کے گلے اور دامن پر بلیو رنگ کی پائپنگ ہوگی۔
روضہ الف اور ب میں ٹوپی اور اسکارف اختیاری ہوتا ہے۔
جماعت اول و دوم میں بچوں کی ٹوپی اور بچیوں کا اسکارف لازمی ہے۔
جماعت سوم تا ہشتم کا یونیفارم یہ ہے۔
جماعت سوم تا ہشتم کے لڑکوں کا یونیفارم وہی لازمی ہے جو روضہ الف سے شروع تھا۔
جماعت سوم تا ہشتم کی طالبات کا یونیفارم سفید شلوار قمیض مع سرخ پٹیوں اور کالے اسکارف کا ہے۔
چہارم پنجم سے طالبات کے یونیفارم کے ساتھ برقعہ بھی لازمی ہے۔
ششم جماعت سے برقعے کے ساتھ نقاب لینا بھی لازمی ہوجاتا ہے۔
طلباء کی رخصت کا طریقہ کار یہ ہے۔
طلباء رخصت لینا چاہیں تو واٹس ایپ گروپ پر اطلاع کریں گے۔
کمرہ جماعت کے آداب
استاد کمرے میں موجود ہوں تو آپس میں بات نہ کریں۔
استاد بات کریں تو استاد کی طرف دیکھیں۔
استاد بورڈ پر لکھیں تو بورڈ کی طرف دیکھیں۔
کتاب یا کاپی پر پڑھایا جائے تو اس کی طرف دیکھیں اور انگلی رکھیں۔
کوئی تنگ کرے تو استاد کو بتائیں۔
کمرے میں آنے جانے کے لیے اجازت لیں۔
بات کرنی ہو تو ہاتھ کھڑا کر کے اجازت لیں۔
اپنے کام پر دھیان رکھیں، دوسروں کی طرف نہ دیکھیں۔
اپنی کتابوں اور کاپیوں کی حفاظت اور ادب کریں۔
اپنا کمرہ صاف رکھیں۔
کھیل کے دوران آداب
کام کے دوران کام اور کھیل کے وقت میں کھیل کریں۔
کھیل کے دوران کسی کو دھکا نہ دیں۔
کسی کو ماریں نہیں۔
کسی سے جھگڑا نہ کریں۔
پودوں کو خراب نہ کریں۔
بریک ختم ہوتے ہی اپنی جماعت میں چلے جائیں۔
ننگے پاؤں نہ چلیں۔
کسی چیز کو خراب نہ کریں۔
اپنے کمرے میں نہ کھیلیں۔
بلا وجہ شور نہ کریں۔
پردے سے متعلق ہدایات
برقعہ کالے رنگ کا، غیر چمکیلا اور ڈھیلا ڈھالا ہو۔
برقعے پر کڑھائی یا چمکدار بٹن وغیرہ نہ ہو۔
بازو پورے ہوں اور برقعے کی لمبائی پاؤں تک ہو۔
نقاب پورے چہرے کا ہو اور کم از کم کلائیوں تک چوڑا ہو۔
نقاب میں صرف آنکھوں کے لیے ہی درز خالی ہو۔
جوتے بند ہوں، ہیل والی یا فینسی جوتی نہ ہو۔
مکتب کے اندر اسکارف کا مکمل اہتمام ہو۔
عذر کی وجہ سے اسکارف استعمال نہ کر سکنے والی معلمہ تحریری اجازت مانگے۔
مکتب کے اندر لباس ڈھیلا ڈھالا اور سادہ ہو۔
مکتب میں زیور اور میک اپ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
مکتب میں امیر کے علاوہ کسی مرد استاد سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
امیر سے بھی بات صرف تحریری میسج کے ذریعے ہو، وائس نہیں۔
معلمات کی ہدایات بڑی بچیوں کے لیے بھی لاگو ہیں۔
داخلہ سے متعلق امور
درجہ حفظ
طلبہ کے انتخاب کا طریقہ کار یہ ہے۔
مکتب میں حفظ کا براہ راست داخلہ نہیں ہوتا۔
کم از کم ایک سال برانچ میں پڑھ چکا بچہ ہی حفظ میں آتا ہے، مگر ہر بچہ نہیں۔
کچھ ذہین ہوں
ان کے گھر کا ماحول موافق ہو۔
والدین فکر مند ہوں اور تعاون کے لیے تیار ہوں۔
شرائط داخلہ
بچے کی تعلیم و تربیت والدین کے تعاون سے مشروط ہے، کمی پر بچہ خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔
مکتب کی اسلامیات کی کتاب کا مطالعہ اور اس کے مطابق تربیت کا اہتمام والدین کے لیے ضروری ہے۔
بچوں کی اشیاء پر جاندار کی تصویر نہ ہو، ہو تو اس کا سر مٹا دیا جائے۔
بچوں کو وقت پر پہنچانا اور لے جانا ضروری ہے، پانچ منٹ سے زائد تاخیر پر بچہ واپس کیا جا سکتا ہے۔
والدین گھر پر بھی بچوں کو شلوار قمیض اور حیا والے لباس کا اہتمام کروائیں۔
بچوں کی تمام اشیاء پر شناختی نشان ہو اور کتابوں پر جلد چڑھائی جائے۔
روزانہ بچے کے بیگ میں موجود کتاب یا کاپی کا ہوم ورک کروانے کا اہتمام کریں۔
جمعرات کو پورا بیگ دیا جاتا ہے، والدین ہفتہ وار ڈائری چیک کر کے دستخط کریں۔
چھٹی کی اطلاع دیں، بغیر اطلاع تین دن چھٹی پر بچہ کلاس میں نہیں بٹھایا جائے گا۔
بچے کو گھر کا کھانا دیں، بازاری اشیاء لانے کی اجازت نہیں۔
بچے کی سٹیشنری کا انتظام مکتب سے ہوتا ہے، گھر سے سامان یا کھلونے نہ دیں۔
ہر دو تین ماہ میں بچے کی کارگزاری کے لیے مکتب تشریف لائیں۔
ہر ہفتے مغرب کے بعد والدین کا بیان ہوتا ہے جس میں شمولیت ضروری ہے۔
دی گئی کتاب کا مطالعہ کریں اور اس کے مطابق بچے کی تربیت کی کوشش کریں۔
بھیجے گئے تربیتی کارڈ مکمل کر کے واپس کریں۔
بچے کو ڈانٹ مار کی بجائے پیار سے سمجھانے کی کوشش کریں۔
چھوٹے بچوں کے دل میں خوف پیدا نہ کریں، محبت اور اطاعت کا جذبہ پیدا کریں۔
بچے کو غیر شرعی تقریبات اور نقصان دہ ماحول سے بچائیں۔
بچے کے ساتھ روزانہ کچھ وقت گزاریں تاکہ تعلق مضبوط ہو۔
بچے کی تربیت کی اصل ذمہ داری والدین کی ہے، ادارہ صرف معاون ہے۔
فیس ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک ادا کر دیں۔
داخلہ فارم
بچوں سے متعلق داخلہ فارم یہ ہے۔
داخلے کے وقت بچے کا داخلہ فارم فل کروایا جاتا ہے۔
والدین سے متعلق داخلہ فارم یہ ہے۔
والدین سے متعلق ایک فارم بھی فل کروایا جاتا ہے۔
انٹرویو
والدین سے انٹرویو
داخلے کے وقت والدین کا انٹرویو کر کے گھریلو ماحول کے مطابق داخلہ دیا جاتا ہے۔
سوالنامہ برائے والد
آپ کی تعلیم کیا ہے؟
کیا آپ کا تعلق کسی دینی محنت سے ہے؟
آپ اپنے بچے کے لیے کون سی تعلیم زیادہ ضروری سمجھتے ہیں؟
بچے کے لیے کون سا لباس آپ کو زیادہ پسند ہے؟
بچے کو فارغ اوقات میں مصروف رکھنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں؟
گھر پر بچے کی تربیت کی زیادہ دیکھ بھال کس کے ذمے ہے؟
کیا بچہ یا اس کے بھائی بہن آپس میں لڑتے ہیں؟
بچوں کی لڑائی کی صورت میں آپ کیا کرتے ہیں؟
کیا بچے کو ٹافیاں، چاکلیٹ، چپس وغیرہ روزانہ لے کر دیتے ہیں؟
بچہ کوئی غلط کام کرے تو اسے کیسے روکا جاتا ہے؟
گلی محلے یا رشتہ دار بچوں کے ساتھ بچے کا میل جول کتنا ہے؟
آپ بچے کو روزانہ کتنا وقت دیتے ہیں؟
بچے کو دیے گئے وقت میں کیا کرتے ہیں؟
بچے کو سچ بولنا سکھانے کے لیے کیا کرتے ہیں؟
کیا بچے کو اپنی غلطی ماننا سکھایا جاتا ہے؟
بچوں کو مارنے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
گھر پر تصاویر رکھنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں شرکت کو آپ شرعاً کیسا سمجھتی ہیں؟
کیا آپ پنج گانہ نماز باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کرتی ہیں؟
کیا زندگی کے ہر شعبے میں علما سے پوچھ کر چلنے کی کوشش کرتی ہیں؟
کیا اپنے ذریعہ معاش کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کے لیے علما سے پوچھتے رہتے ہیں؟
آپ اپنے بچے کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟
آپ کے نزدیک عورت کے لیے پردہ کتنا ضروری ہے؟
کیا پردے کا حکم مردوں کے لیے بھی ہے؟
آپ کی نظر میں بچی کو کس عمر سے پردہ کرنا چاہیے؟
آپ کی نظر میں شرعی برقعہ کیسا ہونا چاہیے؟
بچے اور بچیوں کی تعلیم ایک جیسی ہو یا اس میں فرق ہونا چاہیے؟
آپ کے نزدیک معاشرے کے رجحان اور فیشن کو اختیار کرنا کتنا ضروری ہے؟
معاشرے کے ساتھ چلنے کے لیے دین کی قربانی کرنی پڑے تو آپ کیا کریں گے؟
کیا مکتب میں داخلے کے لیے آپ نے بچے کی والدہ کو متفق کر لیا ہے؟
سوالنامہ برائے والدہ
آپ کی تعلیم کیا ہے؟
آپ اپنے بچے کے لیے کون سی تعلیم زیادہ ضروری سمجھتی ہیں؟
بچے کے لیے کون سا لباس آپ کو زیادہ پسند ہے؟
بچے کو فارغ اوقات میں مصروف رکھنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتی ہیں؟
گھر پر بچے کی تربیت کی زیادہ دیکھ بھال کس کے ذمے ہے؟
کیا بچہ یا اس کے بھائی بہن آپس میں لڑتے ہیں؟
بچوں کی لڑائی کی صورت میں آپ کیا کرتی ہیں؟
کیا بچے کو ٹافیاں، چاکلیٹ، چپس وغیرہ روزانہ لے کر دیتے ہیں؟
بچہ کوئی غلط کام کرے تو اسے کیسے روکا جاتا ہے؟
گلی محلے یا رشتہ دار بچوں کے ساتھ بچے کا میل جول کتنا ہے؟
بچے کو سچ بولنا سکھانے کے لیے کیا کرتی ہیں؟
کیا بچے کو اپنی غلطی ماننا سکھایا جاتا ہے؟
بچوں کو مارنے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
گھر پر تصاویر رکھنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں شرکت کو آپ شرعاً کیسا سمجھتی ہیں؟
کیا زندگی کے ہر شعبے میں علما سے پوچھ کر چلنے کی کوشش کرتی ہیں؟
آپ کے نزدیک عورت کے لیے پردہ کتنا ضروری ہے؟
آپ کن کن نامحرموں سے پردہ نہیں کرتیں؟
آپ کی نظر میں بچی کو کس عمر سے پردہ کرنا چاہیے؟
آپ کی نظر میں شرعی برقعہ کیسا ہونا چاہیے؟
بچے اور بچیوں کی تعلیم ایک جیسی ہو یا اس میں فرق ہونا چاہیے؟
کیا آپ پنج گانہ نماز مردوں سے پہلے پڑھنے کی کوشش کرتی ہیں؟
فارغ اوقات میں آپ کی کیا مصروفیت ہے؟
کیا آپ نے روزانہ کے کچھ دینی معمولات مقرر کر رکھے ہیں؟
کیا بچے کو ددھیالی رشتے داروں کی محبت اور ادب سکھایا جاتا ہے؟
کیا بچے کو تم کی بجائے آپ کہنا سکھایا جاتا ہے؟
کیا بچے کو جسم اور لباس کی صفائی کا طریقہ سکھایا جاتا ہے؟
آپ کے نزدیک معاشرے کے رجحان اور فیشن کو اختیار کرنا کتنا ضروری ہے؟
معاشرے کے ساتھ چلنے کے لیے دین کی قربانی کرنی پڑے تو آپ کیا کریں گی؟
کیا بچے کو داخل کروانے کے لیے بچے کے والد خوشی سے تیار ہیں؟
داخلہ اہلیت کا معیار
مہذب دین دار گھرانہ
گھرانہ مہذب اور بات ماننے والا ہو تو ظاہری دینی ماحول نہ ہونے کے باوجود بھی داخلہ دے دیا جاتا ہے۔
داخلے کے وقت والدین کو مشکلات بتا کر حتی الوسع منع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، راضی ہوں تو داخلہ دیا جاتا ہے۔
امتحانات سے متعلق
پرچہ بنانے کا طریقہ
پرچہ ڈیٹ شیٹ میں درج نصاب کے مطابق ہو۔
پرچہ بچے کی استعداد کے مطابق ہو کہ مقررہ وقت میں حل کیا جا سکے۔
نمبروں کی تقسیم ہر سوال اور اس کے اجزاء کے ساتھ لکھی جائے۔
پرچہ کھلا، واضح، خوش خط اور سیاہ روشنائی سے لکھا ہوا ہو۔
سوالات اس طرح ترتیب دیں کہ تمام اسباق میں سے کچھ نہ کچھ پوچھا جائے۔
پرچہ مسئول مضمون سے چیک کروا کر مسئول جماعت کے حوالے کیا جائے۔
مسئول جماعت تمام مضامین کے پرچے جمع کر کے دفتر بھجوا دیں۔
بچوں کے سامنے پرچہ نہ بنائیں اور نہ اس کا تذکرہ کریں۔
پرچے میں کچھ سوالات بچے کی ذہنی استعداد اور تفہیم جانچنے کے لیے شامل ہوں۔
اول دوم کے پرچے امتحانی پرچے پر ہی حل ہوں، باقی جماعتیں جوابی کاپی پر حل کریں۔
پرچے کی نگرانی کے دوران درج ذیل کا خیال رکھا جائے۔
ایک جگہ نہ بیٹھیں بلکہ بچوں پر نظر رکھتے ہوئے چکر لگاتے رہیں۔
پرچہ شروع کرنے سے پہلے بچوں سے دعا پڑھوائیں۔
بچوں کو پرچہ حل کرنے کا طریقہ سمجھائیں، جیسے معروضی پہلے کرنا اور دوبارہ چیک کرنا۔
بچے کا ذہن بنائیں کہ صرف اپنے پرچے کی طرف توجہ کرے، نقل سے حاصل نمبر بے کار اور گناہ ہیں۔
پرچہ شروع کرنے سے پہلے تمام کتابیں کاپیاں بچوں سے لے لیں۔
جلدی پرچہ حل کرنے والے بچوں کو بھی وقت سے پہلے باہر نہ بھیجیں۔
پرچہ دے کر فارغ ہونے والے بچوں کو دوسرے اساتذہ مصروف رکھیں۔
کسی ایسے کام میں مصروف نہ ہوں کہ توجہ بچوں سے ہٹ جائے۔
چھوٹے بچوں کی سوال سمجھنے میں مدد کی جا سکتی ہے، بڑوں کو خود سمجھنا چاہیے۔
پرچے کے دوران بچوں کا آپس میں بات کرنا یا چیز کا تبادلہ منع ہے۔
پرچہ وصول کرتے وقت اس کی جانچ کی جائے۔
بچے نے اپنا نام درست لکھا ہے، غلط یا نامکمل ہو تو درست کروائیں۔
چھوٹے بچوں کے پرچے میں غلطی نظر آئے تو دوبارہ دیکھنے کو کہا جائے۔
کچھ سوال کم حل ہوں تو پرچہ مکمل کرنے کی ترغیب دیں۔
جماعت میں نمبر کاٹنے کی طے شدہ ترتیب کے مطابق کاٹیں۔
پرچے چیک کرتے ہوئے ہدایات
جماعت میں طے شدہ ترتیب کے اعتبار سے ہی نمبر کاٹے جائیں۔
مضمون مسئول سے پوچھ لیں۔
بچوں کے سامنے چیک نہ کریں۔
پرچوں کو کھلا نہ چھوڑیں۔
بچوں کو ان کے نمبر نہ بتائیں۔
غلطیوں کی نشاندہی کریں لیکن انہیں مٹا کر درست نہ کریں بلکہ اوپر لکھ دیں۔
ٹوٹل دو بار چیک کر لیں۔
لسٹ پر چیک کرنے کے بعد دستخط کریں۔
ری چیک کرتے ہوئے سبز قلم استعمال کریں۔
چیکنگ کی غلطیوں کی نشاندہی کریں لیکن پہلے سے دیے گئے نمبر نہ کاٹیں۔ اپنے نمبر اس کے ساتھ لکھ دیں
ہر سوال اور اس کے اجزاء کے نمبر ترتیب سے لکھ کر دائرہ لگا دیں۔
جوابی کاپی پر بھی ہر جزو کے نمبر لگائیں۔
امتحانات سے پہلے دہرائی کا طریقہ کار یہ ہے۔
ہر امتحان سے پہلے چند دن بچوں کو دہرائی کروائی جاتی ہے۔
سبق کو مختصر دوبارہ سمجھائیں۔
سبق کی تربیت کی طرف متوجہ کریں۔
سوالات کے جوابات ایک بار خود دہرائیں۔
انگلش کے اساتذہ سوال بھی سمجھائیں اور جواب بھی۔
کسی بچے کی کاپی پر جوابات نامکمل ہوں تو مکمل کروائیں۔
گرامر کے متعلق چیزوں کی مشق کروائیں۔
ریاضی کی مشق دوبارہ سمجھا کر بچوں سے خود سوال بنوا کر حل کروائیں۔
بچے جو چیزیں یاد کریں وہ باری باری سنتے جائیں۔
دہرائی کا مقصد امتحان پاس کروانا نہیں بلکہ پختگی پیدا کرنا ہے۔
پرچہ بنانے والے اساتذہ اشارتاً بھی پرچے کے سوالات کی طرف بچوں کو متوجہ نہ کریں۔
دہرائی میں معروضی سوالات کی بھی مشق کروائیں۔
قرآن والے اساتذہ دہرائی کے دنوں میں قرآن اور مسنون دعاؤں کی دہرائی کروائیں۔
دیگر معاونین
آیا جی
آیا جی کی ذمہ داریاں
مکتب کے اوقات میں پورا وقت مکتب میں موجود رہنا۔
چھوٹے بچوں کو جوتے پہنانے اتارنے میں مدد کرنا اور دائیں پاؤں پہلے پہنانا۔
بیت الخلا میں صفائی اور بو کا خیال رکھنا۔
چھوٹے بچوں کو بیت الخلا لے جا کر قضائے حاجت، استنجا اور ہاتھ دھلوانے میں معاونت کرنا۔
منتظم صاحب سے پیغام رسانی میں معاونت کرنا۔
مکتب کا وقت شروع ہونے سے پہلے جھاڑ پونچھ اور بورڈ صاف کرنا۔
روزانہ تمام کمروں کی صفائی اور گم شدہ اشیا کو مقررہ جگہ رکھنا۔
ہفتے میں ایک بار قالینوں، جالوں اور کولروں سمیت مکمل صفائی کرنا۔
کولروں میں پانی کا انتظام کرنا۔
پانی کے گلاس، صابن دانیاں، لوٹے اور تولیے صاف رکھنا۔
چھٹی کے پندرہ منٹ بعد باقی بچوں کی اطلاع دفتر کو دینا اور نگرانی کرنا۔
روضہ الف، ب کا دسترخوان لگانا، سمیٹنا اور بچوں کو کھلانے میں معاونت کرنا۔
سٹیشنری قواعد و ضوابط
سٹیشنری کے پیسے نصاب کے سیٹ کی مد میں لیے جاتے ہیں۔
بیگ کی قیمت نصاب میں شامل ہے، نہ لینے پر چار سو روپے منہا ہو جائیں گے۔
خود بیگ خریدیں تو اس پر تصویر یا ٹائیر نہ ہو۔
پورا سال استعمال ہونے والا ربڑ، پنسل، شارپنر وغیرہ مکتب کی طرف سے ہدیہ ہوگا۔
کتاب یا کاپی گم ہونے کی صورت میں والدین خود بچے کو لے کر دیں گے۔
پنسل، ربڑ، شارپنر صرف مکتب میں استعمال کے لیے ہیں، بچے گھر نہیں لے جائیں گے۔
کتابوں پر جلد یا کور چڑھا لیں، خراب ہونے پر مکتب ذمہ دار نہ ہوگا۔
تعلیم سے متعلق
درجہ حفظ
حفظ کے دوران روزانہ کا ہدف مقرر ہوتا ہے۔
سبق، سبقی اور منزل کی مقدار روزانہ متعین ہوتی ہے، مثلاً 16 لائن سبق، نصف پارہ سبقی اور ایک پارہ منزل۔
حفظ مکمل کرنے کی متوقع مدت تین سال ہے۔
پہلے سال 8 پارے
دوسرے سال 12 پارے
تیسرے سال چھ ماہ میں دس پارے اور چھ ماہ میں گردان کا ہدف ہے۔
حفظ کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مخصوص کام کیے جاتے ہیں۔
روزانہ ڈائیری
پندرہ روزہ رپورٹ
ماہانہ رپورٹ
سہ ماہی امتحان
اساتذہ کے متعلق
تدریس کے بنیادی اصول
ہر بچہ فطری طور پر دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔
استاد کی ذمہ داری ہے کہ بچے کی فطرت سمجھ کر اس کی تعلیم و تربیت کرے۔
اساتذہ کا کام صرف پڑھانا نہیں بلکہ بچے میں پڑھنے کا شوق پیدا کرنا بھی ہے۔
بچے کے سیکھنے کے عمل کے لیے سننے، دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں پر محنت کرنی ہوگی۔
سننے کی مشق کے لیے بچے سے بات کر کے اس کے بارے میں آسان سوالات پوچھیں۔
دیکھنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بچے کے سامنے چیز رکھ کر اس کے بارے میں سوالات کیے جائیں۔
سوچنے کی صلاحیت کے لیے بات کا نتیجہ پوچھا جائے تاکہ بچہ سوچنے پر مجبور ہو۔
ہر بچے کو بات سمجھانے کے لیے اس کی عمر اور طبعی رجحان کا خیال رکھیں۔
بیٹھنے کی ترتیب اس طرح بنائیں کہ ذہین بچے کے ساتھ سست بچہ ہو تاکہ کوئی پیچھے نہ رہے۔
بچوں کو سات سال کی عمر تک کسی بات پر سختی سے نہ ڈانٹیں۔
روضہ الف، ب کے بچوں کو بار بار دہرائی اور ہاتھ پکڑ کر لکھنا سکھائیں۔
اساتذہ متحرک رہ کر بچوں کی مستقل نگرانی کریں تاکہ غلطی موقع پر ہی درست ہو۔
بچوں کی کاپی چیک کرنے کے لیے ایک ایک بچے کو بلائیں یا اس کی جگہ جا کر چیک کریں۔
جماعت میں نظم و ضبط برقرار رکھے بغیر پڑھانا ممکن نہیں۔
کلاس ورک تمام بچوں سے کلاس میں ہی مکمل کروائیں، کمزور بچوں کو سامنے رکھ کر ترتیب بنائیں۔
ایک دو بچے کلاس ورک مکمل نہ کر سکیں تو ان کا کام گھر واضح ہدایت کے ساتھ بھیج دیں۔
ہر بچے کو انفرادی توجہ دیں اور اسباق ختم کرنے سے زیادہ رویے کی درستی پر توجہ دیں۔
چھوٹی جماعتوں میں لکھنے پڑھنے کی صلاحیت اور لغت بہتر کریں، بڑی جماعتوں میں خوش خطی پر توجہ دیں۔
ہر سبق کے اختتام پر جائزہ لیں کہ مقاصدِ تدریس حاصل ہوئے یا نہیں۔
بچوں میں سبق کی تفہیم کے لیے ہر روز مختلف طریقے اپنا کر ایک ہی سبق دہرائیں۔
دوم جماعت تک روزانہ جتنا پڑھایا جائے اس کی نشاندہی کتاب پر تاریخ سے کریں۔
بچوں کے اسباق میں اسی زبان کا استعمال کریں جس میں کتاب ہے، اردو اسلامیات میں خالص اردو بلوائیں۔
بچوں کو روزانہ صبح پنسل، ربڑ، شارپنر دیں اور چھٹی سے پہلے واپس لے لیں۔
ہر مضمون کے دو تین اسباق کے بعد پندرہ روزہ جائزہ لے کر منتظم کو رپورٹ چیک کروائیں۔
ہر جماعت کی تعلیم کا ہدف مقرر کر کے دو ششماہیوں میں تقسیم کریں۔
سال کے شروع میں نصاب کی تقسیم اور ہفتہ وار اسباق کی تفصیل بنا کر جمع کروائیں۔
بچوں کی فطری کمزوریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے پیریڈ میں ہلکی ورزش کروائیں۔
روضہ الف، ب کے بچوں کو قضائے حاجت کے لیے فوراً جانے دیں اور بریک میں سب کو موقع دیں۔
بڑی جماعتوں میں قضائے حاجت کی اجازت دی جائے مگر بہانے بازی سے بچایا جائے۔
ڈائری
بچے کی کارگزاری سے آگاہ کرنے کے لیے ہفتہ وار اور روزانہ دو قسم کی ڈائریاں استعمال ہوتی ہیں۔
ہفتہ وار ڈائری ہر جمعرات کو بھیجی جاتی ہے جس میں پورے ہفتے کے اسباق و تربیت کی تفصیل ہوتی ہے۔
تاریخ کے خانے میں اسلامی و انگلش تاریخ لکھ کر ڈائریاں بدھ تک نگران کو دستخط کے لیے بھیجی جائیں۔
پندرہ روزہ جائزے کے نمبر تعلیمی کارکردگی میں لکھ کر بھیجیں۔
کیفیت لکھتے ہوئے بچے کی برائی براہ راست نہ لکھیں بلکہ مثبت انداز اپنائیں۔
تربیت کے خانے میں ہفتہ وار عملی مشق اور اسلامیات کی ذہن سازی لکھی جائے۔
ڈائری پر والدین کے دستخط کروا کر ہفتے کو واپس لانے کی یاد دہانی کروائیں۔
روزانہ ڈائری سوم جماعت سے شروع ہوتی ہے، اساتذہ ہوم ورک کی درستی چیک کریں۔
ڈائری میں والدین کی رائے کو نظرانداز نہ کریں، نگران کے مشورے سے جواب دیں۔
ہوم ورک
بچوں کو ٹیوشن سے بچانے کے لیے صرف ضروری ہوم ورک دیا جاتا ہے۔
ہوم ورک چیک ضرور کریں، نہ کرنے پر ہلکی سزا بھی دیں۔
بچے صرف ضروری کاپیاں اور کتابیں گھر لے جائیں، باقی مکتب میں رہیں گی۔
ہوم ورک دینے والا استاد چھوٹے بورڈ پر لکھے، آخری پیریڈ والا بیگ چیک کروائے۔
روضہ الف میں ہوم ورک نہ دیا جائے، روضہ ب میں ہفتے میں تین دن دیا جا سکتا ہے۔
اول تا پنجم ہفتے میں کم از کم تین دن اردو انگلش لکھائی کا کام دیا جائے۔
سبق کی تیاری
اپنے اسباق پڑھانے سے پہلے ان کی تیاری ضرور کریں۔
بچے کو صرف کتابی الفاظ نہیں بلکہ اپنے الفاظ میں بھی سبق سمجھانے کی کوشش کریں۔
بات سمجھانے اور دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے مختلف سرگرمیاں اختیار کریں۔
سائنس کے اساتذہ کتاب کی سرگرمیاں کروائیں اور سامان ایک ہفتہ پہلے منگوا لیں۔
سبق پڑھانے سے پہلے اور دوران استاد کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے
سبق پڑھانے سے پہلے
سبق پڑھانے سے پہلے دعا اور سبق کی تیاری کا اہتمام کرنا چاہیے۔
سبق کا تعارفی خاکہ
پچھلی جماعت کے ربط کے سوالات سے طلبا کے غور و فکر کی صلاحیت نکھرتی ہے۔
اہم نکات
سبق کے مقاصد
ضرورت کے مطابق توضیحات کی تیاری کرنی چاہیے۔
سبق سے متعلق مستند واقعہ یا کہانی بیان کی جائے۔
سبق کے دوران
دوستانہ رویہ
سبق کے دوران دوستانہ رویہ اور سوال و جواب کی حوصلہ افزائی بچے کی صلاحیت نکھارتی ہے۔
اخلاقیات
بچے کی ذہنی سطح
بچے کی نفسیات اور ذہنی سطح کا خیال رکھنا نہایت اہم ہے، ذہن سے اوپر کی بات بوجھ بنتی ہے۔
بچوں کی توجہ و نفسیات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
سبق دلچسپ اور آسان فہم انداز میں پیش کرنا اور سوال کرنا بچے کی توجہ برقرار رکھتا ہے۔
حوصلہ افزائی
نظم و ضبط اور صفائی
آواز کے اتار چڑھاؤ اور لب و لہجے کا خیال رکھنا چاہیے۔
سبق کے مطابق آواز کا اتار چڑھاؤ اور لب و لہجہ استعمال کیا جائے تاکہ باطن پر اثر ہو۔
تربیت کی ذہن سازی
اہم نکات کی تکرار
اہم نکات کی تکرار سے سبق اچھی طرح ذہن نشین ہوتا ہے۔
بچے کی توجہ بٹے تو اچانک سوال یا شائستہ مذاق سے دوبارہ متوجہ کریں۔
وقتاً فوقتاً خود سوالات کر کے اپنے طریقہ تدریس کو جانچیں۔
مضمون پڑھانے سے متعلق سوالات یہ ہیں۔
کیا آپ کو اس مضمون کے پڑھانے کا پہلے سے تجربہ تھا؟
جب آپ نے پڑھانا شروع کیا تو بچوں کی مجموعی کیفیت کیسی تھی؟
بچوں میں کمی محسوس ہوئی تو اسے دور کرنے کی کیا ترتیب بنائی؟
سال کے شروع اور اب کی کارکردگی میں کیا بہتری محسوس ہوئی؟
کیا بچوں کی ترقی آپ کو تسلی بخش لگتی ہے؟
بچوں میں ابھی بھی کمی لگ رہی ہے تو اسے دور کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کریں گے؟
اس مضمون کی تعلیم کے متعلق دوسرے اساتذہ کو کوئی تجویز دینا چاہیں تو بتائیں۔
جماعت میں نظم و ضبط اور توجہ برقرار رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟
بچوں کو پڑھاتے ہوئے اپنی کمیوں کا احساس ہوا تو انہیں دور کرنے کے لیے کیا کیا؟
نصاب برائے قرآن مجید
دس سالہ نصاب برائے قرآن مجید یہ ہے۔
اول
نصاب
پہلے سال کا ہدف مکمل نورانی قاعدہ اول تا آخر ہے۔
پارہ عم آخری پاؤ
نماز مکمل
آخری دس سورتیں
آیت الکرسی
پہلے سال اسلامیات کی مسنون دعائیں زبانی یاد کروائی جائیں گی۔
اہداف
مخارج درست ہوں اور بچے جوڑ کر لفظ خود پڑھ سکیں۔
دوم
نصاب
ناظرہ کا ہدف آخری دو اور ابتدائی تین پارے ہیں۔
نماز
آخری پندرہ سورتیں
اسلامیات کی دعائیں
دعائے قنوت زبانی
اہداف
بچے رواں خود پڑھ سکیں۔
سوم
نصاب
ابتدائی پندرہ پارے ناظرہ پڑھائے جائیں۔
قواعد تجوید اجمالی طور پر مع مشق پڑھائے جائیں۔
آخری میں سورتیں
اسلامیات کی دعائیں زبانی یاد کروائی جائیں۔
اہداف
تجوید کے قوانین کا اہتمام کیا جائے اور بچہ رواں خود پڑھ سکے۔
چہارم
نصاب
مکمل قرآن مجید ناظرہ
تجوید کے قواعد اور تعریفات زبانی یاد کروائی جائیں۔
آخری پچیس سورتیں
اسلامیات کی دعائیں زبانی یاد کروائی جائیں۔
اہداف
بچے خود اگلا سبق تیار کر کے استاد کو سنائیں۔
پنجم
مکمل قرآن مجید مع تجوید کی دہرائی اور مخارج کی درستی کروائی جائے۔
مسنون دعائیں
عم پارہ مکمل زبانی یاد کروایا جائے۔
ششم
نصاب
مسنون دعائیں
سورۃ یٰسین
سورۃ الملک
سورۃ الم سجدہ زبانی
ہفتم
نصاب
مسنون دعائیں
سورۃ البقرہ کا آخری رکوع یاد کروایا جائے۔
سورۃ الرحمن
سورۃ الواقعہ
سورۃ الحشر کا آخری رکوع یاد کروایا جائے۔
سورۃ مزمل
سورۃ مدثر زبانی
ہشتم
نصاب
نصف پارہ تبارک الذی زبانی یاد کروایا جائے۔
مختلف مضامین پڑھانے کا طریقہ
ناظرہ
روضہ الف، ب، اول
نورانی قاعدہ
سب سے پہلے بچوں کو تعوذ، تسمیہ سکھائیں اور ادائیگی درست کروائیں۔
قرآن مجید کی عظمت اور آداب بچے کی فہم کے مطابق بتائے جائیں۔
اول کی اسلامیات کے پہلے چار اسباق قرآن مجید کے متعلق ہیں، ان کا مذاکرہ کیا جائے۔
تلاوت کے بعد صبح کی دعائیں اور اجتماعی دعا کروائیں، بچے کی زبان میں دعا کروائیں۔
بچوں کو بورڈ پر حروف لکھ کر ان کی پہچان کروائی جائے۔
حروف کے مخارج درست کرنے پر خوب محنت کی جائے۔
مخارج کی بنیاد پر حروف کی ترتیب سمجھائی جائے۔
روضہ الف میں حروف کے مخارج اور پہچان حاصل ہو جانا کافی ہے۔
روضہ ب میں کم از کم نصف نورانی قاعدہ پڑھانا چاہیے۔
پہلی تختی میں حروف تجوید کے ساتھ پختہ ہونے تک آگے نہ بڑھایا جائے۔
مرکبات کی تختیوں میں بچہ خود پڑھے، تجوید درست نہ ہو تو بار بار پڑھایا جائے۔
موٹے، سیٹی والے، نرم اور قلقلہ والے حروف کی روزانہ یاد دہانی کروائی جائے۔
حرکات کی پہچان اور وقف کی وجہ سے ہونے والی تبدیلی سمجھائی جائے۔
روضہ ب کے بچے جوڑ کر الفاظ پڑھ سکیں، اس کی بورڈ پر بار بار مشق کروائی جائے۔
پڑھانے کا طریقہ اجتماعی اور بورڈ پر ہو تاکہ تمام بچے ایک سطح پر آئیں۔
بورڈ پر پڑھانے کے لیے "نورانی قاعدہ پڑھانے کا طریقہ" کتاب سے استفادہ کریں۔
عم پارہ
عم پارہ بچوں کو جوڑ کر اور رواں دونوں طریقوں سے پڑھایا جائے۔
ناظرہ سے پہلے تجوید کے ضروری قواعد یاد کروا کر سبق کے دوران یاد دہانی کروائیں۔
استاد کا پڑھایا گیا سبق گھر میں دہرانے کی کوشش کی جائے۔
اگلا سبق معلم صاحب سب بچوں کو اکٹھا کئی بار دہروائیں پھر انفرادی سماعت کریں۔
زبانی سورتیں اور دعائیں سب بچوں کو اکٹھی پڑھا کر مکتب ہی میں یاد کروائیں۔
دعاؤں اور زبانی سورتوں کے لیے ہفتے میں ایک دن مقرر کریں۔
باقی تمام جماعتیں
پچھلا سبق سن کر نیا سبق بچے کو خود پڑھنے کو کہیں اور تجوید و قواعد کی درستی کریں۔
منزل بچے اپنی جگہ پڑھیں، استاد نگرانی کر کے غلطیوں پر متنبہ کریں۔
زبانی سورتیں اکٹھی پڑھا کر یاد کروانے کے بعد ہر بچے سے باری باری سنیں۔
قواعد کے لیے دو دن دس منٹ مقرر کر کے بورڈ پر سمجھائیں اور تعریف یاد کروائیں۔
کبھی کبھار نماز اور کلموں کی دہرائی کروائیں۔
آخر میں دعا اور مجلس برخاست کی دعا پڑھوائیں۔
عم پارے کے علاوہ باقی پارے شروع سے آخر تک پڑھائیں۔
مخارج میں کمی ہو تو مفردات کی اجتماعی مشق کروائیں۔
مسنون دعائیں یاد کروائیں اور مہینے میں ایک بار سابقہ دعاؤں کی دہرائی کروائیں۔
عربی
عربی کی کتاب کے تین حصے دوم سے چہارم تک ایک ایک سال میں پڑھائے جاتے ہیں۔
پہلے حصے کے الفاظ پانچ پانچ کر کے معنی سمیت یاد کروائے جائیں۔
اگلے دن پہلے الفاظ سن کر نیا سبق دیا جائے، یوں حصہ اول جماعت دوم میں مکمل ہوگا۔
جماعت سوم میں عربی کی کتاب کا حصہ دوم پڑھایا جائے گا۔
الفاظ و معنی یاد کروا کر ان کی مختلف اشکال قواعد کے ذریعے سمجھائی جائیں۔
بچے درسِ خامس کے الفاظ کی مدد سے خود مشقیں حل کریں۔
گرامر کے قواعد یاد کروا کر ممکن ہو تو کاپی پر مزید مشق کروائیں۔
جماعت چہارم میں عربی کا حصہ سوم پڑھایا جائے گا۔
حصہ سوم میں بچے عبارت کا لفظی اور کتاب کا بامحاورہ ترجمہ لکھ کر یاد کریں گے۔
عبارت بچوں سے پڑھواتے ہوئے مخارج، لہجہ اور روانی درست کروائیں۔
استاد خود روانی سے پڑھ کر سنائیں۔
اعراب کی اہمیت اور معنی پر اس کے اثر کو بچوں کو سمجھائیں۔
اردو
روضہ الف، ب
مختلف آلات مثلاً بلاکس، چارٹس کے ذریعے حروفِ تہجی کی پہچان کروانا۔
حروف کی اشکال پر انگلی پھیر کر بچے کو نشیب و فراز سمجھانا۔
لکھتے ہوئے بچے کے ہاتھ کا خیال رکھیں کہ ہاتھ سیدھا ہو۔
بورڈ پر لائن لگا کر اشکال کا توازن بار بار سمجھائیں۔
بچے کی لکھائی میں گولائی کا خیال رکھیں، نوکدار نہ ہونے دیں۔
بورڈ پر سمجھاتے ہوئے پنسل اور ہاتھ چلانے کا طریقہ اچھی طرح سمجھائیں۔
روضہ الف میں پہچان لکھائی سے آگے ہو اور لکھتے ہوئے زبان سے بھی بولا جائے۔
روضہ ب میں الفاظ جوڑ کر پڑھنے کی مشق کروا کر پھر رواں پڑھائیں۔
اول و دوم
ابتدائی تین اسباق املا کے ساتھ بورڈ پر لکھ کر پڑھائے جائیں۔
تین اسباق کے بعد ان کا کتاب کا کام کرایا جائے۔
تینوں اسباق کے مشکل الفاظ کے معانی اور سوال جواب کاپی پر لکھوائے جائیں۔
سبق کا تعارف کروانے کے بعد مشکل الفاظ بورڈ پر لکھ کر پڑھنا لکھنا سکھائیں۔
سبق کی عبارت باری باری پڑھوائیں، پھر خود پڑھ کر سنائیں تاکہ روانی آئے۔
سبق کے ذریعے تربیت واضح کریں اور آخر میں خلاصہ بتائیں۔
سبق کی تربیت کے متعلق سوالات کر کے بچوں کو متوجہ کریں۔
بچوں کے جوابات کی روشنی میں مختصر تربیتی بات کریں۔
جتنا سبق پڑھا جائے اس پر کتاب میں تاریخ لگا دیں۔
املا کے الفاظ زبانی لکھوائیں۔
بچوں کے لکھنے کے دوران نگرانی کر کے غلطی موقع پر درست کروائیں۔
کمزور بچوں کو صحیح پڑھنا آنے تک ساتھ بٹھا کر سبق پڑھوایا جائے۔
مشقی سوالات کے علاوہ بھی مختلف سوالات پوچھے جائیں۔
بچوں کو کام سے پہلے کاپی پر حاشیہ، سبق کا نام اور تاریخ لکھنا سکھائیں۔
مشقی سوالات پہلے زبانی بتائیں پھر بورڈ سے کاپی پر لکھوائیں۔
سوالات کے جوابات کلاس میں یاد کروا کر اگلے دن لازمی سنیں۔
کاپی چیک کرتے ہوئے املا کی باریک غلطیوں کی بھی نشاندہی کریں۔
بچے کی لکھائی کی غلطیاں دوبارہ املا کے کام میں شامل کریں۔
نقطے زیر زبر جیسی غلطیوں پر خصوصی توجہ دیں۔
سوم و چہارم
سبق کا تعارف کروانے کے بعد عبارت باری باری پڑھوائیں، پھر خود پڑھیں۔
سبق شروع کرنے سے ایک دن پہلے بچوں کو گھر سے پڑھ کر آنے کا کہیں۔
خود پڑھتے ہوئے تربیتی نکات واضح کرتے جائیں۔
سبق کی تربیت کے متعلق سوالات کر کے بچوں کو متوجہ کریں۔
بچوں کے جوابات کی روشنی میں مختصر تربیتی بات کریں۔
مشکل الفاظ کو املا کے لیے انڈر لائن کرتے جائیں۔
مشکل الفاظ کے معنی نقل کروا کر یاد کرنے کا کام دیں اور اگلے دن املا کی اطلاع دیں۔
آخر میں سبق کا خلاصہ بتائیں۔
اگلے دن املا میں پیرا لکھوائیں اور علامات کی پہچان تدریجاً خود بچوں سے کروائیں۔
سوم میں املا صرف الفاظ کا ہوگا۔
بچوں کے لکھنے کے دوران نگرانی کر کے غلطی موقع پر درست کروائیں۔
عبارت پڑھاتے ہوئے تفہیمی سوال ساتھ کریں تاکہ مشقی سوالات کے لیے ذہن تیار ہو۔
اعراب کا سوال خوش خطی میں دینا بہتر ہے۔
مشقی سوالات کی زبانی املا کروائیں اور بعد میں چیک کریں۔
ایک دن جوابات یاد کروا کر اگلے دن لازمی سنیں۔
ہفتے میں تین دن خوش خطی مقرر کر کے بورڈ پر لائن سے اشکال کا توازن سکھائیں۔
پنجم اور اس سے آگے کی جماعتوں کا طریقہ یہ ہے۔
سبق کا تعارف۔
باری باری عبارت پڑھوا کر آخر میں سبق کا خلاصہ بچوں سے پوچھیں۔
استاد خود سبق پڑھیں تاکہ بچے روانی اور لب و لہجہ سمجھ سکیں۔
سبق میں موجود تربیتی نکات کو واضح کریں۔
سبق کی تربیت کے متعلق سوالات کر کے بچوں کو متوجہ کریں۔
بچوں کے جوابات کی روشنی میں مختصر تربیتی بات کریں۔
اعراب لگانے کا کام گھر کے کام میں دے کر اگلے دن لغت سے سمجھائیں۔
الفاظ کے معانی بھی بچے خود تلاش کریں۔
زبان دانی اور تفہیم کا کام رفتہ رفتہ بچوں سے خود کروایا جائے۔
جواب کو محض عبارت کی نقل نہ بنا کر سوال کے مطابق ڈھال کر لکھنا سکھائیں۔
تفہیم میں الفاظ مختلف ہوں مگر جواب درست ہو تو قبول کیا جائے۔
ہفتے میں کم از کم دو دن اردو ادب پڑھائیں اور روز یاد کروا کر سنیں۔
ہفتے میں دو دن خوش خطی کا کام دیں اور ضرورت پر خود بھی سکھائیں۔
کبھی کبھار بچوں کو مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کے لیے کہا جائے۔
پنجم سے نظموں اور ششم سے تمام اشعار کی تشریح کروائی جائے۔
بچوں کو نثر، تشریح، خلاصہ خود لکھنا سکھا کر استعداد پیدا کریں۔
ہشتم جماعت سے تمام اسباق کا خلاصہ بچے خود لکھیں۔
اسلامیات
اول
اول میں شروع میں سبق وائٹ بورڈ پر لکھ کر ایک ایک لفظ الگ پڑھایا جائے۔
طلبہ ساتھ ساتھ پڑھیں اور ہر لفظ پر انگلی رکھیں۔
بچے خود پڑھنا سیکھنے تک بار بار مشق کروائی جائے۔
پہلے شروع سے آخر تک پڑھایا جائے، پھر آخر سے شروع تک سنا جائے۔
بچوں کو بار بار الفاظ دیکھنے کی طرف متوجہ کیا جائے۔
مشکل الفاظ کا مطلب سمجھایا جائے اور سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
بچے خود پڑھنے لگیں تو کتاب پر انگلی رکھوا کر پڑھایا جائے۔
جماعت دوم
دوم میں شروع میں ذی استعداد بچوں سے پڑھوا کر باقیوں کا حوصلہ بڑھائیں۔
مشکل الفاظ کے مطلب پوچھتے اور بتاتے ہوئے فرداً فرداً بچوں سے پڑھوایا جائے۔
تمام جماعتیں
احادیث، اسمائے حسنیٰ اور ان کا ترجمہ زبانی یاد کروایا جائے۔
سبق کا تعارف کروائیں۔
سبق پڑھانے سے پہلے اہم نکات وائٹ بورڈ پر لکھ کر سمجھائے جائیں۔
سبق کا مرکزی خیال عبارت پڑھانے سے پہلے سمجھا دیا جائے۔
مشکل الفاظ بورڈ پر لکھ کر پڑھنا سکھائیں اور معانی سمجھائیں۔
ایک بچہ پڑھے تو باقی کتاب پر انگلی رکھ کر سنیں تاکہ کمزوروں کو بھی پڑھنا آ جائے۔
سبق کی تربیت کے متعلق سوالات کر کے بچوں کو متوجہ کریں۔
بچوں کے جوابات کی روشنی میں مختصر تربیتی بات کریں۔
سبق کا مواد ہی اچھی طرح سمجھائیں، زیادہ معلومات نہ دیں۔
سبق سے باہر کے سوال پر ضرورت ہو تو مختصر جواب دیں۔
کوئی سنی سنائی یا غیر مستند بات بیان نہ کریں۔
سبق سے متعلق مستند واقعات بچوں کو سنائے جا سکتے ہیں۔
سبق پڑھاتے ہوئے مقصود عمل کی ترغیب دیں تاکہ بچے شوق سے عمل کریں۔
بچوں سے وقتاً فوقتاً عمل کی بہتری کی کارگزاری لیتے جائیں۔
نہ سمجھ آنے والی بات پوچھنے کے لیے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
مشقی سوالات کے جوابات بچوں سے دو تین بار کہلوا لیں۔
درست، غلط، خالی جگہ خود حل کروانے کی کوشش کریں۔
جوابات کتاب سے خود نکالنے کی مشق کروائیں اور بورڈ پر لکھ کر لکھوائیں۔
اول دوم کے جوابات ایک دو لائن سے زیادہ نہ ہوں، لمبے جواب خود مختصر کریں۔
پانچویں اور بڑی جماعتوں میں بورڈ کی بجائے بچوں کو املا کروائیں اور چیک کریں۔
بڑی جماعتوں میں بچے کتاب کی نقل کے بجائے اپنے الفاظ بھی استعمال کریں۔
سبق کے مقصد اور ہدایت کے مطابق بچے کی ذہن سازی کریں۔
دیا گیا ہوم ورک اگلے دن ضرور چیک کریں۔
معاشرتی علوم
سبق کا مطالعہ کر کے اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے۔
عبارت پڑھانے سے پہلے عنوان کے ذریعے مختصر تعارف کروایا جائے۔
عبارت پڑھاتے ہوئے مشکل باتیں آسان الفاظ میں ذہن نشین کروائی جائیں۔
معاشرتی علوم پڑھاتے ہوئے اسلامی تعلیمات سے ٹکراؤ والے سوالات نہ کروائے جائیں۔
بچوں کی سمجھ کو مشقی سوالات حل کرنے کے قابل بنایا جائے۔
مشق پہلے زبانی حل کروائی جائے، پھر بورڈ پر لکھ کر لکھوائی جائے۔
حل کرواتے وقت بچوں سے سوال پوچھ کر ان کی استعداد بڑھائی جائے۔
مشقی سوالات بچوں کو جماعت میں یاد کروانے کی کوشش کی جائے۔
انگلش
روضہ الف و ب
روضہ الف میں حروفِ تہجی کی پہچان اور آواز کی مشق اچھی طرح ہونی چاہیے۔
تصویروں سے الفاظ اور ابتدائی آواز سے حرف پہچاننا سکھائیں۔
روضہ ب میں لفظ توڑ کر سپیلنگ سوچنے کی عادت ڈالیں۔
بچے روزمرہ جملے اور اپنا تعارف انگلش میں کروانا سیکھ جائیں۔
انگلش ہدایات سن کر ان پر عمل کرنے کی مشق کروائی جائے۔
اول دوم
اول و دوم میں بچوں کو روانی سے لکھنا پڑھنا سکھانا سب سے اہم ہے۔
ابتدائی تین اسباق سپیلنگ کے ساتھ بورڈ پر لکھ کر پڑھائیں۔
ہر لفظ بچے سپیلنگ کر کے پڑھیں پھر دیکھ کر لکھیں اور بولتے بھی رہیں۔
اساتذہ بچوں کے ساتھ پڑھ کر تلفظ درست کروائیں۔
پہلے تین اسباق کی ریڈنگ، پھر مشق اور سوال جواب حل کروائے جائیں۔
باقی اسباق میں بچے خود پڑھنے کی کوشش کریں۔
مشکل الفاظ کو حصوں میں توڑ کر آوازوں سے مکمل لفظ بنانے کی مشق کروائی جائے۔
مشکل الفاظ پہلے بچے خود پڑھیں پھر استاد درست تلفظ سے دہروائیں۔
سبق سے پہلے مشکل الفاظ بورڈ پر لکھوا کر پڑھوائیں پھر سپیلنگ یاد کروائیں۔
سبق سب بچوں سے پڑھوایا جائے اور گھر پر پڑھنے کا کام بھی دیا جائے۔
سبق کے جملوں کو عملی طور پر کر کے دکھایا جائے اور نئے جملے بنوائے جائیں۔
prepositions عملاً دکھا کر بچوں سے دوسری چیزوں کے جملے بنوائے جائیں۔
بار بار آنے والے الفاظ کے معنی بچوں سے پوچھے جائیں تاکہ یاد ہو جائیں۔
آسان الفاظ کا ترجمہ بتا کر پورے سبق کا ترجمہ ایک بار سنا دیں۔
سوال سمجھا کر پہلے اردو جواب لیں پھر اسی کی انگلش بار بار کہلوائیں۔
سوالات اور جوابات بورڈ پر لکھ کر بچوں سے کاپی پر لکھوا کر یاد کروائیں۔
سبق کے دوران بچوں سے مستقل انگلش میں گفتگو کریں۔
سوالات کی عبارت بھی بچوں سے پڑھوا کر خود سمجھنے کی مشق کروائیں۔
بچوں کے لکھنے کے دوران نگرانی کر کے غلطی موقع پر درست کروائیں۔
سوم چہارم
سبق سے پہلے مشکل الفاظ بورڈ پر لکھوا کر پڑھوائیں پھر سپیلنگ یاد کروائیں۔
الفاظ کے معنی لکھوائے اور یاد کروائے جائیں۔
سبق سب بچوں سے پڑھوایا جائے اور گھر پر پڑھنے کا کام بھی دیا جائے۔
سبق پڑھتے ہوئے بچوں سے خود ترجمہ کروانے کی کوشش کریں۔
جو یاد کروائیں اسے اگلے دن ضرور سنیں۔
سبق میں سے ایک دو پیراگراف کی زبانی املا لکھوائیں۔
چہارم کے بچے پیراگراف کا ترجمہ لکھنا بھی سیکھیں۔
بچوں کے لکھنے کے دوران نگرانی کر کے غلطی موقع پر درست کروائیں۔
مشقی سوالات میں بچوں پر زیادہ بوجھ ڈال کر پھر درست حل لکھوا دیں۔
سوالات میں صرف چند نہیں بلکہ تمام بچوں کو جواب دینے کا موقع دیں۔
گرامر سادہ جملوں سے سمجھائی جائے اور بچے خود جملے بنائیں۔
سوم میں creative writing میں بچے خود سے جملے بنائیں جو مل کر پیراگراف بنے۔
چہارم میں بچے خود سے جملے بنا کر پیراگراف بنائیں۔
بچے جزوی الفاظ کے معانی سے پورے جملے کا مطلب سمجھنے کی مشق کریں۔
پنجم تا ہشتم
سبق پڑھوا کر ترجمہ کرنے کا کہیں اور نامعلوم الفاظ انڈر لائن کریں۔
ان الفاظ کے معنی بچہ خود ڈکشنری سے دیکھ کر یاد کرے۔
ڈکشنری سے معنی ڈھونڈنے کا طریقہ سمجھا کر مشق کروائیں۔
تمام بچے سبق روانی سے پڑھنے اور ترجمہ کرنے کے قابل ہو جائیں تو مشقی سوالات کروائیں۔
سبق کی املا اور زبانی ترجمہ کاپی پر لکھوائیں۔
مشکل الفاظ کا انگلش ترجمہ بھی لکھوائیں۔
مشقی سوالات میں بچوں پر زیادہ بوجھ ڈال کر پھر درست حل لکھوا دیں۔
سوالات میں صرف چند نہیں بلکہ تمام بچوں کو جواب دینے کا موقع دیں۔
انگلش گرامر کی ہفتے میں کم از کم دو دن اچھی طرح مشق کروائیں۔
بچوں کو انگلش الفاظ کے انگلش مترادفات بھی یاد کروائے جائیں۔
انگلش پڑھاتے ہوئے کتاب کے علاوہ خود مشق بنا کر ذہن نشین کروائیں۔
سبق میں خلافِ شرع باتوں کی وضاحت خود بچوں سے کروائیں۔
پیریڈ کے دوران استاد اور طلبا مکمل انگلش بولنے کی کوشش کریں۔
بچہ غلط بولے تو ٹوکنے کی بجائے حوصلہ افزائی کریں۔
بچوں سے کبھی کبھی خود سے لکھ کر بولنے کی مشق بھی کروائیں۔
سائنس
سبق کے شروع میں اسم و آیت کا ترجمہ، تعارف اور سبق سے ربط سمجھائیں۔
سبق پڑھانے سے پہلے عنوان کے بنیادی سوالات کر کے بچوں کا ذہن استعمال کروائیں۔
مشکل الفاظ بورڈ پر لکھ کر کاپی میں لکھوائیں اور تمام بچوں سے پڑھوا کر سپیلنگ یاد کروائیں۔
عنوان پہلے اردو میں سمجھا کر سوالات سے تصدیق کریں کہ بچے سمجھ چکے ہیں۔
پھر سبق پڑھائیں، عبارت باری باری پڑھوائیں اور مشکل الفاظ میں مدد کریں۔
چھوٹے بچوں کو گھر پر ریڈنگ کا کام دیں۔
معلوماتی جملوں پر خود سوال بنا کر انگلش میں پوچھیں اور بچوں سے دہروائیں۔
شروع کے سوالات کے جوابات پڑھاتے ہوئے ساتھ ساتھ سمجھاتے جائیں۔
اہم نکات خود دہرا کر بورڈ پر لکھیں، پھر بچوں سے ہم آواز دہروائیں۔
مشق حل کروا کر جوابات جماعت میں یاد کروائیں، دہرائی کا کام گھر کے لیے دیا جا سکتا ہے۔
ڈایاگرام خود بورڈ پر بنا کر گولائی، نوک اور ہاتھ چلانا سکھائیں۔
پڑھائی گئی چیز کا عملی مشاہدہ اور تجربہ بچے کو کروائیں۔
سائنس پڑھاتے ہوئے مخلوقات پر غور سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا یقین مستحکم کریں۔
روزانہ کے کام پر کتاب پر تاریخ لکھ دیں۔
ریاضی
اول دوم میں نصاب سے زیادہ جمع، تفریق، ضرب، تقسیم کی بنیادی استعداد پر توجہ دی جائے۔
سوم سے بچوں کو آسان حساب زبانی تیزی سے کرنے کی مشق کروائیں۔
کاپی پر تاریخ، عنوان اور Rough Working کے لیے مقررہ جگہ لکھوائیں۔
سبق کو روزمرہ مثال یا کہانی کے ذریعے واضح کیا جائے تاکہ ذہن میں خاکہ بن جائے۔
مشقی سوالات سے پہلے کانسپٹ اچھی طرح سمجھایا جائے۔
بچوں سے سوالات مختلف انداز میں بار بار پوچھے جائیں۔
خود سے سوالات بنا کر پوچھیں اور ضرورت پر ہوم ورک بھی دیں۔
کاپی چیک کر کے بچوں کی غلطیوں کی نوعیت کے مطابق نئے سوالات بنائیں۔
جائزے میں کتاب کی مشقوں کی بجائے ہندسے تبدیل کر کے سوالات دیے جائیں۔
Word Problems لکھوائیں اور Statement کرواتے ہوئے اس کا خیال رکھا جائے۔
بڑی جماعتوں میں حل کے آخر میں Ans لکھوانے کی مشق کروائیں۔
ہر بچے کی ذہنی سطح کے حساب سے ٹیبل یاد کروائے جائیں۔
ریاضی کے اساتذہ بچوں سے نظم و ضبط کے متعلق مستقل مذاکرہ کریں۔
ہر جماعت میں مقررہ ٹیبل یاد کروا کر سوال حل کرتے ہوئے مشق کروائیں۔
سوال حل کرتے ہوئے ایک لائن میں صرف ایک step لکھیں۔
Carry کرتے ہوئے پہلے سے موجود ہندسے کاٹنے کی بجائے اوپر لکھیں۔
سوال و جواب لکھنے میں مناسب فاصلہ رکھیں۔
جواب Solution لکھوا کر شروع کروایا جائے اور ہر step برابر کے نشان سے شروع ہو۔
جماعتوں میں تدریس کی تقسیم
روضہ الف اور ب میں معلمات ہی پڑھاتی ہیں کیونکہ چھوٹے بچے ان سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں۔
جماعت اول میں ایک سیکشن معلمین اور ایک معلمات پڑھاتی ہیں۔
جماعت دوم میں لڑکے لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہیں اور معلمین پڑھاتے ہیں۔
جماعت سوم سے لڑکوں کو معلمین اور لڑکیوں کو معلمات پڑھاتی ہیں۔
باطنی تربیت کے متعلق
اساتذہ کے متعلق
نیت کی اصلاح کرتے رہنا
مکتب میں کام کرنے کی نیت محض اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔
اساتذہ کا عملی نمونہ بچوں کے سامنے ہو، اس لیے اپنی اصلاح اور دینی ترقی کی نیت ہو۔
مکتب کے کام کو دین کی احیاء کی فکر سمجھ کر اپنی صلاحیتوں کو اس کی بہتری کے لیے استعمال کرنا۔
اپنی اصلاح
اساتذہ کے لیے اپنی اصلاح کی فکر لازم ہے۔
مکتب میں اساتذہ کی اصلاح کے لیے درج ذیل ترتیبیں بنائی گئی ہیں
ہفتہ وار مذاکرہ
چھٹیوں میں تربیتی مذاکرے منعقد کیے جاتے ہیں۔
مطالعہ
چند مقررہ کتب کا مطالعہ تمام اساتذہ کے لیے دی گئی ترتیب کے مطابق ضروری ہے۔
اساتذہ پردہ، بیانات، کتابیں جیسے اعمال کو پابندی نہ سمجھ کر رضائے الٰہی کی نیت سے اختیار کریں۔
ہر کام میں رضائے الٰہی، اللہ کا بھروسہ اور غیر کے تاثر سے آزادی ملحوظ رہے۔
کام کو اللہ کی رضا سمجھ کر بھروسے پر کریں، ظاہری اسباب پر تکیہ نہ کریں اور دعا کریں۔
خاص مستورات کے لیے
معلمات پردے کا خصوصی اہتمام کریں جو اللہ کے خوف سے ہو اور گھر پر بھی برقرار رہے۔
باپ، بھائی، بیٹا، سسر، خاوند، بھانجا، بھتیجا ہی محرم ہیں، باقی تمام بالغ مرد نامحرم ہیں۔
پردے میں چہرے سمیت پورے جسم کا چھپانا واجب ہے۔
برقعہ غیر رنگدار، بغیر ڈیزائن اور کھلا ہو تاکہ جسم کی بناوٹ نمایاں نہ ہو۔
خاوند کے علاوہ کسی کے لیے زینت، زیور یا میک اپ جائز نہیں، حیا والا لباس اپنائیں۔
سر اور بالوں کا ڈھانپنا ہمیشہ ضروری ہے، مقررہ اسکارف کے مطابق پہنیں۔
بازار اور مردوں سے اختلاط والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں۔
منتظم سے رابطہ تحریری طور پر ہو، دیگر مرد ملازمین سے بات نہ کریں۔
شیطان سے بچاؤ کے لیے روزانہ دعا، ذکر اور مسنون دعاؤں کا اہتمام کریں۔
نمازوں کا اہتمام دھیان اور توجہ کے ساتھ کریں۔
روزانہ کم از کم آدھا پارہ تلاوت کریں۔
صبح شام درود، استغفار اور تیسرے کلمے کی ایک ایک تسبیح کریں۔
اصلاحی کتب کا مطالعہ کریں۔
اپنے اور بچوں کے لیے روزانہ دس منٹ دعا کریں۔
اساتذہ تربیتی بیانات میں شرکت اور دیے گئے سوالات کے جواب دینا ضروری سمجھیں۔
اساتذہ مکتب کے علاوہ اوقات میں بھی اپنی صحبت اور ماحول درست رکھیں۔
فارغ اوقات کو ذکر، دعا یا مطالعے میں صرف کریں اور روزانہ مطالعے کی پابندی کریں۔
معلمات کے گھر والوں کی رضامندی ضروری ہے، انہیں مکتب کی اہمیت سے آگاہ کریں۔
روزانہ کے کاموں کو اوقات کی تقسیم کے ساتھ مقررہ وقت پر کریں۔
امانت داری سے کام کرنا
مکتب کا وقت اور اشیاء اساتذہ کے پاس امانت ہیں، ان کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔
کسی جگہ لائٹ، پنکھا بلاوجہ نہ چلتا رہے، اس کا خیال رکھیں۔
کاغذ، قلم، مارکر سنبھال کر رکھیں اور ضرورت سے زائد استعمال نہ کریں۔
مکتب کی چیزوں کو ذاتی ضرورت میں استعمال نہ کریں۔
آیا اور معاونین کو ذاتی کاموں میں استعمال نہ کریں۔
لاپروائی کی وجہ سے کوئی چیز خراب نہ ہو۔
اپنا تمام وقت مکتب کے کاموں میں ہی استعمال کریں۔
اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کریں اور مکتب کے وقت میں کسی کام سے انکار نہ کریں۔
مکتب کے مقررہ اصولوں کے خلاف کوئی کام نہ کریں۔
صداقت کو اختیار کرتے ہوئے کام کرنا۔
ہر معاملے میں ہمیشہ سچ بولیں۔
اپنی غلطی کا خود اعتراف کریں۔
بشری تقاضے سے اصولوں سے انحراف ہو جائے تو خود نگران کو اطلاع کریں۔
کوئی دوسرا غلطی کی نشاندہی کرے تو اسے قبول کریں۔
بچوں کے ساتھ بھی ہمیشہ سچ بولیں۔
خود احتسابی
کیا آپ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر مکتب سے منسلک ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ کی رضا کے لیے کام بہترین طریقے سے کرنا ضروری ہے؟
کیا آپ مکتب میں خدمات انجام دے کر خوشی محسوس کرتے ہیں؟
کیا آپ نظریہ مکتب کو سمجھ کر اس سے متفق ہوچکے ہیں؟
کیا آپ مکتب کی طرف سے دی گئی ذمہ داریوں کو اطمینان کی حد تک پورا کرتے ہیں؟
کیا مکتب کی فکر کو اپنے جاننے والوں میں منتقل کرنے کی فکر بھی کرتے ہیں؟
کیا انتظامی کاموں کی انجام دہی کی ماہانہ رپورٹ جمع کروا رہے ہیں؟
کیا آپ روزانہ مکتب کے وقت سے دس منٹ پہلے پہنچ جاتے ہیں؟
کیا آپ آتے ہی حاضری لگاتے ہیں؟
آنے میں دیر ہو جائے تو معذرت کرتے ہیں؟
کیا آپ مکتب ہشاش بشاش پہنچتے ہیں؟
کیا آپ امیر مکتب کی ہدایات پر عمل کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں؟
ضرورت پر کام کے اوقات میں جانا پڑے تو اجازت لے کر نوٹ کروا کر جاتے ہیں؟
کیا آپ اپنا پیریڈ شروع ہونے سے پہلے تیار رہتے ہیں؟
کیا آپ پیریڈ سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں؟
کیا آپ اپنا سبق تیار کر کے پڑھاتے ہیں؟
کیا تربیتی موضوع کے بارے میں سوچ کر جاتے ہیں؟
کیا کمرہ جماعت میں داخل ہوتے ہی سلام کرتے ہیں؟
کیا کمرے کی حالت دیکھ کر بچوں کی نشست درست کرواتے ہیں؟
کیا زائد کتابیں بستے میں رکھوا کر اپنی نگرانی میں کتاب کاپی نکلواتے ہیں؟
کیا لکھوانے سے پہلے بچوں کی کاپیاں اپنی نگرانی میں تیار کرواتے ہیں؟
کیا بچوں سے بسم اللہ کا اہتمام کروایا جاتا ہے؟
کیا بورڈ پر لکھنے سے پہلے تاریخ لکھ کر بچوں سے لکھوا لیتے ہیں؟
کیا بورڈ پر عنوان واضح لکھ کر بچوں سے کاپیوں پر لکھوایا جاتا ہے؟
کیا ہفتہ وار مسنون دعا بورڈ پر لکھی رہنے کا اہتمام کیا جاتا ہے؟
دعا بورڈ پر نہ ہو تو متعلقہ استاد کو اس بارے میں فکر مند کیا جاتا ہے؟
کیا بچوں کو اپنی حاجات کے لیے دعا کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے؟
کیا بچوں کی کھانے اور کھیل کے دوران مکمل نگرانی کی جاتی ہے؟
کیا آپ کبھی کبھار بچوں کو مارتے ہیں؟
کیا آپ ڈانٹ کر سمجھانا زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں؟
کیا آپ غصے سے کلاس سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں؟
پڑھنے کے دوران بچوں کے لہجے کو درست کروانے کی فکر کی جاتی ہے؟
لکھنے کے دوران چکر لگا کر بچوں کی لکھائی درست کروانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں؟
کام جلدی ختم کرنے والے بچوں کو مصروف رکھنے کا کوئی طریقہ اختیار کرتے ہیں؟
کیا بچوں کا کام چیک کرنے کے لیے خود ان کے پاس جاتے ہیں یا بلاتے ہیں؟
کیا آپ بچوں سے کمرہ جماعت کی صفائی کا اہتمام کرواتے ہیں؟
کیا آپ شرارتی بچوں سے پیار سے بات کرتے ہیں؟
کیا آپ بچوں کی غلط حرکتوں پر چیخنا مؤثر سمجھتے ہیں؟
تنگ کرنے والے بچوں کو علیحدگی میں سمجھاتے ہیں؟
کیا بچے آپ سے محبت کرتے ہیں؟
کیا بچے آپ کا ادب کرتے ہیں؟
کیا بچے اپنی بات آپ کو بتا کر خوشی محسوس کرتے ہیں؟
کیا آپ سبق کو بچوں کے لیے دلچسپ بنانے کی کوشش کرتے ہیں؟
کیا کبھی بچوں سے غیر نصابی باتیں بھی کرتے ہیں؟
کیا کمزور بچوں کو حوصلہ افزائی سے آگے لانے کی کوشش کی جاتی ہے؟
جماعت کی اکثریت میں خرابی نظر آئے تو کیا پڑھانا جاری رکھتے ہیں؟
اکثر بچے نظم و ضبط کے خلاف ہوں تو کیا پہلے اسے درست کرنے کی فکر کرتے ہیں؟
کیا تمام بچوں سے آپ کا تعلق یکساں ہے؟
کیا آپ تربیتی موضوع کے متعلق ساتھیوں سے مشورہ کرتے ہیں؟
کیا ہر سبق کے ذریعے بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کی کوشش کرتے ہیں؟
کیا آپ مکتب کی ہدایات کا مطالعہ ہر مہینے کرتے ہیں؟
مطالعہ نہ کر سکیں تو معذرت کرتے ہیں؟
کیا آپ مکتب کی تمام اسلامیات کا مطالعہ کر چکے ہیں؟
کیا کتابوں کی مسنون دعائیں آپ کو یاد ہیں اور ان کا اہتمام کرتے ہیں؟
کیا آپ کتابوں کے اسباق کی عملی مشق کرتے ہیں؟
کیا آپ اپنے ساتھیوں سے گھل مل کر رہتے ہیں؟
کیا آپ بچوں کی صفائی، نظم، یونیفارم اور بیگ کی روزانہ فکر کرتے ہیں؟
کیا بچوں کی کاپیاں آپ روزانہ چیک کرتے ہیں؟
کسی بچے کا کام ادھورا رہ جائے تو اسے مکمل کرواتے ہیں؟
کیا کاپی چیک کر کے اس پر تاریخ لگاتے ہیں؟
کیا کتاب پر جتنا سبق پڑھا گیا اس کے آگے تاریخ لگاتے ہیں؟
کیا بچوں کی لکھائی اور یاد کا کام مکتب ہی میں مکمل کروانے کی کوشش کرتے ہیں؟
کیا بچوں کو کتابوں کی حفاظت اور سلیقے سے رکھنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے؟
کیا ہوم ورک کی واضح ہدایت چھوٹے بورڈ پر لکھی جاتی ہے؟
بچے ڈائری پر ہوم ورک نوٹ کریں تو دیکھ لیتے ہیں کہ درست لکھا گیا؟
کیا جائزے کی تیاری مکتب میں ہی کروائی جاتی ہے؟
کیا جائزے کی اطلاع ایک دن پہلے گھر دی جاتی ہے؟
کیا آپ پندرہ روزہ ٹیسٹ باقاعدگی سے لے کر رپورٹ چیک کروا رہے ہیں؟
کام مکمل کرنے اور بہتر کرنے والوں کی شاباش سے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے؟
بچوں کے ساتھ ہمیشہ حکمیہ انداز اختیار کیا جاتا ہے؟
چھٹی کر کے آنے والے بچے کا رہ جانے والا کام مکمل کروایا جاتا ہے؟
بچوں کو ہر دفعہ کام کی کمی پر سزا دی جاتی ہے؟
کیا بچے میں کمزوری پیدا کرنے والے عوامل پر غور کرتے ہیں؟
کیا کہانیوں اور حکایات کے ذریعے بچے کی ذہن سازی کی جاتی ہے؟
کیا اپنی علمی استعداد، لکھائی اور لہجے کی بہتری کی کوشش کرتے ہیں؟
کیا آپ چھٹی کے بعد پندرہ منٹ تک بچوں کی نگرانی کرتے ہیں؟
کیا آپ چھٹی کی پیشگی اطلاع دیتے ہیں اور ضرورت پر ایڈجسٹ کر لیتے ہیں؟
کیا مکتب کے مذاکروں میں اپنی ضرورت سمجھ کر شامل ہوتے ہیں؟
کیا ان مذاکروں کے مطابق اپنے عمل کا محاسبہ کرتے ہیں؟
اپنے اندر کمی محسوس ہو تو اس کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں؟
کیا روزانہ تسبیحات و تلاوت کے لیے وقت مقرر کر رکھا ہے؟
کیا روزانہ مطالعے کا کوئی وقت مقرر کر رکھا ہے؟
کیا آپ کے گھر والوں کو آپ میں مثبت تبدیلی محسوس ہوتی ہے؟
کیا گھر والوں کے ساتھ آپ کے رویے میں بہتری آئی ہے؟
کیا آپ کا تعلق مکتب کے دیگر اساتذہ کے ساتھ دوستانہ ہے؟
کسی ساتھی استاد کی کمی دیکھ کر آپ نے اس کے لیے دعا کی؟
کسی ساتھی استاد کی کمی دیکھ کر آپ نے اسے محبت سے سمجھایا؟
ساتھی استاد نے کمی بتائی تو کیا آپ نے خوشی سے اسے دور کیا؟
کیا آپ سمجھانے والے کو اپنا محسن سمجھتے ہیں؟
کیا آپ بچوں کو اپنا محسن سمجھتے ہیں؟
کیا بچوں کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بن کر خوشی محسوس کرتے ہیں؟
کیا آپ بچوں اور مکتب کے لیے روزانہ دعا کرتے ہیں؟
کیا مکتب کی طرف سے مجوزہ کتابوں کا مطالعہ کر چکے ہیں؟
کیا اسلامیات کی مکتب کی تمام کتابیں آپ پڑھ چکے ہیں؟
کیا مکتب کے اوقات میں کسی اور کام کی فکر بھی کرتے ہیں؟
کیا پڑھاتے ہوئے موبائل استعمال کرتے ہیں؟
کیا مکتب میں آپس میں باتیں کرتے ہوئے مقامی زبان استعمال کرتے ہیں؟
کیا ڈائریاں وقت پر لکھ لیتے ہیں؟
کیا بچوں کے والدین کے متعلق اچھا گمان رکھتے ہیں؟
کیا والدین سے ملاقات میں بچوں کی اچھائی اور غلطی دونوں کا تذکرہ کرتے ہیں؟
کیا آپ لباس کی سادگی کا خیال رکھتے ہیں؟
کیا آپ لباس اور جوتے فیشن کے مطابق پہنتی ہیں؟
کیا آپ سکارف کا مستقل اہتمام کرتی ہیں؟
کیا آپ کا برقعہ شرعی تقاضوں اور مکتب کی ہدایات کے مطابق ہے؟
کیا آپ مردو عورت کے اختلاط والی جگہوں سے پرہیز کرتے ہیں؟
کیا آپ تمام نامحرموں سے پردہ کرتے ہیں؟
کیا آپ رسم و رواج میں شرکت سے پرہیز کرتے ہیں؟
کیا آپ اپنے دل میں دنیا کی محبت میں کمی محسوس کرتے ہیں؟
کیا اللہ کی نافرمانی والی جگہ سے آپ ہٹ جاتے ہیں؟
طلباء کے متعلق
نصاب برائے تربیت
دوم
نصاب تربیت
قرآن مجید پڑھنے اور سننے کے آداب یہ ہیں۔
مسنون دعائیں
نماز کا طریقہ اور زبانی یاد کروایا جائے۔
وضو کا عملی طریقہ
کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت مع ترجمہ یاد کروایا جائے۔
ارکان اسلام
غلطی ماننا اور معذرت کرنا سکھایا جائے۔
اسمائے حسنیٰ
سوم
نماز کے فرائض
وضو کے فرائض و مفسدات سکھائے جائیں۔
روزہ
سلام و مصافحے کے آداب سکھائے جائیں۔
نمازوں کی رکعات اور اوقات کی پہچان کروائی جائے۔
گفتگو کے آداب
قرآن مجید پڑھنے کے فوائد و آداب سکھائے جائیں۔
کلمہ تمجید اور کلمہ توحید مع ترجمہ یاد کروایا جائے۔
چہارم
ایمان مفصل و ایمان مجمل مع ترجمہ یاد کروایا جائے۔
نماز کے فرائض و واجبات سکھائے جائیں۔
نماز باجماعت کی اہمیت سکھائی جائے۔
اسلامی مہینے
ذکرِ الٰہی
علم کے آداب
نماز کا دھیان
روزے کی اہمیت
حیا
سچائی
آپس کی محبت
پنجم
جھوٹ سے بچنا
غصے سے بچنا
ضد سے بچنا
سنت کی اہمیت
مفسداتِ نماز
زکوٰۃ
دعا
حقیقی علم
پردے کی اہمیت و ترغیب دی جائے۔
ششم
بلوغت کی علامات بچیوں کو سکھائی جائیں۔
مسجد و گھر کی صفائی
زبان کی حفاظت
تیمم
علما کا ادب
شرک
رسالت
کھلا دشمن
توبہ
حج
اخلاقِ حسنہ کی اہمیت
ہفتم
طہارت
پانی کی پاکی
استنجا کے مسائل
اچھی صحبت
حیا
قانون کی پابندی
محنت میں عظمت
دنیا کی حقیقت
نفلوں کا اہتمام
مسافر کی نماز
نماز جنازہ
احکام کی اقسام
حقیقی عزت
بدگمانی سے بچنا
رسم و رواج
ہشتم
بری صحبت
سہل پسندی
نافرمانی کے نقصانات
مرد و عورت کا مقام
مشورہ
گالی
موت اور قبر
قیامت
قرآن مجید کے حقوق
معذور کے احکام
اللہ تعالیٰ کی محبت
بلوغت کے احکام
غسل کے فرائض اور سنت طریقہ سکھایا جائے۔
بنیادی تربیتی نکات اول تا پنجم یہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذریعے اس کی محبت اور عظمت پیدا کرنا۔
جماعت اول
جماعت دوم
جماعت سوم
جماعت چہارم
جماعت پنجم
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور اتباع کا شوق پیدا کرنا۔
جماعت اول
جماعت دوم
جماعت سوم
جماعت چہارم
جماعت پنجم
آخرت کی بڑائی اور دنیا کی حقارت دل میں بٹھانا۔
جماعت اول
جماعت دوم
جماعت سوم
جماعت چہارم
جماعت پنجم
نماز کی اہمیت اور اس کے تمام متعلقات کا خیال رکھنا۔
جماعت اول
جماعت دوم
جماعت سوم
جماعت چہارم
جماعت پنجم
مسنون دعاؤں کا اہتمام اور ہر موقع پر اللہ تعالیٰ سے مانگنا۔
جماعت اول
جماعت دوم
جماعت سوم
جماعت چہارم
جماعت پنجم
سچ بولنا
جماعت اول
جماعت دوم
جماعت سوم
جماعت چہارم
جماعت پنجم
میڈیا سے بیزاری
جماعت اول
جماعت دوم
جماعت سوم
جماعت چہارم
جماعت پنجم
ادب
جماعت اول
جماعت دوم
جماعت سوم
جماعت چہارم
جماعت پنجم
کسی کو تکلیف نہ دینا
جماعت اول
جماعت دوم
جماعت سوم
جماعت چہارم
جماعت پنجم
تواضع
جماعت اول
جماعت دوم
جماعت سوم
جماعت چہارم
جماعت پنجم
ظاہری تربیت کے متعلق
اساتذہ کے متعلق
اساتذہ کا طلبا سے تعلق یہ ہونا چاہیے۔
بچے کے دل میں استاد کی محبت جتنی ہوگی اتنا ہی وہ استاد کی بات کو اہمیت دے گا۔
استاد بچے سے محبت کرے اور اسے اپنے لیے صدقہ جاریہ کا ذریعہ سمجھے۔
استاد بچے کا سچا خیرخواہ ہو اور اس کی تکلیف اور جذبات کا احترام کرے۔
اساتذہ کا اپنا عمل
بچہ اساتذہ کے عمل سے سیکھتا ہے، استاد کے ظاہر و باطن کا براہ راست اثر بچے پر پڑتا ہے۔
استاد بچے سے محبت کرے گا تو بچہ بھی استاد سے محبت کرے گا۔
استاد بچے کی بات کو اہمیت دے گا تو بچہ بھی استاد کی بات کو اہمیت دے گا۔
استاد صفائی کا خیال رکھے گا تو بچہ بھی صفائی کا خیال رکھے گا۔
استاد نظم و ضبط کا پابند ہوگا تو بچہ بھی پابند بنے گا۔
استاد سچ بولے گا تو بچہ بھی سچ بولے گا۔
استاد اپنی غلطی کا اعتراف کرے گا تو بچہ بھی اعتراف کرے گا۔
استاد میں صبر، تحمل اور ادب ہوگا تو بچے میں بھی یہ چیزیں پیدا ہوں گی۔
بچے میں جو چیز دیکھنا چاہیں وہ پہلے اپنے اندر پیدا کر کے عملی نمونہ بنیں۔
بچے کی تربیت کے مراحل یہ ہیں۔
سب سے پہلے بچے کو کسی چیز کا علم دیا جاتا ہے۔
پھر اس علم پر عمل کی اہمیت بتائی جاتی ہے۔
پھر اس علم پر عمل کرنے کا طریقہ بتایا جاتا ہے۔
پھر عمل کر کے دکھایا جاتا ہے۔
پھر بچے سے عمل کروا کر غلطی کی اصلاح کی جاتی ہے۔
پھر بار بار یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ وہ عمل کرتا رہے۔
عمل پر آنے کے بعد بھی نگرانی رکھی جاتی ہے کہ چھوٹ نہ جائے۔
مکتب میں جو تربیت کی ترتیبیں ہیں ان کی تمام اساتذہ کے لیے پابندی لازم ہیں۔
اسلامیات کے اسباق کے مطابق بچے کی ذہن سازی اور تربیت کی جائے۔
تمام کتابوں کے اسباق میں سے غیر شرعی مواد صاف کر کے شرعی ذہن سازی کی جائے۔
دس تربیتی نکات کی ہفتہ وار ترتیب پر روزانہ بچوں سے دو چار منٹ بات کی جائے۔
روزانہ وقفے سے متصل عملی مشقوں میں بچوں سے مختلف اعمال عملاً کروائے جائیں۔
ہر جماعت میں ہفتہ وار مسابقتی چارٹ لگا کر اول آنے والے بچے کا نام لکھا جائے۔
ہر جماعت میں نماز کی حاضری کے چارٹ لگا کر روزانہ حاضری لگوائی جائے۔
تعلیمی و تربیتی نظام میں استاد کا کردار سب سے اہم ہے، بچے کی کمی دراصل استاد کی کمی ہوتی ہے۔
بچوں کو ہر مسئلے پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی عادت ڈالیں اور جھگڑے میں غلطی مان کر معافی منگوائیں۔
بچے کی غلط عادت پر اسے سب کے سامنے نہ ڈانٹیں بلکہ علیحدگی میں سمجھائیں۔
بچے کو ڈرانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے جذبے سے درست کام کی ترغیب دیں۔
بچوں میں تصویر، گانا، ٹی وی، موبائل جیسی چیزوں سے نفرت پیدا کریں۔
مکتب کے نظام میں عمل سے عمل اور یقین سے یقین منتقل ہوتا ہے، اساتذہ کا عمل ہی بچوں میں منتقل ہوگا۔
ہر سبق کو اللہ تعالیٰ کے تعارف اور دینی تربیت کا ذریعہ بنائیں۔
بچے کو کفار کی ایجادات کے تاثر سے بچائیں، اصل محسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
بچوں کو شاباش یا ڈانٹنے میں شدت سے بچیں، عام انداز اپنائیں۔
شاباش کے لیے جزاک اللہ، ماشاء اللہ جیسے الفاظ استعمال کریں، سٹار یا مہر نہ لگائیں۔
کمزور بچوں پر زیادہ توجہ دیں اور حوصلہ افزائی کریں۔
نظم و ضبط کا خود اہتمام کریں اور بچوں کی مکمل نگرانی کریں، انہیں اکیلا نہ چھوڑیں۔
بچوں سے کبھی کبھار گھر کی تربیت کے بارے میں پوچھیں تاکہ تربیت ہر وقت کے لیے ہونے کا احساس رہے۔
روزانہ تلاوت کے دوران ادب سے سننے کی ترغیب دیں اور بچوں کی زبان میں اجتماعی دعا کروائیں۔
بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے کھیل سکھائیں اور ہفتے میں ایک دو بار پی ٹی کروائیں۔
ہفتہ وار تربیتی موضوع جماعتوں میں چلائیں اور جمعرات کے مشورے میں اس کا فائدہ رکھیں۔
کھانے کی نگرانی میں بچوں سے کھانے کے آداب کروائیں اور کھانا شیئر کرنے سے روکیں۔
سوم سے چھوٹے بچوں کی برتھ ڈے پارٹی کی اجازت نہیں، بڑی جماعتوں کے لیے منتظم سے اجازت لازم ہے۔
نماز پڑھانے سے پہلے روزانہ نماز کے فضائل، آداب اور اہمیت کے بارے میں بات کریں۔
بچوں کو جاتے نکلتے وقت آرام سے چلنے اور قطار کی تلقین کریں۔
مختلف مواقع پر بچوں کو مسنون دعاؤں کی یاد دہانی کروائیں۔
بچوں کو دلچسپی کے لیے کبھی کبھار مثبت اور عمر کے مطابق کہانی سنائی جا سکتی ہے۔
اساتذہ صرف مستند کتابوں سے پڑھی ہوئی اور مکتب کے نظریے کے مطابق بات کریں۔
روزانہ ایک دو جماعتوں کو باہر کھیلنے کا موقع دیں اور اسے علمی مشق کا ذریعہ بنائیں۔
بچوں کی تربیت کے لیے ہدایات یہ ہیں۔
مکتب کا نام ہی بتاتا ہے کہ یہ تربیتی ادارہ ہے اور بچے کی تربیت اولین مقصد ہے۔
تربیت سے مراد علم کو عمل میں تبدیل کرنا ہے۔
بچوں کی تربیت کے لیے دو بنیادی چیزیں ضروری ہیں جن کے بغیر تربیت ناممکن ہے۔
روزانہ نہا کر صاف کپڑے، صاف ٹوپی اور بند بٹن کے ساتھ آنا اور مسواک کا اہتمام کرنا۔
اساتذہ اپنی، بچوں کی اور ماحول کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
سٹاف روم میں ہر چیز ترتیب سے اور صاف ستھری ہو۔
بچوں کو کمرہ جماعت کی صفائی کی طرف متوجہ کریں اور ہفتہ وار بیگ ڈیسک صاف کروائیں۔
اساتذہ کی زیرِ استعمال چیزیں ترتیب سے اور صاف ہوں، برتن خود دھو کر رکھیں۔
روضہ الف، ب کے بچے آیا جی کی نگرانی میں قضائے حاجت اور استنجا سیکھیں۔
دسترخوان بچھانے اٹھانے کی ذمہ داری بچوں کو دی جائے، اساتذہ بھی ہاتھ بٹائیں۔
بچوں کے بال اور ناخن ہفتے میں دو بار چیک کریں، یونیفارم گندا ہو تو گھر اطلاع کریں۔
طلباء کے متعلق
نصاب برائے تربیت
دوم
صبح جلدی اٹھنا
سلام کے آداب
کھانے اور پینے کے آداب سکھائے جائیں۔
طہارت و صفائی
دوسروں کے گھر جانے کے آداب سکھائے جائیں۔
کتابوں کی حفاظت
سوم
بیت الخلا و استنجا کے آداب سکھائے جائیں۔
سونے کے آداب
اپنا کام خود کرنا
والدین سے حسن سلوک
مسجد کے آداب
وقت کی پابندی
شکریہ کے آداب
چہارم
مجلس کے آداب
راستے کے آداب
زندگی میں ترتیب
مسواک کے آداب
لباس کے آداب
چھینک، جمائی وغیرہ کے آداب سکھائے جائیں۔
پنجم
بات کرنے اور سننے کے آداب سکھائے جائیں۔
بڑوں کا ادب
والدین کی عظمت
ساتھیوں کے ساتھ برتاؤ سکھایا جائے۔
جلد بازی سے بچنا
سادگی
عملی مشقیں
عملی مشقوں کا مقصد بچوں کو کام کرنے کا طریقہ سکھانا ہے، بتانا نہیں۔
بچہ گھر سے نکلتے ہوئے بستہ چیک کرتا، والدہ سے سلام کر کے بایاں پاؤں باہر رکھ کر دعا پڑھتا ہے۔
مقصد: گھر سے نکلتے ہوئے سلام کرنا، دعا پڑھنا اور بایاں پاؤں باہر رکھنا سکھانا ہے۔
عملی مشق میں بچہ بیگ چیک کر کے سلام کرے، بایاں پاؤں باہر رکھے اور دعا پڑھے۔
سواری پر بیٹھنا
مقصد سواری پر بیٹھنے کا طریقہ اور دعا پڑھنا سکھانا ہے۔
فرضی موٹر سائیکل یا رکشے پر بچہ دایاں پاؤں پہلے رکھ کر بیٹھے اور سواری کی دعا پڑھے۔
سواری سے اترنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد سواری سے اترنے کا طریقہ سکھانا ہے۔
فرضی موٹر سائیکل یا رکشے سے بچے پیچھے سے آگے کی ترتیب میں باری باری اتریں۔
مکتب میں داخل ہونا
مقصد قطار بنانا اور سلام کرنا سکھانا ہے۔
فرضی رکشے سے اتر کر بچے قطار بنائیں اور استقبال والے کو سلام کر کے داخل ہوں۔
مکتب میں داخل ہونے کے بعد کمرہ جماعت تک کے آداب یہ ہیں۔
مقصد قطار، جوتے ریک میں رکھنا اور گیلری میں سلام کرنا ہے۔
بچے فرضی دروازے سے قطار میں داخل ہو کر جوتا ریک میں رکھیں اور گیلری میں سلام کرتے جائیں۔
کمرہ جماعت میں داخل ہونے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد اجازت لینا اور سلام کرنا ہے۔
بچہ دروازے پر اجازت لے کر سلام کر کے اپنی جگہ بیٹھے۔
راہداری میں چلنا
مقصد آرام سے چلنا، دھکا نہ دینا، سلام کرنا اور راستے میں باتیں نہ کرنا ہے۔
دو قطاروں میں بچے ایک دوسرے کو سلام کرتے ہوئے آرام سے گزریں، بات نہ کریں۔
بیت الخلا میں داخل ہونے کے آداب سکھائے جائیں۔
مقصد بیت الخلا میں داخل ہونے کا طریقہ سکھانا ہے۔
بچہ باہر کھڑا ہو کر دعا پڑھے اور بایاں پاؤں پہلے رکھ کر داخل ہو۔
قضائے حاجت کا طریقہ
مقصد بیت الخلا میں بیٹھنے کا طریقہ سکھانا ہے۔
بچہ فرضی فلش کے خاکے پر قمیض سمیٹ کر شلوار نیچے کر کے بیٹھے۔
بیت الخلا استعمال کرنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد پاکی حاصل کرنا اور پانی کا استعمال سکھانا ہے۔
اس کا طریقہ زبانی بتایا جائے گا۔
بیت الخلا سے باہر نکلنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد باہر نکلنے کا طریقہ اور دعا پڑھنا ہے۔
بچہ دایاں پاؤں باہر نکال کر دعا پڑھے اور ہاتھ دھو کر خشک کرے۔
مسجد جاتے ہوئے راستے کے آداب سکھائے جائیں۔
مقصد قطار سے دائیں طرف آرام سے چلنا ہے۔
بچے قطار بنا کر راستے کی دائیں طرف آرام سے چلیں، بھاگیں نہیں۔
مسجد میں داخل ہونے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد دایاں پاؤں پہلے داخل کرنا اور دعا پڑھنا ہے۔
بچہ فرضی مسجد میں دعا پڑھتے ہوئے دایاں پاؤں پہلے رکھ کر داخل ہو۔
مسجد کے اندر بیٹھنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد آپس میں باتیں نہ کرنا ہے۔
فرضی مسجد میں بچے صف میں بیٹھ کر خاموش رہیں اور ذکر میں مشغول رہیں۔
جماعت میں شامل ہونے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد صفیں درست کرنا اور تکبیرِ اولیٰ کا اہتمام ہے۔
امام کے اقامت اور اللہ اکبر کہنے پر بچے فوراً صفیں درست کر کے ساتھ تکبیر کہیں۔
فرض نماز کے بعد سنن کا اہتمام سکھایا جائے۔
مقصد فرض کے بعد وقت ضائع نہ کرنا اور سنتیں ادا کرنے کا طریقہ ہے۔
بچے سلام کے بعد دعا مانگ کر سنتیں پڑھیں، باتیں نہ کریں۔
مسجد سے باہر نکلنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد بایاں پاؤں باہر رکھنا اور دعا پڑھنا ہے۔
بچے قطار بنا کر بایاں پاؤں باہر رکھتے ہوئے دعا پڑھ کر مسجد سے نکلیں۔
سونے کے آداب
مقصد سونے کا مسنون طریقہ اور دعا پڑھنا ہے۔
بچہ چٹائی پر بیٹھ کر سونے کی دعا پڑھے اور دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھ کر لیٹے۔
سو کر اٹھنے کا طریقہ
مقصد جاگنے کی دعا پڑھنا اور مسنون طریقہ سکھانا ہے۔
بچہ جاگ کر سو کر اٹھنے کی دعا پڑھے اور آنکھیں ہتھیلیوں سے ملے۔
کھانا شروع کرنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد ہاتھ دھونا، دسترخوان بچھانا اور دعا پڑھنا ہے۔
بچے ہاتھ دھو کر دسترخوان پر بیٹھیں، دعا پڑھ کر خاموشی سے اپنے سامنے سے کھائیں۔
کھانا ختم کرنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد کھانا ختم کرنا، دعا پڑھنا، ہاتھ دھونا اور دسترخوان لپیٹنا ہے۔
بچہ کھانا ختم کر کے دعا پڑھے، ہاتھ دھوئے اور دسترخوان لپیٹا جائے۔
پانی پینے کا طریقہ
مقصد: مسنون طریقہ۔
بچہ بسم اللہ پڑھ کر تین سانسوں میں پانی پیے اور الحمد للہ کہہ کر گلاس رکھے۔
بیگ اور کتابوں کی حفاظت سکھائی جائے۔
مقصد بیگ، کاپیوں اور کتابوں کا صاف اور ترتیب سے ہونا ہے۔
بیگ کی صفائی اور ترتیب کا مقابلہ کروا کر اچھی حالت والوں کو انعام دیا جائے۔
کلاس میں توجہ
مقصد چیزوں کو غور سے دیکھنا ہے۔
بورڈ پر لکیریں گنوا کر صحیح بتانے اور زیادہ نمبر لینے والوں کو انعام دیا جائے۔
کمرہ جماعت میں بات غور سے سننے کی مشق کروائی جائے۔
مقصد بات کو غور سے سننا ہے۔
معلم جملہ بول کر بچوں سے پوچھیں، صحیح بتانے والے کا نام بورڈ پر لکھا جائے۔
بچوں کا آپس میں رویہ
مقصد آپس میں بھائی یا بہن کہنا ہے۔
بچے ایک دوسرے کو بھائی کہہ کر مخاطب کریں اور مسئلہ بھائی کے حوالے سے بتائیں۔
بات ماننے کی عملی مشق کروائی جائے۔
مقصد پہلی بار کہنے پر بات ماننا ہے۔
معلم بچوں سے مختلف کام کروا کر دیکھیں کہ وہ بلا وجہ پوچھے پہلی بار میں کام کرتے ہیں۔
چغل خوری سے پرہیز
مقصد خواہ مخواہ شکایت لگانے سے بچنا ہے۔
بلاوجہ شکایت لگانے پر معلم سمجھائیں کہ اپنا مسئلہ خود بتائیں۔
غلطی کر کے غلطی ماننے کی مشق کروائی جائے۔
مقصد اپنی غلطی ماننا ہے۔
بچہ بغیر اجازت پنسل اٹھانے کے بعد پوچھنے پر اپنی غلطی مان لے۔
غلطی پر معذرت کرنا
مقصد غلطی پر معافی مانگنا اور دوبارہ نہ کرنا ہے۔
غلطی ماننے والے بچے کو سچ بولنے کی شاباش دی جائے اور معذرت کروائی جائے۔
دوسروں کے گھر جانا
مقصد اجازت لینا اور سلام کرنا ہے۔
بچے میزبان سے سلام کر کے اجازت لیں اور بتائی گئی جگہ آرام سے بیٹھیں۔
مہمان بن کر کھانے پینے کے آداب سکھائے جائیں۔
مقصد پیش کی گئی چیز کھانا اور ضرورت پر بلا شرم بتا دینا ہے۔
میزبان جو پیش کرے وہ کھائیں، فرمائش نہ کریں، طلب ہو تو بلا جھجک بتا دیں۔
اپنے گھر میں دوسرے کے کمرے میں جانے کے آداب سکھائے جائیں۔
مقصد والدین اور بہن بھائی کے کمرے میں اجازت لینا ہے۔
بچہ والدین کے فرضی کمرے میں بغیر اجازت نہ جائے۔
بسم اللہ کا اہتمام
مقصد ہر کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنا ہے۔
بچوں سے مختلف کاموں سے پہلے بسم اللہ کا اہتمام کروایا جائے۔
قرآن سننے کی عملی مشق کروائی جائے۔
مقصد قرآن توجہ سے سننا ہے۔
باری باری تلاوت کروا کر باقی بچوں کو توجہ سے سننے کا کہا جائے۔
قاعدہ اور قرآن مجید پکڑنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد قرآن مجید ادب سے پکڑنے کا طریقہ ہے۔
بچہ دائیں ہاتھ سے قرآن سینے سے لگا کر اپنی جگہ بیٹھے۔
قرآن پڑھنے کے آداب
مقصد پڑھتے ہوئے ٹیک نہ لگانا اور بات پر قرآن بند کرنا ہے۔
بچے قرآن پڑھتے ہوئے ٹیک نہ لگائیں، بات کرنے پر قرآن بند کر کے تعوذ سے دوبارہ پڑھیں۔
استاد کو چیز لینے دینے میں احترام سکھایا جائے۔
مقصد دائیں ہاتھ سے چیز دینا لینا اور آپ کہہ کر مخاطب کرنا ہے۔
بچے دائیں ہاتھ سے چیز لیں دیں اور آپ اور معلم صاحب کہہ کر بات کریں۔
جگہ کی صفائی
مقصد اپنی بیٹھنے کی جگہ صاف کرنا ہے۔
ہر بچہ اپنی جگہ اور ڈیسک صاف کرے، معلم چیک کر کے کمی پر دوبارہ کروائیں۔
بال اور ناخن چیک کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
مقصد بال اور ناخن زیادہ بڑے نہ ہونا ہے۔
بچے خود بال ناخن چیک کر کے بتائیں، صحیح ہونے پر شاباش اور کمی پر درستی کروائی جائے۔
وضو کرنے کا طریقہ
مقصد وضو کرنے کا صحیح طریقہ سکھانا ہے۔
بچوں کو باری باری دعاؤں کے ساتھ وضو کروایا جائے، باقی بچے توجہ سے دیکھیں۔
نماز کا طریقہ
مقصد نماز کا صحیح طریقہ سکھانا ہے۔
ایک بچے کو باری باری عملی طور پر نماز پڑھوا کر باقی بچوں کو دکھایا جائے۔
مصافحہ کا طریقہ
مقصد مصافحے کا مسنون طریقہ سکھانا ہے۔
بچے باری باری دونوں ہاتھوں سے سلام کے ساتھ مصافحہ کریں۔
مصافحہ کا وقت
مقصد مصافحے کا موقع پہچاننا ہے۔
زیادہ لوگوں میں ہر ایک سے مصافحہ نہ کرنے کی مشق کروائی جائے، صرف سلام کریں۔
والدین کا کہنا ماننا
مقصد والدین کی بات ماننا ہے۔
بچہ والد کے حکم پر فوراً پڑھائی چھوڑ کر ادب سے کام کرے۔
والدین کا ہاتھ بٹانے کی مشق لڑکوں کو کروائی جائے۔
مقصد والدین کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔
بچہ والد کا سامان اٹھائے اور مسجد سے آتے ہوئے جوتے لا کر رکھے۔
لڑکیوں کو والدہ کا ہاتھ بٹانے کی مشق کروائی جائے۔
مقصد گھریلو کام کاج میں معاونت کرنا ہے۔
بچی امی سے کام پوچھ کر سبزی دھو کر دے۔
والدین کو ناراض نہ ہونے دینے کی مشق کروائی جائے۔
مقصد والدین کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔
کھیل چھوڑ کر پڑھائی نہ شروع کرنے پر والد کی ناراضی سے بچہ فوراً معذرت کرے۔
گفتگو کے آداب
مقصد آرام سے بات کرنا ہے۔
غصے کی بجائے آرام سے بات کرنا سکھایا جائے، والد بچے کو یہ سمجھائیں۔
کھیل کے آداب
مقصد مل جل کر کھیلنا، دھکا نہ دینا اور ہار جیت کو اہمیت نہ دینا ہے۔
چار بچوں کے کھیل میں جھگڑا ہو تو حقیقت مان لینا سکھایا جائے۔
شکریہ ادا کرنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد اچھائی پر جزاک اللہ کہنا سکھانا ہے۔
چیز دینے لینے پر بچے جزاک اللہ کہنے کی مشق کریں۔
اپنے کام خود کرنا
مقصد ہر کام خود کرنے کی عادت ڈالنا ہے۔
بچہ خود بستر بچھائے اور استعمال کے بعد خود تہہ کرے۔
دوست کیسے ہوں
مقصد اچھے دوست بنانا ہے جو نیکی کی طرف بلائیں۔
بچہ کھیلتے دوست کو نماز کی دعوت دے اور نہ ماننے پر دوستی ختم کرنے کا کہے۔
مسواک کی اہمیت
مقصد مسواک کی اہمیت بتانا ہے۔
دانت میں درد والے بچے کو مسواک کی سنت اور فائدہ بتایا جائے۔
مسواک کرنے کا طریقہ
مقصد مسواک پکڑنے اور کرنے کا طریقہ سکھانا ہے۔
بچے مسواک لے کر آئیں اور ایک دوسرے کو طولاً پکڑنے کا صحیح طریقہ بتائیں۔
دوسروں کی مدد کرنا
مقصد ضرورت مند کی مدد کرنا ہے۔
بچہ بوڑھے آدمی کی گری لاٹھی اٹھا کر دے یا چھٹی سے آئے ساتھی کو سبق بتا کر مدد کرے۔
استاد کے آنے پر کلاس میں خاموشی کا احترام سکھایا جائے۔
مقصد استاد کے آنے پر خاموش ہو جانا ہے۔
معلم کے داخل ہونے پر بچے آہستہ آواز میں سلام کا جواب دے کر خاموش ہو جائیں۔
مجلس میں داخل ہونے کے آداب سکھائے جائیں۔
مقصد مجلس میں بات ہو رہی ہو تو اونچی آواز میں سلام نہ کرنا ہے۔
بات جاری ہو تو داخل ہونے والا زور سے سلام نہ کرے، یہ بتایا جائے۔
مجلس میں بات ہو رہی ہو تو باتیں نہ کرنے کی مشق کروائی جائے۔
مقصد ایک بندہ بات کر رہا ہو تو باقی خاموش رہیں۔
مجلس میں بات کے دوران دوسروں کی باتیں کرنے پر روک ٹوک کی جائے۔
مجلس سے اجازت لے کر باہر جانے کا طریقہ سکھایا جائے۔
مجلس سے اجازت لے کر باہر جانا
مقصد مجلس یا جماعت سے اجازت لے کر جانا ہے۔
بچہ ہاتھ کھڑا کر کے اجازت لے کر ہی باہر جائے۔
لباس کے آداب میں ٹوپی پہننا سکھایا جائے۔
مقصد ہر وقت ٹوپی سر پر رکھنا ہے۔
بغیر ٹوپی کلاس میں آنے والے بچے کو یاد دہانی کروائی جائے، بچیوں کے لیے اسکارف کی مشق کروائی جائے۔
کپڑوں کے بٹن بند رکھنا سکھایا جائے۔
مقصد بٹن بند ہونا ہے۔
کھلے بٹن کے ساتھ آنے والے بچے کو لباس کا ادب بتایا جائے۔
لباس کے آداب میں ازار کا ٹخنوں سے اونچا ہونا سکھایا جائے۔
مقصد شلوار کا ٹخنوں سے نیچے نہ ہونا ہے۔
ٹخنوں سے نیچی شلوار والے بچے کو صحیح طریقہ بتایا جائے، بچیوں کو ٹخنے ڈھانپنے کی مشق کروائی جائے۔
معلم کے پاس گھٹنوں کے بل نہ چل کر آنے کا آداب سکھایا جائے۔
مقصد قدموں سے چل کر معلم کے پاس آنا ہے۔
گھٹنوں کے بل چل کر آنے والے بچے کو سیدھا کھڑے ہو کر آنے کا کہا جائے۔
آلاتِ علم کا ادب سکھایا جائے۔
مقصد تپائی پر نہ بیٹھنا ہے۔
تپائی پر بیٹھنے والے بچے کو بتایا جائے کہ اس پر کتاب رکھی جاتی ہے، بیٹھنا بے ادبی ہے۔
آلاتِ علم کی صفائی کا آداب سکھایا جائے۔
مقصد بیگ کی صفائی کا خیال رکھنا اور کچرا کوڑے دان میں ڈالنا ہے۔
کالی کاپی والے بچے کو بتایا جائے کہ کچرا کوڑے دان میں ڈالنا چاہیے۔
وقت کی پابندی
مقصد دیر سے آنے والے بچے کو پابندی کی ترغیب دینا ہے۔
دیر سے آنے والے بچے کو بتایا جائے کہ وہ کام اور اچھی باتوں سے پیچھے رہ جاتا ہے۔
سبق یاد کرنے کا صحیح طریقہ سکھایا جائے۔
مقصد سبق یاد کرنے کا صحیح طریقہ آنا ہے۔
معلم سبق نہ آنے والے بچے کو پہلے دیکھ کر پھر زبانی یاد کرنے کا طریقہ سکھائیں۔
کام مکمل کرنا
مقصد گھر کا دیا گیا کام مکمل کر کے آنا ہے۔
کام نہ کرنے والا بچہ وجہ بتا کر آئندہ مکمل کرنے کا وعدہ کرے۔
علم کا شوق
مقصد علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کرنا ہے۔
معلم پڑھائی سے جی چرانے والے بچے کو رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا کی دعا بتائیں۔
سبق یاد نہ ہو تو دعا کرنے کی مشق کروائی جائے۔
مقصد سبق نہ آنے پر بچہ خود اور باقی بچے اس کے لیے دعا کریں۔
سبق نہ آنے والے ساتھی پر ہنسنے کی بجائے اس کے لیے دعا کی تلقین کی جائے۔
سچ بولنا
مقصد غلطی ہو جانے پر سچ بتانا ہے۔
ٹوٹے ربڑ پر معلم کے پوچھنے پر بچہ سچ بتائے اور شاباش پائے۔
بظاہر نقصان ہونے کے باوجود سچ بولنے کی مشق کروائی جائے۔
مقصد سچ بولنے سے نقصان نظر آئے تب بھی سچ بولنا ہے۔
ٹوٹے اسکیل پر سچ بتا کر بچہ معذرت کرے اور اپنا اسکیل دے دے۔
کام ترتیب سے کرنا
مقصد گھر جا کر بیگ کو اس کی جگہ رکھنا ہے۔
بیگ مقررہ جگہ رکھنے پر والد بچے کو شاباش دیں اور ترتیب کی اہمیت بتائیں۔
کھلونے اپنی جگہ پر رکھنا سکھایا جائے۔
مقصد کھیل کا وقت ختم ہونے پر کھلونے مقررہ جگہ رکھنا ہے۔
بچہ کھیل کے بعد کھلونے سمیٹ کر الماری میں رکھے اور شاباش پائے۔
بیگ میں کتابیں اور کاپیاں ترتیب سے رکھنا سکھایا جائے۔
مقصد بیگ میں سامان کی صحیح ترتیب سیکھنا ہے۔
کاپی نہ ملنے والے بچے کو معلم ترتیب سے رکھنے کی اہمیت سمجھائیں۔
چھینک کے آداب
چھینک آنے پر دعا اور آداب سکھائے جائیں۔
چھینک پر منہ پر ہاتھ رکھنا اور الحمد للہ کہنا سکھایا جائے، جواب میں یرحمک اللہ کہا جائے۔
جمائی کے آداب
جمائی روکنے اور ہاتھ منہ پر رکھنے کا آداب سکھایا جائے۔
جمائی کے مسنون طریقے پر بچے آپس میں سکھائیں۔
کھانسی کے آداب
کھانستے وقت منہ پر ہاتھ رکھنا اور آہستہ کھانسنا سکھایا جائے۔
زور سے کھانسنے والے بچے کو منہ پر ہاتھ رکھنے کا آداب بتایا جائے۔
ڈکار کے آداب
ڈکار روکنے اور آہستہ لینے کا آداب سکھایا جائے۔
اونچی آواز میں ڈکار لینے والے بچے کو آہستہ لینے اور سبب بتایا جائے۔
اذان اور اس کا جواب
اذان کے الفاظ، توجہ سے سننا اور جواب دینا سکھایا جائے۔
بچے باری باری اذان دیں، باقی توجہ سے سن کر جواب دیں اور بعد میں دعا پڑھیں۔
نماز کے دوران وضو ٹوٹ جانے کی مشق کروائی جائے۔
مقصد وضو ٹوٹنے پر فوراً صف سے چلے جانا ہے، شرم کی وجہ سے نہ رکنا۔
وضو ٹوٹنے کی صورت میں بچہ فوراً صف سے نکل کر وضو کرنے جائے۔
نماز میں کہنی مارنا
نماز میں کہنی مارنے اور دھکا دینے سے بچنا سکھایا جائے۔
نماز میں ہنسنے والے بچے کو نماز ٹوٹنے کا سبب اور آداب سمجھایا جائے۔
نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے بچنے کی مشق کروائی جائے۔
مقصد توجہ سے نماز پڑھنا ہے۔
توجہ سے نماز پڑھنے والے بچے کو شاباش دی جائے اور ادھر ادھر دیکھنے سے منع کیا جائے۔
فرمائش کرنے کے آداب
فرمائش پوری نہ ہونے پر اصرار نہ کرنا سکھایا جائے۔
غیر مناسب کھلونے کی فرمائش پر بچہ خاموش ہو جائے اور اصرار نہ کرے۔
عمر کے مطابق نہ ہونے والی چیز کی فرمائش نہ کرنا سکھایا جائے۔
مقصد ابھی جن چیزوں کی عمر نہیں ان کی فرمائش نہ کرنا ہے۔
موبائل کی فرمائش پر امی بچی کو پڑھائی کی عمر بتائیں۔
ضد کی مذمت
منع کیے گئے کام سے رک جانا سکھایا جائے۔
آرام کے وقت کھیلنے کی بجائے بچے امی کی بات مان کر آرام کریں۔
دعا مانگنے کا طریقہ
دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا جائے۔
بچہ قبلہ رخ بیٹھ کر سورۃ فاتحہ، درود اور دعا کے بعد مسنون کلمات پڑھے۔
دوسروں کے ساتھ برتاؤ
ساتھی کو مدد کی ضرورت ہو تو مدد کرنا سکھایا جائے۔
چھٹی کے سبب پیچھے رہ جانے والے پریشان ساتھی کی بچہ سبق اور کاپی سے مدد کرے۔
اچھے کام کی ترغیب دینا سکھایا جائے۔
کلاس میں شور کرنے والے بچوں کو بیمار معلم کی خاطر خاموش کروایا جائے۔
کلاس میں شور کرنے والے بچوں کو معلم کی ناسازی طبیعت کا خیال کر کے خاموش کروایا جائے۔
دوسروں کو زبان یا ہاتھ سے تکلیف نہ دینا سکھایا جائے۔
مقصد ایک دوسرے کو زبان اور ہاتھ سے تکلیف نہ دینا ہے۔
تنگ کرنے سے منع کرتے ہوئے حدیثِ المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ سنائی جائے۔
ہمسائے کے حقوق
ہمسائے کی ضرورت خوشی سے پوری کرنا سکھایا جائے۔
ہمسائے کو نمک دینے سے انکار پر ماں بچی کو ہمسائے کے حقوق سمجھائے۔
ہمسائے کو تنگ کرنا
کھیل میں ہمسائے کو تنگ نہ کرنا سکھایا جائے۔
بار بار گیند لینے کے لیے گھنٹی بجانے والے بچوں کو والد ہمسائے کے آرام کا خیال رکھنے کو کہیں۔
ہمسائے کو اچھے کام کی ترغیب دینا سکھایا جائے۔
مقصد دوست کو کھیلتے دیکھ کر نماز کے لیے بلانا ہے۔
بچہ ٹال مٹول کرنے والے دوست کو نماز فرض ہونے کی یاد دلا کر ساتھ لے جائے۔
سنت کا اہتمام
نماز کی سنتوں کا اہتمام سکھایا جائے۔
صرف فرض پڑھنے والے بچے کو معلم سنتوں کی اہمیت اور فائدہ بتائیں۔
بات سننے میں سنت کا اہتمام سکھایا جائے۔
بات کرتے سنتے وقت مکمل توجہ اور رخ موڑنے کا آداب سکھایا جائے۔
دوسری طرف دیکھتے ہوئے بات سننے والے بچے کو رخ موڑ کر سننے کی سنت بتائی جائے۔
جھوٹ کی برائی
جھوٹ کی برائی بتا کر بچے کو سچ بولنے پر آمادہ کیا جائے۔
دوسرے کا بسکٹ کھا کر خاموش رہنے والے بچے کو امی جھوٹ کی برائی بتا کر سچ بلوائیں۔
جلدی سے بچنا
وقفے میں جلدی کھانا نہ کھانے کی مشق کروائی جائے۔
جلدی کھانے والے بچے کو معلم بتائیں کہ آرام سے چبا کر کھانا آداب ہے۔
نماز میں جلدی سے بچنے کی مشق کروائی جائے۔
مقصد نماز کے تمام ارکان اچھی طرح ادا کرنا ہے۔
جلدی نماز پڑھنے والے بچے کو والد سمجھائیں کہ نماز اللہ کے لیے اچھے طریقے سے پڑھی جائے۔
غصے سے بچنا
غلطی پر چیخنے کی بجائے آرام سے بات کرنا سکھایا جائے۔
کہنی لگنے پر چیخنے والے بچے کو معلم غصہ نہ کرنے کی تلقین کریں۔
مسجد کی صفائی
مسجد میں جا کر صفائی کا خیال رکھنا سکھایا جائے۔
قالین کے کونے میں جوتا رکھنے والے بچے کو جوتا سٹینڈ میں رکھنے کی تلقین کی جائے۔
گھر کی صفائی
ٹافی چاکلیٹ کے ریپر کو کوڑے دان میں ڈالنا سکھایا جائے۔
ریپر کوڑے دان میں ڈالنے والے بچے کی اسلامیات کے سبق کی روشنی میں تعریف کی جائے۔
ذرائع ابلاغ
غیر مصدقہ اطلاع پر یقین نہ کرنا سکھایا جائے۔
سنی سنائی خبر پر معلم بچوں کو تصدیق کی اہمیت سمجھائیں۔
بری عادتیں
بے فائدہ باتوں سے بچنا سکھایا جائے۔
رات کو لایعنی باتوں میں وقت ضائع کرنے والے بچے کو معلم اس کے نقصانات بتائیں۔
کفایت شعاری
بجلی کے بے جا استعمال سے بچنا سکھایا جائے۔
پنکھا بلب جلا چھوڑنے پر بچے استغفار کر کے اپنی غلطی محسوس کریں۔
قاعدہ درج کریں
کلی
جزوی
اکثری
استثنائی
×
×
تعلیم درج کریں
علمی
عملی
عملی درج کریں
مشقی
غیر مشقی
حکم درج کریں
فرض
فرض عین
فرض کفایہ
واجب
سنت
سنت مؤکدہ
سنت غیر مؤکدہ
نفل
مستحب
افضل
جائز
مباح
حرام
مکروہ تحریمی
مکروہ تنزیہی
ناجائز
بنیادی
دفعِ مضرت
ابہام
یاد دہانی درج کریں
عملی تکرار
علمی تکرار
ایک بار
مخاطب درج کریں
خواص
مقتداء
جنس درج کریں
مرد
عورت
دہرائی درج کریں
ضروری
غیر ضروری
حیثیت درج کریں
انفرادی
اجتماعی
زمانہ درج کریں
قبل آدمؑ
حضرت آدمؑ سے حضرت نوحؑ تک
حضرت نوحؑ سے حضرت ابراہیمؑ تک
حضرت ابراہیمؑ سے حضرت موسیٰؑ تک
حضرت موسیٰؑ سے حضرت عیسیٰئ تک
حضرت عیسیٰؑ سے آپ ﷺ تک
آپ ﷺ کے زمانے سے قیامت تک
قیامت کے بعد تک
تعلق درج کریں
ظاہری
باطنی
اندراج کریں
بند کریں
مکطس کے نصاب کے ساتھ النصیحہ کے نصاب کا موازنہ